Category: واقعات

  • حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قوت حافظہ

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قوت حافظہ

     

    مفتی
    ابو زاھر صاحب  
    سورتی المکرم نے یہ دریافت کیا
    کہ ڈاکٹر محمود غازی  
    رحمہ اللہ نے ( محاضرات حدیث ) ص 37
    – 39  پر حضرت ابوہر
    یرہ رضی اللہ عنہ کا
    واقعہ ذکر کیا ہے ، جس میں مروان بن الحکم نے ان کے قوت حافظہ کا امتحان لیا ہے ۔ تو
    کیا یہ واقعہ اسی طرح ہے ؟

    میں
    نے کہا کہ : واقعہ ثابت ہے ، مگر ڈاکٹر صاحب نے اصل عبارت میں تصرف کیا ہے ، اور
    کچھ اضافہ بھی کیا ہے ، بلکہ دو الگ الگ واقعوں کو ملاکر مروان کی طرف  
    دونوں
    کو
    منسوب کر دیا ، جبکہ دوسرا واقعہ مروان کا نہیں ہے ۔

    اس
    اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مروان کا واقعہ مختصر ہے کہ :  ایک مرتبہ مروان بن
    حکم نے آپ کے حفظ کے امتحان کی غرض سے آپ کو بلوایا۔ اور مروان نے اپنے کاتب
    ابو الزعيزعہ کو اپنے تخت
    کے پیچھے بٹھا دیا۔

    أبو
    الزُّعَيزِعة
    کہتے
    ہیں کہ : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حدیثیں بیان کرتے رہے اور میں لکھتا رہا۔ مروان
    نے پھر ایک سال بعد حضرت ابو ہریرہ کو دوبارہ بلوایا اور مجھے پردہ کے پیچھے بٹھایا
    ، اور مروان نے آپ رضی اللہ عنہ سے انہیں حدیثوں کے دوبارہ سنانے کی فرمائش کی ۔آپ
    رضی اللہ عنہ نے اسی ترتیب سے سنائیں ، کمی کی نہ زیادتی، مقدم کو موخر کیا نہ
    موخر کو مقدم۔تو میں نے
    قوت حافظہ
    کی تصدیق کردی۔(سیر اعلام النبلاء ۳/۵۲۲)
    ۔

    اس
    واقعہ میں یہ نہیں ہے کہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کو اپنے مکان لے گئے
    اور لکھی ہوئی احادیث کے رجسٹر دکھائے ۔۔۔ الخ

     بلکہ
    یہ دوسرا واقعہ ہے جو حسن بن عمرو ضمرى کے ساتھ پیش آیا تھا ، اس میں ہے کہ حضرت
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو احادیث کے تحریر شدہ اوراق دکھائے تھے ۔ ( فتح
    الباری
    ۶/۲۵۰)
    مگر ذہبی وغیرہ نے اس واقعہ کو منکر بتایا ہے (
    تلخیص المستدرک۳/۵۸۴)۔

    رہ
    گیا مسئلہ حضرت ابو ہریرہ کی کتابت حدیث کا ، اس لئے کہ مشہور تو یہی ہے کہ وہ
    احادیث نہیں لکھتے تھے ، جیساکہ خود انہی کا بیان ہے صحیحین میں  ۔

    مگر
    بعض روایتوں میں لکھنے کا تذکرہ ہے جیساکہ حسن بن عمرو ضمری کے
    مذکورہ واقعہ  میں ہے ، علل احمد (۲/۵۹۱) میں ایک اور شاگرد سے
    اس طرح کا واقعہ منقول ہے ،
    نیزمستدرک
    حاکم کی ایک روایت میں احادیث کے مذاکرہ اور دہرانے کا تذکرہ بھی ہے ۔

     چنانچہ حافظ نے (فتح ۱/۲۰۷) میں تعارض دفع کرنے کے
    لئے تطبیق یہ پیش کی کہ : آپ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں
    نہیں لکھتے تھے ، بعد میں لکھا ہوگا ، اور یہ بھی ہو سکتاہے کہ کسی اور سے لکھوایا
    ہو ، خود نے نہیں لکھا ۔ اس طرح کی تطبیق ابن عبد البر اور ابن عساکر سے بھی منقول
    ہے ۔

    تفصیل
    کے لئے دیکھیں کتاب ( ابو ہریرہ راویۃ الاسلام ، لعبد الستار الشیخ ص ۲۵۵۔۲۶۹) ۔

     

    رقمه العاجز محمد طلحة بلال أحمد
    منيار

    4/7/2018

     

  • مرويات خطبة عَمْرو بن العاص في طاعون عَمَواس

    مرويات خطبة عَمْرو بن العاص في طاعون عَمَواس


    مرويات
    خطبة عَمْرو بن العاص في طاعون عَمَواس
    الرواية
    الأولى :
    17754 – … فَقَالَ عَمْرُو بْنُ
    الْعَاصِ: إِنَّهُ رِجْسٌ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ …[ مسند أحمد 29/289]
    7048 – … فَقَالَ عَمْرٌو: «تَفَرَّقُوا
    عَنْهُ فَإِنَّهُ رِجْزٌ» . [شرح معاني الآثار 4/306]
    727… فَقَالَ : إِنَّهُ رِجْزٌ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ. [صحيح ابن
    حبان 7/215]
    7210 – … فَقَالَ:
    إِنَّ هَذَا الرِّجْسَ قَدْ وَقَعَ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ … [المعجم الكبير
    للطبراني 7/305]
    3716 – …فَقَالَ
    عَمْرٌو: تَبَدَّدُوا، وَتَفَرَّقُوا، فَلَا أَرَاهُ إِلَّا رِجْزًا … [معرفة
    الصحابة لأبي نعيم 3/1467]
    فقال :يا أيها الناس إنما هذا الوجع
    رجسٌ ، فتنَحَّوا منه … [ تاريخ دمشق لابن عساكر (22/476]

    الرواية
    الثانية :
    17753 –
    خَطَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ،
    فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَفِي هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ … [ مسند
    أحمد 29/288]
    2671 – … وَقَالَ: يَا أَيُّهَا
    النَّاسُ، تَفَرَّقُوا فِي هَذِهِ الشِّعَابِ ، فَقَدْ نَزَلَ بِكُمْ أَمْرٌ مِنْ
    أَمْرِ اللَّهِ لَا أَرَاهُ إِلَّا رِجْزًا وَطَاعُونًا… [مسند البزار = البحر
    الزخار 7/114]
    5207 –
    فَقَالَ:إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ ، فَفِرُّوا مِنْهُ فِي الْأَوْدِيَةِ
    وَالشِّعَابِ … [المستدرك على الصحيحين 3/311]
    9614 – فَقَالَ:
    تَفَرَّقُوا مِنْ هَذَا الرِّجْزِ فِي هَذِهِ الْجِبَالِ وَهَذِهِ  الْبَرِّيَّةِ … [ شعب الإيمان 12/392]
    فقال : يا أيها الناس تبددوا في هذه
    الشعاب وتفرقوا ، فإنه قد نزل بكم أمر من أمر الله لا أراه إلا رجزا أو الطوفان
    … [تاريخ دمشق لابن عساكر 11/459]

    الرواية
    الثالثة :
    مسند أحمد ط الرسالة (3/ 226)
    1697 – … فَقَالَ:
    ” أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ إِذَا وَقَعَ فَإِنَّمَا
    يَشْتَعِلُ اشْتِعَالَ النَّارِ، فَتَجَبَّلُوا مِنْهُ فِي الْجِبَالِ …
    وَايْمُ اللهِ لَا نُقِيمُ عَلَيْهِ
    أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا
    الْوَجَعَ إِذَا وَقَعَ فَإِنَّمَا يَشْتَعِلُ اشْتِعَالَ النَّارِ، فتجبلوا منه
    في الجبال …[ تاريخ الطبري 4/62]
    فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ
    هَذَا الْوَجَعَ إِذَا وقع فإنما يشتعل اشتعال نار، فتحصَّنوا منه في الجبال…[
    البداية والنهاية 7/91]
    قوله:
    “فَتَجَبَّلوا منه”، هو بفتح التاء والجيم وتشديد الباء ، أمر من
    تَجَبًل، ومعناه: ادخلوا الجبال، قال في “العباب”: تَجَبل القومُ
    الجبالَ، أي: دخلوها.
     الرواية
    الرابعة :
    17756 –
    أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، قَالَ فِي الطَّاعُونِ
    فِي آخِرِ خُطْبَةٍ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا رِجْسٌ مِثْلُ
    السَّيْلِ، مَنْ يَنْكُبْهُ أَخْطَأَهُ، وَمِثْلُ النَّارِ مَنْ يَنْكُبْهَا
    أَخْطَأَتْهُ، وَمَنْ أَقَامَ أَحْرَقَتْهُ وَآذَتْهُ …[

    مسند أحمد 29/291
    ]
    ينكبه
    : يبتعد عنه . أخطأه : لم يُصِبه .

    الرواية الخامسة :
    قال:
    إن هذا الوباء قد وقع فيكم، إنما هو وَخْز من الجن، فمن أقام به هَوَى ، ومن انحازَ
    عنه نجا… [فتوح ابن الاعثم 1 /240]
    رسالة عمرو بن العاص رضي الله إلى أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضي
    الله عنه :
    بسم
    الله الرحمن الرحيم
     
    لعبد
    الله عمر بن الخطاب أمير المؤمنين من عمرو بن العاص : سلامٌ عليك، أما بعد!
    فإنه
    قد حَدَث من قضاء الله الذي كتبه على عباده أن تُوفي معاذُ بن جبل رحمة الله عليه،
    فعَظَّم الله أجرَك يا أمير المؤمنين في معاذٍ وأجرَنا معك! وقد استأذَنَني
    المسلمون في التنَحِّي عن القُرى والمُدن إلى
     البَرَارِي والفَلَوات
    ، فأذنتُ لهم في ذلك ، وعلمتُ أن إقامةَ المقيم لا يفوته شيء من أجله، وكذلك
    الهاربُ لا يفوتُ ربَّه ولا يتعدَّى ما قدّر عليه .
    والسلام
    عليك ورحمة الله وبركاته. [الفتوح لابن أعثم 1/243]
    ومما اشتهر على مواقع التواصُل ، ولا يثبت
    ما لم يثبت عن عمرو بن العاص قوله :
    الوباء
    کالنار وأنتم وَقُودُها ، تفرَّقوا حتی لا تَجِدَ النارُ ما یُشعِلُها ، فتنطَفِي
    جمعها
    ورتبها العبد الفقير : محمد طلحة بلال أحمد منيار
    28/3/2020

  • حضور کی چادر

    حضور کی چادر

    مُلاءةُ
    الرَّسول
    (حضور کی چادر)
    سوال : حضرت فاطمہ رضی
    اللہ عنہا کی غربت اور فقر کے متعلق ایک مشہور روایت ہے کہ : حضور ایک صحابی کے
    ساتھ ان کے گھر آئے تو پردہ کے لئے ان کے پاس کپڑا نہیں تھا ،  تو حضور نے اپنی چادر اندر بھیجی … الخ  
    اس روایت کی تحقیق اور
    عربی عبارت ارسال فرمادیں .
    الجواب :
    یہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے ، واقعہ طویل ہے ۔ اس میں سے
    مطلوبہ عبارت یہ ہے :

    قَالَ
    مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ
     ، عَن عِمْرَانَ بْنِ
    حُصَيْنٍ قال :خَرَجْتُ يَوْمًا فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ
    ، فَقَالَ لِي: ” يَا عِمْرَانُ إنَّ فَاطِمَةَ مَرِيضَةٌ فَهَلْ لَكَ أَنْ
    تَعُودَهَا ” قَالَ: قُلْتُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي وَأَيُّ شَرَفٍ أَشْرَفُ
    مِنْ هَذَا قَالَ: ” انْطَلِقْ ” فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ
    السَّلَامُ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى الْبَابَ فَقَالَ: ”
    السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أأَدْخُلُ؟ ” فَقَالَتْ: وَعَلَيْكُمُ ادْخُلْ،
    فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَنَا وَمَنْ
    مَعِي؟ ” قَالَتَ: وَمَنْ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَعِي
    عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ
    الْخُزَاعِيُّ»
    قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَلَيَّ إلَّا هَذِهِ الْعَبَاءَةُ
    قَالَ: وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَاءَةٌ خَلِقَةٌ
    فَرَمَى بِهَا إلَيْهَا فَقَالَ لَهَا: ”
    شُدِّيهَا عَلَى رَأْسِكِ ” فَفَعَلَتْ , ثُمَّ قَالَتِ: ادْخُلْ فَدَخَلَ
    رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ
    … الحديث

    انظر : شرح مشكل الآثار 1/141، الشريعة
    للآجري 5/2117 ، إحياء علوم الدين 4/197، فضائل فاطمة لابن شاهين 1/26 .
    سند ضعیف ہے ، مبارک بن
    فضالہ مدلس ہے ۔ اور حسن بصری کی روایت میں ارسال  
    وانقطاع
    ہے ۔
    سطرہ العبد العاجز : محمد طلحہ بلال احمد
    منیار
    11/1/2018

  • صحابہ کرام کا حضور کی خدمت میں کھجور پیش کرنا

    صحابہ کرام کا حضور کی خدمت میں کھجور پیش کرنا

    صحابہ کرام  کا محنت کی کمائی سے حضور کی خدمت میں کھجور لاکر پیش کرنا
    مفتی عادل
    صاحب عثمانی نے یہ سوال کیا کہ :
    ایسی کوئی روایت ہے کہ
    صحابہ کرام دن بھر محنت مزدوری کرکے چند کھجور جمع کرتے. اور اس کو آپ ﷺ کی خدمت میں
    لا کر صدقہ کر دیتے.

    میں نے
    جواب دیا کہ :
    اس طرح کی بات حضرت سلمان فارسی رضی اللہ
    عنہ کے اسلام لانے کے طویل واقعہ میں موجود ہے ۔وہ مدینہ منورہ میں کسی باغ میں
    کام کرتے تھے ، جب انہوں نے حضور ﷺ کی آمد کی خبر سنی ، تو انہوں نے اپنی مالکہ سے
    ایک دن کی چھٹی مانگی ، اس نے منظور کرلی ، فرماتے ہیں :
    میں وہاں سے روانہ ہوا
    ،کچھ لکڑیاں کاٹیں اور انہیں بیچ کر کھانا تیار کیا ،اور اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی
    خدمت میں حاضر ہوا ،اور نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا ،نبی کریم ﷺ نے پوچھا یہ کیا
    ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ: یہ صدقہ ہے ،نبی کریم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ تم
    لوگ ہی کھالو ،نبی کریم ﷺ نے اسے تناول نہ فرمایا ۔
    پھر کچھ عرصہ گذرنے کے
    بعد ایک مرتبہ دوبارہ میں نے اپنی مالکہ سے ایک دن کی چھٹی مانگی جو اس نے مجھے دے
    دی ،میں نے حسب سابق لکڑیاں کاٹ کر بیچ کر کھانا تیار کیا، اور نبی کریم ﷺ کی خدمت
    میں حاضر ہوا ،نبی کریم ﷺ اپنے ساتھیوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے، میں نے وہ کھانا
    نبی کریم ﷺ کے سامنے لے جا کر رکھ دیا ،نبی کریم ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ میں نے
    عرض کیا : یہ ہدیہ ہے، نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے
    بھی فرمایا کہ :کھاؤ اللہ کے نام سے۔

    یہ مسند احمد (۲۳۷۱۲)کی
    روایت ہے ، اس میں ان کا پورا دن محنت مزدوری کرکے ، اس کی رقم سے حضور کی خدمت میں
    کھانا پیش کرنا مذکور ہے ، پہلی بار بنیت صدقہ ، اور دوسری بار من باب الہدیہ ۔

    مگرمسند احمد کی دوسری
    روایت (۲۲۹۹۷) نیز  مستدرک حاکم (۳/۶۹۲)
    مصنف عبد الرزاق (۸/۴۲۰) معجم کبیر (۶/۲۳۲) مسند الحارث (۲/۸۶۸) کی روایتوں میں :
    کھجور لاکر پیش کرنا بھی وارد ہے ، تو اس طرح سے دونوں باتیں مل گئیں : محنت مزدوری
    کی کمائی ، اور اس سے کھجور لاکر پیش کرنا ۔

    یہ بھی یاد رکھیں کہ : واعظین مقررین بعض مرتبہ
    کسی ایک صحابی کے واقعہ کو تمام صحابہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بالفاظ عموم بیان
    کرتے ہیں کہ : صحابہ کرام ایسا کرتے تھے، جبکہ وہ واقعہ کسی مخصوص صحابی کا ہوتا ہے ۔
    ہذا
    مااراہ ، والعلم عند اللہ
    رقمہ :محمد طلحہ بلال احمد منیار
    8/1/2018

  • ابو بکر صدیق کا جگر کباب ہونا

    ابو بکر صدیق کا جگر کباب ہونا

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    دین کی فکر میں  ابوبکر صدیق کا جگر کباب ہونا
    سوال
    :
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ…کیا یہ بات صحیح ہے
    کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ :مجھے
    کچے گوشت جلنے کی بو آتی ہے
    ،
    تو حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ :حضور !  دین کی فکر میں میرا دل جلتا ہے …
    از :سلیمان مظاہری

    الجواب
    :
    مذکورہ
    واقعہ بیان کرنے میں  چندغلطیاں ہیں :
    پہلی
    غلطی :  کتابوں میں جہاں یہ واقعہ ذکر کیا
    جاتے ہے وہاں کچے گوشت کے جلنے کی بات نہیں ہے ، بلکہ جگر کے بھننے کی بو آنے کا
    ذکر ہے
    (رائحة كبد مشوي) .
    دوسری غلطی : واقعہ میں
    حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں ہے ، بلکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ
    عنہ کا ذکر ہے ۔
    تیسری غلطی : دین کی فکر
    کی بات ہماری تبلیغی احباب نے چلائی ہے ، اصل واقعہ میں سبب وارد نہیں ہے۔

    واقعہ کا مصدر:
    یہ واقعہ بہت تلاش کیا ،
    مگر صرف  ایک کتاب میں اس کی تفصیل اور
    حوالہ ملا،جس کوعلامہ محب الدین طبری نے اپنی کتاب [
    الرياض
    النضرة في مناقب العشرة 1/195
    ]میں نقل کیا ہے:
    ورُوي أن عمر بن الخطاب أتَى إلى زوجة
    أبي بكر بعد موته ، فسألها عن أعمال أبي بكر في بيته ما كانت؟ فأخبَرتْه بقيامه في
    الليل وأعمالٍ كان يعمَلُها ، ثم قالت: إلا أنه كان في كلِّ ليلة جمعة يتوضَّأ
    ويصلي العشاءَ ، ثم يجلس مستقبلا القبلةَ رأسُه بين يديه على ركبتيه ، فإذا كان
    وقتَ السَّحَر رَفَع رأسَه وتنفَّسَ الصُّعَداء ، فيُشَمُّ في البيت رائحةُ كبدٍ مَشْوِيّ
    . فبكى عمرُ وقال: أنَّى لابنِ الخطَّابِ بكبدٍ مَشوِيّ . خَرَّجه المَلَّاءُ في
    سيرته.
    ترجمہ : لیکن شب جمعہ میں
    وضو کرتے تھے ، نماز پڑھتے تھے ، پھر روبہ قبلہ دونوں زانوں میں سر چھپاکر بیٹھ
    جاتےتھے،جب سحر نمودار ہوتی تو اپنا سر اٹھاتےاور ایک لمبی سانس لیتے جس سے کباب
    شدہ جگر کی بو محسوس ہوتی تھی۔یہ سن کر عمر رونےلگے اور بولے:پسر خطاب کو کہاں یہ
    کباب شدہ جگر کی کیفیت نصیب ہو۔

    وسیلۃ
    المتعبدین :
    محب
    الدین طبری متوفی (۶۹۴ھ) نے واقعہ کا جوحوالہ دیا ہے یعنی(
    المَلاء
    في
    سيرته) اس
    سے مراد :عمر بن محمدالملاء کی کتاب
    (وَسِيلة المُتَعَبِّدين إلى مُتَابعة
    سيِّد المرسلين
    )ہے، جس پر تفصیلی بحث آرہی ہے۔

    عمر الملاء کا ترجمہ :
    علامہ زرکلی (الاعلام) میں رقمطراز ہیں :
    (000
    – 570 هـ = 000 – 1174 م) : عمر بن محمد بن خضر الإربلي الموصلي، أبو حفص، م
    ُعين الدين ، المعروف
    بالمَـلَّاء : شيخُ المَـوصِل.
    كان
    صالحا زاهدا عالما. له أخبارٌ مع الملك العادل نور الدين محمود بن زنكي. أمر الملك
    العادل نُوَّابه في الموصل أن لا يُبرِمُوا فيها أمرا حتى يُعلِموا به الملّاء.
    وهو
    الّذي أشار على الملك العادل بعمارة الجامع الكبير في الموصل. وتولَّى الإنفاق
    عليه، فتم في ثلاث سنوات (سنة 568) وبلغت نفقاته 60 ألف دينار، وقيل أكثر. وهو
    المعروف اليوم بالجامع النُّوري. وحمل المَلَّاءُ دفاتر حسابه إلى العادل، وهو
    جالسٌ على دِجلة، فلم ينظر فيها، وقال له: نحن عَمِلنا هذا للَّه ، دع الحسابَ إلى
    يوم الحساب! وألقى الدفاتر في دجلة.
    قال
    سبط ابن الجوزي: وإنما سمي ” المَلَّاء ” لأنه كان يَملأ تَنَانِير الآجُرِّ
    ويأخذ الأجرةَ فيتقوَّت بها، ولا يملك من الدنيا شيئا. وصنف كتاب ” وسيلة المُتَعَبِّدين
    في سيرة سيد المرسلين – خ ” بضعة أجزاء منه، في معهد المخطوطات .انتهى
    وفي معجم تاريخ
    التراث الإسلامي في مكتبات العالم
    (3/2291) :
    6156عمر بن محمد بن خضر ، أبو حفص الأردبيلي ثم الموصلي الصوفي ،
    المتوفى بدمشق سنة 570هـ/1174م
    (انظر: كشف
    الظنون 2010؛ ذيل كشف الظنون 2/708؛ معجم المؤلفين 7/309)
    من تصانيفه:
    1رموز العارفين وكنوز العاشقين = شرح مشكلات التعرُّف لمذهب
    أهل التّصوّف للكلاباذي .شهيد علي 2708 ورقة 153 – 247، 855 هـ .
    2سيرة أمير المؤمنين عمر بن عبد العزيز ، تاريخ التأليف 568
    هـ؛ رئيس الكتَّاب 714/2 ورقة 162 – 312، 724 هـ .انتهى
    وفي “مرآة الزمان في تواريخ
    الأعيان” لسبط ابن الجوزي (21/208) :
    وكان عمر المَلَّاء من الصَّالحين،
    وإنما سُمِّي المَلَّاء لأنَّه كان يملأ تَنَانير الآجُرّ، ويأخذ الأُجرة،
    فيتقوَّت بها، وكان ما عليه من الثِّياب مثل القميص والعِمامة ما يملك غيره، وكان لا
    يملك من الدُّنيا شيئًا.
    وكان عالمًا بفنون العلوم، وجميعُ
    الملوك والعلماء والأعيان يزورونه لأجل صَلاحه ويتبرَّكون به ، وصنَّف كتاب سيرة
    النَّبيِّ صلى الله عليه وسلم ، وكان يعمل مولدَ النَّبيِّ صلى الله عليه وسلم في
    كلِّ سنة، ويحضُر دعوتَه صاحبُ المَوْصل والأكابر، وكان نور الدين يحبُّه ويكاتبه
    .انتهى
    معلوم
    ہوا کہ ان کا لقب (ملاء) بفتح المیم وتشدید اللام ملأ یملؤ  سے صیغہ مبالغہ کے وزن پر ہے ، کتابوں میں
    مختصرا (عمر الملا) بدون ہمزہ کے آتا ہے ، جس کی وجہ سے اس کو (ملا) بضم المیم سمجھنے
    اور پڑھنے کی غلطی میں پڑنے کا امکان ہے ۔
    وجہ
    تلقیب یہ ہے کہ وہ اینٹ بنانے کی بھٹی کے مالک تھے ، اور وہاں پر اپنے ماتحت چند
    مزدوروں کی مدد سے(بھٹی)کوپتھروں سے تلاوت کرتے ہوئےبھرتےتھے ، اس وجہ سے اس  لقب سے موسوم ہوئے،تاج الدین تکریتی کی تاریخ
    میں ان کے کام کی وضاحت اس طرح بیان کی ہے:(
    كنا نتردَّد إليه
    ونَمضي معه إلى تنُّوره الذي كان يملؤه بالحجارة لحَرق الجَصّ ومعه مماليك يقدِّمون
    له الحجارة ، وكلٌّ يعمل شُغلَه وهو يتلو القرآن
    ).[وسیلہ
    جزء رابع]۔اس میں ان کا بھٹی کے دہانے پر کھڑے ہوکر اس کو بھرنےکے دوران دوسروں کے
    بجائے خود حرارت وتپش برداشت کرنا حسن تعامل
    اور اخلاق کے کمال کی بات ہے۔

    وسیلۃ  المتعبدین  الى متابعۃ سید المرسلین:
    یا (وسیلۃ 
    المتعبدین  فی سیرۃ سید المرسلین
    )
    اور مختصرا (سیرۃ الملا) کے
    نام
    کے
    ساتھ اس کتاب کویاد کیا جاتا ہے ۔
    اس کتاب کے بعض اجزاء
    مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد سے سن ۱۹۷۲میں چھپے تھے ،
    مکتبۃ الاسکندریہ کی سائٹ پر تین اجزاء دیکھنے کا موقع ملا
    :[
    القسم الثاني من الجزء الثاني،القسم الثاني من الجزء الثالث،القسم
    الاول من الجزء الرابع
    جزء
    رابع کے شروع میں کتاب کے ناشر نے ایک نوٹ لکھا ہے :
    (لما بدأنا تصحيح هذا الكتاب لم نجد لمعارضته ومقابلته
    إلا نسخة وحيدة من مخطوطات خزانة بانكي بور(بتنة)وهي أيضا ناقصة الأجزاء، تبتدئ من
    الجزء الرابع وتنتهي إلى الجزء العاشر ، وقد سقط من بينها الجزء الخامس والسابع
    كلاهما،ولكننا ظفرنا بجزءيه الأخيرين الحادي عشر والثاني عشر في مخطوطات دار الكتب
    المصرية، ولما لم يتيسر لنا الأجزاء الثلاثة الأول فلا بد لنا من الابتداء بالجزء
    الرابع وسميناه القسم الأول …) .
    یعنی
    دائرۃ المعارف والوں نے بانکی پور پٹنہ (خدا بخش لائبریری)کےناقص الاجزاء نسخہ پر
    اعتماد کرتے ہوئے کتاب کی طباعت کی ہے ، معہد المخطوطات میں کتاب کے جو اجزاء ہیں اورجس
    کا حوالہ زرکلی نے (الاعلام) میں دیا ہے وہ مصنف کے خود نوشتہ ہیں ، اور بعض اجزاء
    میں یہ وضاحت  بھی ہے کہ یہ کتاب مصنف کے
    سامنےکئی مجالس میں  پڑھی گئی،آخری مجلس
    ربیع الاول سن ۵۶۹ ھ میں تھی ۔
    نیزترکی
    میں مکتبہ (ولی الدین برقم ۷۹۷) میں ایک نسخہ ہے ، جس کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ
    کامل ہے۔
    مجھے
    موقع (الالوکہ)پر سے ایک نسخہ میسر ہوا جو سیرت نبوی کے آخری حصے اور خلفائے
    راشدین کی سیرت کے ابتدائی حصے پر مشتمل ہے، اس میں حضرت ابوبکر کے مناقب میں زیر
    بحث واقعہ تقریبا اسی طرح مذکور ہے جس طرح طبری نے (الریاض النضرہ)میں بلا سندنقل
    کیا ہے۔
    منہج المصنف :
    وسیلۃ
    المتعبدین  کےمصنف کے مقدمہ پر مطلع ہوئے
    بغیر ان کے منہج کی وضاحت صحیح طور پر کرنا مشکل ہے،البتہ مطبوعہ اجزاء کا مطالعہ
    کرنے سے یہ معلوم ہوا کہ
    یہ سیرت نبویہ اور سیرت
    خلفاء راشدین پر مشتمل ہے ،اور ابواب پر مرتب ہے ، یعنی تقریبا جس طرح(سبل الہدی
    والرشاد) ابواب پر مرتب ہے۔
    کتاب
    کے مشمولات تو عموما روایات حدیث  ہی ہیں ،
    لیکن اکثر روایات میں سند محذوف ہے ، پھر بعض میں راوی اعلی (یعنی صحابی)کا صرف
    نام مذکور ہے ، اور بعض روایات(وروی انہ کذا)کہہ کر نقل کی ہیں ، مگر دونوں طرح کی
    روایات میں مصدر منقول عنہ کی تصریح نہیں ہے۔

    کتاب کی روایات پر نقد:
    کتاب
    کے مشمولات پر متقدمین میں سے حافظ ابن تیمیہ نے اور معاصرین میں سے شیخ جمال
    الدین قاسمی نےتنقید کی ہے ، ملاحظہ فرمائیں :
    قال الشيخ ابن تيمية في “قاعدة
    جليلة في التوسل والوسيلة” (1/195) تعليقا على حديث : “
    من سره أن يَحفظ فليصم سبعة أيام، وليكن
    إفطاره في آخر هذه الأيام السبعة …” :
    ولم يذكره من لا يَروي بإسنادٍ مثل
    كتاب
    وسيلة
    المتعبدين
    لعمر الملا
    الموصلي، وكتاب
    الفردوس
    لشهريار الديلمي، وأمثال ذلك ، فإن هؤلاء دون هؤلاء الطبقات، وفيما يذكرونه من
    الأكاذيب أمر كبير.
    وقال
    في مجموع الفتاوى (2/ 239) : وَذَكَرَ بَعْضَهُ عُمَرُ الملا فِي وَسِيلَةِ الْمُتَعَبِّدِينَ وَابْنُ سَبْعِينَ وَأَمْثَالُهُمْ مِمَّنْ يَرْوِي
    الْمَوْضُوعَاتِ الْمَكْذُوبَاتِ بِاتِّفَاقِ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ .
     وقال
    القاسمي في “قواعد التحديث” (ص 167) :
    ولكن
    أقام الله للدين مَن يَنفي عنه تحريفَ الغالين وانتحالَ المبطلين وتأويلَ الجاهلين
    ويحميه من وضع الوضاعين
    كمن صنف في الصحيح … وكذلك الذين تكلموا
    على الرجال وأسانيدها … فهؤلاء وأمثالهم أهلُ الذب عن أحاديث رسول الله صلى الله
    عليه وسلم ، عكسَ حالِ مَن صنف كتبًا فيها من الموضوعات شيءٌ كثيرٌ، وهو لا يميِّز
    ولا يعرف الموضوع والمكذوب من غيره ، فيجيء الغِرُّ الجاهلُ فيَرَى حديثًا في كتابٍ
    مُصَنَّفٍ فيغترُّ به وينقله ، وهؤلاء كثير أيضًا مثل مصنف كتاب: “وسيلة
    المتعبدين” الذي صنفه الشيخ عمر الموصلي ، ومثل: “تنقلات الأنوار”
    للبكري الذي وضع فيه من الكذب ما لا يخفى على من له أدنى
    مُسكة عقل.
    معلوم
    ہواکہ کتاب میں صحیح روایات کے ساتھ ساتھ بہت ساری موضوع احادیث اور من گھڑت قصے
    کہانیاں بھی ذکر کی ہیں ، مگر اس میں مصنف کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے صحیح غلط میں
    تمیز کئے بغیر ان کو کتاب میں جگہ دی ۔
    زیر
    بحث روایت کے بارے میں ابن تیمیہ فرماتے ہیں :
    وينقلون عَن
    عمر أَنه تزوج بِامْرَأَة أبي بكر ليسألها عَن عمله فِي السِّرّ فَقَالَت : كنت
    أَشمّ مِنْهُ رَائِحَة الكبد المشوية
     .
    وَهَذَا من أبين الْكَذِب ،
    وَإِنَّمَا تزوج بِامْرَأَة أبي بكر أَسمَاء بنت عُمَيْسٍ بعده عَليٌّ .[ المنتقى
    من منهاج الاعتدال ص: 505]
    شاید
    ابن تیمیہ سے واقعہ نقل کرنے میں غلطی ہوئی ، کیونکہ واقعہ میں حضرت عمر کے شادی
    کرنے کا تذکرہ نہیں ہے ، بلکہ صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سے ان
    کے حالات دریافت کرنے کا ذکر ہے ، جیساکہ محب الدین طبری کے حوالہ سے اوپر گذرچکا۔

    مگر تعجب کی بات تو یہ ہے
    کہ نقشبندیہ سلسلہ کی کتابوں میں اس واقعہ کو بلا سند ذکر کیا جاتا ہے ، پھرواقعہ
    میں مذکور
    جگرکے
    بھننے کی بوآنے کی تاویل دو طرح سے بیان کی جاتی ہے :
    ۱۔ اس کی وجہ حبس نفَس (سانس
    روکنا)ہے ، یعنی ذکر خفی کرنے کا ایک طریقہ ہے جس کو (پاس انفاس)بھی کہتے ہیں ، اس
    میں سانس کو روک کر کئی سو مرتبہ ذکر قلبی کیا جاتا ہے ، تو سانس روکنے کی وجہ سے
    بدن کے اندرونی بعض اعضاء میں حرارت پیدا ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے احتراق  کی سی یہ بوآتی ہے،بعض کتابوں میں یہاں تک لکھا
    ہے کہ تہجد سے جو سانس روکتے تھے تو صرف ایک مرتبہ سحری کے وقت  ایک لمبی سانس لیتے تھے،اوپر واقعہ میں سانس
    لینے کے تذکرہ سے شاید یہی مراد ہو۔
    ۲۔ بعض تصوف کی کتابوں
    میں اس کی وجہ : مراقبہ معیت لکھا ہے ، اور یہ کہ اس مراقبہ کی تلقین خود نبی کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رفیق غار کو غار ثور میں تلقین فرمائی تھی ۔ چنانچہ
    طول مراقبہ کی وجہ سے یہ کیفیت پیدا ہوتی تھی ۔[ارغام المرید للکوثری]۔
    صاحب تفسیر روح البیان
    (۱۰/۸۵)نے ایک دوسری وجہ بیان کی ہے :
     وكانوا يشمون من كبد أبي بكر الصديق رضي الله
    عنه رائحة الكبد المشوي من شد الخوف من الله تعالى
    .
    اور بعض واعظین کے نزدیک
    اس کی وجہ تلاوت قرآن مجید کے وقت کثرت سے رونا ہے ،اور مبلغین کے یہاں دین کی فکر
    اوراس کے لئے مہموم ومغموم رہنا۔

    الحاصل :
    فن حدیث کی رو سے یہ واقعہ ثابت نہیں ہے ، کیونکہ اس کی
    کوئی معتبر سند بھی نہیں ہے ، اور نہ متقدمین کی کتابوں میں اس کا ذکر ہے ، سب سے
    پہلے اس کا تذکرہ عمر الملاء کی سیرت کی کتاب میں ملتا ہے ،جو غث وسمین کا مجموعہ
    ہے۔
    لہذابلا سند اس واقعہ کو
    حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے ،رہ گئی  اہل تصوف کی ان کے وظائف ومعمولات کی مستندات،
    تو وہ میری سمجھ سے بالاتر ہیں،خصوصا کوثری جیسے محدث وناقد کا ان کو بلا نکیر نقل
    کرنا۔

    ہاں حضرت ابو بکر صدیق
    رضی اللہ عنہ کی رقتِ قلب مشہور ومعروف ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض
    الوفاۃمیں جب ارشاد فرمایا تھا کہ :
    ابو
    بکر کو حکم پہنچاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ،تو حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں
    کہ: میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر رضی اللہ عنہ نرم دل انسان ہیں
    ،  جب وہ قرآن  پڑھیں گے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکیں
    گے ،  لہٰذا اگر آپ ابو بکر  ‌‌ ‌ 
    کے بجائے کسی اور کو حکم  دیں تو
    بہتر ہے ۔
    ہجرت سے پہلے کا بھی مشہور
    واقعہ ہے کہ آپ ایک مرتبہ مشرکین مکہ کی ایذاء رسانیوں سے تنگ آکر جب مکہ مکرمہ سے
    ہجرت کرنے کے عزم سے نکلے ، تو آپ ابھی برک  الغماد تک ہی پہنچے تھے کہ ابن الدغنہ(جوکہ مکہ
    کا کافر اور بااثر ورسوخ باشندہ تھا) سے ملاقات ہوگئی، ابن الدغنہ نے آپ کو سمجھا
    بجھا کر اور اپنی امان میں  لینے کا اعلان
    کرکے واپس کیا ، مگرمشرکین مکہ اس شرط  پر
    راضی ہوئی کہ حضرت ابوبکر اپنے گھر میں ہی قرآن کی تلاوت کیا کریں گے، تاکہ قوم کے
    بچے اور عورتوں کو فتنہ میں مبتلا نہ کرسکیں۔
    چنانچہ حضرت ابوبکر نے
    اپنے صحن ہی میں ایک جگہ تلاوت کے لیے مختص کرلی، لیکن آپ اس قدر رقیق القلب تھے
    کہ جب تلاوت فرماتے تو مشرکین کی عورتیں اور بچے اپنی چھتوں پرچڑھ کر آپ کی تلاوت
    سنتے، جس سے وہ متأثر ہوتے جاتے تھے، قوم کویہ گوارا نہیں ہوا ، فوراً ابن الدغنہ
    سے اس کی شکایت کی، ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ: یاتو آپ میری امان میں
    رہیں یا تلاوت اس طرح نہ کریں، جس پر حضرت ابوبکر نے کہاکہ مجھے تمہاری امان کی
    ضرورت نہیں ہے، مجھے میرے اللہ کی امان کافی ہے۔
    مقصد
    یہ ہے کہ ان کی رقت قلب مشہور ہے ، مگر جگر کباب ہونے کی بات مستند نہیں ہے ۔
    رقمہ العاجز: محمد طلحہ
    بلال احمد منیار
     8/7/2020

  • حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اذان دینے کا واقعہ

    حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اذان دینے کا واقعہ


    حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اذان دینے کا واقعہ

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    و برکاتہ
    سوال : حضرت
    بلال رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ملک شام جانا اور آپ
    صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مدینہ منورہ آنا اور حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کی
    درخواست پر اذان دینے کا واقعہ عنایت فرمادیں،مع تحقیق وتخریج ۔
    الجواب بعون
    الملک الوهاب :
    سب
    سے پہلے تو یہاں ایک بحث یہ ہے کہ : حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ
    وسلم کے زمانے کے بعد اذان دی تھی یا نہیں ؟تین قول ہیں :

    پہلا قول : حضرت بلال رضی اللہ
    عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں اذان دی تھی ، مگر حضرت
    عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نہیں دی۔

    قال الزیلعي في(نصب الراية 1/294) :
    وَأَخْرَجَ
    الْحَاكِمُ وَعَنْهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي
    الْخِلَافِيَّاتِ عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ
    سُوَيْد بْنِ غَفَلَةَ : أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُثَنِّي الْأَذَانَ
    وَالْإِقَامَةَ، وَرَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ بِلَفْظِ: سَمِعْت بِلَالًا يُؤَذِّنُ
    مَثْنَى وَيُقِيمُ مَثْنَى. وَاعْتَرَضَ الْحَاكِمُ بِأَنَّ الْأَسْوَدَ بن يزيد وسُوَيد
    بن غَفَلة لَمْ يُدْرِكَا بِلَالًا ، وَأَذَانُهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى
    اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ. قَالَ فِي
    الْإِمَامِ: وَكَوْنُ
    سُوَيْد بْنِ غَفَلَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَذَانَ بِلَالٍ فِي عَهْدِهِ عليه السلام
    صَحِيحٌ، لِأَنَّهُ لَمْ يَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَعَ
    أَنَّهُ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَأَدَّى الزَّكَاةَ لِمُصَدِّقِهِ عليه السلام،
    وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَفِيهِ نَظَرٌ، إذْ لَا مَانِعَ مِنْهُ، فَقَدْ رُوِيَ
    أَنَّ خُرُوجَ بِلَالٍ إلَى الشَّامِ كَانَ فِي زَمَنِ عُمَرَ.
    قال الزيلعي : فَهَذَانِ الْخَبَرَانِ يَقْتَضِيَانِ
    اسْتِمْرَارَ أَذَانِ بِلَالٍ حَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ.

    وقال الحافظ ابن حجر في (التلخيص الحبير
    2/557)
    :
    ويؤيد
    ذلك: ما رواه ابن أبي شيبة
    ، عن حسين بن علي، عن شيخ يقال: له الحفصي ، عن أبيه، عن جده وهو سعد القَرَظ قال: أذَّن بلال حياةَ
    رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ثم أذن لأبي بكر في حياته، ولم يؤذن في زمان عمر.
    انتهى. وسُوَيد بن غفلة
     هاجر في زمن أبي بكر.

    دوسرا قول :
    حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے اذان نہیں دی
    تھی ۔ اور جب حضرت ابوبکر صدیق نے درخواست کی تو انہوں معذرت کردی ۔ اور یہی جواب
    انہوں نے حضرت عمر فاروق کو بھی دیا تھا ۔

    قال الزيلعي تتمةً لكلامه
    السابق في (نصب الراية 1/294) :
     مَعَ أَنَّ أَبَا دَاوُد رَوَى فِي “سُنَنِهِ”
    مَا يُخَالِفُ هَذَا مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ
    عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنَّ بِلَالًا
    كَانَ يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا
    مَاتَ عليه السلام أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إلَى الشَّامِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:
    تَكُونُ عِنْدِي، فَقَالَ: إنْ كُنْتَ أَعْتَقْتنِي لِنَفْسِك فَاحْتَبِسْنِي،
    وَإِنْ كُنْت أَعْتَقْتَنِي لِلَّهِ فَذَرْنِي أَذْهَبْ إلَى اللَّهِ، فَقَالَ:
    اذْهَبْ، فَذَهَبَ إلَى الشَّامِ فَكَانَ بِهَا حَتَّى مَاتَ .
    قال
    الحافظ ابن حجر : هذا مرسل، وفي إسناده عطاء الخراساني وهو مدلِّس. ويمكن التوفيق
    بينه وبين الأول.

    خلاصہ یہ ہوا کہ :
    حضرت اسود بن یزید ، سوید بن غفلہ ، اور ابن ابی شیبہ کی روایت سے حضرت بلال رضی
    اللہ عنہ کا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اذان دینا ثابت ہے ، اس
    لئے کہ الاسود بن یزید اور سوید بن غفلہ دونوں مخضرم تابعی ہیں ، اور دونوں نے
    مدینہ منورہ کی طرف ہجرت حضرت ابو بکر کے زمانہ میں کی تھی ،اور حضرت بلال رضی
    اللہ عنہ کا ملکِ شام کی طرف ہجرت کرنے کا واقعہ حضرت عمر فاروق کے زمانے کا ہے۔اسی
    کی طرف ابن دقیق العید اور حافظ کا میلان ہے۔
    جبکہ حضرت سعید بن مسیب کی روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر
    صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی معذرت کردی تھی ، اور شام کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت طلب
    کی تھی ۔مگر حافظ نے اس پر کلام کیا ہے،سعید بن مسیب کی موافقت میں  ابن سعد نےمحمد بن ابراہیم تیمی کی روایت سے یہی
    بات نقل کی ہے، مگر اس میں حضرت بلال کا شام میں حضرت عمر کے زمانہ میں ایک بار
    اذان دینا منقول ہے، جیساکہ آئندہ آ رہا ہے۔

    اس کو تیسرا قول شمار کرتے ہوئے یوں تعبیر کرسکتے ہیں کہ :
    حضرت بلال نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد صرف ایک مرتبہ ملک شام
    میں حضرت عمر فاروق کی درخواست پر اذان دی تھی ۔
    قال ابن الأثير في (أسد
    الغابة  1/ 415) :
    وَقِيلَ:
    إِنَّهُ لَمَّا قَالَ لَهُ عُمَرُ لِيُقِيمَ عِنْدَهُ، فَأَبَى عَلَيْهِ: مَا
    يَمْنَعُكَ أَنْ تُؤَذِّنَ؟ فَقَالَ: إِنِّي أَذَّنْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى
    اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ، ثُمَّ أَذَّنْتُ لأَبِي بَكْرٍ حَتَّى
    قُبِضَ، لأَنَّهُ كَانَ وَلِيَّ نِعْمَتِي، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ
    صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَا بِلالُ، لَيْسَ عَمَلٌ أَفْضَلَ
    مِنَ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَخَرَجَ إِلَى الشَّامِ مُجَاهِدًا،
    وَإِنَّهُ أَذَّنَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَمَّا دَخَلَ الشَّامَ مَرَّةً
    وَاحِدَةً، فَلَمْ يُرَ بَاكِيًا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
    اس کے بعد سوال میں وارد قصے  کی تحقیق عرض ہے کہ : اس واقعہ کی تین روایتیں
    کتابوں میں  وارد ہیں :
     پہلی مشہور
    روایت :
    حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا خواب میں حضور صلی
    اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنا ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا (
    ما
    هذه الجفوة يا بلال ؟! أما آن لك أن تزورنا ؟!
    )
    اس پر حضرت بلال کا ملک شام سے مدینہ منورہ سفر کرنا …
    الخ ،
    وہی جو
    اوپر سوال میں مذکور ہے ۔

    یہ واقعہ بہت مشہور ہے ،
    لیکن اس کا مصدر یہ ہے :
    أخرج هذه القصة الحافظ ابن عساكر
    في”تاريخ دمشق”(7/137) في ترجمة: إبراهيم بن محمد بن سليمان بن بلال بن
    أبي الدرداء الأنصاري بإسناده عنه قال :
    حدثني أبي محمد بن سليمان ، عن أبيه
    سليمان بن بلال ، عن أم الدرداء ، عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال :
    لما دخل عمر بن الخطاب رضي الله عنه الجابيةَ
    سأل بلالٌ أن يُقِرَّه بالشام ففعل ذلك
    ثم إن بلالا رأى في منامه النبيَّ صلى الله عليه وسلم وهو
    يقول له : (ما هذه الجفوةُ يا بلال ، أما آنَ لك أن تزورني يا بلالُ) فانتبه حَزِينا
    وَجِلا خائفا ، فركب راحلته وقصد المدينة فأتى قبرَ النبي صلى الله عليه وسلم …
    فذكر
    قصةَ أذانه ، وخُروج العَوَاتق من خُدُورهن لسَماع صوته …وفي آخر القصة :
    فما رُئي يومٌ أكثر باكيا ولا باكية بعد
    رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذلك اليوم .

    وساقها الذهبي في “سير أعلام
    النبلاء” (1/357-358) مطولة من طريق أبي أحمد الحاكم مثل ما في تاريخ ابن
    عساكر ، وقال :
    إِسْنَادُهُ
    لَيِّنٌ وَهُوَ مُنْكَرٌ.
    وأورد هذه القصة ابن أبي يعلى في
    طبقات الحنابلة (في ترجمة مهنا بن يحيى)1/ 361 رقم 496 فنسب القصة إلى عهد أبي بكر
    الصديق ، وهو خطأ. وكذلك أورده الشيخ عبد القادر الجيلاني في الغنية 2/118 رقم
    1255 بغير إسناد أيضا .

    سند کا حال :
    اس قصہ کو حافظ ذھبی ،
    ابن عبد الہادی ، مزی ، ابن کثیر ، ابن حجر عسقلانی ، وغیرہم نے ضعیف منکر واہی
    بلکہ موضوع قرار دیا ہے ۔ کیونکہ سند میں کئی روات مجاہیل ہیں
    ،جن کا اتا پتا معلوم نہیں۔

    قال في (الصارم المنكي في الرد على
    السبكي ص: 237) :
    هو أثر غريب منكر ، وإسناده مجهول ، وفيه
    انقطاع، وقد انفرد به محمد بن الفيض الغساني ، عن إبراهيم بن محمد بن سليمان بن
    بلال  ، عن أبيه ، عن جده . وإبراهيم بن
    محمد هذا شيخ لم يعرف بثقة وأمانة ولا ضبط وعدالة، بل هو مجهول غير معروف بالنقل
    ولا مشهور بالرواية، ولم يرو عنه غير محمد بن الفيض، روى عنه هذا الأثر المنكر.
    وقال
    الحافظ ابن حجر في (لسان الميزان 1/ 359) في ترجمة إبراهيم بن محمد بن سليمان :
    ترجم له ابن عساكر ، ثم ساق مِن روايته عن أبيه عن جده عن أمِّ الدرداء عن أبي
    الدرداء في قصة رحيل بلال إلى الشام ، وفي قصة مجيئه إلى المدينة وأذانه بها
    وارتجاج المدينة بالبكاء لأجل ذلك، وهي قصة بيِّنة الوضع، انتهى.

    دوسری روایت :
    أخرجها البخاري في التاريخ
    الصغير
    [الصحيح أنه
    التاريخ الأوسط] (1/53) ؛ قال : حدثنا يحيى بن بشر ، ثنا قُرَاد ، أنا هشام بن سعد
    ، عن زيد بن أسلم ، عن أبيه قال : (قدمنا الشام مع عُمر ؛ فأذَّن بلالٌ ؛ فذَكَّرَ
    الناسَ النبيَّ صلى الله عليه وسلم ؛ فلم أرَ يوماً أشدَّ باكياً منه) .

    وذكر ابن عساكر في تاريخ
    دمشق
    (10/ 470)
    هذه القصة بتفصيل أكثر ، فقال :
    أخبرنا أبو القاسم الشحَّامي ، أخبرنا
    أبو بكر البيهقي ، أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ، أخبرنا أبو يحيى أحمد بن محمد بن
    إبراهيم ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر ، حدثنا أبو الوليد أحمد بن عبد الرحمن
    القرشي ، حدثنا الوليد بن مسلم قال : سألت مالك بن أنس عن السنة في الأذان فقال :
    ما تقولون أنتم في الأذان وعن من أخذتم الأذان ؟ قال الوليد : فقلت : أخبرني سعيد
    بن عبد العزيز وابن جابر وغيرهما : أن بلالا لم يؤذن لأحد بعد رسول الله صلى الله
    عليه وسلم وأرا الجهادَ ، فأراد أبو بكر منعَه وحبسَه ، فقال : إن كنتَ أعتقتَني
    لله تعالى فلا تحبسني عن الجهاد ، وإن كنت أعتقتني لنفسك أقمتُ . فخلى سبيله .
    فكان بالشام حتى قدم عليهم عمرُ بن الخطاب الجابيةَ ، فسأل المسلمون عمر بن
    الخطاب أن يسأل لهم بلالا يؤذِّن لهم ، فسأله فأذَّن لهم يوما – أو قالوا صلاة
    واحدة – قالوا : فلم
    نَرَ يوما أكثر باكيا منهم يومئذ حين سمعوا صوته ، ذكرا
    منهم لرسول الله صلى الله عليه وسلم
    . قالوا : فنحن نرى أن أذان أهل الشام عن
    أذانه يومئذ .
    یہ واقعہ زیادہ صحیح
    معلوم ہو
    تا
    ہے پہلے والے کے مقابلہ میں ، خصوصا بخاری کی روایت جو صحیح ہے ۔

    تیسری روایت :
    یہ واقعہ
    حضور صلی اللہ علیہ
    وسلم کے وصال کے بعد اور تدفین سے پہلے کا واقعہ ہے
    :
    یہ
    ابن سعد نے (الطبقات) میں واقدی کے واسطے سے نقل کیا ہے ، قال ابن سعد :
    أَخْبَرَنَا
    مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ
    ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ
    إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا
    تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  أَذَّنَ بِلالٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
    عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُقْبَرْ. فَكَانَ إِذَا قَالَ : (أَشْهَدُ أَنَّ
    مُحَمَّدًا
    رَسُولُ اللَّهِ) انْتَحَبَ
    النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ. قَالَ : فَلَمَّا دُفِنَ رسول
    الله صلى الله عليه وسلم قال لَهُ أَبُو بَكْرٍ: أَذِّنْ. فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ
    إِنَّمَا أَعْتَقَتَنِي لأَنْ أَكُونَ مَعَكَ فَسَبِيلُ ذَلِكَ. وَإِنْ كُنْتَ
    أَعْتَقَتَنِي لِلَّهِ فَخَلِّنِي وَمَنْ أَعْتَقَتَنِي لَهُ. فَقَالَ: مَا
    أَعْتَقْتُكَ إِلا لِلَّهِ. قَالَ: فَإِنِّي لا أُؤَذِّنُ لأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ
    اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: فَذَاكَ إِلَيْكَ.قَالَ :
    فَأَقَامَ حَتَّى خَرَجَتْ بُعُوثُ الشَّامِ فَسَارَ مَعَهُمْ حَتَّى انْتَهَى
    إِلَيْهَا.
    اس کی سند منقطع ہے ، کیونکہ محمد بن ابراہیم التیمی تابعی ہیں ، ان کا چشم
    دید واقعہ نہیں ہے ،اور ان کے صاحبزادے موسی ضعیف ہیں ، بلکہ منکر الحدیث ہیں ،لہذا
    یہ واقعہ درست نہیں ہے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ
    :
    اس واقعہ کا ملک شام میں حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں
    واقع ہونا زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے
    ،اور
    جو مشہور ہے کہ وہ شام سے مدینہ منورہ آئے اور وہاں اذن دی ، اس کو محدثین نے نا
    قابل اعتبار قرار دیا ہے۔
    جمعہ ورتبہ 
    وراجعہ العاجز : محمد طلحہ بلال احمد منیار
    27/11/2017

  • حجر اسود کی دو نشانیاں

    حجر اسود کی دو نشانیاں



    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    حجر اسود کی دو نشانیاں
    سوال :حجر اسود کے بارے میں ایک روایت حضور صلی اللہ
    علیہ وسلم کی طرف منسوب کی جاتی ہے کہ : حجر اسود پانی میں ڈوبتا نہیں ، اور آگ اس
    کو گرم نہیں کرسکتی ہے ۔ کیا یہ روایت معتبر ہے ؟
    جواب :
    یہ روایت
    تاریخ کی کتابوں میں عبد اللہ بن علیم (یا عکیم) محدث کی طرف منسوب کی جاتی ہے کہ
    انہوں نے اپنی سند سے مرفوعا بیان کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
    فرمایاکہ :(حجر اسود اللہ تعالی کا دایاں ہاتھ ہے ، جس کے ذریعہ اللہ تعالی زمین
    پر اپنے بندوں سے مصافحہ فرماتے ہیں،اللہ تعالی نے جنت کے ایک سفید موتی سے  اس کوپیدا کیا،مگر لوگوں کے گناہوں نے اس کو
    سیاہ کردیا، روز قیامت وہ اس حال میں محشر میں لایاجائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں
    گی، اور زبان ہوگی جس سے وہ
    اس کو بوسہ دینے والے کے حق میں ایمان یا نفاق کی گواہی دے گا،اور یہ کہ وہ ایسا پتھر ہے کہ پانی کے اوپری سطح پرہی رہتاہے ، اور
    آگ اس کو گرماتی نہیں ہے)۔
    واقعہ کی
    تفصیل :
    مذکورہ واقعہ
    اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ : ابو طاہر
    سلیمان بن حسن  قرمطی جب خلیفہ مقتدر باللہ عباسی کے زمانہ
    خلافت میں سن ۳۱۷ ھ میں حجر اسود کو خانہ کعبہ سے نکال کر احساء لے گیا تھا ، تو
    اس کے واپس لوٹانے کے سلسلہ میں اس وقت کے مسلم حکمران کوششیں کر رہے تھے ، منجملہ
    ان مساعی کے ایک  کوشش کاواقعہ خلیفہ مقتدر
    باللہ عباسی کی طرف نسبت کرکے اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ:
    خلیفہ مقتدر
    باللہ نے بغداد سے ایک وفد اس سلسلہ میں ابو طاہرجنابی قرمطی کی طرف بھیجا اور حجر
    اسود کے لوٹانے کے معاوضہ میں تیس ہزار (۰۰۰
    ؍۳۰)  دینار دینے کی پیش کش کی ۔
    جب ابو طاہر
    نے یہ سودہ قبول کیا ، تو اس نے حجر اسود کو منگوایا ، لیکن اس نے موجودہ سفراء سے
    کہا کہ : تم کو کیسے معلوم ہوگا کہ یہی ہے وہ اصلی (حجر اسود)ہے؟ مان لو اگر میں
    ریگستان  سےکوئی اور پتھر منگواکر تمہارے
    حوالے کردوں تو تم کیسے فرق کر پاؤ گے؟
    تو اس وقت
    وہاں پر عبد اللہ بن علیم محدث موجود تھے ، جو غالبا بغداد سے آئے ہوئےسفراء کے
    وفد میں تھے،انہوں نے کہاکہ : حجر اسود کی اصلیت جاننے کی دو نشانیاں ہیں :ایک یہ
    کہ وہ پانی میں ڈوبتا نہیں ، اوردوسری یہ کہ آگ اس پر اثر نہیں کرتی ۔
    چنانچہ ابو
    طاہر قرمطی نے پانی کے ایک برتن میں حجر اسود کو ڈالنے کا حکم دیا تو وہ پانی کی
    سطح پر تیرتا رہا ، پھر آگ میں ڈالا گیا تو اس میں بھی وہ گرم نہیں ہوا ۔ یہ دیکھ
    کر ابو طاہر متاثر ہوا ،
    اور ابن علیم سے ان دو نشانیوں کا استناد طلب کیا ، تو عبد اللہ بن علیم
    نےبسند متصل مذکورہ بالا روایت پیش کی ، اس پر وہ متعجب ہوا ، پھر
    حجر اسود کو بوسہ دیا ، اور اس کو واپس کرنے پر آمادہ ہوگیا۔
    ملخص من : مرآة الزمان في تواريخ الأعيان (16/554) ، تاريخ الإسلام تحقيق بشار (7/221) ، حاشية الجمل على
    شرح منهج الطلاب (2/451) ، تحفة الراكع والساجد بأحكام المساجد (ص88) .
    روایت کا حکم :
    قال سبط ابن الجوزي في “مرآة
    الزمان” : والحديث الذي رواه ابن عُليم لا يصح.
    ابن علیم نے جو روایت بیان کی وہ صحیح نہیں ہے ۔
    وقال الجَرَّاعي في “تحفة الراكع
    والساجد” : إنه حديث غريب . ونقل عن ابن دحية قوله : عبد الله بن عكيم هذا لا
    يعرف، والحجر الأسود جَلْمَدٌ لا تَخُلَّل فيه. والذي يطفو على الماء يكون فيه بعض
    التخلُّل كالخفاف وشبهه. قال وللحجر الأسود علامات غير ذلك.
    عبد اللہ بن عکیم (یا علیم)کی ذکر کردہ روایت
    غریب ہے ، اور ابن دحیہ سے نقل کیا کہ : ابن عکیم غیر معروف شخصیت ہے ، اور حجر
    اسود نہایت سخت اور متماسک الاجزا پتھر ہے جس میں مسامات نہیں ، جبکہ جو پتھر پانی
    کی سطح پر تیرتا ہے اس میں مسامات ہوتے ہیں جن میں پانی سرایت کرتا ہے ، نیز حجر
    اسود کی دیگرعلامات بھی ہیں ۔
    در اصل اس روایت کے بعض حصے احادیث کی کتابوں میں منقول ہیں ، مثلا :
    الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ يَمِينُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ .صحيح ابن خزيمة  2737، المستدرك للحاكم (1/ 457).
    – خَلَقَهُ
    اللَّهُ مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ مِنْ الْجَنَّةِ .
    صحيح ابن خزيمة 2734.
    – وَإِنَّمَا
    اسْوَدَّ مِنْ ذُنُوبِ النَّاسِ .
    سنن النسائي (5/ 226) ، والترمذي (877) ، صحيح ابن خزيمة 2733، 2734،
    المعجم الكبير 12285.  
     
    – يُحْشَرُ
    يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَتَكَلَّمُ
    بِهِ .
    سنن الترمذي 961، سنن ابن ماجه 2944، مسند أحمد 2215، صحيح ابن خزيمة 2735، صحيح ابن حبان  3711 .
    – يَشْهَدُ
    لِكُلِّ مَنْ اسْتَلَمَهُ وَقَبَّلَهُ بِالْإِيمَانِ
    أو
    النفاق
    . سنن الترمذي 961، سنن ابن ماجه 2944، مسند أحمد 2215، صحيح ابن خزيمة 2735، صحيح ابن حبان  3711 .
    – وَأَنَّهُ
    حَجَرٌ يَطْفُو عَلَى الْمَاءِ ، وَلَا يَسْخُنُ بِالنَّارِ إذَا أُوقِدَتْ
    عَلَيْهِ .
    لم
    يرد في شيء من كتب الحديث .
    معلوم
    ہواکہ یہ آخری جملہ جو حجر اسود کی دو نشانیوں  پر مشتمل ہے وہ ثابت نہیں ہے ، کسی بھی کتاب میں
    یا روایت میں وارد نہیں ہے ، تو احتمال ہےکہ عبد اللہ بن عکیم نے اس کو از قبیل
    تجربہ ذکر کیا ہو ،اگر ایساہے تو اس کا تجربہ کی رو سے ثابت ہونا ممکن ہے ، لیکن
    اس کو اگرحدیث مذکور کا جزو قرار دیا ہو تو وہ من گھڑت ہے ،معتبر نہیں ہے۔
    دوسری
    بات کہ خود عبداللہ بن علیم یا عکیم مجہول شخص ہے ، غیر معروف ہے ، اور کتابوں میں
    صرف اسی واقعہ میں ان کا تذکرہ ہے ، اگر حدیث میں ان کا کوئی مقام ہوتا تو ان کے
    حالات کتابوں میں دستیاب ہوتے۔
    تیسری
    بات کہ تاریخی کتابوں جہاں یہ روایت عبد اللہ بن عکیم کے حوالے سے مذکور ہے وہاں
    کوئی سند مذکور نہیں ہے ، تاکہ اس کی تحقیق کی جائے ۔جب سند نہیں تو اس کی نسبت
    حدیث کی طرف کرنا درست نہیں ہے۔

    تنبیہ :
    حجر اسود کے مذکورہ بالا واقعہ میں چند اور تاریخی باتیں غلط ہیں ، جن پر
    محدثین ومؤرخین نے تنبیہ فرمائی ہے ، وہ باتیں یہ ہیں :
    ۱۔
    حجر اسود کےخانہ کعبہ سے نکالنے کا واقعہ ابو سعید قرمطی کے دور میں واقع ہوا ۔ (غلط ہے)اس لئے کہ یہ واقعہ سن ۳۱۷ ھ کا ہے ، جبکہ ابو
    سعید کا انتقال (۳۰۱ ھ)میں ہوچکا تھے ۔درست یہ ہے کہ یہ واقعہ ابو طاہر بن ابی
    سعید قرمطی کے دور کا ہے ۔
    قال الذهبي في سير أعلام النبلاء (11/516) : وَقَدْ وَهِمَ السِّمْنَانِيُّ،
    فَقَالَ فِي “تَارِيْخِهِ”: إِنَّ الَّذِي نَزَعَ الْحَجَر أَبُو
    سَعِيْدٍ الجَنَّابيُّ القِرْمِطِيُّ، وَإِنَّمَا هُوَ ابْنه أَبُو طَاهِرٍ.
    ۲۔ مقتدر باللہ عباسی نے حجر اسود کو تیس ہزار دینار کے عوض ابوطاہر قرمطی سے
    خریدا۔(
    غلط ہے)
    قال الذهبي في تاريخ الإسلام (7/221) : ونقل القليوبيّ -وهو ضعيف-
    أنّ القَرْمَطيّ باعَ الحجر الأسود من المقتدر بثلاثين ألف دينار، ولم يصح هذا ولا
    وقع.
    ۳۔مطیع باللہ عباسی نے حجر اسود کو تیس ہزار دینار کے عوض ابوطاہر قرمطی سے
    خریدا۔(
    غلط ہے)اس لئے کہ ابو طاہر قرمطی کی وفات سن(۳۳۲
    ھ)میں مطیع کی خلافت سنبھالنے سے پہلے ہوچکی تھی ۔
    قال الفاسي في شفاء
    الغرام بأخبار البلد الحرام
    (1/ 257) : وكلام
    القاضي عز الدين بن جماعة في “منسكه” صريح في أن المطيع العباسي اشتراه
    بهذا القدر من أبي طاهر القرمطي، وفيه نظر، لأن أبا طاهر مات قبل خلافة المطيع في
    سنة اثنتين وثلاثين وثلاث مئة ،على ما ذكره ابن الأثير وغيره.
    ۴۔ حجر اسود کومقتدر
    عباسی کے دور میں خانہ کعبہ کی طرف لوٹایا گیا۔(
    غلط ہے)اس لئے کہ لوٹانے کا واقعہ سن۳۳۵ ھ یا  ۳۳۹ ھ میں پیش آیا ، اس وقت خلیفۂ وقت ابو
    العباس مطیع باللہ عباسی تھے ، ان کا دور خلافت از(۳۳۴ ھ) تا (۳۶۴ ھ)ہے۔
    قال أبوبكر باذيب في التعليق على نشر
    ألوية التعريف” لابن علان (ص: 54) : وتحقيق الأمر: أن الحجر الأسود أخذ سنة
    317 هـ ومكث 22 عامًا، أي أنه أعيد سنة 339 هـ وكان الخليفة آنذاك هو المطيع لله
    أبو العباس الفضل بن جعفر (المقتدر بالله) وكان حكمه من سنة 334 هـ إلى 364 هـ .
    ھذا ما
    تیسر جمعہ وترتیبہ وانا العاجز : محمد طلحہ بلال احمد منیار