Author: badr967@hotmail.com

  • ابو بکر صدیق کا جگر کباب ہونا

    ابو بکر صدیق کا جگر کباب ہونا

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    دین کی فکر میں  ابوبکر صدیق کا جگر کباب ہونا
    سوال
    :
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ…کیا یہ بات صحیح ہے
    کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ :مجھے
    کچے گوشت جلنے کی بو آتی ہے
    ،
    تو حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ :حضور !  دین کی فکر میں میرا دل جلتا ہے …
    از :سلیمان مظاہری

    الجواب
    :
    مذکورہ
    واقعہ بیان کرنے میں  چندغلطیاں ہیں :
    پہلی
    غلطی :  کتابوں میں جہاں یہ واقعہ ذکر کیا
    جاتے ہے وہاں کچے گوشت کے جلنے کی بات نہیں ہے ، بلکہ جگر کے بھننے کی بو آنے کا
    ذکر ہے
    (رائحة كبد مشوي) .
    دوسری غلطی : واقعہ میں
    حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں ہے ، بلکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ
    عنہ کا ذکر ہے ۔
    تیسری غلطی : دین کی فکر
    کی بات ہماری تبلیغی احباب نے چلائی ہے ، اصل واقعہ میں سبب وارد نہیں ہے۔

    واقعہ کا مصدر:
    یہ واقعہ بہت تلاش کیا ،
    مگر صرف  ایک کتاب میں اس کی تفصیل اور
    حوالہ ملا،جس کوعلامہ محب الدین طبری نے اپنی کتاب [
    الرياض
    النضرة في مناقب العشرة 1/195
    ]میں نقل کیا ہے:
    ورُوي أن عمر بن الخطاب أتَى إلى زوجة
    أبي بكر بعد موته ، فسألها عن أعمال أبي بكر في بيته ما كانت؟ فأخبَرتْه بقيامه في
    الليل وأعمالٍ كان يعمَلُها ، ثم قالت: إلا أنه كان في كلِّ ليلة جمعة يتوضَّأ
    ويصلي العشاءَ ، ثم يجلس مستقبلا القبلةَ رأسُه بين يديه على ركبتيه ، فإذا كان
    وقتَ السَّحَر رَفَع رأسَه وتنفَّسَ الصُّعَداء ، فيُشَمُّ في البيت رائحةُ كبدٍ مَشْوِيّ
    . فبكى عمرُ وقال: أنَّى لابنِ الخطَّابِ بكبدٍ مَشوِيّ . خَرَّجه المَلَّاءُ في
    سيرته.
    ترجمہ : لیکن شب جمعہ میں
    وضو کرتے تھے ، نماز پڑھتے تھے ، پھر روبہ قبلہ دونوں زانوں میں سر چھپاکر بیٹھ
    جاتےتھے،جب سحر نمودار ہوتی تو اپنا سر اٹھاتےاور ایک لمبی سانس لیتے جس سے کباب
    شدہ جگر کی بو محسوس ہوتی تھی۔یہ سن کر عمر رونےلگے اور بولے:پسر خطاب کو کہاں یہ
    کباب شدہ جگر کی کیفیت نصیب ہو۔

    وسیلۃ
    المتعبدین :
    محب
    الدین طبری متوفی (۶۹۴ھ) نے واقعہ کا جوحوالہ دیا ہے یعنی(
    المَلاء
    في
    سيرته) اس
    سے مراد :عمر بن محمدالملاء کی کتاب
    (وَسِيلة المُتَعَبِّدين إلى مُتَابعة
    سيِّد المرسلين
    )ہے، جس پر تفصیلی بحث آرہی ہے۔

    عمر الملاء کا ترجمہ :
    علامہ زرکلی (الاعلام) میں رقمطراز ہیں :
    (000
    – 570 هـ = 000 – 1174 م) : عمر بن محمد بن خضر الإربلي الموصلي، أبو حفص، م
    ُعين الدين ، المعروف
    بالمَـلَّاء : شيخُ المَـوصِل.
    كان
    صالحا زاهدا عالما. له أخبارٌ مع الملك العادل نور الدين محمود بن زنكي. أمر الملك
    العادل نُوَّابه في الموصل أن لا يُبرِمُوا فيها أمرا حتى يُعلِموا به الملّاء.
    وهو
    الّذي أشار على الملك العادل بعمارة الجامع الكبير في الموصل. وتولَّى الإنفاق
    عليه، فتم في ثلاث سنوات (سنة 568) وبلغت نفقاته 60 ألف دينار، وقيل أكثر. وهو
    المعروف اليوم بالجامع النُّوري. وحمل المَلَّاءُ دفاتر حسابه إلى العادل، وهو
    جالسٌ على دِجلة، فلم ينظر فيها، وقال له: نحن عَمِلنا هذا للَّه ، دع الحسابَ إلى
    يوم الحساب! وألقى الدفاتر في دجلة.
    قال
    سبط ابن الجوزي: وإنما سمي ” المَلَّاء ” لأنه كان يَملأ تَنَانِير الآجُرِّ
    ويأخذ الأجرةَ فيتقوَّت بها، ولا يملك من الدنيا شيئا. وصنف كتاب ” وسيلة المُتَعَبِّدين
    في سيرة سيد المرسلين – خ ” بضعة أجزاء منه، في معهد المخطوطات .انتهى
    وفي معجم تاريخ
    التراث الإسلامي في مكتبات العالم
    (3/2291) :
    6156عمر بن محمد بن خضر ، أبو حفص الأردبيلي ثم الموصلي الصوفي ،
    المتوفى بدمشق سنة 570هـ/1174م
    (انظر: كشف
    الظنون 2010؛ ذيل كشف الظنون 2/708؛ معجم المؤلفين 7/309)
    من تصانيفه:
    1رموز العارفين وكنوز العاشقين = شرح مشكلات التعرُّف لمذهب
    أهل التّصوّف للكلاباذي .شهيد علي 2708 ورقة 153 – 247، 855 هـ .
    2سيرة أمير المؤمنين عمر بن عبد العزيز ، تاريخ التأليف 568
    هـ؛ رئيس الكتَّاب 714/2 ورقة 162 – 312، 724 هـ .انتهى
    وفي “مرآة الزمان في تواريخ
    الأعيان” لسبط ابن الجوزي (21/208) :
    وكان عمر المَلَّاء من الصَّالحين،
    وإنما سُمِّي المَلَّاء لأنَّه كان يملأ تَنَانير الآجُرّ، ويأخذ الأُجرة،
    فيتقوَّت بها، وكان ما عليه من الثِّياب مثل القميص والعِمامة ما يملك غيره، وكان لا
    يملك من الدُّنيا شيئًا.
    وكان عالمًا بفنون العلوم، وجميعُ
    الملوك والعلماء والأعيان يزورونه لأجل صَلاحه ويتبرَّكون به ، وصنَّف كتاب سيرة
    النَّبيِّ صلى الله عليه وسلم ، وكان يعمل مولدَ النَّبيِّ صلى الله عليه وسلم في
    كلِّ سنة، ويحضُر دعوتَه صاحبُ المَوْصل والأكابر، وكان نور الدين يحبُّه ويكاتبه
    .انتهى
    معلوم
    ہوا کہ ان کا لقب (ملاء) بفتح المیم وتشدید اللام ملأ یملؤ  سے صیغہ مبالغہ کے وزن پر ہے ، کتابوں میں
    مختصرا (عمر الملا) بدون ہمزہ کے آتا ہے ، جس کی وجہ سے اس کو (ملا) بضم المیم سمجھنے
    اور پڑھنے کی غلطی میں پڑنے کا امکان ہے ۔
    وجہ
    تلقیب یہ ہے کہ وہ اینٹ بنانے کی بھٹی کے مالک تھے ، اور وہاں پر اپنے ماتحت چند
    مزدوروں کی مدد سے(بھٹی)کوپتھروں سے تلاوت کرتے ہوئےبھرتےتھے ، اس وجہ سے اس  لقب سے موسوم ہوئے،تاج الدین تکریتی کی تاریخ
    میں ان کے کام کی وضاحت اس طرح بیان کی ہے:(
    كنا نتردَّد إليه
    ونَمضي معه إلى تنُّوره الذي كان يملؤه بالحجارة لحَرق الجَصّ ومعه مماليك يقدِّمون
    له الحجارة ، وكلٌّ يعمل شُغلَه وهو يتلو القرآن
    ).[وسیلہ
    جزء رابع]۔اس میں ان کا بھٹی کے دہانے پر کھڑے ہوکر اس کو بھرنےکے دوران دوسروں کے
    بجائے خود حرارت وتپش برداشت کرنا حسن تعامل
    اور اخلاق کے کمال کی بات ہے۔

    وسیلۃ  المتعبدین  الى متابعۃ سید المرسلین:
    یا (وسیلۃ 
    المتعبدین  فی سیرۃ سید المرسلین
    )
    اور مختصرا (سیرۃ الملا) کے
    نام
    کے
    ساتھ اس کتاب کویاد کیا جاتا ہے ۔
    اس کتاب کے بعض اجزاء
    مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد سے سن ۱۹۷۲میں چھپے تھے ،
    مکتبۃ الاسکندریہ کی سائٹ پر تین اجزاء دیکھنے کا موقع ملا
    :[
    القسم الثاني من الجزء الثاني،القسم الثاني من الجزء الثالث،القسم
    الاول من الجزء الرابع
    جزء
    رابع کے شروع میں کتاب کے ناشر نے ایک نوٹ لکھا ہے :
    (لما بدأنا تصحيح هذا الكتاب لم نجد لمعارضته ومقابلته
    إلا نسخة وحيدة من مخطوطات خزانة بانكي بور(بتنة)وهي أيضا ناقصة الأجزاء، تبتدئ من
    الجزء الرابع وتنتهي إلى الجزء العاشر ، وقد سقط من بينها الجزء الخامس والسابع
    كلاهما،ولكننا ظفرنا بجزءيه الأخيرين الحادي عشر والثاني عشر في مخطوطات دار الكتب
    المصرية، ولما لم يتيسر لنا الأجزاء الثلاثة الأول فلا بد لنا من الابتداء بالجزء
    الرابع وسميناه القسم الأول …) .
    یعنی
    دائرۃ المعارف والوں نے بانکی پور پٹنہ (خدا بخش لائبریری)کےناقص الاجزاء نسخہ پر
    اعتماد کرتے ہوئے کتاب کی طباعت کی ہے ، معہد المخطوطات میں کتاب کے جو اجزاء ہیں اورجس
    کا حوالہ زرکلی نے (الاعلام) میں دیا ہے وہ مصنف کے خود نوشتہ ہیں ، اور بعض اجزاء
    میں یہ وضاحت  بھی ہے کہ یہ کتاب مصنف کے
    سامنےکئی مجالس میں  پڑھی گئی،آخری مجلس
    ربیع الاول سن ۵۶۹ ھ میں تھی ۔
    نیزترکی
    میں مکتبہ (ولی الدین برقم ۷۹۷) میں ایک نسخہ ہے ، جس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ
    کامل ہے۔
    مجھے
    موقع (الالوکہ)پر سے ایک نسخہ میسر ہوا جو سیرت نبوی کے آخری حصے اور خلفائے
    راشدین کی سیرت کے ابتدائی حصے پر مشتمل ہے، اس میں حضرت ابوبکر کے مناقب میں زیر
    بحث واقعہ تقریبا اسی طرح مذکور ہے جس طرح طبری نے (الریاض النضرہ)میں بلا سندنقل
    کیا ہے۔
    منہج المصنف :
    وسیلۃ
    المتعبدین  کےمصنف کے مقدمہ پر مطلع ہوئے
    بغیر ان کے منہج کی وضاحت صحیح طور پر کرنا مشکل ہے،البتہ مطبوعہ اجزاء کا مطالعہ
    کرنے سے یہ معلوم ہوا کہ
    یہ سیرت نبویہ اور سیرت
    خلفاء راشدین پر مشتمل ہے ،اور ابواب پر مرتب ہے ، یعنی تقریبا جس طرح(سبل الہدی
    والرشاد) ابواب پر مرتب ہے۔
    کتاب
    کے مشمولات تو عموما روایات حدیث  ہی ہیں ،
    لیکن اکثر روایات میں سند محذوف ہے ، پھر بعض میں راوی اعلی (یعنی صحابی)کا صرف
    نام مذکور ہے ، اور بعض روایات(وروی انہ کذا)کہہ کر نقل کی ہیں ، مگر دونوں طرح کی
    روایات میں مصدر منقول عنہ کی تصریح نہیں ہے۔

    کتاب کی روایات پر نقد:
    کتاب
    کے مشمولات پر متقدمین میں سے حافظ ابن تیمیہ نے اور معاصرین میں سے شیخ جمال
    الدین قاسمی نےتنقید کی ہے ، ملاحظہ فرمائیں :
    قال الشيخ ابن تيمية في “قاعدة
    جليلة في التوسل والوسيلة” (1/195) تعليقا على حديث : “
    من سره أن يَحفظ فليصم سبعة أيام، وليكن
    إفطاره في آخر هذه الأيام السبعة …” :
    ولم يذكره من لا يَروي بإسنادٍ مثل
    كتاب
    وسيلة
    المتعبدين
    لعمر الملا
    الموصلي، وكتاب
    الفردوس
    لشهريار الديلمي، وأمثال ذلك ، فإن هؤلاء دون هؤلاء الطبقات، وفيما يذكرونه من
    الأكاذيب أمر كبير.
    وقال
    في مجموع الفتاوى (2/ 239) : وَذَكَرَ بَعْضَهُ عُمَرُ الملا فِي وَسِيلَةِ الْمُتَعَبِّدِينَ وَابْنُ سَبْعِينَ وَأَمْثَالُهُمْ مِمَّنْ يَرْوِي
    الْمَوْضُوعَاتِ الْمَكْذُوبَاتِ بِاتِّفَاقِ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ .
     وقال
    القاسمي في “قواعد التحديث” (ص 167) :
    ولكن
    أقام الله للدين مَن يَنفي عنه تحريفَ الغالين وانتحالَ المبطلين وتأويلَ الجاهلين
    ويحميه من وضع الوضاعين
    كمن صنف في الصحيح … وكذلك الذين تكلموا
    على الرجال وأسانيدها … فهؤلاء وأمثالهم أهلُ الذب عن أحاديث رسول الله صلى الله
    عليه وسلم ، عكسَ حالِ مَن صنف كتبًا فيها من الموضوعات شيءٌ كثيرٌ، وهو لا يميِّز
    ولا يعرف الموضوع والمكذوب من غيره ، فيجيء الغِرُّ الجاهلُ فيَرَى حديثًا في كتابٍ
    مُصَنَّفٍ فيغترُّ به وينقله ، وهؤلاء كثير أيضًا مثل مصنف كتاب: “وسيلة
    المتعبدين” الذي صنفه الشيخ عمر الموصلي ، ومثل: “تنقلات الأنوار”
    للبكري الذي وضع فيه من الكذب ما لا يخفى على من له أدنى
    مُسكة عقل.
    معلوم
    ہواکہ کتاب میں صحیح روایات کے ساتھ ساتھ بہت ساری موضوع احادیث اور من گھڑت قصے
    کہانیاں بھی ذکر کی ہیں ، مگر اس میں مصنف کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے صحیح غلط میں
    تمیز کئے بغیر ان کو کتاب میں جگہ دی ۔
    زیر
    بحث روایت کے بارے میں ابن تیمیہ فرماتے ہیں :
    وينقلون عَن
    عمر أَنه تزوج بِامْرَأَة أبي بكر ليسألها عَن عمله فِي السِّرّ فَقَالَت : كنت
    أَشمّ مِنْهُ رَائِحَة الكبد المشوية
     .
    وَهَذَا من أبين الْكَذِب ،
    وَإِنَّمَا تزوج بِامْرَأَة أبي بكر أَسمَاء بنت عُمَيْسٍ بعده عَليٌّ .[ المنتقى
    من منهاج الاعتدال ص: 505]
    شاید
    ابن تیمیہ سے واقعہ نقل کرنے میں غلطی ہوئی ، کیونکہ واقعہ میں حضرت عمر کے شادی
    کرنے کا تذکرہ نہیں ہے ، بلکہ صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سے ان
    کے حالات دریافت کرنے کا ذکر ہے ، جیساکہ محب الدین طبری کے حوالہ سے اوپر گذرچکا۔

    مگر تعجب کی بات تو یہ ہے
    کہ نقشبندیہ سلسلہ کی کتابوں میں اس واقعہ کو بلا سند ذکر کیا جاتا ہے ، پھرواقعہ
    میں مذکور
    جگرکے
    بھننے کی بوآنے کی تاویل دو طرح سے بیان کی جاتی ہے :
    ۱۔ اس کی وجہ حبس نفَس (سانس
    روکنا)ہے ، یعنی ذکر خفی کرنے کا ایک طریقہ ہے جس کو (پاس انفاس)بھی کہتے ہیں ، اس
    میں سانس کو روک کر کئی سو مرتبہ ذکر قلبی کیا جاتا ہے ، تو سانس روکنے کی وجہ سے
    بدن کے اندرونی بعض اعضاء میں حرارت پیدا ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے احتراق  کی سی یہ بوآتی ہے،بعض کتابوں میں یہاں تک لکھا
    ہے کہ تہجد سے جو سانس روکتے تھے تو صرف ایک مرتبہ سحری کے وقت  ایک لمبی سانس لیتے تھے،اوپر واقعہ میں سانس
    لینے کے تذکرہ سے شاید یہی مراد ہو۔
    ۲۔ بعض تصوف کی کتابوں
    میں اس کی وجہ : مراقبہ معیت لکھا ہے ، اور یہ کہ اس مراقبہ کی تلقین خود نبی کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رفیق غار کو غار ثور میں تلقین فرمائی تھی ۔ چنانچہ
    طول مراقبہ کی وجہ سے یہ کیفیت پیدا ہوتی تھی ۔[ارغام المرید للکوثری]۔
    صاحب تفسیر روح البیان
    (۱۰/۸۵)نے ایک دوسری وجہ بیان کی ہے :
     وكانوا يشمون من كبد أبي بكر الصديق رضي الله
    عنه رائحة الكبد المشوي من شد الخوف من الله تعالى
    .
    اور بعض واعظین کے نزدیک
    اس کی وجہ تلاوت قرآن مجید کے وقت کثرت سے رونا ہے ،اور مبلغین کے یہاں دین کی فکر
    اوراس کے لئے مہموم ومغموم رہنا۔

    الحاصل :
    فن حدیث کی رو سے یہ واقعہ ثابت نہیں ہے ، کیونکہ اس کی
    کوئی معتبر سند بھی نہیں ہے ، اور نہ متقدمین کی کتابوں میں اس کا ذکر ہے ، سب سے
    پہلے اس کا تذکرہ عمر الملاء کی سیرت کی کتاب میں ملتا ہے ،جو غث وسمین کا مجموعہ
    ہے۔
    لہذابلا سند اس واقعہ کو
    حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے ،رہ گئی  اہل تصوف کی ان کے وظائف ومعمولات کی مستندات،
    تو وہ میری سمجھ سے بالاتر ہیں،خصوصا کوثری جیسے محدث وناقد کا ان کو بلا نکیر نقل
    کرنا۔

    ہاں حضرت ابو بکر صدیق
    رضی اللہ عنہ کی رقتِ قلب مشہور ومعروف ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض
    الوفاۃمیں جب ارشاد فرمایا تھا کہ :
    ابو
    بکر کو حکم پہنچاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ،تو حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں
    کہ: میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر رضی اللہ عنہ نرم دل انسان ہیں
    ،  جب وہ قرآن  پڑھیں گے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکیں
    گے ،  لہٰذا اگر آپ ابو بکر  ‌‌ ‌ 
    کے بجائے کسی اور کو حکم  دیں تو
    بہتر ہے ۔
    ہجرت سے پہلے کا بھی مشہور
    واقعہ ہے کہ آپ ایک مرتبہ مشرکین مکہ کی ایذاء رسانیوں سے تنگ آکر جب مکہ مکرمہ سے
    ہجرت کرنے کے عزم سے نکلے ، تو آپ ابھی برک  الغماد تک ہی پہنچے تھے کہ ابن الدغنہ(جوکہ مکہ
    کا کافر اور بااثر ورسوخ باشندہ تھا) سے ملاقات ہوگئی، ابن الدغنہ نے آپ کو سمجھا
    بجھا کر اور اپنی امان میں  لینے کا اعلان
    کرکے واپس کیا ، مگرمشرکین مکہ اس شرط  پر
    راضی ہوئی کہ حضرت ابوبکر اپنے گھر میں ہی قرآن کی تلاوت کیا کریں گے، تاکہ قوم کے
    بچے اور عورتوں کو فتنہ میں مبتلا نہ کرسکیں۔
    چنانچہ حضرت ابوبکر نے
    اپنے صحن ہی میں ایک جگہ تلاوت کے لیے مختص کرلی، لیکن آپ اس قدر رقیق القلب تھے
    کہ جب تلاوت فرماتے تو مشرکین کی عورتیں اور بچے اپنی چھتوں پرچڑھ کر آپ کی تلاوت
    سنتے، جس سے وہ متأثر ہوتے جاتے تھے، قوم کویہ گوارا نہیں ہوا ، فوراً ابن الدغنہ
    سے اس کی شکایت کی، ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ: یاتو آپ میری امان میں
    رہیں یا تلاوت اس طرح نہ کریں، جس پر حضرت ابوبکر نے کہاکہ مجھے تمہاری امان کی
    ضرورت نہیں ہے، مجھے میرے اللہ کی امان کافی ہے۔
    مقصد
    یہ ہے کہ ان کی رقت قلب مشہور ہے ، مگر جگر کباب ہونے کی بات مستند نہیں ہے ۔
    رقمہ العاجز: محمد طلحہ
    بلال احمد منیار
     8/7/2020

  • اني لا انسى ولكن انسى

    اني لا انسى ولكن انسى

    السلام
    عليكم ورحمة الله وبركاته
    :إني لا أَنسَىٰ ، بل أُنَسّىٰ
    لأَسُنَّ
    اس
    حدیث کی کوئی اصل
    ہے ؟
    الجواب
    :
    ” إني لا أَنسَىٰ ، بل أُنَسّىٰ لأَسُنَّ “
    ترجمہ
    : میں بھولتا نہیں ہوں ،بلکہ بھلایا جاتاہوں، تاکہ جوخطا واقع ہوئی اس کی
    تلافی کا مسنون طریقہ تم کو سکھاؤں۔
    اصل مصدر:
    یہ
    حدیث ان چار احادیث میں سے ہے ، جن کو امام مالک نے ” موطأ ” میں
    بلاغاً  ذکر کیا ہے ، یعنی امام مالک نے  “
    بلغنى
    عن رسول الله
    ” کہہ کر بیان کی ہے ، موطأ میں
    تقریباً (42) بلاغات ہیں ، اور بلاغاتِ مالک کا شمار در اصل (معلّق) احادیث میں
    ہوتا ہے جومنقطع احادیث کی قسموں میں سے ایک قسم ہے، کیونکہ امام مالک کا شمار تبع
    تابعین میں ہے ، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک روایت کرنے کے اعتبار سے دو واسطوں
    سے پہنچتے ہیں،ایک واسطہ تابعی کا ،اوردوسرا واسطہ صحابی کا۔لیکن بلاغ میں یہ دو
    واسطے مذکور نہیں ہوتے ہیں، امام مالک کہتے ہیں :بلغنی عن رسول اللہ انہ قال کذا۔
    معلق کی تعریف :
    مُعَلَّق
    اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں مصنفِ کتاب کی جانب سے سند متصل نہ ہو، بلکہ
    متعددواسطوں کے سقوط کے ساتھ وہ روایت قائل (رسول اللہ ، یا صحابی )کی طرف منسوب
    ہو ۔
    موطا مالک میں منقطع السند احادیث کی تعداد:
    موطأ
    مالک میں تقریباً اکسٹھ (61) حدیثیں منقطع السند ہیں ، اور انقطاع کی مختلف صورتوں
    کے اعتبار سے ان کو مختلف ناموں سےموسوم کیا جاتا ہے : مرسل ، موقوف ، معضل ،
    مقطوع ، بلاغ … الخ

    وصل بلاغات میں علماءکی مساعی :
    ابن عبد البر:
    امام
    ابن عبد البر نے ” التمہیدشرح موطا مالک ” میں موطا میں واقع اکسٹھ
    منقطع السند احادیث کی اسانیدجوڑنے (وصل کرنے)کے لئے ایک مستقل باب (وصل بلاغات
    مالک ومرسلاتہ) کے عنوان سے قائم کیا ہے ، یعنی اس باب میں امام مالک کی سند میں
    ساقط واسطوں کو ذکر کرکے،حدیث کی سند موصول بتانے کی کوشش کی ہے ،ابن عبد البرکی
    مساعی حمیدہ کے باوجود وہ  چار روایات کی موصول سند ، اور وہ بھی
    (موطا)کے متن الفاظ کے مطابق دریافت نہ کرسکے۔
    وہ
    چاراحادیث یہ ہیں :
    ١-
    قال الإمام مالك : إنه بلغه أن رسول الله عليه الصلاة والسلام قال : ( إني لأَنسى
    أو أُنسي لأَسُن)
    ٢-
    قال الإمام مالك : إنه بلغه أن رسول الله عليه الصلاة والسلام كان يقول : ( إذا
    أنشأت بحرية ثم تشاءَمت فتلك عَين غُدَيقة )
    ٣-
    قال الإمام مالك : إنه سمع من يثق به من أهل العلم يقول : إن رسول الله عليه
    الصلاة والسلام أُري أعمارَ الناس قبله أو ما شاء الله من ذلك فكأنه تقاصَرَ أعمار
    أمته أن لا يبلُغوا من العَمَل مثل الذي بلغ غيرهم في طول العمر ) .
    ٤-
    قال الإمام مالك : إن معاذ بن جبل قال : آخر ما وَصّى به رسول الله عليه الصلاة
    والسلام حين وضعتُ رجلي في الغَرز : ( أحسِن خلقكَ للناس يا معاذ ) .
    ابن الصلاح :
     حافظ
    ابن عبد البر کے اعتناء کے بعد ،مذکورہ چار روایات کے وصل کی کوشش حافظ ابن الصلاح
    نے کی ، اور ایک رسالہ وصل بلاغات مالک‌ پر مرتب کیا ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :
    ان
    چار روایات کے شواھد تو ملتے ہیں ، لیکن وہ شواھد یا تو نہایت ضعیف اسانید سے مروی
    ہیں ، یا الفاظ بعینہ وہی نہیں ہیں ، بلکہ واضح فرق ہے ۔چنانچہ زیر بحث روایت کا
    شاھد جو ابن الصلاح نے ذکر کیا ہے ، وہ سنن ابو داود 1022 کی روایت ہے :
    عن
    ابن مسعود مرفوعاً : ( إنما أنا بشرٌ أنسىٰ كما تَنسَون ) قال ابن الصلاح : إنما
    يتقوَّى به من حديث مالك طرفٌ منه .اهـ
    یعنی
    الفاظ اگرچہ بلاغ کے الفاظ کےقریب ہیں ، مگر روایت الگ ہے ، اورمذکورہ شاھد سے زیر
    بحث روایت کے صرف شروع کے حصہ کی تایید ہوتی ہے ۔
    ابن رجب :
    لیکن
    حافظ ابن رجب اس کی اصل دریافت کر پائے، چنانچہ ابن رجب شرح بخاری میں تحریر
    فرماتے ہیں :
    وقد
    قيل: إن هذا لم يعرف له إسناد بالكلية.ولكن في “تاريخ المفَضَّل بن غَسان
    الغَلَّابي” : حدثنا سعيد بن عامر، قال: سمعت عبد الله بن المبارك قال: قالت
    عائشة
     : قال رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : (إنما أنسى –
    أو أسهو – لأسُنَّ) .
    اس
    میں بھی اگرچہ حضرت ابن مبارک اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مابین انقطاع ہے ،
    لیکن اس سند سے راوی کا نام معلوم ہوگیا کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں ، اور
    یہ پتہ چلا کہ اس کی اصل روایات میں ضرور موجود ہے۔

    فوائد:
    ذكر
    أبو العبّاس الداني في “أطراف الموطّأ” للحديث شاهدًا، فقال:
    “وقوله – صلى الله عليه وسلم -: “إنّي أنسى أو أُنَسَّى لأسنّ” جاء
    معناه في حديث النوم عن الصلاة لابن مسعود، قال فيه: “إنّ الله تعالى لو أراد
    أن لا تناموا عنها لم تناموا، ولكن أراد أن تكون سنّةً لمن بعدكم”، خرّجه أبو
    داود سليمان الطيالسي”.اهـ
    أخرجه
    الإمام أحمد في “المسند” (1/ 391) والطيالسي في “مسنده” (ص 49
    – 50/ 377) عن عبد الله بن مسعود قال: “كنّا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
    مرجِعَه من الحُديبية، فعرَّسنا. . .” فذكره، وهذا إسناد حسن.
    قال
    الإمام العراقي في “طرح التثريب في شرح التقريب” (3/ 9) :
    إنَّ
    الرِّوَايَةَ الصَّحِيحَةَ فِيهِ عَلَى الْإِثْبَاتِ لَا عَلَى النَّفْيِ «إنِّي
    لَأَنْسَى أَوْ أُنَسَّى لِأَسُنَّ
     «. أَيْ
    إنَّ الرَّاوِيَ شَكَّ هَلْ قَالَ : أَنْسَى أَوْ أُنَسَّى ، وَلَوْ كَانَتْ
    الرِّوَايَةُ عَلَى النَّفْيِ لَكَانَ مُخَالِفًا لِلْحَدِيثِ الصَّحِيحِ
    الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ «إنَّمَا أَنَا بَشَرٌ
    أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ» فَأَثْبَتَ لَهُ وَصْفَ النِّسْيَانِ وَلَمْ يَكْتَفِ بِذَلِكَ
    لِئَلَّا يَقُولَ قَائِلٌ إنَّ نِسْيَانَهُ لَيْسَ كَنِسْيَانِنَا فَقَالَ «كَمَا
    تَنْسَوْنَ» . وَأَثْبَتَ أَوَّلًا الْعِلَّةَ قَبْلَ الْحُكْمِ بِقَوْلِهِ
    «إنَّمَا أَنَا بَشَرٌ» وَكَمَا قَالَ فِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ «فَنُسِّيَ آدَم
    فَنُسِّيَتْ ذُرِّيَّتُهُ» أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ مِنْ حَدِيثِ
    أَبِي هُرَيْرَةَ. 
    موطأ
    مالك بتحقیق الأعظمی (1/ 122)
      میں ہے :
    قال
    الشنقيطي في “إضاءة الحالك” : قال الخطيب الحافظ في كتابه “جني
    الجنتين” بعد أن تكلم على أحاديث مالك الأربعة التي لم يسندها ابن عبد البر
    وهي في “الموطأ” بما نصه : توهم بعض العلماء أن قول الحافظ أبي عمر بن
    عبد البر يدل على عدم صحتها، وليس كذلك إذ الانفراد لا يقتضي عدم الصحة، لا سيما
    من مثل مالك. وقد أفردتُ قديماً جزءاً في إسناد هذه الأربعة الأحاديث. ثم بيّن أن
    الحافظ أبو الدنيا أسند اثنتين منها في “إقليد التقليد” له».
    جمعہ ورتبہ العبد الضعیف : محمد طلحہ بلال احمد منیار
    مستفیدا من عدۃ مواقع وکتب
    15/4/2019

  • الفرق بين كتابي الموضوعات والعلل المتناهية

    الفرق بين كتابي الموضوعات والعلل المتناهية



    الفرق
    بين كتابي ابن الجوزي “الموضوعات” و”العلل المتناهية”
    سأل الأخ أبو عمر رحماني
    الموقر : ما هو الفرق بين الكتابين لابن الجوزي : الموضوعات والعلل المتناهية ؟
    وقد أجبته أولا بجواب مختصر وهو :
    “أنه كالفرق بين الحديث الموضوع والواهي” ، وكان قصدي أن مضمون الكتابين
    مختلف بحسب نوع الأحاديث المدرَجة في كل منهما .
    ولكن الأخ أبا عمر أضاف قائلا : و لكن
    وجدت كثيرا مما أورده في “العلل” أورده في “الموضوعات” .
    حينئذ شعرت أن الجواب المختصر غير مُقنِع
    ، لأنه إشكالٌ قويٌّ من أبي عمر . فعدتُ أبحث وأنقّر وأفتّش لعلي أجد جوابا مقنعا
    لهذا الإشكال .
    فوقفت على رسالة بعنوان :  ما
    أورده الحافظ ابن الجوزي من أحاديث كتب السنن الأربع في كتابه “العلل
    المتناهية” ، لبعض الباحثين من السعودية .
    وقد وجدت فيها فوائد عديدة ، واستخلصت
    منها الجواب الذي يتلخص في ثلاث نقاط ، سأذكرها لاحقا . وأقدّم بين يدي الجواب بعض
    الفوائد من الرسالة المذكورة .

    الفائدة الأولى : تعريف
    الحديث الواهي
    قال الباحث الموصوف : الحد القريب
    للحديث الواهي ، هو : الحديث الذي تفرد به متهم ، أو من غلب على حديثه الوهم .

    الفائدة الثانية : ألقاب
    الحديث الواهي
    قال الباحث : ومن أشهر ألقابه التي
    وقفت عليها :
    ( المتروك ) : ذكره الحافظ ابن حجر ” في ” نزهة
    النظر”  ( ص/114) .
    ( ضعيف جداً ) : قد كثر استعماله لدى علماء التخريج والاصطلاح في
    وصف الحديث .
    ( مطروح ) : ذكر هذا اللقب الحافظ الذهبي في ” الموقظة”
    ( ص34) وبعضهم يعبر بـ (مُطَّرَح) .
    ومن ألقابه المستعملة عندهم أيضاً لكن
    بقِلَّة :
    (ساقِطٌ) .

    الفائدة الثالثة : الفرق
    بين الحديث الواهي والحديث الموضوع .
    قال الباحث : الحديث الواهي :  هو الحديث الذي تفرد به متهم أو من غلب على
    حديثه الوهم .
     
    والحديث الموضوع : هو المكذوب
    المختلَق المصنوع .
    ويمكن بيان أبرز معالم الافتراق بين
    الحديث الواهي و الحديث الموضوع في الأمور الآتية :
    1- الأصل في راوي الحديث
    الموضوع أنه كذاب مطعون في عدالته ، أما الحديث الواهي فراويه على قسمين : إما
    مطعون في عدالته متهم بالكذب ، وإما مطعون في حفظه لغلبة خطئه على صوابه .
    2- الحديث الموضوع لا يجوز
    روايته إلا مقروناً ببيان حاله باتفاق العلماء ، أما الواهي لأجل الطعن في حفظ
    راويه فيجوز روايته في الفضائل والترغيب و الترهيب ونحو ذلك عند طائفة من أهل
    الحديث .
    3- الحديث الموضوع لا يعمل
    به البتة في جميع أبواب العلم  باتفاق
    العلماء ، أما الواهي بسبب سوء حفظ راويه فيعمل به في الفضائل والترغيب والترهيب
    ونحو ذلك بشروط و ضوابط .
    4- الحديث الموضوع لا يعتبر
    به ولا يتقوَّى بغيره بحال من الأحوال باتفاق ، أما الحديث الواهي لسوء حفظ راويه
    فيعتبر به ويتقوى بغيره لدى طائفة من أهل الحديث .
    الفائدة الرابعة : انتقاد
    العلماء للكتابين
    قال الحافظ ابن الصلاح في “علوم
    الحديث” (ص/99) : ” ولقد أكثر الذي جمع في هذا العصر
    “الموضوعات”  في نحو مجلدين ،
    فأودع فيها كثيراً مما لا دليل على وضعه ، إنما حقه أن يذكر في مطلق الأحاديث
    الضعيفة ” .
    قال السيوطي
    مستدركاً – في ” تدريب الراوي” (1/329) : ” بل وفيه الحسن والصحيح ،
    وأغرب من ذلك أن فيها حديثا من صحيح مسلم ” .
    وقال السخاوي في “فتح
    المغيث”  (1/256) : ومن العجب أنه
    أورد في كتابه  
    العلل
    المتناهية” كثيراً مما أورد في “الموضوعات” كما أنه أورد في
    “الموضوعات” كثيراً من الأحاديث الواهية مع أن موضوعهما مختلف وذلك
    تناقض .
    وقال الباحث كاتب الرسالة :
    قد بلغ عدد أحاديث ” السنن
      التي أوردها ابن الجوزي في ”
    العلل المتناهية” مئتين وثلاثة وستين حديثاً (263) حكم عليها بالضعف الشديد ،
    وقريب من ثلث هذه الأحاديث
    والثلث كثير – قوّاها الأئمة
    قبله كأحمد وابن المديني والبخاري ، وكذا الحفاظ بعده كالذهبي والعراقي وابن حجر .
    الجواب على إشكال أبي عمر :
    وهو وجود أحاديث مشتركة بين الكتابين . ويتلخص الجواب في ثلاث نقاط :

    النقطة الأولى : كثرة
    أوهام ابن الجوزي وأغلاطه في مصنفاته
    نقل الذهبي في  “سير أعلام النبلاء” ( 21/378) عن
    الموفق عبد اللطيف قوله: “وكان كثير الغلط فيما يصنفه فإنه كان يَفرُغ من
    الكتاب ولا يعتبره ” .
    وقال ابن رجب في “ذيل طبقات
    الحنابلة” (3/414) : للناس فيه كلام من وجوه :
    منها : كثرة أغلاطه في تصانيفه ، وعذرُه
    في هذا واضح وهو أنه كان مكثراً من التصانيف ، فيصنف الكتاب ولا يعتبره ، بل يشتغل
    بغيره ، وربما كتب في الوقت الواحد في تصانيف عديدة ، ولولا ذلك لم يجتمع له هذه
    المصنفات الكثيرة ، ومع هذا فكان تصنيفه في فنون من العلم بمنزلة الاختصار من كتب
    تلك العلوم ، فينقل من التصانيف من غير أن يكون متقناً لذلك العلم من جهة الشيوخ
    والبحث ، ولهذا نُقل عنه أنه قال : أنا مرتب ولست بمصنف ” اهـ .

    النقطة الثانية :
    اشتراك مصادر الكتابين
    قال الباحث : وموارده في كتابه
    “العلل المتناهية”  موافقة إلى
    حد كبير لموارده في كتابه ” الموضوعات” 
    ، ولأجل هذا أورد في كتابه ” العلل المتناهية” كثيراً من
    الأحاديث التي خرَّجها في ” الموضوعات” . وقد تعقبه الحفاظ والمحدثون
    بعده كالحافظ ابن حجر ، والسخاوي .
    هذا وقد أفصح ابن عراق في كتابه  “تنزيه الشريعة” ( 1/4) عن موارده في
    كتابه “الموضوعات” فقال : ومواد ابن الجوزي التي يسند الأحاديث من
    طريقها غالباً :
    الكامل لابن عدي ، والضعفاء لابن حبان
    ، وللعقيلي ، وللأزدي ، وتفسير ابن مردويه ، ومعاجم الطبراني ، والأفراد للدارقطني
    ، وتصانيف الخطيب ، وتصانيف ابن شاهين ، والحلية ، وتاريخ أصبهان ، وغيرهما من
    مصنفات أبي نعيم ، وتاريخ نيسابور وغيره من مصنفات الحاكم ، والأباطيل للجوزقاني .

    النقطة الثالثة :
    نقل بعض الأحاديث من “العلل” إلى “الموضوعات”
    قال الباحث : كتاب “العلل
    المتناهية في الأحاديث الواهية “ 
    قرين كتاب “الموضوعات” ، وهو سابقه في التأليف ، وتاليه في
    الرتبة .
    وقد رام ابن الجوزي في كتابه ”
    العلل المتناهية”  جمع جمهور الأحاديث
    الواهية شديدة الضعف ، ولم يلتزم إخراج الجميع .
    قال ابن الجوزي في مقدمة ”
    الضعفاء والواضعين” (1/7): قد جمعت بحمد الله كتاباً كبيراً يحتوي على
    الأحاديث الواهية سميته كتاب ” العلل المتناهية في الأحاديث الواهية ” ،
    ثم أفردت للموضوعات كتاباً سميته كتاب ” الموضوعات من الأحاديث المرفوعات
    ” .
    وقال في مقدمة “الموضوعات”
    (1/15) : القسم الخامس : جمعت لك جمهوره في كتابي المسمى بكتاب ” العلل
    المتناهية في الأحاديث الواهية” . وقد جردت لك في هذا الكتاب جمهور الموضوعات
    . اهـ

    يقول العاجز :
    يفهم منه أنه نقل بعض الأحاديث من كتاب
    العلل
    إلى
    الموضوعات
    لما رآها شديدة الضعف كثيرة العلل . وهو سبب ورود بعض الأحاديث في الكتابين .

    وفي الرسالة المذكورة فوائد أخرى لعلي
    أوردها في مناسبة أخرى .
    لخصه
    ورتبه العاجز : محمد طلحة بلال أحمد منيار
    2/2/2020

  • حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اذان دینے کا واقعہ

    حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اذان دینے کا واقعہ


    حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اذان دینے کا واقعہ

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    و برکاتہ
    سوال : حضرت
    بلال رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ملک شام جانا اور آپ
    صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مدینہ منورہ آنا اور حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کی
    درخواست پر اذان دینے کا واقعہ عنایت فرمادیں،مع تحقیق وتخریج ۔
    الجواب بعون
    الملک الوهاب :
    سب
    سے پہلے تو یہاں ایک بحث یہ ہے کہ : حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ
    وسلم کے زمانے کے بعد اذان دی تھی یا نہیں ؟تین قول ہیں :

    پہلا قول : حضرت بلال رضی اللہ
    عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں اذان دی تھی ، مگر حضرت
    عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نہیں دی۔

    قال الزیلعي في(نصب الراية 1/294) :
    وَأَخْرَجَ
    الْحَاكِمُ وَعَنْهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي
    الْخِلَافِيَّاتِ عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ
    سُوَيْد بْنِ غَفَلَةَ : أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُثَنِّي الْأَذَانَ
    وَالْإِقَامَةَ، وَرَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ بِلَفْظِ: سَمِعْت بِلَالًا يُؤَذِّنُ
    مَثْنَى وَيُقِيمُ مَثْنَى. وَاعْتَرَضَ الْحَاكِمُ بِأَنَّ الْأَسْوَدَ بن يزيد وسُوَيد
    بن غَفَلة لَمْ يُدْرِكَا بِلَالًا ، وَأَذَانُهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى
    اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ. قَالَ فِي
    الْإِمَامِ: وَكَوْنُ
    سُوَيْد بْنِ غَفَلَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَذَانَ بِلَالٍ فِي عَهْدِهِ عليه السلام
    صَحِيحٌ، لِأَنَّهُ لَمْ يَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَعَ
    أَنَّهُ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَأَدَّى الزَّكَاةَ لِمُصَدِّقِهِ عليه السلام،
    وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَفِيهِ نَظَرٌ، إذْ لَا مَانِعَ مِنْهُ، فَقَدْ رُوِيَ
    أَنَّ خُرُوجَ بِلَالٍ إلَى الشَّامِ كَانَ فِي زَمَنِ عُمَرَ.
    قال الزيلعي : فَهَذَانِ الْخَبَرَانِ يَقْتَضِيَانِ
    اسْتِمْرَارَ أَذَانِ بِلَالٍ حَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ.

    وقال الحافظ ابن حجر في (التلخيص الحبير
    2/557)
    :
    ويؤيد
    ذلك: ما رواه ابن أبي شيبة
    ، عن حسين بن علي، عن شيخ يقال: له الحفصي ، عن أبيه، عن جده وهو سعد القَرَظ قال: أذَّن بلال حياةَ
    رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ثم أذن لأبي بكر في حياته، ولم يؤذن في زمان عمر.
    انتهى. وسُوَيد بن غفلة
     هاجر في زمن أبي بكر.

    دوسرا قول :
    حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے اذان نہیں دی
    تھی ۔ اور جب حضرت ابوبکر صدیق نے درخواست کی تو انہوں معذرت کردی ۔ اور یہی جواب
    انہوں نے حضرت عمر فاروق کو بھی دیا تھا ۔

    قال الزيلعي تتمةً لكلامه
    السابق في (نصب الراية 1/294) :
     مَعَ أَنَّ أَبَا دَاوُد رَوَى فِي “سُنَنِهِ”
    مَا يُخَالِفُ هَذَا مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ
    عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنَّ بِلَالًا
    كَانَ يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا
    مَاتَ عليه السلام أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إلَى الشَّامِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:
    تَكُونُ عِنْدِي، فَقَالَ: إنْ كُنْتَ أَعْتَقْتنِي لِنَفْسِك فَاحْتَبِسْنِي،
    وَإِنْ كُنْت أَعْتَقْتَنِي لِلَّهِ فَذَرْنِي أَذْهَبْ إلَى اللَّهِ، فَقَالَ:
    اذْهَبْ، فَذَهَبَ إلَى الشَّامِ فَكَانَ بِهَا حَتَّى مَاتَ .
    قال
    الحافظ ابن حجر : هذا مرسل، وفي إسناده عطاء الخراساني وهو مدلِّس. ويمكن التوفيق
    بينه وبين الأول.

    خلاصہ یہ ہوا کہ :
    حضرت اسود بن یزید ، سوید بن غفلہ ، اور ابن ابی شیبہ کی روایت سے حضرت بلال رضی
    اللہ عنہ کا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اذان دینا ثابت ہے ، اس
    لئے کہ الاسود بن یزید اور سوید بن غفلہ دونوں مخضرم تابعی ہیں ، اور دونوں نے
    مدینہ منورہ کی طرف ہجرت حضرت ابو بکر کے زمانہ میں کی تھی ،اور حضرت بلال رضی
    اللہ عنہ کا ملکِ شام کی طرف ہجرت کرنے کا واقعہ حضرت عمر فاروق کے زمانے کا ہے۔اسی
    کی طرف ابن دقیق العید اور حافظ کا میلان ہے۔
    جبکہ حضرت سعید بن مسیب کی روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر
    صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی معذرت کردی تھی ، اور شام کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت طلب
    کی تھی ۔مگر حافظ نے اس پر کلام کیا ہے،سعید بن مسیب کی موافقت میں  ابن سعد نےمحمد بن ابراہیم تیمی کی روایت سے یہی
    بات نقل کی ہے، مگر اس میں حضرت بلال کا شام میں حضرت عمر کے زمانہ میں ایک بار
    اذان دینا منقول ہے، جیساکہ آئندہ آ رہا ہے۔

    اس کو تیسرا قول شمار کرتے ہوئے یوں تعبیر کرسکتے ہیں کہ :
    حضرت بلال نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد صرف ایک مرتبہ ملک شام
    میں حضرت عمر فاروق کی درخواست پر اذان دی تھی ۔
    قال ابن الأثير في (أسد
    الغابة  1/ 415) :
    وَقِيلَ:
    إِنَّهُ لَمَّا قَالَ لَهُ عُمَرُ لِيُقِيمَ عِنْدَهُ، فَأَبَى عَلَيْهِ: مَا
    يَمْنَعُكَ أَنْ تُؤَذِّنَ؟ فَقَالَ: إِنِّي أَذَّنْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى
    اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ، ثُمَّ أَذَّنْتُ لأَبِي بَكْرٍ حَتَّى
    قُبِضَ، لأَنَّهُ كَانَ وَلِيَّ نِعْمَتِي، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ
    صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَا بِلالُ، لَيْسَ عَمَلٌ أَفْضَلَ
    مِنَ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَخَرَجَ إِلَى الشَّامِ مُجَاهِدًا،
    وَإِنَّهُ أَذَّنَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَمَّا دَخَلَ الشَّامَ مَرَّةً
    وَاحِدَةً، فَلَمْ يُرَ بَاكِيًا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
    اس کے بعد سوال میں وارد قصے  کی تحقیق عرض ہے کہ : اس واقعہ کی تین روایتیں
    کتابوں میں  وارد ہیں :
     پہلی مشہور
    روایت :
    حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا خواب میں حضور صلی
    اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنا ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا (
    ما
    هذه الجفوة يا بلال ؟! أما آن لك أن تزورنا ؟!
    )
    اس پر حضرت بلال کا ملک شام سے مدینہ منورہ سفر کرنا …
    الخ ،
    وہی جو
    اوپر سوال میں مذکور ہے ۔

    یہ واقعہ بہت مشہور ہے ،
    لیکن اس کا مصدر یہ ہے :
    أخرج هذه القصة الحافظ ابن عساكر
    في”تاريخ دمشق”(7/137) في ترجمة: إبراهيم بن محمد بن سليمان بن بلال بن
    أبي الدرداء الأنصاري بإسناده عنه قال :
    حدثني أبي محمد بن سليمان ، عن أبيه
    سليمان بن بلال ، عن أم الدرداء ، عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال :
    لما دخل عمر بن الخطاب رضي الله عنه الجابيةَ
    سأل بلالٌ أن يُقِرَّه بالشام ففعل ذلك
    ثم إن بلالا رأى في منامه النبيَّ صلى الله عليه وسلم وهو
    يقول له : (ما هذه الجفوةُ يا بلال ، أما آنَ لك أن تزورني يا بلالُ) فانتبه حَزِينا
    وَجِلا خائفا ، فركب راحلته وقصد المدينة فأتى قبرَ النبي صلى الله عليه وسلم …
    فذكر
    قصةَ أذانه ، وخُروج العَوَاتق من خُدُورهن لسَماع صوته …وفي آخر القصة :
    فما رُئي يومٌ أكثر باكيا ولا باكية بعد
    رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذلك اليوم .

    وساقها الذهبي في “سير أعلام
    النبلاء” (1/357-358) مطولة من طريق أبي أحمد الحاكم مثل ما في تاريخ ابن
    عساكر ، وقال :
    إِسْنَادُهُ
    لَيِّنٌ وَهُوَ مُنْكَرٌ.
    وأورد هذه القصة ابن أبي يعلى في
    طبقات الحنابلة (في ترجمة مهنا بن يحيى)1/ 361 رقم 496 فنسب القصة إلى عهد أبي بكر
    الصديق ، وهو خطأ. وكذلك أورده الشيخ عبد القادر الجيلاني في الغنية 2/118 رقم
    1255 بغير إسناد أيضا .

    سند کا حال :
    اس قصہ کو حافظ ذھبی ،
    ابن عبد الہادی ، مزی ، ابن کثیر ، ابن حجر عسقلانی ، وغیرہم نے ضعیف منکر واہی
    بلکہ موضوع قرار دیا ہے ۔ کیونکہ سند میں کئی روات مجاہیل ہیں
    ،جن کا اتا پتا معلوم نہیں۔

    قال في (الصارم المنكي في الرد على
    السبكي ص: 237) :
    هو أثر غريب منكر ، وإسناده مجهول ، وفيه
    انقطاع، وقد انفرد به محمد بن الفيض الغساني ، عن إبراهيم بن محمد بن سليمان بن
    بلال  ، عن أبيه ، عن جده . وإبراهيم بن
    محمد هذا شيخ لم يعرف بثقة وأمانة ولا ضبط وعدالة، بل هو مجهول غير معروف بالنقل
    ولا مشهور بالرواية، ولم يرو عنه غير محمد بن الفيض، روى عنه هذا الأثر المنكر.
    وقال
    الحافظ ابن حجر في (لسان الميزان 1/ 359) في ترجمة إبراهيم بن محمد بن سليمان :
    ترجم له ابن عساكر ، ثم ساق مِن روايته عن أبيه عن جده عن أمِّ الدرداء عن أبي
    الدرداء في قصة رحيل بلال إلى الشام ، وفي قصة مجيئه إلى المدينة وأذانه بها
    وارتجاج المدينة بالبكاء لأجل ذلك، وهي قصة بيِّنة الوضع، انتهى.

    دوسری روایت :
    أخرجها البخاري في التاريخ
    الصغير
    [الصحيح أنه
    التاريخ الأوسط] (1/53) ؛ قال : حدثنا يحيى بن بشر ، ثنا قُرَاد ، أنا هشام بن سعد
    ، عن زيد بن أسلم ، عن أبيه قال : (قدمنا الشام مع عُمر ؛ فأذَّن بلالٌ ؛ فذَكَّرَ
    الناسَ النبيَّ صلى الله عليه وسلم ؛ فلم أرَ يوماً أشدَّ باكياً منه) .

    وذكر ابن عساكر في تاريخ
    دمشق
    (10/ 470)
    هذه القصة بتفصيل أكثر ، فقال :
    أخبرنا أبو القاسم الشحَّامي ، أخبرنا
    أبو بكر البيهقي ، أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ، أخبرنا أبو يحيى أحمد بن محمد بن
    إبراهيم ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر ، حدثنا أبو الوليد أحمد بن عبد الرحمن
    القرشي ، حدثنا الوليد بن مسلم قال : سألت مالك بن أنس عن السنة في الأذان فقال :
    ما تقولون أنتم في الأذان وعن من أخذتم الأذان ؟ قال الوليد : فقلت : أخبرني سعيد
    بن عبد العزيز وابن جابر وغيرهما : أن بلالا لم يؤذن لأحد بعد رسول الله صلى الله
    عليه وسلم وأرا الجهادَ ، فأراد أبو بكر منعَه وحبسَه ، فقال : إن كنتَ أعتقتَني
    لله تعالى فلا تحبسني عن الجهاد ، وإن كنت أعتقتني لنفسك أقمتُ . فخلى سبيله .
    فكان بالشام حتى قدم عليهم عمرُ بن الخطاب الجابيةَ ، فسأل المسلمون عمر بن
    الخطاب أن يسأل لهم بلالا يؤذِّن لهم ، فسأله فأذَّن لهم يوما – أو قالوا صلاة
    واحدة – قالوا : فلم
    نَرَ يوما أكثر باكيا منهم يومئذ حين سمعوا صوته ، ذكرا
    منهم لرسول الله صلى الله عليه وسلم
    . قالوا : فنحن نرى أن أذان أهل الشام عن
    أذانه يومئذ .
    یہ واقعہ زیادہ صحیح
    معلوم ہو
    تا
    ہے پہلے والے کے مقابلہ میں ، خصوصا بخاری کی روایت جو صحیح ہے ۔

    تیسری روایت :
    یہ واقعہ
    حضور صلی اللہ علیہ
    وسلم کے وصال کے بعد اور تدفین سے پہلے کا واقعہ ہے
    :
    یہ
    ابن سعد نے (الطبقات) میں واقدی کے واسطے سے نقل کیا ہے ، قال ابن سعد :
    أَخْبَرَنَا
    مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ
    ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ
    إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا
    تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  أَذَّنَ بِلالٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
    عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُقْبَرْ. فَكَانَ إِذَا قَالَ : (أَشْهَدُ أَنَّ
    مُحَمَّدًا
    رَسُولُ اللَّهِ) انْتَحَبَ
    النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ. قَالَ : فَلَمَّا دُفِنَ رسول
    الله صلى الله عليه وسلم قال لَهُ أَبُو بَكْرٍ: أَذِّنْ. فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ
    إِنَّمَا أَعْتَقَتَنِي لأَنْ أَكُونَ مَعَكَ فَسَبِيلُ ذَلِكَ. وَإِنْ كُنْتَ
    أَعْتَقَتَنِي لِلَّهِ فَخَلِّنِي وَمَنْ أَعْتَقَتَنِي لَهُ. فَقَالَ: مَا
    أَعْتَقْتُكَ إِلا لِلَّهِ. قَالَ: فَإِنِّي لا أُؤَذِّنُ لأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ
    اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: فَذَاكَ إِلَيْكَ.قَالَ :
    فَأَقَامَ حَتَّى خَرَجَتْ بُعُوثُ الشَّامِ فَسَارَ مَعَهُمْ حَتَّى انْتَهَى
    إِلَيْهَا.
    اس کی سند منقطع ہے ، کیونکہ محمد بن ابراہیم التیمی تابعی ہیں ، ان کا چشم
    دید واقعہ نہیں ہے ،اور ان کے صاحبزادے موسی ضعیف ہیں ، بلکہ منکر الحدیث ہیں ،لہذا
    یہ واقعہ درست نہیں ہے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ
    :
    اس واقعہ کا ملک شام میں حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں
    واقع ہونا زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے
    ،اور
    جو مشہور ہے کہ وہ شام سے مدینہ منورہ آئے اور وہاں اذن دی ، اس کو محدثین نے نا
    قابل اعتبار قرار دیا ہے۔
    جمعہ ورتبہ 
    وراجعہ العاجز : محمد طلحہ بلال احمد منیار
    27/11/2017

  • کپڑے پہننے میں قمیص مقدم ہے یا تہبند

    کپڑے پہننے میں قمیص مقدم ہے یا تہبند

     

    کپڑے پہننے میں قمیص مقدم ہے یا تہبند
    ایک مفتی صاحب نے یہ سوال
    کیا کہ : کپڑے پہننے اورتبدیل کرنے میں کرتا اور تہبند میں کوئی تقدیم و تاخیر
    مسنون ہے ؟
    میں نے شروع میں یہ جواب
    دیا کہ ( تقدیم الاہم
     فالاہم ) کے قاعدہ سے تہبند پہننا مقدم ہے ، چونکہ ستر عورہ اہم ہے ۔

    لیکن بعد میں طبرانی کی
    “المعجم الكبير”
    ( 843/22 )  کی ایک روایت مل گئی جس میں تہبند سے پہلے قمیص
    کرتا پہننا انبیاء علیہم السلام کے لباس پہننے کا طریقہ بتایا گیا ہے ۔

    مذکورہ روایت سند کے ساتھ
    یہ ہے :
    حدثنا أحمد
    بن عبد الوهاب بن نَجدة
     ، وأبو
    زيد الحَوطيان
     ، قالا : ثنا علي
    بن عياش الحِمصي
     ، ح وحدثنا أحمد
    بن المعلَّى الدمشقي
     ، قال : ثنا هشام
    بن عمار
     ، قالا : ثنا معاوية
    بن يحيى الأطرابلسي
     ، عن معاوية
    بن سعيد التُّجيبي
     ، عن يزيد
    بن أبي حبيب
     ، قال :
    حدثني
     أبو الخير
    مَرثَد بن عبد الله اليَزني
     ، عن أبي
    رُهْم السَّمَعي
     ، قال : قال
    رسول الله صلى الله عليه وسلم :
     ” إن من أسرق
    السُّرَّاق من يسرق لسان الأمير ،
     وإن من أعظم
    الخطايا من اقتطع مال امرئ مسلم بغير حق
     ، وإن
    من الحسنات عيادةَ المريض
     ، وإن من
    تمام عيادته أن تضع يدك عليه وتسأله كيف هو ، وإن من أفضل الشفاعات أن تشفع بين
    اثنين في نكاح حتى تجمع بينهما ، وإن من لبسة الأنبياء القميصَ قبل السراويل ، وإن
    مما يستجاب به عند الدعاء العُطاس
     ” . 

    اس روایت کی سند میں معاویہ بن
    یحیی میں کلام ہے ، مگر ابن معین ابو حاتم اور ابو زرعہ وغیرہ نے اس کی توثیق کی ہے
    ۔ اسی طرح ابو رہم میں اختلاف ہے کہ یہ احزاب بن  اسیدسمَعی تابعی ہیں ، یا اس نام کے کوئی اور
    صحابی ہیں ۔ اگر احزاب بن اَسید تابعی ہیں تو یہ روایت مرسل ہوگی ، لیکن حافظ ابن
    حجر عسقلانی کا (الاصابہ۷/۱۲۰) میں رجحان یہ ہےکہ ابو رہم صحابی ہیں ، اور اس پر حافظ نے
    چند شواہد بھی پیش کئے ہیں ، لہذا سند متصل ہوگی ۔

    علامہ مناوی اس حدیث کی
    تشریح میں فرماتے ہیں :
    (وإن من لبسة الأنبياء) بكسر اللام وضمها أي مما يلبسونه ويرضون
    لبسه (القميصَ قبل السراويل) يعني يهتمون بتحصيله ولبسه قبله ، لأنه يستر جميع
    البدن ، فهو أهم مما يستر أسفله فقط . وفيه أن السراويل من لباس الأنبياء .
    [فيض
    القدير
    2/532]

    حدیث  پر عمل کی دو صورتیں سمجھ میں آتی ہیں :
    1- جب جسم برہنہ ہو ، اور کپڑے پہننے کے وقت وہاں کسی کی نظر پڑنے
    کا خدشہ نہ ہو ۔
    2- جب پرانے کپڑے اتار کر نئے پہننے کا ارادہ ہو (تبدیل لباس) تو
    اس وقت قمیص کرتہ پہلے پہنے ۔
    ان کان صوابا فمن اللہ ، واللہ
    اعلم وعلمہ اتم واحکم
    بعض روایتوں میں تہبند  بیٹھ کر پہننے کی فضیلت یہ بتائی گئی کہ اس سے پہلو کا درد نہیں ہوتا ۔ یہ بات
    مجھے روافض کی بعض کتابوں میں ملی ، ہماری کتابوں میں اس سلسلہ میں کوئی بات کسی
    کے علم میں ہو تو مستفیض فرمائیں ۔
    رقمہ العاجز :محمد طلحہ بلال احمد منیار
    31/10/2017

  • الٹا کپڑا پہننا

    الٹا کپڑا پہننا


    الٹا کپڑا پہننا

    سوال : کیا الٹا کپڑا پہننے کے بارے میں
    کوئی حدیث ہے ؟

    جواب  :
    نمازاستسقاء کےبعد قلب
    رداء تو حدیث میں وارد ہے ۔
    اس کے علاوہ اگر نظر بد
    دور کرنا مقصود ہو تو بعض نے جائز لکھا ہے للحاجہ والضرورہ ۔
    لیکن اگر دکھلاوایا دنیا
    سے بے رغبتی کے مظاہرہ کی نیت سے ہو تو ممنوع ہے ، کیونکہ یہ لباس ِشہرت کے معنی
    میں ہوگا ۔

    جاء فی “مطالب أولي النُّهى”
    في الفقه الحنبلي :
    (ويدخل فيه) – أي : في ثوب الشُّهرة – (خلاف) زِيّ (مُعتاد ، و)
    خلاف ( زِيّ بلدٍ) هو فيه. (و) كره أيضا (لُبسُ ثوبٍ مقلوبٍ كفعل بعضِ أهل السَّخافة)
    ، لحديث أبي هريرة رضي الله عنه ، قال : « نهى رسول الله ، صلى الله عليه وسلم ،
    عن الشُّهرَتَين ، فقيل : يا رسول الله وما الشُّهرتان ؟ قال : رِقَّةُ الثياب وغِلَظُها
    ، ولينُها وخُشُونتها ، وطولها وقِصَرها ، ولكن سداداً بين ذلك واقتصاداً  » .

     حضرت
    ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    کہ ” جو شخص دنیا میں شہرت کا کپڑا پہنے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو
    ذلت کا کپڑا پہنائے گا ۔” (احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ )۔
    حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو
    شخص اپنی عزت طلبی اور اپنی بڑائی کے اظہار کی غرض سے اعلی و نفیس لباس پہنے یعنی
    اس کا مقصد یہ ہو کہ لوگ میرے جسم پر اعلی لباس دیکھ کر میری عزت کریں اور مجھے
    شہرت و بڑائی ملے، يا پھر ايسا پراگندہ اور بوسيدہ لباس زيب تن كرےجس سےاپنے زہد و
    پارسائی کا اظہار مقصود ہو،یا از راہ تمسخر و مذاق یعنی لوگوں کو ہنسانے کے لئے غیرمعتاد
    طریقہ پرکپڑا پہنے ، جیسے بعض بیہودہ لوگ الٹا کپڑا پہنتے ہیں، تو ایسے کو اللہ
    تعالیٰ قیامت کے دن ذلیل و حقیر کپڑا پہنائے گا، یعنی اس کو اس کپڑے کے ذریعہ ذلیل
    و بے عزت کرے گا ۔یہ تمام صورتیں شہرت کے لباس میں داخل ہیں،نیز لباس شہرت ميں وہ
    لباس بھى شامل ہوتا ہے جو معاشرے كے رسم و رواج اور عادات كے مخالف ہو اور ناپسند
    كيا جائے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ
    :
    الٹا کپڑا پہننے کی ممانعت صراحتا احادیث میں مذکور
    نہیں ہے، ہاں شہرت کے لباس کی صورتوں میں اس کو شمار کیا گیا، جس کی احادیث میں
    مذمت وارد ہے۔

    رتبہ العاجز :محمد طلحہ بلال
    احمد منیار

    20/10/2020
  • حب وطن کی ایک روایت کی تحقیق

    حب وطن کی ایک روایت کی تحقیق

    حب وطن کی ایک روایت کی تحقیق
    ایک ویڈیو کلپ دیکھی ، جس
    میں ایک مدرسہ کے ذمہ دار نے مسلمانوں کو اپنے وطن ہندوستان سے وفاداری کرنے اور
    اس سے محبت کرنے کی تاکیدکے سلسلہ میں ایک حدیث اس طرح بیان کی: (
    احفظوا
    أرضکم فإنها أمكم
    )اور ترجمہ یوں کیا کہ: اپنی زمین
    کی حفاظت کرو اس لئے کہ وہ تمہاری ماں ہے
    ۔
    مگر
    ذمہ دار موصوف نے حدیث کے جو الفاظ بیان کئے وہ درست
    نہیں ہیں ،اور تشریح بھی صحیح نہیں کی ، در حقیقت  مذکورہ حدیث کا زمین ووطن کی حفاظت سے دور دور کوئی تعلق نہیں ہے ۔
    صحیح الفاظ اور تشریح ملاحظہ فرمائیں
    :
    أخرج الطبراني في (المعجم الكبير5/رقم
    4596) ومن طريقه أبو نعيم في (معرفة الصحابة) برقم 2766 قال :
    حدثنا يحيى بن أَيُّوبَ الْعَلَّافُ
    الْمِصْرِيُّ ، ثنا سَعِيدُ ابن أبي مَرْيَمَ ، ثنا ابن لَهِيعَةَ ، حدثني
    الْحَارِثُ بن يَزِيدَ ، أَنَّهُ سمع رَبِيعَةَ الْجُرَشِيَّ يقول : إِنَّ رَسُولَ
    اللهِ صلى الله عليه وسلم قال :
     (اسْتَقِيمُوا وَنِعِمَّا
    إِنِ اسْتَقَمْتُمْ ، وحَافِظُوا على الْوُضُوءِ ، فإن خَيْرَ عَمَلِكُمُ
    الصَّلاةُ ، وتَحَفَّظوا مِنَ الأَرْضِ فَإِنَّهَا أُمُّكُمْ، وَإِنَّهُ ليس من
    أَحَدٍ عَامِلٍ عليها خَيْرًا أو شَرًّا إِلا وَهِي مُخْبِرَةٌ ) .

    الشرح :
    (تحفَّظوا من الأرض) بتشديد الفاء أي : احترزوا منها ، يقال :
    تحفَّظتُ منه أي احترزت ، والمراد احذروا من إتيان القبائح عليها كما تحترزون من
    المُطَّلِع عليكم. (فإنها أمُّكم) أي خُلقتم منها فاحترزوا منها احترازَكم من الأم
    في طيّ ما تكرهون فعله ؛ وهي أولى من الأم في ذلك ، لأنها مُخبِرة به. (وإنه ليس
    من أحد عاملٍ عليها خيراً أو شراً إلا وهي مُخبِرة به
    ) .
    التنوير
    شرح الجامع الصغير
    .

    ترجمہ
    :
    زمین پر گناہ کرنے سے احتراز کرو ، اس لئے کہ وہ تمہاری ماں ہے یعنی تمہارے اس
    سے پیدا ہونے کے لحاظ سے(منہا خلقناکم)لہذا جس طرح تم اپنی حقیقی ماں کی موجودگی
    میں گناہ کرنے سےشرم محسوس کرتے ہو،اسی طرح زمین کابھی پاس ولحاظ رکھو ، کیونکہ  زمین پر جو بھی عمل انجام دیا جائیگاخواہ نیکی
    کا ہو یا برائی کا ، تو زمین قیامت کے دن اس کی اطلاع دے گی ۔
    معلوم ہوا کہ حدیث کا
    تعلق اعمال سے ہے ، اور زمین مطلقا مذکور ہے(من الارض)نہ کے ( ارضکم ) اورانسان کے
     زمین سے پیدا ہونے کے اعتبار سے وہ اس کی  ماں ہے ۔
    حدیث میں حب الوطن ، حفاظت وطن ، وفاداری … وغیرہ ، اس
    کا کوئی ذکر نہیں ہے
    ، لہذا احادیث
    کے باب میں احتیاط ضروری ہے۔

    دوسری بات : مذکورہ بالا
    روایت بھی ضعیف ہے ، اس میں تین علتیں ہیں جو سبب ضعف ہیں :
    ۱۔ سند میں  ابن لہیعہ
    مضطرب الروایہ ہے،اور اس روایت میں ابن لہیعہ سے اضطراب ہوا ہے ، چونکہ بغوی کے (
    معجم الصحابۃ ۲/۴۰۰) میں اس حدیث کی اسناداس طرح ہے :

    عن أبي الأسود النضر بن عبد الجبار ، عن ابن لهيعة ، (عن الحارث بن سعيد ، عن عطاء
    بن أبي رباح) ، عن ربيعة الجرشي
    .یعنی
    حارث بن یزید کے بدلے حارث بن سعید ہے، اور عطاء بھی سند میں زائد ہیں ۔
    ۲۔ مذکورہ بالا حدیث کے جملوں میں تیسرے نمبر کے جملے کے علاوہ ، دیگر
    جملوں کے احادیث میں شواھد ہیں جن سے ان کی تقویت ہوسکتی ہے ۔ رہا تیسرا جملہ تو
    وہ صرف اسی روایت وارد ہے ، مگر مفہوم تو 
    صحیح ہے اس لئے کہ تحفظ واحتراز
    کی علت : زمین کی قیامت کے دن گواہی دینا ہے جو ثابت ہے ۔
    فیجوز
    بیانه لصحة معناه وإن كان في ثبوته عن النبي صلى الله عليه وسلم ضعف .
    نیز یہی حدیث ابن ماجہ وغیرہ
    میں حضرت ابو امامہ سے مروی ہے ،لیکن  اس میں(وتحفظوا
    من الارض …) کے الفاظ نہیں ہیں 
    ۔
    ۳۔  ربیعہ جرشی کا صحابی ہونا
    مختلف فیہ ہے ،راجح یہ ہے کہ وہ تابعی ہیں ۔

    تنبیہ : البتہ جو روایت(
    لسان المیزان ۹/۴۴) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب ہے ، اس کی سند
    باطل ہے،جیساکہ امام دارقطنی نے غرائب مالک میں لکھا ہے،کیونکہ اس کی سند میں ابو
    حبیب قراطیسی ہیں جو منکرات کی روایت کرتے ہیں ۔

     خلاصہ یہ ہے
    کہ :
    ۱۔ حدیث کا تعلق زمین پر
    گناہوں سے احتیاط کرنے کے بارے میں ہے،حب وطن سے متعلق نہیں ہے۔
    ۲۔ حدیث میں (تحفظوا) کا
    لفظ ہے جو احتیاط اور اجتناب کے لئے بولا جاتا ہے ، (احفظوا) حفاظت کرنے کا لفظ
    نہیں ہے۔
    ۳۔ حدیث حضرت ابو امامہ
    حضرت عائشہ اور ربیعہ جرشی کی روایت سے منقول ہے ، اور اس کی اسانید ضعیف ہیں ۔

    رقمہ
    ولخصہ : محمد طلحہ بلال احمد منیار

    17/8/2017

  • مغرب سے پہلے قبولیت دعا کا وقت

    مغرب سے پہلے قبولیت دعا کا وقت

    مغرب سے پہلے قبولیت دعاکی گھڑی
    سوال :
    لوگوں میں مشہور ہے کہ مغرب سے پہلے دعا کی قبولیت کی
    گھڑی ہے۔ اس کی کوئی دلیل ہے ؟
    جواب: ہاں
    ہے ، اس کی دلیل یہ حدیث شریف ہے:

    عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : ”
    عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ
    عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ : ( اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ ،
    وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ ، وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ ، فَاغْفِرْ لِي)
    . رواه الترمذي
    ( 3589) ، وأبو داود (530) واللفظ له
    .
    اس میں (اصوات دعاتک)سے
    مغرب کی اذان دینے والے مؤذنین مراد ہیں ۔
    یہ حدیث اگرچہ مغرب کی اذان کے وقت کے
    ساتھ مخصوص ہے ، مگر اس میں مغفرت طلب کرنے کی تعلیم ہے
    ۔ معلوم ہوا کہ یہ وقت خاص
     دعا کا ہے ۔
    اور (ورحمتی وسعت) کے پیش
    نظر یوں کہہ سکتے ہیں کہ مغرب کی اذان سے کچھ دیر پہلے کا وقت قبولیت دعا کا ہے ۔

    مذکورہ حدیث کی سند میں
    اگرچہ ضعف ہے ، لیکن اس کی تاییدایک دوسری روایت سےہوتی ہے جسے بیہقی نے(الدعوات الکبیر
    ۳۳۵) میں ذکر کیا ہے :

    أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد
    بن أبي عمرو قالا: حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ، حدثنا أحمد بن عبد الجبار،
    حدثنا أبو معاوية، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن مُحارب بن دِثار، عن ابن عمر رضي
    الله عنهما قال : (كنا نؤمَر بالدعاء عند أذان المغرب).

    وتابع أبا معاوية: محمد بن فضيل،
    أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف (8467)، قال: حدثنا محمد بن فضيل، عن عبد الرحمن بن
    إسحاق، عن مُحارب، عن ابن عمر رضي الله عنهما  قال: (كان يُستَحَبُّ الدعاء عند أذان  المغرب) ، وقال: ( إنها ساعة يُستَجَاب فيها
    الدعاء
    ) . والله
    أعلم
    رقمہ :محمد طلحہ بلال احمد منیار عفی عنہ
    10/10/2016

  • بسم اللہ وعلی برکۃ اللہ کی تحقیق

    بسم اللہ وعلی برکۃ اللہ کی تحقیق

    بسم اللہ وعلی برکۃ اللہ کی تحقیق
    سوال
    :کیاکھانے سے پہلے(بسم الله وعلى بركۃالله )کی دعاحدیث سے ثابت ہے ،جیساکہ تفسیر
    ثعالبی کی درج ذیل روایت میں ہے؟
    وعن أبي هريرة
    في حديثه في مسير النبي صلى الله عليه وسلم – وأبي بكر وعمر
    إلى بيت أبي الهيثم وأكلهم الرطب واللحم وشربهم الماء ،
    وقوله صلى الله عليه وسلم:(هذا هو النعيم الذي تُسئلون عنه يوم القيامة) وأن ذلك
    كبُر على أصحابه وأنه قال : (إذا اصبتم مثل هذا وضربتم بأيدكم فقولوا : بسم الله
    وعلى بركة الله ، وإذا شبعتم فقولوا : الحمد لله الذي أشبعنا وأروانا وأنعم علينا
    وأفضل ، فإن هذا كفاف بذاك ) هذا مختصر ، رواه الحاكم في
    المستدرك” . انتهى
    الجواب
    :
    اس
    روایت کے بارے میں دو باتیں جان لینی چاہئیں
    :

    ۱۔
    حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ
    عنہما کی ضیافت کا یہ واقعہ کتب حدیث میں دو حضرات صحابہ کی طرف منسوب ہے:
    پہلے صحابی:حضرت ابو الہیثم مالک بن تیہان رضی اللہ عنہ ہیں،ان کی ضیافت کا
    واقعہ متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے:
     حضرت ابوہریرہ سے:مسلم(۲۰۳۸) ترمذی(۲۳۶۹) ابن
    ماجہ(۳۱۸۱) موطا روایۃ ابی مصعب (۱۹۵۷) معجم طبرانی کبیر(۵۷۰) مستدرک حاکم (۷۱۷۸)
    حضرت
    ابن عباس سے:معجم طبرانی کبیر(۵۶۸) مسند بزار (۲۰۵) مستدرک حاکم (۵۲۵۲،۷۵۷۶)
    حضرت
    ابن عمر: معجم طبرانی کبیر(۵۶۹)  مستدرک
    حاکم (۷۱۷۸)
    حضرت
    جابر سے: ابوداود(۳۸۵۳)
    حضرت
    ابن مسعود سے:معجم طبرانی کبیر(۱۰۴۹۶)
    حضرت
    ابو عسیب مولی رسول اللہ : مسند احمد(۲۰۷۶۸) مشکل الآثار(۴۶۸) شعب الایمان(۴۲۸۱)

    دوسرے صحابی حضرت ابو ایوب انصاری ہیں ، ان کا واقعہ ان کتابوں میں ہے: معجم طبرانی صغیر(۱۸۵) معجم اوسط(۲۲۴۷) صحیح ابن حبان (۵۲۱۶)
    مستدرک حاکم (۷۰۸۴) شعب الایمان(۴۲۸۴) ۔
    ان
    تمام کتابوں میں حضرت ابو ایوب کا مذکورہ واقعہ بروایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ
    ذکرکیا گیا ہے ،اور دعا کے الفاظ دو طرح سے منقول ہیں:
    (إذا أصبتم مثل هذا وضربتم بأيديكم فقولوا : بسم
    الله وبركۃ الله
    ) معجم طبرانی صغیر(۱۸۵)
    معجم اوسط(۲۲۴۷) شعب الایمان(۴۲۸۴)صحیح ابن حبان (۵۲۱۶)
    (إذا أصبتم مثل هذا وضربتم بأيديكم فكلوا بسم الله وبركۃ الله) مستدرک حاکم (۷۰۸۴)
    ان
    تمام کتابوں میں روایت میں لفظ
    علی نہیں ہے ۔ اور صاحب قصہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ
    ہیں۔
    جبکہ
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جو روایت مستدرک حاکم (۷۱۷۸)وغیرہ میں ہے اس میں دعا
    کےمذکورہ الفاظ بھی نہیں ہیں ، اور واقعہ بھی ایک دوسرے صحابی کا ہے جن کا نام ہے
    [ابو الہیثم بن التیہان] ۔
    ۲۔ زیر بحث روایت
    میں (
    وبركة الله )کے بجائےعلی برکۃ اللہ کے الفاظ کے ساتھ شاید سب سے پہلے ابن الامام نے اپنی کتاب
    ” سلاح المومن “(ص۳۹۴) میں ذکر کئےہیں ، اور اس کی نسبت انہوں نےحضرت
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرف کی ہے اور حوالہ مستدرک حاکم کا دیا ہے ۔

    میرا خیال ہے کہ :ابن الامام سے سہو نظر اور سہو قلم دونوں ہوا ۔
    سہو
    نظر اس طور پر کہ انہوں نے حدیث نقل کرنے کے بعد اس کوحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
    کی روایت کی طرف منسوب کردی ، جبکہ در حقیقت یہ روایت حضرت ابن عباس کی ہے ، دونوں
    روایتوں کے قریب قریب ہونے کی وجہ سے شاید سہو ہوا ۔
    اورسہو
    قلم
    علیکے اضافہ کی وجہ سے ہواجو روایت میں وارد نہیں ہے ۔
    پھر
    اس کے بعد ابن الامام پر اعتماد کرتے ہوئے ابن الجزری نے (حصن حصین)میں (وعلی برکۃ
    اللہ)کے الفاظ سےیہ دعا ذکر کی ، اور وہاں سے دعاؤں کی کتابوں میں اور زبانوں پر
    پھیل گئی۔

    خلاصہ :
    مستدرک
    حاکم میں دعا کے یہ الفاظ حضرت ابن عباس
    کی روایت سے وارد ہے ، نہ کہ حضرت ابو ہریرہ۔
    نیز حضرت
    ابن عباس کی روایت میں صاحب قصہ حضرت ابو ایوب انصاری ہیں ، اور دعا کے الفاظ :
    [بسم الله وبركة الله]  ہیں ۔
    واللہ اعلم بالصواب

    رقمہ :محمد طلحہ بلال احمد منیار
    21/5/2017

  • عید کی نماز کے بعد چار رکعت کی فضیلت

    عید کی نماز کے بعد چار رکعت کی فضیلت

    عید
    کے بعد چار رکعت فضیلت والی روایت کی تحقیق
     عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
    عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : { مَنْ
    صَلَّى بَعْدَ الْعِيدِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ نَبْتٍ
    نَبَتَ ، وَبِكُلِّ وَرَقَةٍ حَسَنَةً }
    ترجمہ :
    جو شخص عید کی نماز کے بعد چار رکعت پڑھے ، اس کے لئے زمین پر اگے ہوئے تمام پیڑپودوں
    اور ان کے پتوں کی تعداد کے بقدر نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔

    یہ حدیث فقہ حنفی کی
    کتابوں میں بغیر سند کے مذکور ہے ، جیسے (مبسوط، بدائع ،حاشیۃ طحطاوی علی الدر)لیکن
    تلاش بسیار کے بعد بھی اس کی کوئی اصل کتب حدیث میں نہیں ملی اور نہ کوئی سند ، اس
    لئے اس روایت میں مذکورہ فضیلت ثابت نہیں ہے ۔
    ہاں عید کے بعد گھر لوٹ
    کر دو رکعت پڑھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بروایت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ
    منقول ہے ( ابن ماجہ ۱۲۹۳، احمد ۱۱۳۵۵، ابن خزیمہ ۱۴۶ ، حاکم ۱۱۰۳) ۔ اور چار رکعت
    پڑھنا بعض صحابہ جیسےحضرت علی(ابن ابی شیبہ۵۷۵۳) ابن مسعود (ابن ابی شیبہ۵۷۵۲)اور
    بریدۃ بن حصیب(ابن ابی شیبہ۵۷۵۷) اور تابعین جیسے سعید بن جبیر ،علقمہ ،ابراہیم
    نخعی ، مجاہد ، ابن ابی لیلی وغیرہ سے مروی ہے (ابن ابی شیبہ۵۷۴۹،۵۷۵۰)۔
    روافض کی کتابوں میں حضرت
    سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت سے ان چار رکعت کی ایک دوسری لمبی چوڑی فضیلت
    منقول ہے ، لیکن ان کی کتابوں کی مرویات معتبر نہیں ہے ۔ بلکہ موضوعات میں اس روایت
    کو شمار کیا ہے (لآلئ مصنوعہ 2/61 ، تنزیہ الشریعہ 2/94) ۔

    خلاصہ
    یہ ہے کہ دو یا چار رکعت پڑھنا ثابت ہے ، لیکن فضیلت کی روایات ثابت نہیں ہے ۔

    رقمہ محمد
    طلحہ بلال احمد منیار