Author: badr967@hotmail.com

  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قوت حافظہ

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قوت حافظہ

     

    مفتی
    ابو زاھر صاحب  
    سورتی المکرم نے یہ دریافت کیا
    کہ ڈاکٹر محمود غازی  
    رحمہ اللہ نے ( محاضرات حدیث ) ص 37
    – 39  پر حضرت ابوہر
    یرہ رضی اللہ عنہ کا
    واقعہ ذکر کیا ہے ، جس میں مروان بن الحکم نے ان کے قوت حافظہ کا امتحان لیا ہے ۔ تو
    کیا یہ واقعہ اسی طرح ہے ؟

    میں
    نے کہا کہ : واقعہ ثابت ہے ، مگر ڈاکٹر صاحب نے اصل عبارت میں تصرف کیا ہے ، اور
    کچھ اضافہ بھی کیا ہے ، بلکہ دو الگ الگ واقعوں کو ملاکر مروان کی طرف  
    دونوں
    کو
    منسوب کر دیا ، جبکہ دوسرا واقعہ مروان کا نہیں ہے ۔

    اس
    اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مروان کا واقعہ مختصر ہے کہ :  ایک مرتبہ مروان بن
    حکم نے آپ کے حفظ کے امتحان کی غرض سے آپ کو بلوایا۔ اور مروان نے اپنے کاتب
    ابو الزعيزعہ کو اپنے تخت
    کے پیچھے بٹھا دیا۔

    أبو
    الزُّعَيزِعة
    کہتے
    ہیں کہ : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حدیثیں بیان کرتے رہے اور میں لکھتا رہا۔ مروان
    نے پھر ایک سال بعد حضرت ابو ہریرہ کو دوبارہ بلوایا اور مجھے پردہ کے پیچھے بٹھایا
    ، اور مروان نے آپ رضی اللہ عنہ سے انہیں حدیثوں کے دوبارہ سنانے کی فرمائش کی ۔آپ
    رضی اللہ عنہ نے اسی ترتیب سے سنائیں ، کمی کی نہ زیادتی، مقدم کو موخر کیا نہ
    موخر کو مقدم۔تو میں نے
    قوت حافظہ
    کی تصدیق کردی۔(سیر اعلام النبلاء ۳/۵۲۲)
    ۔

    اس
    واقعہ میں یہ نہیں ہے کہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کو اپنے مکان لے گئے
    اور لکھی ہوئی احادیث کے رجسٹر دکھائے ۔۔۔ الخ

     بلکہ
    یہ دوسرا واقعہ ہے جو حسن بن عمرو ضمرى کے ساتھ پیش آیا تھا ، اس میں ہے کہ حضرت
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو احادیث کے تحریر شدہ اوراق دکھائے تھے ۔ ( فتح
    الباری
    ۶/۲۵۰)
    مگر ذہبی وغیرہ نے اس واقعہ کو منکر بتایا ہے (
    تلخیص المستدرک۳/۵۸۴)۔

    رہ
    گیا مسئلہ حضرت ابو ہریرہ کی کتابت حدیث کا ، اس لئے کہ مشہور تو یہی ہے کہ وہ
    احادیث نہیں لکھتے تھے ، جیساکہ خود انہی کا بیان ہے صحیحین میں  ۔

    مگر
    بعض روایتوں میں لکھنے کا تذکرہ ہے جیساکہ حسن بن عمرو ضمری کے
    مذکورہ واقعہ  میں ہے ، علل احمد (۲/۵۹۱) میں ایک اور شاگرد سے
    اس طرح کا واقعہ منقول ہے ،
    نیزمستدرک
    حاکم کی ایک روایت میں احادیث کے مذاکرہ اور دہرانے کا تذکرہ بھی ہے ۔

     چنانچہ حافظ نے (فتح ۱/۲۰۷) میں تعارض دفع کرنے کے
    لئے تطبیق یہ پیش کی کہ : آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں
    نہیں لکھتے تھے ، بعد میں لکھا ہوگا ، اور یہ بھی ہو سکتاہے کہ کسی اور سے لکھوایا
    ہو ، خود نے نہیں لکھا ۔ اس طرح کی تطبیق ابن عبد البر اور ابن عساکر سے بھی منقول
    ہے ۔

    تفصیل
    کے لئے دیکھیں کتاب ( ابو ہریرہ راویۃ الاسلام ، لعبد الستار الشیخ ص ۲۵۵۔۲۶۹) ۔

     

    رقمه العاجز محمد طلحة بلال أحمد
    منيار

    4/7/2018

     

  • وضو کے بعد سورہ انا انزلنا پڑھنا

    وضو کے بعد سورہ انا انزلنا پڑھنا

     

    سوال : بہشتی زیور میں حضرت حکیم الامت رحمہ
    اللہ نے وضوء کے بعد سورہ ( انا انزلنا ) پڑھنے کا لکھا ہے ، کیا یہ کسی حدیث سے
    ثابت ہے ؟

    الجواب :

    شاید
    اس کا استناد (كنز العمال
    ۲۶۰۹۰
    )کی اس روایت پر ہے : من قرأ في
    أثر وضوئه : إنا أنزلناه في ليلة القدر واحد
    ۃً
    ، كان من الصديقين، ومن قرأها مرتين كان في ديوان الشهداء، ومن قرأها ثلاثا يحشره
    الله محشر الأنبياء ( دیلمي عن انس )
    ۔

    دیلمی
    کی سند یہ ہے :

    الديلمي
    في ((الفردوس)) (5589) من طريق أحمد بن ماهان الخاقاني ، حدثنا علي بن مهران ، حدثنا
    عبدالله بن رشيد ، حدثنا أبو عبيدة ، عن الحسن ، عن أنس به.

    روایت کے بارے میں اقوال اہل علم :

    قال
    السخاوي في “المقاصد الحسنة” (ص 664) : ” قراءة سورة ( إنا أنزلناه
    ) عقيب الوضوء : لا أصل له ، وهو مفوّتٌ سنته ” انتهى .

    وقال
    العجلوني في “كشف الخفاء” رقم2566 : 
    لا أصل له . انتهى.

    وقال
    العامري الغزي في “الجد الحثيث في بيان ما ليس بحديث” (ص 234) : ”
    قراءة سورة القدر عقب الوضوء ، لا أصل لها ” .

    وقال
    الألباني في ” السلسلة الضعيفة ” 4 /35 : موضوع . رواه الديلمي في
    ” مسند الفردوس ” من طريق أبي عبيدة عن الحسن عن أنس بن مالك مرفوعا . و
    أبو عبيدة مجهول ” . كذا في ” الحاوي للفتاوي ” للسيوطي (2 /61) و
    أورده في ” جامعه الكبير ” ( 2 /284/ 1 ) . قلت : وفيه علة أخرى ، و هي
    عنعنة الحسن البصري ، و لوائح الوضع ظاهرة على متن الحديث . انتهى كلام الألباني

    میں کہتا ہوں: ابو عبيدة مجہول
    نہیں ہے ، اس کا نام مجاعہ بن زبیر ہے ، دارقطنی نے اس کو ضعیف کہا ہے ، ابن عدی
    نے نرم کلام کیا ہے ،
    لہذا
    اس روایت کی اصل علت شاید علی بن مہران ہے ، یہ مجہول راوی ہے ، اور عبد الله بن
    رشيد جنديسابوري کے بارے میں بیہقی نے کہا : لا یحتج بہ ، اگرچہ ابن حبان نے مستقیم
    الحدیث کہا ہے ۔

    خلاصہ
    : دیلمی کی روایت کے باوجود اہل علم نے اس کو بے بنیاد قرار دیا ہے ، اس کی اصل
    وجہ حقیقت میں مجھے معلوم نہیں ، اوپر چند علتیں مذکور ہیں : جہالت علی بن مہران ،
    ضعف مجاعہ وابن رشید ، عنعۃ الحسن ۔ ان سب نے ملکر
    روایت کو غیر معتبر بنا دیا ہو  تو ممکن ہے ، مزید تحقیق کی گنجائش ہے ، واللہ
    اعلم بالصواب ۔

    تنبیہ
    : بعض فتاوی میں دیلمی کی طرف اس روایت کے متعلق یہ بات منسوب ہے : (
    قال
    الديلمي : لم يثبت حديث صحيح في قراءة سورة القدر عقب الوضوء

    ) ۔

    حقیقت
    میں یہ بات دیلمی کی نہیں ہے ، بلکہ یہ تو “کنز العمال” کے مطبوعہ نسخہ
    میں ناشر نے حاشیہ میں لکھی ہے ، کسی کو التباس ہوگیا اور اس نے دیلمی کی طرف
    منسوب کردیا ، اس لئے
    بار بار
    تاکید کی جاتی ہے کہ مراجع ومآخذ کی طرف رجوع کرکے نقول کی تدقیق کرنی چاہئے ۔
    واللہ اعلم

    رقمه العاجز محمد طلحة بلال أحمد منيار

    22/6/2018

  • وضو کے بعد کی دعا : اسئلک تمام الوضوء کی تحقیق

    وضو کے بعد کی دعا : اسئلک تمام الوضوء کی تحقیق

     

    سوال
    :
    وضوء کے بعد کی دعا :   
    اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ
    تَمَامَ الْوُضُوءِ …إلخ
    کیا
     
    یہ دعا مستند ہے ؟

    الجواب
    :
    یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی
    روایت سے نقل کی جاتی ہے ، مسند حارث بن ابی اسامہ میں اس کی سند مذکور ہے ۔

    قال
    الحارث بن أبي أسامة في “مسنده” كما في “بغية الباحث عن زائد مسند
    الحارث” برقم ٤٦٩ : حَدَّثَنَا
     عَبْدُ
    الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ
     ،
    ثنا
     حَمَّادُ بْنُ
    عَمرو
     ،
    عَنِ
     السَّرِيِّ
    بْنِ خَالِدِ بْنِ شَدَّادٍ
     ،
    عَنْ
     جَعْفَرِ
    بْنِ مُحَمَّدٍ
     ،
    عَنْ
     أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ لِي
    رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” يَا عَلِيُّ ،
     إِذَا تَوَضَّأْتَ فَقُلْ :
    بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ الْوُضُوءِ ، وَتَمَامَ الصَّلاةِ
    ، وَتَمَامَ رِضْوَانِكَ ، وَتَمَامَ مَغْفِرَتِكَ ٬ فَهَذِهِ زَكَاةُ الْوُضُوءِ
    ….

    در حقیقت یہ
    ایک طویل روایت ہے
    جو (وصایا علی)
    سے مشہور ہے،
    جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی
    رضی اللہ عنہ کو مزید چند باتوں کی وصیت فرمائی ، جو مندرجہ ذیل ہیں :

    ۱۔کھانا نمک سے شروع کرنے
    اور ختم کرنے کے فوائد ۔

    ۲۔  زیتون کے تیل کے فوائد ۔

    ۳۔ سورج کے استقبال سے
    ممانعت اور نقصانات ۔

    ۴۔ بیوی سے صحبت کرنے کے
    اوقات ممنوعہ اور اس کے نقصانات ۔

    ۵۔ شیر کا سامنا ہونے کے
    وقت کا وظیفہ ۔

    ۶۔  کتے کا سامنا ہونے کے وقت کا وظیفہ ۔

    ۷۔  روزہ افطار کرنے کی دعا ۔

    ۸۔  سورہ یسٓ پڑھنے کے فوائد ۔


    أحكام أهل العلم على الحديث :

    قال
    السیوطي في اللآلئ المصنوعة 2/312 : أخرج البيهقي أوله في “الدلائل” ثم قال
    : وهو حديث طويل في الرغائب والآداب ، قال : وهو حديث موضوع
    .
    قال : وقد شرطت في أول الكتاب بأن لا أخرج في هذا الكتاب حديثا أعلمه موضوعا
    .

    وقال
    الحافظ ابن حجر في “المطالب العالية” 1/79 : هذا حدیث ضعیف جدا
    .

    وقال
    البوصیري في”اتحاف الخیرة” 3/413 :
    هذا
    إسناد مسلسل بالضعفاء ، السري وحماد وعبد الرحیم ضعفاء
    .

     وقال الألباني : فيه ثلاثة ضعفاء :

    1)
    شيخ الحارث بن أبي أسامة (عبد الرحيم بن واقد) منكر الحديث ، يروي الأباطيل . قال
    الخطيب البغدادي في تاريخه 11/85 : في حديثه مناكير لأنها عن ضعفاء ومجاهيل .

    2)
    وفيه أيضا : حماد بن عمرو النَّصِيبى. قال البخاري: يكنى أبا إسماعيل ، منكر
    الحديث.وقال الجوزجاني: كان يكذب.وقال النسائي : متروك الحديث.

    3)
    وفيه: السَّرِيُّ بنُ خالد ، قال الأزدي: «لا يحتج به». وقال الذهبي في «الميزان»
    (2/117): «لا يعرفُ» . وترجمه ابنُ أبي حاتم (2/1/284) ولم يذكر فيه جرحًا ولا
    تعديلا
    .

    ملاعلی
    قاری رحمہ اللہ موضوعات کبری میں لکھتے ہیں :
    ﻗﺎ
    اﻟﺼﻐﺎﻧﻲ :
    ﻣﻨﻬﺎ ﺻﺎﻳﺎ
    ﻋﻠﻲ ﻛﻠﻬﺎ اﻟﺘﻲ
    ﺃﻭﻟﻬﺎ : (ﻳﺎ ﻋﻠﻲ ﻟﻔﻼ
    ﺛﻼ
    ﻋﻼﻣﺎ)
    ﻓﻲ ﺧﺮﻫﺎ : اﻟﻨﻬﻲ
    ﻋﻦ اﻟﻤﺠﺎﻣﻌﺔ ﻓﻲ
    ﺃﻭﻗﺎ
    ﻣﺨﺼﻮﺻﺔ ، ﻛﻠﻬﺎ ﻣﻮﺿﻮﻋﺔ ،
    ﻭﺁﺧﺮ ﻫﺬ
    اﻟﻮﺻﺎﻳﺎ : (ﻳﺎ ﻋﻠﻲ
    ﻋﻄﻴﺘﻚ ﻓﻲ ﻫﺬ
    اﻟﻮﺻﻴﺔ ﻋﻠﻢ اﻷ
    ﻟﻴﻦ اﻵﺧﺮﻳﻦ)
     
    ﺿﻌﻬﺎ
    ﺣﻤﺎ
    ﺑﻦ ﻋﻤﺮ
    اﻟﻨﺼﻴﺒﻲ .
    ﻗﺎ
    اﻟﺴﻴﻮﻃﻲ ﻓﻲ “اللآلئ” :
    ﻛﺬا ﺻﺎﻳﺎ
    ﻋﻠﻲ  ﻣﻮﺿﻮﻋﺔ ، اﺗﻬﻢ ﺑﻬﺎ ﺣﻤﺎ

    ﺑﻦ ﻋﻤﺮ
    ، ﻛﺬا
    ﺻﺎﻳﺎ اﻟﺘﻲ ﺿﻌﻬﺎ
    ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ
    ﻳﺎ
    ﺑﻦ ﺳﻤﻌﺎ
    ﺃﻭ
    ﺷﻴﺨﻪ  (الأسرار المرفوعة 1/36-37) .

    شیخ
    عجلونی کشف الخفا میں لکھتے ہیں
    : ﻗﺎ
    ﺑﻌﺾ اﻟﻤﺤﻘﻘﻴﻦ:
    ﺇﻥ ﺻﺎﻳﺎ
    ﻋﻠﻲ اﻟﻤﺼﺪ
    ﺭﺓ ﺑـ “ﻳﺎ” ﻛﻠﻬﺎ ﻣﻮﺿﻮﻋﺔ
    ﻗﻮﻟﻪ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺼﻼ
    اﻟﺴﻼ:
    “ﻳﺎ ﻋﻠﻲ
    ﻧﺖ ﻣﻨﻲ ﺑﻤﻨﺰﻟﺔ ﻫﺎﺭﻭﻥ
    ﻣﻦ ﻣﻮﺳﻰ
    ﻧﻪ
    ﻻ ﻧﺒﻲ ﺑﻌﺪ
    ”  (کشف الخفاء 474/2) .

    الخلاصة : هذا الحديث لا يصح ، وهو موضوع
    مكذوب ، لركاكة ألفاظه ، والمتهمُ به حماد بن عمرو النَّصيبي
    .

     

    جمعه ورتبه العاجز محمد طلحة بلال
    احمد منیار عفى الله عنه

    22/6/2018

  • حدیث : زینوا اعیادکم بالتکبیرکا درجہ

    حدیث : زینوا اعیادکم بالتکبیرکا درجہ

     

    سوال : زينوا أعيادكم بالتكبير ۔ اس حدیث کا درجہ کیا ہے ؟ تحقیق مطلوب ہے ۔

    الجواب : اس سلسلہ میں دو حدیثیں ملتی ہیں :

    1-( زينوا العيدين بالتهليل ، والتقديس ، والتحميد ،
    والتكبير ) من حديث أنس رضي الله عنه .

    أخرجه أبو نُعَيْم في حلية الأولياء (2/ 288) قال : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ ، قَالَ : ثنا أَبُو رَافِعٍ
    أُسَامَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ
     ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ نَجِيحٍ ، قَالَ : ثنا عَلِيُّ بْنُ
    الْحَسَنِ
     ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ
    أَبِي تَمِيمَةَ
     ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مالكٍ
    به
    .

    وفي سنده عليُّ بن الْحَسَن بن يَعْمُر السَّاميُّ المصريُّ
    ، وقد تفرد به السامي عن سفيان الثوري ، واتهمه ابن حبان والدارقطني بالكذب .

    والراوي عنه عبد الرَّحمن بن خَالِد بن نَجِيح ،  منكر الحديث ، متروك .

    خلاصہ :
    فالحديث ضعيف جدا ، وقد يكون موضوعا
    ۔


    2-  حديث أبي هريرة رضي الله عنه ( زينوا أعيادكم
    بالتكبير )

    أخرجه الطَّبَرانيُّ في الأوسط (4371)، وفي الصغير (1/ 215) قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وُهَيْبٍ الْغَزِّيُّ ، قَالَ : نامُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلانِيُّ ، قَالَ : نا بَقِيَّةُ ، قَالَ: نا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ : نا أَبُو كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ :
     ” زَيِّنُوا أَعْيَادَكُمْ
    بِالتَّكْبِيرِ “
     ۔

    وإسناده ضعيف أيضاً، فيه بقية بن الوليد ، وهو مُدلِس
    مشهورٌ ، وفيه أيضاً عُمَر بن راشد اليماميُّ ، وهو ضعيف كما في
    “التقريب”
    ۔

    قال الحافظ ابن
    حجر
     : وعمر ضعيف، ولا بأس بالباقين، وبقية وإن كان مدلسا فقد
    صرح بالتحديث اهـ من فيض القدير .

    وقال الحافظ في مقام آخر : إسناده غريب .

    وقال الهيثمي : فيه عمر بن راشد ، ضعفه أحمد وابن معين والنسائي. 

    خلاصہ :
    فهذا الحديث ضعيف منكر ، ولا يصل إلى درجة الموضو
    ع ۔


    الحاصل :  حضرت
    انس کی روایت میں ایک راوی متہم بالکذب ہونے کی وجہ سے وہ نا قابل اعتبار ہے ، اور
    دوسری سند بھی ضعیف ہے ، لیکن فضائل اعمال میں اس طرح کی احادیث پر عمل کرسکتے ہیں
    ، کیونکہ تکبیر کی عیدین کے ساتھ خاص مناسبت ہے ، عید کی نماز میں تکبیرات زوائد
    کہی جاتی ہیں ، خطبہ میں بھی تکبیرات ہیں ، اسی طرح عید الاضحی میں نمازوں کے بعد
    تکبیر مقید ہے ۔ممکن ہے کہ حدیث کا مطلب بھی یہی ہو کہ عید کی نماز وغیرہ میں
    تکبیرات کا اہتمام کیا جائے کیونکہ وہ اس
    کی زینت ہے۔اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ مراد ہو کہ عیدین کے دن کثرت سے ذکر اللہ
    کا اہتمام کیا جائےخصوصا الفاظ تکبیر کے ذریعہ جیساکہ بعض صحابہ وتابعین سے عید کی
    رات میں کثرت سے جہرا تکبیر کہنا منقول ہے۔مزید بر آں عید الفطر کے سلسلہ میں یہ
    آیت بھی ہے
    (وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا
    اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ) [البقرة:185]
     اس میں بھی تکبیر کا تذکرہ ہے ۔ واللہ اعلم

    رقمه العاجز : محمد طلحة بلال أحمد منيار

    16/6/2018 

  • رفع عن امتی الخطا والنسیان کے الفاظ ثابت نہیں

    رفع عن امتی الخطا والنسیان کے الفاظ ثابت نہیں

     

    باسمه
    تعالى

    حديث (رفع
    عن أمتي الخطأ والنسيان) لا يثبت

    حفاظ کے پروگرام میں یہ حدیث عرض کی تھی ( رفع عن أمتي الخطأ والنسيان )
    لیکن
    بعد میں تخریج کی کتابوں کی
    طرف رجوع کرنے سے یہ معلوم ہوا کہ : یہ الفاظ
    حدیث
    کی کتابوں میں
    وارد نہیں ہیں ،
    بلکہ اصل الفاظ یہ ہیں :

    1-  ( إن الله وضع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه )
    .

    2-  ( إن الله تجاوز لي عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا
    عليه
    ). 

    یہ دونوں الفاظ بروایت حضرت ابو ذر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تخریج ابن ماجہ نے
    “سنن” میں کی ہے ۔

    نیز
    عقبہ بن عامر ،ثوبان،ابن عمر ، ابو الدرداء ،اور ابو بکرہ رضی اللہ عنہم سے بھی
    مختلف اسانید سے مروی ہے۔امام زیلعی نے (نصب الرایہ۲/۶۴) میں مذکورہ روایات کی
    تخریج کی ہے۔اور عموما اس حدیث کی اسانید میں ضعف پایا جاتاہے۔

    یہ روایت فقہ کی کتابوں میں عموما کتاب طلاق المکرہ میں ذکر کی جاتی ہے ۔

    پھر
    اتفاقا اس حدیث کی تحقیق
    تاج
    الدین
     سبکی کی “طبقات الشافعیہ” میں دیکھی ، تو بہت مفید معلوم ہوئی اس
    لئے
    یہاں پر نقل کرتاہوں :


    قال تاج الدين السبكي :

    حديثُ « رفع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه »
    :
    هذا الحديث كَثُر ذكره على ألسنة
    الفقهاء والأصوليين ، وتكلمتُ عليه قديما فيما كتبتُه على أحاديث “منهاج
    البيضاوي” . ثم وقفت على كتاب “اختلاف الفقهاء” للإمام محمد بن نصر،
    وهو مختصر يذكر فيه خلافياتِ العلماء ، ويبدأ في كل مسألة بذكر سفيان الثوري ،
    فأبصرتُ فيه في باب طلاق المكرَه وعِتاقه ما نصه : ” ويُروى عن النبي صلى
    الله عليه وسلم أنه قال : ( رَفَع الله عن هذه الأمة الخطأ والنسيانَ وما أكرهوا
    عليه ) إلا أنه ليس له إسنادٌ يُحتَجّ بمثله ” انتهى

    فاستفدتُ من هذا أن لهذا اللفظ إسنادا ولكنه لا يثبت .

    وقد وقع الكلام في هذا الحديث قديما بدمشق وبها الشيخ
    برهان الدين بن الفِركاح شيخُ الشافعية ثم إذ ذاك ، وبالَغَ في التنقيب عنه وسؤالِ
    المحدثين ، وذَكَر في تعليقته على “التنبيه” في كتاب الصلاة قولَ النووي
    في زيادة “الروضة” في كتاب الطلاق في الباب السادس في تعليق الطلاق :
    إنه حديث حسن
    .

    قال الشيخ برهان الدين : ولم أجد هذا اللفظَ مع شُهرته ،
    ثم ذكر أن في “كامل” ابن عدي (2/390) في ترجمة جعفر بن جسر بن فرقد من
    حديثه عن أبيه عن الحسن عن أبي بكرة
    قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( رفع الله عز
    وجل عن هذه الأمة ثلاثا : الخطأ والنسيانَ والأمرَ يُكرَهون عليه ) . وجعفرُ بن
    جسر وأبوه ضعيفان
    .

    قلت : ثم وَجَد رفيقُنا في طلب الحديث شمسُ الدين محمد
    بن أحمد بن عبد الهادي الحنبلي الحديثَ بلفظه في رواية أبي القاسم الفضل بن جعفر
    بن محمد التميمي المؤذن المعروف بأخي عاصم فإنه قال : حدثنا الحسين بن محمد ، حدثنا
    محمد بن مصفى ، حدثنا الوليد بن مسلم ، حدثنا الأوزاعي ، عن عطاء ، عن ابن عباس
    قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( رُفِع عن أمتي الخطأ والنسيان وما
    استكرهوا عليه ) .

    لكن ابن ماجه روى في “سننه” الحديثَ بهذا
    الإسناد بلفظٍ غيرِه فقال : حدثنا محمد بن مصفى الحِمصي ، عن الوليد بن مسلم ، عن
    الأوزاعي ، عن عطاء بن أبي رباح ، عن ابن عباس ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال :
    ( إن الله وضع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه ) .

    ولفظ (الوضع) و(الرفع) متقاربان ، فلعل أحد الراويين روى
    بالمعنى .

    وسئل أحمد بن حنبل عن الحديث فقال : لا يصح ولا يثبت
    إسناده
    .

    قلت : ورُوي من حديث ابن عباس أن رسول الله صلى الله
    عليه وسلم قال : ( إن الله تَجَاوَزَ لي عن أمتي الخطأ والنسيان وما أكرهوا عليه )
    كذا رواه الطبراني من حديث الأوزاعي ، عن عطاء بن أبي رباح ، عن عبيد بن عمير ، عن
    ابن عباس
    .

    وبالجملة : الأمرُ في الحديث -وإن تعدَّدت ألفاظُه – كما
    قال الإمامان أحمد بن حنبل ومحمد ابن نصر : إنه غير ثابت ، وذكر الخلَّال من
    الحنابلة في “كتاب العلم” أن أحمد قال : من زعم أن الخطأ والنسيان مرفوع
    فقد خالف كتابَ الله وسنةَ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فإن الله أوجب في قتل
    النفسِ في الخطأ الكفارةَ
    .

    قلت : ولا محمل لهذا الكلام إلا أن يقال : أراد به مَنْ
    زَعَم ارتفاعَهما على العموم في خطاب الوضع وخطاب التكليف ، وإلا فقائل هذا
    المقالة أشبه بوفاق الإجماع ، انتهى كلام السبكي .

    فائدة : أخرجه ابن حزم في “المحلى”: (8/334) من
    طريق الرّبيع بن سليمان المؤذّن المصري ، عن بشر بن بكر ، عن الأوزاعي ، عن عطاء ،
    عن ابن عباس ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: “عُفي لأمتي عن الخطأ
    والنسيان وما استكرهوا عليه”.

    وقد خرج الحديث تفصيلا بطرقه وأسانيده ورواياته
    الباحث نبيل البصارة في كتابه “أنيس الساري في تخريج وَتحقيق الأحاديث التي
    ذكرها الحَافظ ابن حَجر العسقلاني في فَتح البَاري” 2/1566 .

    جمعه
    ورتبه العاجز : محمد طلحة بلال أحمد منيار

    ۱۲/۸/۲۰۲۰

  • مباحث لغوية عن الحديا

    مباحث لغوية عن الحديا

    باسمه
    تعالى

    المباحث اللغوية عن

    الحُـــدَ يَّـــا

     

    الحُدَيّا : هو الطائر المعروف
    بالحِدَأة ، نوع من الجوارح معروف ، تنقَضُّ
    على الجرذان والدواجن والأطعمة واللحوم ونحوها ، وربما خطفت أشياء الناس ،
    وتمتاز بنظرها الثاقب، وسرعة طيرانها مما يتيح لها سرعة الانقضاض .


    ورد ذكرها بهذا الاسم (الحُدَيَّا) في
    الحديث في موضعين :

    (1) في قصة الوِشَاح مع
    المرأة السوداء :

    وهو ما أخرجه البخاري في كتاب مناقب
    الأنصار من حديث
    عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ
    عَنْهَا، قَالَتْ: ” أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ لِبَعْضِ العَرَبِ
    وَكَانَ لَهَا حِفْشٌ فِي المَسْجِدِ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تَأْتِينَا فَتَحَدَّثُ
    عِنْدَنَا، فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ حَدِيثِهَا قَالَتْ:

    وَيَوْمُ الوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِيبِ رَبِّنَا … أَلاَ إِنَّهُ مِنْ
    بَلْدَةِ الكُفْرِ أَنْجَانِي

    فَلَمَّا
    أَكْثَرَتْ، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: وَمَا يَوْمُ الوِشَاحِ؟ قَالَتْ: خَرَجَتْ
    جُوَيْرِيَةٌ لِبَعْضِ أَهْلِي، وَعَلَيْهَا وِشَاحٌ مِنْ أَدَمٍ، فَسَقَطَ
    مِنْهَا، فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِ الحُدَيَّا، وَهِيَ تَحْسِبُهُ لَحْمًا،
    فَأَخَذَتْهُ فَاتَّهَمُونِي بِهِ فَعَذَّبُونِي، حَتَّى بَلَغَ مِنْ أَمْرِي
    أَنَّهُمْ طَلَبُوا فِي قُبُلِي، فَبَيْنَا هُمْ حَوْلِي وَأَنَا فِي كَرْبِي،
    إِذْ أَقْبَلَتِ الحُدَيَّا حَتَّى وَازَتْ بِرُءُوسِنَا، ثُمَّ أَلْقَتْهُ،
    فَأَخَذُوهُ، فَقُلْتُ لَهُمْ: هَذَا الَّذِي اتَّهَمْتُمُونِي بِهِ وَأَنَا
    مِنْهُ بَرِيئَةٌ ” .


    (2)
    في حديث الخمس الفَواسق :

    وهو حديث
    عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    أَنَّهُ قَالَ: ” خَمْسٌ فَوَاسِقُ، يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ:
    الْحَيَّةُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ،
    وَالْحُدَيَّا ” . متفق عليه . وفي الباب عن ابن عمر .

     وقد وقع في بيان أصله واشتقاقه في كتب شروح
    الأحاديث
    (المطبوعة) وغيرها تصحيفات وتحريفات ، وينقل عنها المتأخرون بدون
    مراجعة الأصول فيَشيع الغلط وينتشر ، فأحببت أن أنبّه عليها وأذكر الصوابَ بعد
    مراجعة كتب اللغة وغريب الحديث ، فإليكم هذه التنبيهات :


    التنبيه
    الأول : اختلاف روايات الحديث في ذكر كلمة (الحُدَيَّا) :

    (1)
    الحُدَيَّا على وزن
    الثُّرَيَّا بِضَمِّ أَوَّلِهِ وفتح الدال وَتَشْدِيدِ الياء التَّحْتَانِيَّةِ بصيغة
    التصغير مَقْصُورٌ : قيده الأصيلي راوي البخاري في آخر حديث السوداء ، ووقع فِي
    بَدْءِ الْخَلْقِ مِنْ حَدِيثِ عائشة أيضا 
    بِلَفْظِ “الْحُدَيَّا” . وذكره البُخَارِيّ فِي الصَّلَاة وَالسِّير
    فِي حَدِيث السَّوْدَاء غير مَهْمُوز ، وَكَذَا ذكره مُسلم فِي كثير من طرقه مضموم
    الْحَاء على وزن فُعَيلى كما
    في رواية هشام بن عروة عن أبيه ،
    وكذا في حديث ابن عمر من طريق زيد بن جبير
    .
    [مطالع
    الأنوار على صحاح الآثار 2/241
    ،
    مشارق الأنوار على صحاح الآثار 1/184، فتح الباري لابن حجر 4/38 ] .

    (2) “الْحُدَيَّاة”
    بِالتَّاءِ غير مَهْمُوز مشدد
    الْيَاء مَفْتُوحَة
    ، كذا قيده الأصيلي في أول حديث السوداء [مطالع الأنوار على صحاح الآثار
    2/241،
    مشارق الأنوار على
    صحاح الآثار 1/ 184] .

    (3) “الحُدَيْئة”
    كالتُّمَيْرَةُ بالتصغير

    وهو بسُكُون الْيَاء وهمزة بعدها
    ، كذا رواه الأصيلي وغيره في أيام
    الجاهلية
    [مطالع
    الأنوار على صحاح الآثار 2/241،
    مشارق
    الأنوار على صحاح الآثار 1/184] .

    (4) الْحِدَأَةُ” بِكَسْر الْحَاء وَفتح الدَّال والهمز وِزِيَادَةِ هَاءٍ
    بِلَفْظِ الْوَاحِدَةِ وَلَيْسَتْ لِلتَّأْنِيثِ ، بَلْ هِيَ كَالْهَاءِ فِي
    التَّمْرَةِ ، هكذا وَقَعَ فِي رِوَايَةِ الْكُشْمِيهَنِيِّ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ
    .
    [ فتح الباري لابن حجر 4/38]

    (5) “الحِدَأ”
    بِكَسْر الْحَاء وَفَتْحِ
    الدال بَعْدَهَا هَمْزَةٌ بِغَيْرِ مَدٍّ ، هكذا جَاءَ فِي بعض طرقه فِي
    الصَّحِيحَيْنِ.
    [مشارق
    الأنوار على صحاح الآثار 1/184، فتح الباري لابن حجر 4/38]


    التنبيه الثاني : اشتقاق
    الوجوه الخمسة المذكورة :


    (1)
    “الحُدَيَّا” على وزن الثُّرَيَّا بِضَمِّ أَوَّلِهِ وَتَشْدِيدِ الياء التَّحْتَانِيَّةِ
    مَقْصُورٌ مصَغَّر :

    القول
    الأول :
    الحُدَيَّا:
    تصغير حِدَأَة، فلما صُغِّرَتْ صارت حُدَيْئَةَ، فقُلبت الهمزة ياء فصارت:
    حُدَيَّةَ – بياء مشددة – ثم حذفت التاء وأقيمت الألف مكانها؛ لأن الألف تدل على
    التأنيث مثل: حُبْلَى.
    [المفاتيح
    في شرح المصابيح 3/351]

    .

    القول
    الثاني :
    نفس الوجه السابق
    بالتصغير إلى (حُدَيْئَةَ) ثم تسهيل الهمزة وإدغامها في الياء فأصبحت (حُدَيَّةَ)
    ، ثم حذفت التاء وأقيمت الألف مكانها للإشباع . 
    [الكواكب الدراري
    في شرح صحيح البخاري 13/218]
    .

    القول
    الثالث :
    الحُدَيَّا تصغير
    الحِدَوّ ، وهي لغة أهل الحجاز في (الحِدَأ) بصيغة التذكير من (الحِدَأة) . قال
    المُطَرِّزي في “المُغرِب في ترتيب المعرَب” (1/105) : وَرَوَى
    الْبُخَارِيُّ “الْحُدَيَّا” تَصْغِيرُ الْحِدَوِّ : لُغَةٌ فِي
    الْحِدَأ .
    وفي “تهذيب اللغة” للأزهري (5/121) : والحُدَيَّا تَصْغِير الحِدَوْ ، لغة في
    الحِدَأ .

    وَعَنْ
    ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا :
    لَا بَأْسَ بِقَتْلِ الْحِدَوِّ وَالْإِفْعَوِّ
    لِلْمُحْرِمِ
    بتشديد الواو ، وَمِنْهُ
    حَدِيثُ لُقمان : «إِنْ أرَ مَطْمَعِي فَحِدَوٌّ تَلَمَّعُ» أَيْ تَخْتَطِف الشيءَ
    فِي انِقضاضها. والحِدَوُّ: هِيَ الحِدَأة بلُغة مَكَّةَ.
    [المُغرِب
    في ترتيب المعرَب 1/105،
    النهاية في غريب الحديث والأثر 4/271،
    مشارق الأنوار على صحاح الآثار
    1/184
    ] .

    ورواه
    بعضهم بلفظ :
    “لَا بأْسَ بقَتْلِ الحِدَوْ والإفْعَوْ”
    بسكون الواو . قال أبو الحسين ابن سراج: هي على مذهب الوقف على هذِه
    اللغة ، قلب
    الألف واوًا على لغة من قال: “حِدَا” -يعني بإبدال الهمزة ألفا- وكذلك
    أفعا
    . [النهاية
    في غريب الحديث والأثر 4/271، تاج العروس 1/188] .

    وَعَنْ
    أَبِي حَاتِمٍ السِّجِستاني : أَهْلُ الْحِجَازِ يَقُولُونَ لِهَذَا الطَّائِرِ
    :”الْحُدَيَّا” وَيَجْمَعُونَهُ “الْحَدَاوِي” ، قَالَ :
    وَكِلَاهُمَا خَطَأٌ.
    [المغرب
    في ترتيب المعرب 1/ 105]

     القول الرابع : أنه اسم للحِدَأة وُضع
    على صيغة التصغير . كما في
    الكواكب الدراري
    في شرح صحيح البخاري
    (13/218) .

    القول الخامس
    :
    أَنْكَرَ ثَابِت
    بن قاسم السَّرَقُسطي فِي “الدَّلَائِلِ في غَريب الحديث” هَذِهِ
    الصِّيغَةَ أي (الحُدَيَّا) تصغير (الحِدَأة) ، وَقَالَ :
    صواب
    تصغيره إما أن يكون :

    1- حُدَيْئة كتُمَيْرَةُ : بضم الحاء وفتح
    الدال وسكون الياء و
    بِهَمْزَةٍ
    وَزِيَادَةِ هَاءٍ
    .

    2- أو حُدَيَّة على مثال عُليَّة : بإلقاء حركة الهمزة على الياء
    وتشديدها
     .
    قال : ويجوز أن تقول في تذكير (
    حُدَيْئة) : حُدَيءٌ ، وفي تذكير (حُدَيَّة) : حُدَيٌّ .

    وأما
    رواية: (الحديا)؛ فقال ثابت: صوابه: الهمز على معنى التذكير[يعني حُدَيء]. ومعنى
    كلام ثابت : كأن الكاتب رسمه بالألف (الحُدَيْا) على صيغة التذكير بدون همز وهو
    يريد (الحُدَيْأ) ، فقُرئت : الحُدَيَّا بالتشديد . لكن فيه نظر فإن رواية الحديث
    بتشديد الياء وإثبات الألف كما قال ابن التين
    .[ التوضيح لشرح الجامع الصحيح 5/511]

    وبيّن
    الشراح أيضا نقلا عن ثابت بن قاسم أن (الحُدَيَّا) ليست من هذا الباب ، وإنما هي
    من التحدِّي .

    قال
    ثابت بن قاسم :
    الْحُدَيَّا مِنَ
    التَّحدِّي، يُقَالُ: فُلَانٌ يَتَحدَّى فُلَانًا، أَيْ يُبَارِزُهُ وَيُنَازِعُهُ
    الْغَلَبَةَ، وَتَقُولُ: أَنَا حُدَيَّاكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ، أَيْ: أُبْرُزُ
    إِلَيَّ وَجَارِنِي فيه ، كما قَالَ الشاعر :

    أَلَا إِنَّا حُدَيَّا النَّاسِ
    طُرًّا … نُقَارِعُهُمْ بَنِيهِمْ عَنْ بَنِينَا

    قَالَ ثابت : وفِي حَدِيثِ طَلْحَةَ بن
    عبيد الله : ” وَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى
    اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا شَرَبَةَ السَّوِيقِ، أَنَا
    حُدَيَّاكُمْ صِرَاعًا، فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ: لَيَقُوَمَنَّ
    إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْكُمْ، أَوْ لَأَقُومَنَّ إِلَيْهِ
     ” .

    وفي “المقصور والممدود”
    لأبي علي القالي (ص: 262) :

    وقال أبو بكر بن دريد: قولهم: أنا
    حُدَيَّا الناس أي أتعرَّض لهم وأتحدَّاهم
    .

    وفى “العين”للخليل :
    الحُدَيَّا من التحدِّي ، يقال : فلان يتحدى فلانًا أي يُبارِيه ويُنازعُه الغَلَبةَ
    .

    وفي
    “المعجم الوسيط” (1/ 162) : (الحُدَيَّا) الْمُنَازعَة والمباراة ، وَمن
    النَّاس : واحِدُهم ، وَيُقَال : “هَذَا حُدَيَّا هَذَا” : نِدُّه
    وَنَظِيرُه ، “وَأَنا حُدَيَّاك بِهَذَا الْأَمر” : مُبَارِيكَ الوحيدُ
    فابرُزْ لي وَحدَك .


    (2)
    “الْحُدَيَّاة”
    بِضمّ
    الحاء وفتح الدال وتشديد الْيَاء مَفْتُوحَة بعدها ألف وتاء
    :

    كذا قيده الأصيلي في أول حديث السوداء
    [مطالع
    الأنوار على صحاح الآثار 2/241،
    مشارق
    الأنوار على صحاح الآثار 1/ 184] .

    قال في التوضيح
    لشرح الجامع الصحيح
    (5/511) :

    قولها: (فمرت حُدَيَّاة) هو تصغير حِدَأَة
    كعِنَبة، والجماعة حِدَأ كعِنَب، وهو هذا الطائر المعروف. قال ابن التين: والصحيح
    أنه [أي حُدَيَّاة] تصغير حِدَأة، ولعل الكاتب صوَّر الهمزة ألفا [يعني كتبها هكذا
    : حُدَيأة] ، وإن كان من حقها أن لا تصوَّر ألفا؛ لأنها همزة مفتوحة، قبلها ساكن،
    مثل: {وَاسْئَلِ الْقَرْيَةَ} [يوسف: 82] وإن كان سَهَّل الهمزَ فحقه أن تكون (حُدَيَّة)
    بغير ألف، قال: ورَوَيناه بتشديد الياء وإثبات الألف.

    وفي
    فتح الباري (1/534) : وَالْأَصْلُ فِي تَصْغِيرِهَا : حُدَيْأَةٌ
    بِسُكُونِ الْيَاءِ وَفَتْحِ الْهَمْزَةِ لَكِنْ سُهِّلَتِ الْهَمْزَةُ
    وَأُدْغِمَتْ ثُمَّ أُشْبِعَتِ الْفَتْحَةُ فَصَارَتْ أَلِفًا .

    وفي
    إرشاد الساري ” للقسطلاني (1/ 436) :
    (حُدَيَّاة) بضم الحاء وفتح الدال المهملتين وتشديد المثناة التحتية ، والأصل حُدَيأة
    بهمزة مفتوحة بعد الياء الساكنة لأنه تصغير حِدَأة بالهمز بوزن عِنَبة، لكن أبدلت
    الهمزة ياء وأدغمت الياء في الياء ثم أشبعت الفتحة فصارت ألفًا .


    (3)
    “الحُدَيْئة” كالتُّمَيْرَةُ بالتصغير
    وهو بسُكُون الْيَاء وهمزة بعدها :

    كذا رواه الأصيلي وغيره في أيام
    الجاهلية
    [مطالع
    الأنوار على صحاح الآثار 2/241،
    مشارق
    الأنوار على صحاح الآثار 1/184] .

    وهو
    تصغير (الحِدَأة) على القياس ، كما مرَّ في كلام ثابت وغيره . وربما يكتبونها
    بالألف هكذا : الحُدَيْأة.


    (4) “الْحِدَأَةُ” بِكَسْر الْحَاء وَفتح
    الدَّال والهمز وِزِيَادَةِ هَاءٍ بوزن عِنَبَة :

    هكذا
    وَقَعَ فِي رِوَايَةِ الْكُشْمِيهَنِيِّ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ ، والهاء فيه ليست
    للتأنيث، بل هي للوَحدة كَالْهَاءِ فِي التَّمْرَةِ.
    [ فتح الباري لابن حجر 4/38]


    لغات
    أخرى في (الحِدَأة) :

    1-
    (حِدْأة) في “إرشاد الساري” للقسطلاني (3/303)
    : أنّ في فرع اليونينية (الحِدْأة) بسكون الدّال .اهـ

    وفي تصحيح
    الفصيح وشرحه
    (ص: 294)
    :  (الحِدَأة) فيها لغات:  فمنهم من يسكن الدال في الواحد خاصة -يعني
    الحِدْأة-.

    2-
    (حِدَوَة) قال ابن حجر في “الفتح” (4/38) :
    وحكى الأزهريّ : “حِدَوَة” بواو بدل الهمزة. اهـ

    3-
    (حَدَأة) بفتح الحاء . قَالَ أَبُو
    بكر بن الأنْبَارِيّ : الحِدَأُ جمع الحِدَأَةِ، وَرُبمَا فتحُوا الْحَاء
    فَقَالُوا :
    حَدَأَةٌ
    وَالْكَسْر أجْود. وَقَالَ :
    الحَدَأ :
    الفُؤُوس، بِفَتْح الْحَاء
    .[تهذيب اللغة 5/121] .

    وفي
    “تاج العروس” (1/ 188) : (الحِدَأَةُ) كَعِنَبَةٍ ، قَالَ الْجَوْهَرِي
    والصاغاني: وَلَا تقل (الحَدأَة) بِالْفَتْح.

    وَنقل
    أَبو حَيَّان فِيهِ الفَتْح عَن الْعَرَب، وَنقل شُرَّاح “الفَصيح” عَن
    ابْن الأَعرابي أَنه يُقَال {حَدَأَة،وحَدَأ}-بالفتح فيهمَا- للفأْس وللطائر
    جَمِيعًا، وَحَكَاهُ ابنُ الأَنبارِيّ أَيضاً، وَقَالَ: الْكسر فِي الطَّائِر
    أَجود.

    4-
    (حَدَاة) بفتح الحاء وإبدال الألف من الهمزة . قال
    الخطَّابي في
    غريب الحديث
    (3/244) :  قوله صلى الله صلى عليه وسلم:
    “خمسٌ لا جُناح على مَن قتلهنَّ في الحل والحرم” فذكر الحِدَأَة،
    والعامة يقولون: الحَدَاة، مفتوحة الحاء ساكنة
    الألف، وإنما هي الحِدَأَة مكسورة الحاء مهموزة. اهـ

    وفي تصحيح
    الفصيح وشرحه
    (ص: 294) : والعامة
    تقوله: (الحَدَاة) بفتح الحاء وإبدال الألف من الهمزة، على مثال القَطَاة. وذلك
    خطأ.

    5-
    (حِدَوْ) وهي لغة أهل مكة ، وقد مر تفصيله .


    صيغ
    جموع (الحِدَأة) :

    1- (حِدَأ) بكسر الحاء وفتح الدال وهمز بدون مد . هذا
    هو المشهور الذي ذكره أكثر أهل اللغة . جاء في
    المقصور والممدود
    لأبي علي القالي (ص: 279) : هذا باب ما جاء على مثال فِعَل من المقصور المهموز من
    الأسماء : والحِدَأ بكسر الحاء وفتح الدال ، جمع حِدَأة على مثال فِعَلة وفِعَل:
    الطائر الذى يشبه الرَّخمة ، ويقال : حِدآن  أيضا.اهـ

    وفي مقاييس
    اللغة
    (2/35) : (حدأَ)
    الْحَاءُ وَالدَّالُ وَالْهَمْزَةُ أَصْلٌ وَاحِدٌ: طَائِرٌ أَوْ مُشَبَّهٌ بِهِ.
    فَالْحِدَأَةُ الطَّائِرُ الْمَعْرُوفُ، وَالْجَمْعُ الْحِدَأُ . قال :
    وَمِمَّا يُشَبَّهُ بِهِ وَغُيِّرَتْ بَعْضُ
    حَرَكَاتِهِ : الْحَدَأَةُ ، شِبْهُ فَأْسٍ تُنْقَرُ بِهِ الْحِجَارَةُ .اهـ

    وفي
    “مشارق الأنوار على صحاح الآثار” (1/184) : ذكر فِي حَدِيث الفواسق (الحِدَأة)
    بِكَسْر الْحَاء وَفتح الدَّال والهمز مَقْصُور ، ولَا يُقَال إِلَّا بِكَسْر
    الْحَاء . وَقد جَاءَ فِي بعض طرقه فِي “الصَّحِيحَيْنِ” (الْحِدَأ)
    مقصور مَهْمُوز بِغَيْر تَاء ، وَهُوَ جمع حِدَأة أَو على قصد التَّذْكِير .اهـ

    وفي
    إكمال المعلم بفوائد مسلم (4/207) : والحدأة، بكسر الحاء مهموز، والجمع حِدأٌ
    مقصور مهموز، وكذا جاء فى بعض الروايات، وقد يكون مفرداً يراد به المذكر.اهـ

    وفي جمهرة
    اللغة
    (2/ 1107) :
    والحَدَأ: جمع الحَدَأة، وَهِي الفأس. قَالَ الشَّاعِر: نواجذُهنّ كالحَدَإ
    الوقيعِ . والحِدَأة جمعهَا حِدَأ، وَهُوَ هَذَا الطَّائِر الْمَعْرُوف.اهـ

    2- (حَدَأ) بفتح الحاء . قَالَ أَبُو
    بكر بن الأنْبَارِيّ : الحِدَأُ جمع الحِدَأَةِ، وَرُبمَا فتحُوا الْحَاء
    فَقَالُوا :
    حَدَأَةٌ وحَدَأ” مثل قَصَبة وقَصَب ،
    وَالْكَسْر أجْود
    .[تهذيب اللغة 5/121] .

    3- (حِدَاء) بالمد ككِتاب ، في ذخيرة العقبى في
    شرح المجتبى
    (24/393) :

    وحكى
    صاحب “المحكم” (3/406) المدَّ في الجمع نُدورًا -أي الحِدَاء- وأنشد ل
    كثيِّر
    عَزَّة
    :

    لكَ الويلُ من عَيْنَي خُبيبٍ وثابتٍ
    … وحمزةَ أشباهِ الحِدَاءِ التَّوائمِ

    4- (حِدْآنٌ)  حكاه صاحب “المحكم” (3/406) في
    الجمع
    أَيْضا. وفي “تاج العروس” (1/188) : ويجمع على (حِدْآن) بالكَسْرِ، أَورده ابنُ
    قُتَيْبَة .

    5- (أحدِية)
    قال الصَّفَدي في
    تصحيح
    التصحيف وتحرير التحريف
    (ص85) : ويقولون
    لجمع الحِدَأةِ: (أحدِيَة). والصواب: حِدأ ، وثلاث
    حِدْآت.

    6-
    (حِدّان) قال الصفدي : وقرأت في كتاب أدب الكاتب في جماعة
    الحِدَأة: (حِدْآنٌ) ، فردّ عليّ أبو عليّ: (حِدّان) بتشديد الدال، فراجعته وقلت:
    إنّ التشديد لا أصلَ له، فقال: هو من الجمع الشاذّ. قال: ولا أحسِبُ الذي ذكَرَهُ
    إلا غلَطاً.

    7-
    (حَدَاوِي) جاء في عمدة القاري شرح صحيح البخاري (4/ 196) : وَأهل الْحجاز يَقُولُونَ لَهَا : حُدَيَّة
    يشددون الْيَاء وَلَا يهمزون ، وَالْجمع حَدَاوِي .

    وعن
    أَبِي حَاتِمٍ : أَهْلُ الْحِجَازِ يَقُولُونَ لِهَذَا الطَّائِرِ : الْحُدَيَّا
    وَيَجْمَعُونَهُ الْحَدَاويَّ وَكِلَاهُمَا خَطَأٌ.


    (5)
    “الحِدَأ”
    بِكَسْر
    الْحَاء وَفَتْحِ الدال بَعْدَهَا هَمْزَةٌ بِغَيْرِ مَدٍّ :

    هكذا
    جَاءَ فِي بعض طرقه فِي الصَّحِيحَيْنِ ، وَهُوَ جمع حِدَأة ، أَو هو مفردٌ على
    قصد التَّذْكِير.
    [مطالع
    الأنوار على صحاح الآثار2/241،
    مشارق
    الأنوار على صحاح الآثار 1/184، فتح الباري لابن حجر 4/38]

    في
    “مشارق الأنوار على صحاح الآثار” (1/184) : ذكر فِي حَدِيث الفواسق (الحِدَأة)
    بِكَسْر الْحَاء وَفتح الدَّال والهمز مَقْصُور ، ولَا يُقَال إِلَّا بِكَسْر
    الْحَاء . وَقد جَاءَ فِي بعض طرقه فِي “الصَّحِيحَيْنِ” (الْحِدَأ)
    مقصور مَهْمُوز بِغَيْر تَاء ، وَهُوَ جمع حِدَأة أَو على قصد التَّذْكِير .

    وفي
    إكمال المعلم بفوائد مسلم (4/207) : والحدأة، بكسر الحاء مهموز، والجمع حِدأٌ
    مقصور مهموز، وكذا جاء فى بعض الروايات، وقد يكون مفرداً يراد به المذكر.


    التنبيه الثالث : نماذج من
    بعض التصحيفات الواقعة في الشروح

    (1)
    في
    إكمال المعلم بفوائد مسلم (4/ 207) :


    وأما رواية ” الحديا ” فكذا جاء هنا مقصوراً. قال ثابت: وصوابه الهمز
    على معنى التذكير، وإلا فحقيقته :
    الحدياةُ
    (6)
    ، وكذا قيده الأصيلي في صحيح
    البخاري فى موضع
    (7) أو ” الحدية ” على التسهيل
    والإدغام.

    (6) فى الأصل: الحديئة، والمثبت من س. (7) البخارى، ك الصلاة، ب نوم المرأة
    فى المسجد 1/ 119.

    صوابه : وإلا فحقيقته : الحُدَيئةُ ، وكذا قيده
    الأصيلي في صحيح البخاري فى موضع [في أيام الجاهلية] .

    والدليل :
    ما في “مطالع الأنوار” (2/241) :  قال ثابت: وصواب تصغيره : الحُدَيْئة
    كالتُّمَيْرَةُ، وكذا رواه الأصيلي وغيره في أيام الجاهلية .

    وما
    في “مشارق الأنوار” (1/184) : وَقَيده – الأصيلي- فِي أول الحَدِيث
    بِزِيَادَة التَّاء ، وَغَيرُه قَيده فيهمَا هُنَاكَ (حُديئة) على وزن فُعَيلة
    بِسُكُون الْيَاء مثل تُميرة، وَكَذَا قَيده هُوَ فِي هَذَا الحَدِيث فِي بَاب
    أَيَّام الْجَاهِلِيَّة .

    وما
    في
    طرح التثريب في شرح التقريب (5/67) : قَالَ الْقَاضِي عِيَاضٌ : قَالَ ثَابِتٌ :
    الْوَجْهُ فِيهِ الْهَمْزُ عَلَى مَعْنَى التَّذْكِيرِ ، وَإِلَّا فَحَقِيقَتُهُ حُدَيئة
    ، وَكَذَا قَيَّدَهُ الْأَصِيلِيُّ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ فِي مَوْضِعٍ [أو] الْحُدَيَّةِ
    عَلَى التَّسْهِيلِ وَالْإِدْغَامِ .انْتَهَى

    (2)
    وفي
    فتح الباري(6/354) :


    وَعَن ابن أَبِي حَاتِمٍ : أَهْلُ الْحِجَازِ يَقُولُونَ لِهَذَا الطَّائِرِ
    الْحُدَيَّا وَيَجْمَعُونَهُ

    الْحَدَادِيَّ
    وَكِلَاهُمَا
    خَطَأٌ .

    صوابه : وَيَجْمَعُونَهُ الْحَدَاوِي -بالواو-
    .و(ابن) زائدة ، فهو أبو حاتم السجستاني اللغوي .

    والدليل : ما
    في
    المغرب في ترتيب المعرب (1/105) : وَعَنْ أَبِي حَاتِمٍ السِّجستاني : أَهْلُ
    الْحِجَازِ يَقُولُونَ لِهَذَا الطَّائِرِ :”الْحُدَيَّا”
    وَيَجْمَعُونَهُ “الْحَدَاوِي” ، قَالَ : وَكِلَاهُمَا خَطَأٌ.

    وما
    في
    عمدة القاري شرح صحيح البخاري (4/ 196) : وَأهل الْحجاز يَقُولُونَ لَهَا : حُدَيَّة
    يشددون الْيَاء وَلَا يهمزون ، وَالْجمع حَدَاوِي .

    (3)
    وفي
    طرح التثريب في شرح التقريب (5/67) :

    الْحِدَأَةُ
    مَعْرُوفَةٌ وَهِيَ بِكَسْرِ الْحَاءِ الْمُهْمَلَةِ وَبِالْهَمْزِ ، وَجَمْعُهَا
    حِدَاءٌ بِكَسْرِ الْحَاءِ مَقْصُورٌ مَهْمُوزٌ كَعِنَبَةٍ
    وَعِنَبٍ …

    صوابه
    :
    وَجَمْعُهَا حِدَأ بغير مد ،
    وقد يكتبونها : حِدَء ، وقد ورد هذا الجمع محرَّفا بالمد في كثير من الشروح .

    والدليل :
    الوزن الذي ذكره للجمع (عِنَب) ، ليس فيه مد .

    والشعر الذي أورده في مقاييس
    اللغة” (2/ 35) : …فَالْحِدَأَةُ الطَّائِرُ الْمَعْرُوفُ، وَالْجَمْعُ
    الْحِدَأُ. قَالَ الشاعر:

    كَمَا تَدَانَى الْحِدَأُ الْأُوِيُّ .

    وما
    في
    إكمال المعلم (4/207) : والحدأة، بكسر الحاء مهموز، والجمع حِدأٌ
    مقصور مهموز .

    وما في البحر المحيط الثجاج (22/298)
    : (الْحِدَأةُ) مقصورًا، بوزن عِنَبة، واحدة (الْحِدَإ) بكسر أوله، وفتح ثانيه، بعدها
    همزة بغير مدّ، وحكى صاحب “المحكم ” المدّ فيه نُدورًا .

    (4) وفي مرقاة
    المفاتيح شرح مشكاة المصابيح

    (5/1856) :

    وَالْحُدَيَّا تَصْغِيرُ حدّ لُغَةٌ فِي الْحِدَأِ

    صوابه :
    وَالْحُدَيَّا تَصْغِيرُ حِدَوْ لُغَةٌ فِي الْحِدَإ .

    والدليل
    :
    ما في “تهذيب
    اللغة” للأزهري (5/121) :
    والحُدَيَّا
    تَصْغِير الحِدَوْ ، لغة في الحِدَأ “.

    وما
    في
    المُغرِب في ترتيب المعرَب” (1/105) : وَرَوَى
    الْبُخَارِيُّ “الْحُدَيَّا” تَصْغِيرُ الْحِدَوِّ : لُغَةٌ فِي
    الْحِدَأ .

    (5)
    وفي
    نخب الأفكار شرح معاني الآثار (9/276) :

    قوله:
    “والحداءة” بكسر الحاء وبعد الدال ألف ممدودة بعدها همزة مفتوحة، وجمعها
    “حِدَء” مثل عِنب
    و”حدّان” كذا في “الدستور” .

    صوابه
    :
    و”حِدْءان” …

    والدليل
    :
    ما قاله الصفدي في
    “تصحيح التصحيف ” (ص85)
    :
    وقرأت في كتاب “أدب الكاتب” في جماعة الحِدَأة: (حِدْآنٌ) ، فردّ عليّ
    أبو عليّ: (حِدّان) بتشديد الدال، فراجعته وقلت: إنّ التشديد لا أصلَ له، فقال: هو
    من الجمع الشاذّ. قال: ولا أحسِبُ الذي ذكَرَهُ إلا غلَطاً.

    وما
    في
    “تاج العروس” (1/188) : ويجمع على (حِدْآن) بالكَسْرِ، أَورده ابنُ قُتَيْبَة .

     

     

    هذا غيض من
    فيض ، يكفي للتنبيه على ضرورة المراجعة والتفتيش

     

    جمعه
    ورتبه العاجز : محمد طلحة بلال أحمد منيار

    27/7/2020

  • مرويات خطبة عَمْرو بن العاص في طاعون عَمَواس

    مرويات خطبة عَمْرو بن العاص في طاعون عَمَواس


    مرويات
    خطبة عَمْرو بن العاص في طاعون عَمَواس
    الرواية
    الأولى :
    17754 – … فَقَالَ عَمْرُو بْنُ
    الْعَاصِ: إِنَّهُ رِجْسٌ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ …[ مسند أحمد 29/289]
    7048 – … فَقَالَ عَمْرٌو: «تَفَرَّقُوا
    عَنْهُ فَإِنَّهُ رِجْزٌ» . [شرح معاني الآثار 4/306]
    727… فَقَالَ : إِنَّهُ رِجْزٌ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ. [صحيح ابن
    حبان 7/215]
    7210 – … فَقَالَ:
    إِنَّ هَذَا الرِّجْسَ قَدْ وَقَعَ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ … [المعجم الكبير
    للطبراني 7/305]
    3716 – …فَقَالَ
    عَمْرٌو: تَبَدَّدُوا، وَتَفَرَّقُوا، فَلَا أَرَاهُ إِلَّا رِجْزًا … [معرفة
    الصحابة لأبي نعيم 3/1467]
    فقال :يا أيها الناس إنما هذا الوجع
    رجسٌ ، فتنَحَّوا منه … [ تاريخ دمشق لابن عساكر (22/476]

    الرواية
    الثانية :
    17753 –
    خَطَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ،
    فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَفِي هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ … [ مسند
    أحمد 29/288]
    2671 – … وَقَالَ: يَا أَيُّهَا
    النَّاسُ، تَفَرَّقُوا فِي هَذِهِ الشِّعَابِ ، فَقَدْ نَزَلَ بِكُمْ أَمْرٌ مِنْ
    أَمْرِ اللَّهِ لَا أَرَاهُ إِلَّا رِجْزًا وَطَاعُونًا… [مسند البزار = البحر
    الزخار 7/114]
    5207 –
    فَقَالَ:إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ ، فَفِرُّوا مِنْهُ فِي الْأَوْدِيَةِ
    وَالشِّعَابِ … [المستدرك على الصحيحين 3/311]
    9614 – فَقَالَ:
    تَفَرَّقُوا مِنْ هَذَا الرِّجْزِ فِي هَذِهِ الْجِبَالِ وَهَذِهِ  الْبَرِّيَّةِ … [ شعب الإيمان 12/392]
    فقال : يا أيها الناس تبددوا في هذه
    الشعاب وتفرقوا ، فإنه قد نزل بكم أمر من أمر الله لا أراه إلا رجزا أو الطوفان
    … [تاريخ دمشق لابن عساكر 11/459]

    الرواية
    الثالثة :
    مسند أحمد ط الرسالة (3/ 226)
    1697 – … فَقَالَ:
    ” أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ إِذَا وَقَعَ فَإِنَّمَا
    يَشْتَعِلُ اشْتِعَالَ النَّارِ، فَتَجَبَّلُوا مِنْهُ فِي الْجِبَالِ …
    وَايْمُ اللهِ لَا نُقِيمُ عَلَيْهِ
    أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا
    الْوَجَعَ إِذَا وَقَعَ فَإِنَّمَا يَشْتَعِلُ اشْتِعَالَ النَّارِ، فتجبلوا منه
    في الجبال …[ تاريخ الطبري 4/62]
    فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ
    هَذَا الْوَجَعَ إِذَا وقع فإنما يشتعل اشتعال نار، فتحصَّنوا منه في الجبال…[
    البداية والنهاية 7/91]
    قوله:
    “فَتَجَبَّلوا منه”، هو بفتح التاء والجيم وتشديد الباء ، أمر من
    تَجَبًل، ومعناه: ادخلوا الجبال، قال في “العباب”: تَجَبل القومُ
    الجبالَ، أي: دخلوها.
     الرواية
    الرابعة :
    17756 –
    أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، قَالَ فِي الطَّاعُونِ
    فِي آخِرِ خُطْبَةٍ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا رِجْسٌ مِثْلُ
    السَّيْلِ، مَنْ يَنْكُبْهُ أَخْطَأَهُ، وَمِثْلُ النَّارِ مَنْ يَنْكُبْهَا
    أَخْطَأَتْهُ، وَمَنْ أَقَامَ أَحْرَقَتْهُ وَآذَتْهُ …[

    مسند أحمد 29/291
    ]
    ينكبه
    : يبتعد عنه . أخطأه : لم يُصِبه .

    الرواية الخامسة :
    قال:
    إن هذا الوباء قد وقع فيكم، إنما هو وَخْز من الجن، فمن أقام به هَوَى ، ومن انحازَ
    عنه نجا… [فتوح ابن الاعثم 1 /240]
    رسالة عمرو بن العاص رضي الله إلى أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضي
    الله عنه :
    بسم
    الله الرحمن الرحيم
     
    لعبد
    الله عمر بن الخطاب أمير المؤمنين من عمرو بن العاص : سلامٌ عليك، أما بعد!
    فإنه
    قد حَدَث من قضاء الله الذي كتبه على عباده أن تُوفي معاذُ بن جبل رحمة الله عليه،
    فعَظَّم الله أجرَك يا أمير المؤمنين في معاذٍ وأجرَنا معك! وقد استأذَنَني
    المسلمون في التنَحِّي عن القُرى والمُدن إلى
     البَرَارِي والفَلَوات
    ، فأذنتُ لهم في ذلك ، وعلمتُ أن إقامةَ المقيم لا يفوته شيء من أجله، وكذلك
    الهاربُ لا يفوتُ ربَّه ولا يتعدَّى ما قدّر عليه .
    والسلام
    عليك ورحمة الله وبركاته. [الفتوح لابن أعثم 1/243]
    ومما اشتهر على مواقع التواصُل ، ولا يثبت
    ما لم يثبت عن عمرو بن العاص قوله :
    الوباء
    کالنار وأنتم وَقُودُها ، تفرَّقوا حتی لا تَجِدَ النارُ ما یُشعِلُها ، فتنطَفِي
    جمعها
    ورتبها العبد الفقير : محمد طلحة بلال أحمد منيار
    28/3/2020

  • رخصت ہوتے وقت خدا حافظ کہنا

    رخصت ہوتے وقت خدا حافظ کہنا

    حكم قول : “في حفظ
    الله” أو “في أمان الله”
    عند مفارقة الإخوان بعد اللقاء
    عندي توقُّفٌ في مَنع قولِ : “في
    حفظ الله” أو “في أمان الله” ونحو ذلك مما يقوله إخواننا في الهند
    : “خدا حافظ”  عند مُفارقة الناس
    بعضِهم لبعضٍ عموما .
    وذلك لأنه
    دعاء من الأدعية ، لا يتقيَّد بوقت ، ولا بأس به . وقد جاء عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي
    الله عنهما قَالَ: أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    ” أَنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ
    اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا اسْتُوْدِعَ شَيْئًا حَفِظَهُ “
    [مسند أحمد 5605- 5606] .
    ويؤخذ من إطلاق اللفظ في الرواية أنه
    يجوز استيداع أي شيء إلى حفظ الله ، من الأهل والولد والمال .
    لكن ربما يقيِّد بعضُ الناس هذه
    الرواية ويخصُّها بحال السفر وتشييع المسافر استدلالا بعموم الروايات التي ورد
    فيها أنها تقال في ذلك الوقت ، مثل حديث ابن عمر رضي الله عنهما
    أَنه أَرَادَ أَن يودِّع رجلا فَقَالَ : تعالَ أودِّعك
    كَمَا كَانَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يودِّعنا : أستودع الله دينك
    وأمانتك وخواتم عَمَلك [عمل اليوم والليلة للنسائي ص: 353] .
    لكن جاءت رواية ابن عمر في “عمل
    اليوم والليلة” للنسائي (ص: 356)  بلفظ
    آخر هكذا :
    عَن أبي غَالب قَالَ : شَيَّعتُ أَنا
    وقَزَعةُ ابْنَ عمر فَقَالَ:إِن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم حَدَّثنَا
    أَن لُقْمَان الْحَكِيم قَالَ : إِن الله إِذا استُودِع شَيْئا حَفِظه ، وَإِنِّي
    أستودع الله دينَكُمْ وأمانتَكم وخواتمَ أَعمالكُم.
    يقول الشيخ محمد الأحمدي أبو النور في
    تعليقه على هذه الرواية في تحقيقه لكتاب “جامع العلوم والحكم” ص 558 :
    ذهب الشيخ أحمد شاكر في تعليقه على “مسند أحمد” أن الروايتين تعودان إلى
    أصل واحد بمعنى أنهما يختصان بحال وداع المسافر . قال أبو النور : والأحرى أن يكون
    حديث لقمان هو الأول في الذكر لأنه بمثابة القاعدة ، وقد رَتَّب النبي صلى الله
    عليه وسلم عليه حديث الوداع . انتهى
    وقد ورد في الدعاء للطبراني (ص: 262)
    من رواية أخرى منفصلا أيضا هكذا :
    عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: خَرَجْتُ
    إِلَى الْغَزْوِ أَنَا وَرَجُلٌ مَعِي ، فَشَيَّعَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
    رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَلَمَّا أَرَادَ فِرَاقَنَا قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ
    لِي مَالٌ أُعْطِيكُمَا ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ
    عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا اسْتُودِعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا
    حَفِظَهُ» وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ دِينَكُمَا وَأَمَانَتَكُمَا
    وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمَا .
    فواضح أن ابن عمر رضي الله عنه ذكر
    قول الرسول أولا بمثابة القاعدة والضابطة ، ثم رَتَّب عليه توديع المسافر .
    ومما يدل على أن هذا دعاء من الأدعية
    يقال في حال المفارقة عموما ، وأنه يجوز أن يقوله المسافرُ للمُقيم ، والحيُّ لمن
    لا يُرجَى سلامته وبقاؤه ، والميِّتُ عند توديع أهله ، وفي
    1- في حال المفارقة عموما :
    عَن أبي هُرَيْرَة رَضِي الله عَنهُ
    قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِذا أردْت سفراً أَو تخرُج
    مَكَانا فَقل لأهْلك : أستَودِعكم اللهَ الَّذِي لَا تَخِيبُ ودائعُه .[ نوادر
    الأصول في أحاديث الرسول 1/188] . لاحظ قوله : أو تخرج مكانا .
    ثنا جَعْفَر بن سليمان ، قَالَ:
    سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ الجونيَّ 
    يَقُولُ: «زَرَعَ اللهُ فِي قُلُوبِنَا وَقُلُوبِكُمُ الْمَوَدَّةَ عَلَى
    ذِكْرِهِ ، وَجَعَلَ قُلُوبَنَا وَقُلُوبَكُمْ أَوْطَانًا تَحِنُّ إِلَيْهِ ، وَأَجْرَى
    عَلَيْنَا وَعَلَيْكُمُ الْمَغْفِرَةَ كَمَا جَرَتْ عَلَيْنَا وَعَلَيْكُمُ
    الذُّنُوبُ ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَمْ يُسْتَوْدَعْ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا
    حَفِظَهُ ، وَأَنَا مُسْتَوْدِعٌ اللهَ دِينَنَا وَدِينَكُمْ وَخَوَاتِيمَ
    أَعْمَالِنَا وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ، كَمَا اسْتَوْدَعَتْ أُمُّ مُوسَى
    مُوسَى، وَكَمَا اسْتَوْدَعَ يَعْقُوبُ يُوسُفَ، وَدَائِعُ اللهِ الَّتِي لَا
    تَضِيعُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ، وَأَقْرَأُ عَلَيْكُمُ
    السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ» . [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 2/310] .
    2- عند توديع المسافر لأهله
    والدعاء لهم :
    حَدثنَا عبيد بن إِسْحَاق الْعَطَّار
    الْكُوفِي قَالَ حَدثنَا عَاصِم بن مُحَمَّد بن زيد بن عبد الله بن عمر بن الْخطاب
    رَضِي الله عَنْهُم قَالَ حَدثنِي زيد بن أسلم عَن أَبِيه قَالَ :
    بَيْنَمَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْرِضُ
    النَّاسَ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مَعَهُ ابْنُهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «مَا رَأَيْتُ
    غُرَابًا بِغُرَابٍ أَشْبَهَ بِهَذَا مِنْكَ» قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ
    الْمُؤْمِنِينَ مَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ إِلَّا مَيِّتَةً، فَاسْتَوَى لَهُ عُمَرُ
    رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَيْحَكَ حَدِّثْنِي قَالَ:

    خَرَجْتُ فِي غَزَاةٍ وَأُمُّهُ حَامِلٌ بِهِ فَقَالَتْ: تَخْرُجُ وَتَدَعُنِي
    عَلَى هَذِهِ الْحَالَةِ حَامِلًا مُثْقِلًا، فَقُلْتُ: أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ مَا
    فِي بَطْنِكِ قَالَ: فَغِبْتُ ثُمَّ قَدِمْتُ فَإِذَا بَابِي مُغْلَقٌ، فَقُلْتُ:
    فُلَانَةُ، فَقَالُوا: مَاتَتْ فَذَهَبْتُ إِلَى قَبْرِهَا فَبَكَيْتُ عِنْدَهُ،
    فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ قَعَدْتُ مَعَ 
    بَنِي عَمِّي أَتَحَدَّثُ، وَلَيْسَ يَسْتُرُنَا مِنَ الْبَقِيعِ شَيْءٌ،
    فَارْتَفَعَتْ لِي نَارٌ بَيْنَ الْقُبُورِ، فَقُلْتُ: لِبَنِي عَمِّي مَا هَذِهِ
    النَّارُ؟ فَتَفَرَّقُوا عَنِّي، فَأَتَيْتُ أَقْرَبَهُمْ مِنِّي، فَسَأَلْتُهُ
    فَقَالَ: نَرَى عَلَى قَبْرِ فُلَانَةَ كُلَّ لَيْلَةٍ نَارًا، فَقُلْتُ: إِنَّا
    لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَصَوَّامَةً
    قَوَّامَةً عَفِيفَةً مُسْلِمَةً، انْطَلِقْ بِنَا، فَأَخَذْتُ الْفَأْسَ فَإِذَا
    الْقَبْرُ مُنْفَرِجٌ، وَهِيَ جَالِسَةٌ، وَهَذَا يَدِبُّ حَوْلَهَا، وَنَادَى
    مُنَادٍ: أَلَا أَيُّهَا الْمُسْتَوْدِعُ رَبَّهُ وَدِيعَتَهُ خُذْ وَدِيعَتَكَ،
    أَمَا وَاللَّهِ لَوِ اسْتَوْدَعْتَ أُمَّهُ لَوَجَدْتَهَا، فَأَخَذْتُهُ وَعَادَ
    الْقَبْرُ كَمَا كَانَ ، فَهُوَ وَاللَّهِ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ
    قَالَ عُبيد :
    فَحدَّثتُ بِهَذَا الحَدِيث مُحَمَّدَ بن إِبْرَاهِيم الْعمريّ فَقَالَ : هَذَا
    وَالله الْحق ، وَقد سَمِعتُ عَم أبي عَاصِم يذكرهُ وَقَالَ : وَرَأَيْتُ ابنَ ابنِ
    هَذَا الرجل بِالْكُوفَةِ وَقَالَ لي موالينا : هُوَ هَذَا . [
    نوادر
    الأصول في أحاديث الرسول 1/ 191،
    الدعاء
    للطبراني ص: 260]
    3-
    عند توديع الميتِ المحتضِرِ لأهله :
    لَمَّا حَضَرَتْ عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ
    الْمُطَّلِبِ الْوَفَاةُ : بَعَثَ إِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ
    بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ: «يَا بُنَيَّ ! إِنِّي وَاللَّهِ مَا
    مُتُّ مَوْتًا وَلَكِنِّي فَنِيتُ فَنَاءً، يَا بُنَيَّ أَحْبِبِ اللَّهَ
    وَطَاعَتَهُ حَتَّى لَا يَكُونَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْهُ وَمِنْ طَاعَتِهِ،
    وَخَفِ اللَّهَ وَمَعْصِيَتَهُ حَتَّى لَا يَكُونَ شَيْءٌ أَخْوَفَ إِلَيْكَ
    مِنْهُ وَمِنْ مَعْصِيَتِهِ، فَإِنَّكَ إِذَا أَحْبَبْتَ اللَّهَ وَطَاعَتَهُ
    نَفَعَكَ كُلُّ أَحَدٍ، وَإِذَا خِفْتَ اللَّهَ وَمَعْصِيَتَهُ لَمْ تَضُرَّ
    أَحَدًا . اَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ» . [ فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل 2/945، المحبة
    لله لأبي إسحاق الختلي ص: 51، المحتضرين لابن أبي الدنيا ص: 215] .
    4- عند توديع الحيّ لمن لا
    يُرجَى سلامتُه وحياتُه :
    جاء في قصة توديع ابن عمر رضي الله
    عنهما للحُسَين بن علي رضي الله عنهما في العراق :  فَاعْتَنَقَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَقَالَ:
    «أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ، وَالسَّلَامُ» [صحيح ابن حبان 15/424] قَالَ لَهُ ابْنُ
    عُمَرَ: أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ مِنْ مَقْتُولٍ [المعجم الأوسط 1/189]
    فَاعْتَنَقَهُ ابْنُ عُمَرَ وَبَكَى، وَقَالَ: ”
    أَسْتَوْدِعُكَ اللهَ مِنْ قَتِيلٍ ” [السنن الكبرى للبيهقي 7/161] .
    5- الدعاء لِمَن يُخشَى
    عليه من عدوه رجاءَ سلامته :
    جاء في قصة بَحِيرا الراهب وسفر النبي
    صلى الله عليه وسلم مع جده عبد المطلب إلى الشام حين نزلوا منزلا ، قال الراوي :
    فَأَتَاهُ فِيهِ رَاهِبٌ، فَقَالَ إِنَّ فِيكُمْ رَجُلًا صَالِحًا
    . ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ أَبُو هَذَا الْغُلَامِ؟ قَالَ: فَقَالَ :
    هَا أَنَا ذَا وَلِيُّهُ – أَوْ قِيلَ : هَذَا وَلِيُّهُ – قَالَ: احْتَفِظْ بِهَذَا
    الْغُلَامِ وَلَا تَذْهَبْ بِهِ إِلَى الشَّامِ، إِنَّ الْيَهُودَ حُسُدٌ وَإِنِّي
    أَخْشَاهُمْ عَلَيْهِ
    . قَالَ: مَا أَنْتَ تَقُولُ
    ذَلِكَ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَقُولُهُ
    .
    فَرَدَّهُ وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسَتُودِعُكَ مُحَمَّدًا
    . ثُمَّ إِنَّهُ مَاتَ. [الطبقات الكبرى لابن سعد 1/97، السيرة
    النبوية لابن كثير 1/249] .

    الخلاصة : أنه
    يجوز الدعاء عند مفارقة الإخوان والأحبة بنحو : “في حفظ الله” أو
    “في أمان الله” أو “أستودعك الله” أو “أراك بخير” ونحوها
    ، فإنه دعاء من الأدعية ، لم يرد المنع منه ، نعم ينبغي أن يقرن معه السلام لأنه
    لا خلاف في سُنيته ، ولكن لا يصحُّ الإنكار على من ذكر الأدعية المارَّة آنفا وإن
    تركَ سُنَّةَ التسليم .
    هذا ما أراه بحسب ما أوردته من
    النصوص، والله أعلم .
    جمعه وحرره : محمد طلحة بلال
    أحمد منيار 16/4/2020 م .

  • ربیع بن صبیح اور ان کی مرویات

    ربیع بن صبیح اور ان کی مرویات

     الربيع بن صَبِيح والجَعديات
    پرسنل پر ایک صاحب نے ایک پرچہ ارسال کیا جس میں امام ربیع
    بن صبیح کی چند مرویات درج ہیں ، اور دریافت کیا کہ : یہ وہی محدث ہیں جو گجرات
    میں مدفون ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں وہی ہیں ۔
    پھر مجھے خیال آیا کہ انہوں نے یہ مرویات کہاں سے جمع کیں ؟
    تفتیش کرنے سے مجھے ربیع بن صبیح کی روایات ترمذی، ابن ماجہ ، مسند احمد ،مسند
    بزار، ابن حبان ،معانی الآثار اور متعدد کتابوں میں ملیں ۔
    اور کیوں کہ ربیع بن صبیح متکلم فیہ ہیں ، اس لئے کامل ابن
    عدی کی طرف رجوع کرنے سے وہاں ان کی  متعدد
    احادیث یکجا مل گئیں ۔
    پھر ذہبی کی سیر اعلام النبلاء (6/ 658) میں ربیع بن صبیح کے ترجمہ میں ایک
    عبارت پڑھی : 
    تُوُفِّيَ
    غَازِياً بِأَرْضِ الهِنْدِ ، وَلَهُ فِي “الجَعْدِيَّاتِ”.

    (جعدیات) کے لفظ سے خیال آیا کہ وہی (مسند ابن الجعد) مراد
    ہوگا ، وہاں جاکر دیکھا تو ربیع بن صبیح کی مرویات (ص ۴۶۰) پر ملیں ۔لیکن (مسندابن
    الجعد)مطبوع کی ورق گردانی سے ایک کھٹک محسوس ہوئی کہ اس کی ترتیب مسانید کے طریقہ
    پر نہیں ہے ، بلکہ یہ تو مشایخ پر ہے ، یعنی (معاجم شیوخ) کی طر ح ہے۔ تو اس کو
    (مسند ابن الجعد) کیوں کہا گیا ، آیا یہ نام قدیم ہے یا محدث ؟!کیونکہ ذہبی نے
    بھی(الجعدیات)سے اس کو موسوم کیا ۔
    بحث وتفتیش سے اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ نام محدث ہے ، ناشر
    اول نے از خود تجویز کیا ہے ، اور بدقسمتی سے زبان زد عام ہوگیا ، اورکتابوں پر
    تخریج وتعلیق کرنے والوں نے مزید اس کو پھیلا کر ایک حقیقت بنادیا ۔
    حالانکہ یہ نام یعنی(مسند ابن الجعد)درست نہیں ہے ، مندرجہ
    ذیل وجوہات کی بنا پر:
    ۱۔ قلمی نسخے میں عنوان ہے : الجزء الاول من حدیث ابی الحسن
    علی بن الجعد(ص۱۲ طبعۃ عامر حیدر) ۔
    ۲۔ متقدمین نے اس کو (الجعدیات) یا  (الاجزاء الجعدیات) سے موسوم کیا ہے ۔
    چنانچہ اس کے جامع امام بغوی کے ترجمہ میں ذہبی نے کہا : وَصَنَّفَ كِتَابَ
    مُعْجَمِ الصَّحَابَةِ، وَجَوَّدَه ، وَكِتَابَ “الجَعْديَّاتِ”
    وَأَتْقَنَهُ . سير أعلام النبلاء (11/271) .
    اسی طرح ابن الجوزی   
    (
    المنتظم
    18/20
    )
    ابن
    الاثیر

    (
    الكامل
    في التاريخ 8/366
    ) ابن حجر (الإصابة 5/427) اور
    صاحب

    (
    الرسالة
    المستطرفة ص 91
    )
    وغیرہ
    نے اس کو

    (
    الجعدیات) یا (الأجزاء
    الجعديات
    )
    کے نام سے ہی موسوم کیا ہے۔
    ۳۔
    جہاں مسانید کا تذکرہ ہوتا ہے وہاں بھی اس کو (مسند) نہیں کہتے ہیں ، ذہبی نے ایک
    جگہ لکھا ہے :
    قرأتُ
    عليه الكثير مثل «الجعديّات» ، و «مسند» يعقوب بن سفيان الفسويّ، و «مسند» يعقوب
    بن شَيْبة …[ تاريخ الإسلام 36/467]
    ملاحظہ فرمائیں کہ (الجعدیات) کو الگ سے شمار کیا ۔
    فِي مُسْند الْبَزَّار والجعديات بِإِسْنَاد ضَعِيف فتح الباري لابن حجر (1/ 338)

    خلاصہ یہ ہے کہ : (مسند ابن الجعد) کا نام کسی ناشر کا خود ساختہ ہے،اور غالبا شیخ عامر حیدر
    کے مطبوعہ(مسند ابن الجعد)سے پھیلا ہے ، یہ نام کتاب کے مندرجات سے بھی مناسبت
    نہیں رکھتا ہے ، اس لئے صحیح یہ ہے کہ اس کو (الجعدیات) کہا جائے ، جیساکہ اس کا
    محقق مطبوعہ جو ڈاکٹر رفعت فوزی عبد المطلب کی تحقیق سے چھپا ہے، اس پر اس کا
    عنوان (الجعدیات) ہے ، یہی درست ہے ۔
    فائدہ : امام ابن معین نے ربیع بن صبیح کےجہاد کے
    دوران  استشہاد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے
    :
    كَانَتْ وَقْعَةُ بَارنلَ
    سَنَةَ سِتِّيْنَ وَمئَةٍ، وَفِيْهَا: مَاتَ الرَّبِيْعُ بنُ صَبِيْحٍ . [سير
    الأعلام]
    . مطبوعہ میں لام سے ہے ، جو محرف ہے ، صحیح نام (باربد) آتا
    ہے جیساکہ
    : الطبري ” 8 / 128، ”
    الكامل ” 6 /46
    ، “البداية والنهاية” ط هجر (13/
    482) “تاريخ ابن خلدون” (3/ 262)
    میں ہے ۔
    آج کل اس جگہ کا نام (بھاربھوٹ)ہے غالبا، گجرات میں بھروچ
    کے قریب ، مشہور ندی (نرمدا) کے کنارے ۔
    رتبہ
    العاجز: محمد طلحہ بلال احمد منیار ۲۰/۴/۲۰۲۰ ونحن محاصرون فی البیوت

  • واذہب حزن قلبی والا درود شریف

    واذہب حزن قلبی والا درود شریف

    واذہب حزن قلبی والا درود شریف
    سوال : کیا اس صیغہ سے
    کوئی درود احادیث کی کتب میں مخصوص فضیلت کے ساتھ وارد ہے (
    اللهم
    صلِّ على سيدنا محمَّد ، اللهم صلِّ عليه وسلِّم وأذهِبْ حُزنَ قلبي في الدنيا
    والآخرة
    ) .

    جواب :
    درود شریف کا یہ صیغہ
    احادیث کی کتابوں میں مجھے نہیں ملا ،
    ہاں یہ شیخ علی بن محمد حبشی حضرمی متوفی سنہ
    1333 ھ کی طرف منسوب ہے ۔ اسی طرح اس کی مخصوص تعداد کے مطابق  پڑھنے پر جو فضیلت ذکر کی جاتی ہے اس کا بھی
    ثبوت احادیث سے ممکن نہیں ہے ۔ البتہ شیخ موصوف کے مجربات کی قبیل سے ہوسکتا ہے ،
    پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، انتہی باختصار ۔
    رقمہ العاجز : محمد طلحہ بلال احمد منیار
    24/10/2017