Category: کھانا پینا

  • حضور کے زمانہ میں دوپہر کے کھانے کا وقت

    حضور کے زمانہ میں دوپہر کے کھانے کا وقت

     

    مولوی
    زبیر صاحب گودھروی کا سوال ہے کہ : دوپہر کا کھانا ظہر کی نماز سے پہلے یا بعد میں
    کھانا چاہئے ؟ اس کے بارے میں احادیث میں کچھ وارد ہے ؟

    بعض
    مبلغین حضرات معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ مسنون کیا ہے ۔

    الجواب باسم ملہم الصواب :

    اس
    سلسلہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی کوئی صریح روایت تو معلوم نہیں
    ہے ، البتہ بعض روایات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جو معمول منقول
    ہے ، اس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ وہ حضرات دوپہر کا کھانا اور قیلولہ
    دونوں ظہر کی نماز سے پہلے کرتے
    تھے ۔

    مندرجہ
    ذیل روایات ملاحظہ فرمائیں :

    1-
    حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت ہے :

    قَالَ
    : مَا كُنَّا
     نَقِيلُ ، وَلَا نَتَغَدَّى فِي عَهْدِ
    رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ. [
    صحیح
    مسلم 859 جامع ترمذي525
    ]

    یہ
    روایت بخاری شریف میں بھی ہے ، جس کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
    اجمعین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ کے
    دن نماز کے بعد ہی کرتے تھے ۔

    اس
    کی وجہ یہ ہے کہ وہ حضرات جمعہ کی نماز کے لئے اہتمام کے ساتھ سویرے مسجد چلے جاتے
    تھے ، اور نماز سے فراغت کے بعد ہی لوٹتے تھے ۔

    روایت
    میں ( یوم الجمعہ ) کی قید سے واضح ہے کہ دوپہر کے کھانے اور قیلولہ کو صرف جمعہ
    کے دن مؤخر کرتے تھے ۔

    حافظ
    ابن حجر رحمہ اللہ( فتح الباری 1/495)  
    میں فرماتے ہیں : قوله
    : ( باب قول الله عز وجل: { فإذا قضيت الصلاة } الآية. أورد فيه حديثَ سهل بن سعد
    في قصة المرأة التي كانت تُطعِمهم بعد الجمعة، فقيل : أراد بذلك بيان أن الأمر في
    قوله : { فانتشروا } ، { وابتغوا } للإباحة لا للوجوب ، لأن انصرافهم إنما كان
    للغداء ثم للقائلة عوضاً عما فاتهم من ذلك في وقته
    المعتاد
    ، لاشتغالهم بالتأهب للجمعة ثم بحضورها.
     

    حضرت
    مفتی سعید صاحب پالنپوری ( تحفۃ الالمعی  2/)400 میں تحریر فرماتے ہیں کہ : صبح کا کھانا
    زوال سے پہلے گیارہ بجے کے قریب کھایا جاتا تھا پھر قیلولہ کیا جاتا تھا … چونکہ
    جمعہ کے دن مسجد جلدی جانا ہوتا ہے ، اس لئے صحابہ جمعہ کے دن یہ دونوں کام مؤخر
    کرتے تھے ۔

    2-
    حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا
    ان کے چھوٹے بیٹے کے انتقال کے واقعہ میں حضرت ابو
    طلحہ رضی اللہ عنہ کے روزانہ کے معمول کے متعلق فرماتی ہیں :

    فَكَانَ
    أَبُو طَلْحَةَ يَقُومُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ يَتَوَضَّأُ، وَيَأْتِي النَّبِيَّ
    صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي مَعَهُ، وَيَكُونُ مَعَهُ إِلَى
    قَرِيبٍ مِنْ
     نِصْفِ
    النَّهَارِ،
     فَيَجِيءُ
    فَيَقِيلُ وَيَأْكُلُ ، فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ تَهَيَّأَ وَذَهَبَ فَلَمْ
    يَجِئْ إِلَى صَلَاةِ الْعَتَمَةِ. [
    مسند احمد 12401]

    یعنی
    حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو
    وضو کر کے بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتے اور نبی ﷺ کے ہمراہ نماز ادا کرتے، نصف النہار
    کے قریب تک وہیں رہتے، پھر گھر آکر قیلولہ کرتے، کھانا کھاتے . اور ظہر کی نماز کے
    بعد تیار ہو کر چلے جاتے، پھر عشاء کے وقت ہی واپس آتے ۔

    اس
    روایت میں بھی ظہر سے پہلے کھانے اور قیلولہ کرنے کا تذکرہ ہے ۔

    3-
    حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ
    کے مشہور واقعہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ
    وسلم کا ظہر سے پہلے قیلولہ کرنے کی طرف اشارہ ہے ، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ
    عنہا فرماتی ہیں :

     خَرَجَ
    رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ،
    فَصَلَّى صَلَاةَ الْهَاجِرَةِ، ثُمَّ قَعَدَ فَفَزِعَ النَّاسُ، فَقَالَ : ”
    اجْلِسُوا أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنِّي لَمْ أَقُمْ مَقَامِي هَذَا لِفَزَعٍ،
    وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَتَانِي، فَأَخْبَرَنِي خَبَرًا مَنَعَنِي
    الْقَيْلُولَةَ مِنَ الْفَرَحِ، وَقُرَّةِ الْعَيْنِ … [
    مسند
    احمد 27101
    ]

    ایک
    مرتبہ نبی علیہ السلام باہر نکلے اور ظہر کی نماز پڑھائی جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی
    نماز پوری کر لی تو فرمایا کہ : بیٹھے رہو! منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ حیران
    ہوئے تو فرمایا : لوگو! اپنی نماز کی جگہ پر ہی بیٹھے رہو! میں نے تمہیں کسی بات کی
    ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا۔ میں نے تمہیں صرف اس لئے جمع کیا ہے
    کہ تمیم داری میرے پاس آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہو گئے ، اور مجھے ایک
    بات بتائی جس نے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک سے مجھے قیلولہ کرنے سے روک دیا ۔

    الخلاصہ : مذکورہ بالا روایات کے پیش
    نظر یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دوپہر کا
    کھانا زوال سے پہلے کھایا جاتا تھا ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی عبارت “فی
    وقتہ المعتاد”
    اس کی
    مؤید ہے ۔ واللہ اعلم

     

    جمعہ  ورتبہ العاجزمحمد طلحہ بلال احمد
    منیار

    8/9/2018

  • میزبانی کے کھانے پر حساب نہ ہوگا

    میزبانی کے کھانے پر حساب نہ ہوگا


    میزبانی کے کھانے پر وارد ایک روایت
    کی تحقیق
    سوال : کیا روایات میں
    صراحتا یہ وارد ہے کہ جو کھانا مہمان کو کھلایا جائے اس کا حساب نہیں ہوگا؟
    الجواب :
    امام غزالی نے (احیاء)
    میں ایک حدیث ذکر کی ہے :
    “ثلاثة لا يحاسب عليها العبد :
    أكلة السحور ، وما أفطر عليه ، وما أكل مع الإخوان”
    امام عراقی اس کی تخریج
    میں فرماتے ہیں :
    أخرجه الأزدي في “الضعفاء” من حديث جابر
    “ثلاثة لا يسألون عن النعيم : الصائم والمتسحر والرجل يأكل مع ضيفه”
    أورده في ترجمة سليمان بن داود الجزري وقال فيه: منكر الحديث، ولأبي منصور الديلمي
    في “مسند الفردوس” نحوه من حديث أبي هريرة.

    دیلمی کی (فردوس) کی
    روایت جس کی طرف امام عراقی نے اشارہ کیا ہے ، اس کو امام سیوطی نے “ذيل
    الموضوعات” ۱/۴۱۷ میں ذکر کیا ہے، اور اس پر وضع کا حکم لگایا ہے:
    قال الديلمي : أخبرنا أبو طالب
    الحسيني ، أخبرنا عمر بن أحمد بن مسرور ، حدثنا عبد الرحمن بن أحمد بن حمويه ،
    أخبرنا أبو نعيم الإستراباذي ، حدثنا محمد بن يزيد العطار ، حدثنا أبو بلال ،
    حدثنا أبو يوسف الخراساني ، حدثنا مجاشع بن عمرو ، عن الأوزاعي ، عن يحيى بن أبي
    كثير ، عن أبي سلمة ، عن أبي هريرة مرفوعاً: (ثَلَاثَة لَا يُسْأَلُون عَن نعيم
    الْمطعم وَالْمشْرَب : المفطر والمتسحر وَصَاحب الضَّيْف . وَثَلَاث لَا يُلامون
    على سوء الْخلق : الْمَرِيض والصائم حَتَّى يفطر والامام الْعَادِل ) .قال السيوطي
    : مُجاشع يضع .

    اسی
    طرح امام شوکانی اور شیخ البانی نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے ۔

    قال الألباني في “الضعيفة”
    (4/447) :
    1980 – ” ثلاثة لا يسألون عن نعيم المطعم والمشرب: المفطر
    والمتسحر وصاحب الضيف. وثلاثة لا يلامون على سوء الخلق: المريض والصائم حتى يفطر
    والإمام العادل “.
    أخرجه الديلمي في ” مسنده ”
    (2 / 35 / 2) من طريق مجاشع بن عمرو عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة
    عن أبي هريرة مرفوعا.
    قلت: وهذا موضوع، آفته مجاشع هذا، قال
    ابن حبان في ” الضعفاء ” (3 /18) : ” كان ممن يضع الحديث على
    الثقات، ويروي الموضوعات عن أقوام ثقات، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح
    فيه “.
    وذكره الشوكاني في
    “الفوائد” ص 90 ، وابن عراق في “تنزيه الشريعة” 2/166 ،
    والفتني في “تذكرة الموضوعات” ص 70
    ۔
    خلاصہ یہ ہے کہ : مہمان کے ساتھ
    تناول کئے ہوئے کھانے کا قیامت کے دن حساب نہ ہوگا ، یہ بات کسی معتبر روایت سے
    ثابت نہیں ہے ، اس لئے حدیث کے حوالے سے بیان کرنا درست نہیں ہے۔
    رقمہ : محمد طلحہ
    بلال ا حمد منیار
    20/12/2017

  • بسم اللہ وعلی برکۃ اللہ کی تحقیق

    بسم اللہ وعلی برکۃ اللہ کی تحقیق

    بسم اللہ وعلی برکۃ اللہ کی تحقیق
    سوال
    :کیاکھانے سے پہلے(بسم الله وعلى بركۃالله )کی دعاحدیث سے ثابت ہے ،جیساکہ تفسیر
    ثعالبی کی درج ذیل روایت میں ہے؟
    وعن أبي هريرة
    في حديثه في مسير النبي صلى الله عليه وسلم – وأبي بكر وعمر
    إلى بيت أبي الهيثم وأكلهم الرطب واللحم وشربهم الماء ،
    وقوله صلى الله عليه وسلم:(هذا هو النعيم الذي تُسئلون عنه يوم القيامة) وأن ذلك
    كبُر على أصحابه وأنه قال : (إذا اصبتم مثل هذا وضربتم بأيدكم فقولوا : بسم الله
    وعلى بركة الله ، وإذا شبعتم فقولوا : الحمد لله الذي أشبعنا وأروانا وأنعم علينا
    وأفضل ، فإن هذا كفاف بذاك ) هذا مختصر ، رواه الحاكم في
    المستدرك” . انتهى
    الجواب
    :
    اس
    روایت کے بارے میں دو باتیں جان لینی چاہئیں
    :

    ۱۔
    حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین رضی اللہ
    عنہما کی ضیافت کا یہ واقعہ کتب حدیث میں دو حضرات صحابہ کی طرف منسوب ہے:
    پہلے صحابی:حضرت ابو الہیثم مالک بن تیہان رضی اللہ عنہ ہیں،ان کی ضیافت کا
    واقعہ متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے:
     حضرت ابوہریرہ سے:مسلم(۲۰۳۸) ترمذی(۲۳۶۹) ابن
    ماجہ(۳۱۸۱) موطا روایۃ ابی مصعب (۱۹۵۷) معجم طبرانی کبیر(۵۷۰) مستدرک حاکم (۷۱۷۸)
    حضرت
    ابن عباس سے:معجم طبرانی کبیر(۵۶۸) مسند بزار (۲۰۵) مستدرک حاکم (۵۲۵۲،۷۵۷۶)
    حضرت
    ابن عمر: معجم طبرانی کبیر(۵۶۹)  مستدرک
    حاکم (۷۱۷۸)
    حضرت
    جابر سے: ابوداود(۳۸۵۳)
    حضرت
    ابن مسعود سے:معجم طبرانی کبیر(۱۰۴۹۶)
    حضرت
    ابو عسیب مولی رسول اللہ : مسند احمد(۲۰۷۶۸) مشکل الآثار(۴۶۸) شعب الایمان(۴۲۸۱)

    دوسرے صحابی حضرت ابو ایوب انصاری ہیں ، ان کا واقعہ ان کتابوں میں ہے: معجم طبرانی صغیر(۱۸۵) معجم اوسط(۲۲۴۷) صحیح ابن حبان (۵۲۱۶)
    مستدرک حاکم (۷۰۸۴) شعب الایمان(۴۲۸۴) ۔
    ان
    تمام کتابوں میں حضرت ابو ایوب کا مذکورہ واقعہ بروایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ
    ذکرکیا گیا ہے ،اور دعا کے الفاظ دو طرح سے منقول ہیں:
    (إذا أصبتم مثل هذا وضربتم بأيديكم فقولوا : بسم
    الله وبركۃ الله
    ) معجم طبرانی صغیر(۱۸۵)
    معجم اوسط(۲۲۴۷) شعب الایمان(۴۲۸۴)صحیح ابن حبان (۵۲۱۶)
    (إذا أصبتم مثل هذا وضربتم بأيديكم فكلوا بسم الله وبركۃ الله) مستدرک حاکم (۷۰۸۴)
    ان
    تمام کتابوں میں روایت میں لفظ
    علی نہیں ہے ۔ اور صاحب قصہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ
    ہیں۔
    جبکہ
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جو روایت مستدرک حاکم (۷۱۷۸)وغیرہ میں ہے اس میں دعا
    کےمذکورہ الفاظ بھی نہیں ہیں ، اور واقعہ بھی ایک دوسرے صحابی کا ہے جن کا نام ہے
    [ابو الہیثم بن التیہان] ۔
    ۲۔ زیر بحث روایت
    میں (
    وبركة الله )کے بجائےعلی برکۃ اللہ کے الفاظ کے ساتھ شاید سب سے پہلے ابن الامام نے اپنی کتاب
    ” سلاح المومن “(ص۳۹۴) میں ذکر کئےہیں ، اور اس کی نسبت انہوں نےحضرت
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرف کی ہے اور حوالہ مستدرک حاکم کا دیا ہے ۔

    میرا خیال ہے کہ :ابن الامام سے سہو نظر اور سہو قلم دونوں ہوا ۔
    سہو
    نظر اس طور پر کہ انہوں نے حدیث نقل کرنے کے بعد اس کوحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
    کی روایت کی طرف منسوب کردی ، جبکہ در حقیقت یہ روایت حضرت ابن عباس کی ہے ، دونوں
    روایتوں کے قریب قریب ہونے کی وجہ سے شاید سہو ہوا ۔
    اورسہو
    قلم
    علیکے اضافہ کی وجہ سے ہواجو روایت میں وارد نہیں ہے ۔
    پھر
    اس کے بعد ابن الامام پر اعتماد کرتے ہوئے ابن الجزری نے (حصن حصین)میں (وعلی برکۃ
    اللہ)کے الفاظ سےیہ دعا ذکر کی ، اور وہاں سے دعاؤں کی کتابوں میں اور زبانوں پر
    پھیل گئی۔

    خلاصہ :
    مستدرک
    حاکم میں دعا کے یہ الفاظ حضرت ابن عباس
    کی روایت سے وارد ہے ، نہ کہ حضرت ابو ہریرہ۔
    نیز حضرت
    ابن عباس کی روایت میں صاحب قصہ حضرت ابو ایوب انصاری ہیں ، اور دعا کے الفاظ :
    [بسم الله وبركة الله]  ہیں ۔
    واللہ اعلم بالصواب

    رقمہ :محمد طلحہ بلال احمد منیار
    21/5/2017

  • کھجور کھانے کا مسنون طریقہ

    کھجور کھانے کا مسنون طریقہ



    بسْم اللّٰہ الرَّحمٰن الرَّحیْم
    کھجور کھانے کا مسنون طریقہ
    ایک کلپ موصول ہوئی جس
    میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کھجور کھانے کا مسنون طریقہ یہ بتایا گیا کہ :
    ۱۔ سب سے
    پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کو کھولتے تھے
    ۲۔ پھر بیج
    کو نکالتے تھے اور اس کو چوستے تھے
    ۳۔ پھر بیج
    کو دو انگلی پر رکھ لیتے تھے ، بعض روایتوں میں انگوٹھے کا بھی ذکر ہے
    ۴۔ پھر بیج
    کو دستر خوان پر پھینک دیتے تھے
    ۵۔ پھر
    باقی کھجور کو کھالیتے تھے

    مذکورہ طریقہ کا تجزیہ تو
    بعد میں عرض کروں گا ، اس سے قبل احادیث کی روشنی میں کھجور تناول کرنے کے سلسلہ
    میں جو باتیں وارد ہوئی ہیں ، وہ پیش کرتا ہوں ، ملاحظہ فرمائیں  :

    ۱۔ کھجور
    مرغوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم
    کھجور آپ صلی اللہ علیہ
    وسلم کی مرغوبات میں سےتھی ، اور آپ کو تازہ وترکھجور(رطب)خشک کھجور(تمر،چھوہارہ)
    کے مقابلہ میں زیادہ مرغوب تھی ، تازہ کھجورآنے 
    کا موسم قریب آتا تو آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے :‘‘اے عائشہ جب
    تازہ کھجوریں آئیں تو مجھے دے کر خوش کرنا’’ (بزار۶۹۵۳)۔اگر تر کھجوریں مل جاتیں تو ان سے افطار فرماتے، اگر نہ ملتیں
    تو خشک کھجوروں سے افطار کر لیتے، اگر وہ بھی نہ ملتیں تو پانی کے چند گھونٹ ہی سے
    افطار کر لیا کرتے
    ( ابوداود ۲۳۵۶)۔ کھجور ملنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
    اسے شوق سےاور کثیر مقدار میں  تناول
    فرماتے(مسلم
    ۲۰۴۴، احمد۱۲۲۶۷)۔
    افطار اورسحری دونوں میں
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجورکھانے کی ترغیب دی ہے۔فرمایا:‘‘ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہیے
    کہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہوتی ہے ،اگر کھجور نہ ملے تو اسے چاہیے
    کہ پانی سے افطار کرے کیونکہ وہ پاک ہے ’’۔(ابوداود۲۳۵۵، ترمذی ۶۵۸) اور فرمایا:‘‘مومن
    کے لیے بہترین سحری کھجور ہے’
    (ابوداود۲۳۴۵)۔
    اورفرماتے تھے :‘‘جس گھر
    میں کھجور نہ ہواس گھر کے رہنے والے بھوکے ہیں’’(مسلم۲۰۴۶)۔اورآپ صلی اللہ علیہ
    وسلم پر کئی مہینے گذرجاتے تھے آپ کے پاس کھجور اور پانی کے علاوہ کوئی چیز گذارہ
    کے لئے نہیں ہوتی تھی (بخاری۲۵۶۷)۔نیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض کھجوروں کے
    فوائد بھی ارشاد فرمائے ، اور عموما کھجور کھانے کی ترغیب دی ہے۔

    ۲۔ کھجور منتخب کرنے کے لئے برتن میں ہاتھ گھمانا
    تھال یا طباق میں اگر مختلف قسم کے میوے ،کھجوریں ہوں تو ہر جانب سے کھا سکتے
    ہیں ، لیکن اگر ایک ہی نوع کی ہوں تو مناسب یہی ہے کہ ہر انسان اپنے آگے سے کھائے
    ، ہاں اگر اکیلا ہو تو کوئی حرج نہیں ۔(مرقاۃ)
    خطیب بغدادی نے (تاریخ بغداد) میں ایک ضعیف روایت ذکر کی ہے کہ : آپ صلی اللہ
    علیہ وسلم کے سامنے اگر ایک ہی قسم کا کھانا لایا جاتا، تو آپ اپنے آگے سے کھاتے
    تھے ، لیکن اگر کھجور پیش کی جاتی تو آپ کا ہاتھ مبارک پورے طباق میں گھومتا اور
    آپ کی طبیعت کا جدھر میلان ہوتا وہاں سے کھاتے ۔
    یہ روایت بھی مختلف قسم کی کھجوروں کی صورت پر محمول ہے،ورنہ اصل ادب وہی ہے
    کہ ہر شخص اپنے سامنے کی جانب سے کھائے۔
      
    ۳۔ دو، دو کھجوریں ملا کر کھانے کی ممانعت
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم
    نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص دو کھجوروں کو جمع کرے، یعنی ایک ساتھ دو دو
    کھجوریں کھائے، الاّ یہ کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔ (بخاری۲۴۵۵، مسلم۲۰۴۵)۔
    تشریح
    سیوطی کہتے ہیں کہ: اس ممانعت کا تعلق اس وقت سے تھا،جب کہ مسلمان فقر و افلاس
    اور تنگی معاش میں مبتلا تھے، لیکن جب انہیں خدا نے معاش میں وسعت و فراخی اور
    خوشحالی عطا فرمائی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ
    ممانعت منسوخ ہو گئی کہ:‘‘میں تمہیں کھجوروں کو جمع کرنے سے (یعنی ایک سے زائد
    کھجوروں کو ایک ساتھ کھانے سے) منع کرتا تھا، مگر اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں
    رزق کی وسعت و فراخی عطا فرمائی ہے تو جمع کرو’’ یعنی اگر تم اب ایک سے زائد
    کھجوریں ایک ساتھ کھاؤ تو یہ حرام یا مکروہ نہیں ہو گا۔
     لیکن اس سلسلے میں زیادہ صحیح بات یہ
    ہے کہ اگر چند لوگ کسی بھی کھانے کی چیز اپنی غذائی ضرورت میں صرف کرنے کا مشترکہ
    طور پر یکساں حق رکھتے ہوں اور ان کی طرف سے اس چیز کو خرچ سے مقرر مقدار سے زیادہ
    کھانے پر پابندی نہ ہو، تو اس صورت میں بھی مروت و ادب کا تقاضا بہرحال یہی ہو گا
    کہ ایسا نہ کیا جائے (یعنی دوسرے ساتھیوں سے زیادہ کھانے مقررہ مقدار سے تجاوز
    کرنے کی کوشش نہ کی جائے کہ یہ کھانے کے آداب کے بھی منافی ہے اور مروت کے بھی
    خلاف ہے) ہاں اگر تمام ساتھی ایسا کرنے کی صریح اجازت دے دیں یا کوئی ایسی چیز ہو
    جو ان کی طرف سے اجازت پر دلالت کرے تو کوئی مضائقہ نہیں، لہٰذا سابقہ ممانعت کا
    تعلق دونوں صورتوں (یعنی حالت فقر و افلاس اور شرکت) سے ہو گا ،اور اباحت و
    استثناء کا تعلق شرکت کے علاوہ دوسری صورت سے ہو گا۔
    تحفۃ الالمعی(۵/۱۵۹) میں لکھا ہے : اگر اجتماعی طور پر کھانا یاکوئی دوسری چیز
    کھائی جارہی ہو تو ادب یہ ہے کہ دوسروں کو ترجیح دی جائے،خود کم کھائے اور دوسروں
    کو زیادہ کھانے کا موقع دے،اور اگر ایسانہ کرے تو کم ازکم انصاف سے کام لے ۔
    ہاں اگر کسی کو جلدی ہو یا  بھوک زیادہ
    ہو تو ساتھیوں کی اجازت لے کر دوکھجوریں ساتھ کھانا جائز ہے ، ادب کے خلاف نہیں
    ہے، کیونکہ ممانعت کی وجہ ساتھیوں کی کبیدگی ہے ، اور اجازت کی صورت میں اس کا
    احتمال نہیں ۔
    قال في  مرقاة
    المفاتيح” (7/2704) :
    وَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ لِنَفْسِهِ
    وَقَدْ ضَيَّفَهُمْ بِهِ فَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ الْقِرَانُ، ثُمَّ إِنْ كَانَ
    فِي الطَّعَامِ قِلَّةٌ فَلَا يَحْسُنُ الْقِرَانُ، بَلْ يُسَاوِيهِمْ ، وَإِنْ
    كَانَ كَثِيرًا بِحَيْثُ يَفْضُلُ عَنْهُمْ فَلَا بَأْسَ بِهِ، لَكِنَّ الْأَدَبَ
    مُطْلَقًا التَّأْدِيبُ فِي الْأَكْلِ وَتَرْكُ الشَّرَهِ .

    ۴۔ کھجور
    کھولنے کی اور چیرنے کی ممانعت،الا یہ کہ اس میں کیڑے پڑگئے ہوں
    بیہقی نے (شعب الایمان۲۴۹۲)میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے
    کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور چیرنے سے منع فرمایا ۔
    مگر(ابوداؤد۳۸۳۲)میں  حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: کہ
    (ایک دن ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پرانی کھجور لائی گئی (جس میں
    کیڑے پڑ گئے تھے )چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چیرتے اور اس میں سے کیڑا
    نکال ( کر پھینک ) دیتے ۔”
    شرح مشکوہ میں لکھا ہے:طبرانی
    (کبیر۱۳۸۰۳)نے بسند حسن حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بطریق مرفوع یہ نقل
    کیا ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو چیرنے سے منع فرمایا ہے !
    اس صورت میں چونکہ آنحضرت
    صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل اور قول میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے اس لئے کہا جائے گا
    کہ :حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو ممانعت منقول ہے اس کا تعلق نئی
    کھجوروں سے ہے اور اس کا مقصد وہم و وسوسہ سے بچانا ہے ۔ یا یہ کہ حضرت انس رضی
    اللہ تعالیٰ عنہ سے جو فعل منقول ہے وہ بیان جواز پر محمول ہے ،اور مذکورہ بالا
    ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے ۔

    ۵۔کھجور کی گٹھلی(بیج) منھ سے نکالنے کا طریقہ
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور
    کو پوری منھ میں رکھ کر تناول فرماتے تھے ، خصوصا تر کھجور ،اور اس کی گٹھلی
    نکالنے کے سلسلہ میں تین طریقے احادیث میں وارد ہیں:

    پہلا طریقہ:منھ
    سے نکال کر بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی دونوں کو ملاکر، دونوں کی پشت پر
    رکھنا۔
    یہ مشہور طریقہ مختلف روایات
    میں مذکور ہے۔
    (مسلم۲۰۴۲،ابوداود۳۷۲۹،ترمذی۳۵۷۶،احمد۱۷۶۷۵،۱۷۶۸۳،ابن
    حبان۵۲۹۸)۔
    منھ سے نکالنے کی صراحت
    (مسنداحمد۱۷۶۸۳) میں ہے۔
    قال في المفاتيح في
    شرح المصابيح
    (3/224) : “فجعل يلقي”؛ أي:
    فطَفِق يُسْقِط نوى التمر بظهر إصبعيه؛ أي: يَضَعُها مِن فِيهِ على ظَهر إصبعيه
    السبَّابة والوسطى ثم يُلقيها.اهـ
    وفي
    “شرح سنن أبي داود” لابن رسلان (15/265) :
    (فجعل
    يلقي النوى على ظهر أصبعيه السبابة والوسطى) فيه بيان الأدب في أكل التمر والرطب
    ونحوهما، أن لا يَجمَع النوى في كفه، بل يضعه مِن فِيهِ على ظهر أصبعيه السبابة
    والوسطى، أو على ظهر كفه، ثم يلقيه خارج الوعاء الذي فيه التمر ولا يجمعُه معه،
    وهذِه الصفة هي التي ذكرها الغزالي.اهـ
    وفي
    نوادر الأصول في أحاديث الرسول (2/142) : وَعَن أنس رَضِي الله عَنهُ أَن رَسُول الله
    صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أُتِـيَ بطبق من رُطَب فَأكل مِنْهُ شَيْئا ، ثمَّ يُلقِي
    النَّوَى من فَمه بِشمَالِهِ ، فمرَّت بِهِ داجنةٌ فناولها إِيَّاه فَأكلت .
    وفي نوادر الأصول
    في أحاديث الرسول
    (2/142) أيضا :
    لَو
    أَخذ النواة بباطن أَصَابِعه ثمَّ عَاد إِلَى بَقِيَّة التَّمْر لَكَانَ لَا يَخْلُو
    أَن تكون أَصَابِعُه مُبتَلَّةً من ريق الْفَم عِنْد أَخذ النواة ، فكره أَن يعود
    إِلَى بَقِيَّة التَّمْر وَفِي يَده بِلَّة النواة مُرَاعَاةً للأكيل وَحُرْمَةً
    للصاحب ، ليتأدَّب بِهِ مَن بعده ، فَإِنَّهُ قد يَعَافُ الرجلُ صَاحبه فِي فِعلِه
    من ذَلِك ويكرهُه ، فَكَانَ يَأْخُذ النواةَ بظاهر إصبعيه وَيسْتَعْمل باطنَهما
    فِي تنَاوُله .
    دونوں انگلیوں کی پشت پر گٹھلی نکال کر رکھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم
    اسے پھینک دیتے تھے ۔(مسند احمد ۱۷۶۷۵،۱۷۶۸۴،
    ابن
    حبان۵۲۹۸،شعب الایمان۸/۵۶
    )

    دوسرا طریقہ:مذکورہ
    دونوں انگلیوں کے درمیان میں رکھنا ۔
    صحیح مسلم(۲۰۴۲) کی روایت
    میں ہے :
    [ ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ
    فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، وَيَجْمَعُ
    السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى]
    اس کی تشریح میں ابن رسلان
    شرح سنن ابو داود (15/265)میں فرماتے
    ہیں :
    ورواية
    “صحيح مسلم” بلفظ : ثم أتي بتمر فكان يأكله ويلقي النوى بين أصبعيه ،
    ويجمع السبابة والوسطى ، ولعله فَعَل بين الأصبعين في بعض الأيام، والأكثرُ على ظهر
    هما.

    تیسرا طریقہ:بائیں
    ہاتھ میں گٹھلیاں جمع کرنا۔
    ابن رسلان  کی شرح سنن ابو داود (15/265)میں ہے :
    ورواية
    أحمد : أنه ربما استعان بيديه جميعًا. فأكل يومًا الرطب في يمينه وكان يحفظ النوى
    في يساره، فمرت شاة، فأشار إليها بالنوى، فجعلت تأكل من كفه اليسرى ويأكل هو
    بيمينه حتى فرغ.

    مسند احمد میں تویہ روایت نہیںملی ،
    لیکن ابن سعد نے (طبقات)میں اور ابو یعلی موصلی نے
    (إتحاف الخيرة المهرة 4/306)میں یہ واقعہ نقل کیا ہے :
    عَنْ
    أنس قال: “قد
    َّمنا إلى رسول الله تمرًا فجَثَا على ركبتيه، فأخذ قَبضة
    فَقَالَ: اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى فُلَانَةٍ. وَأَخَذَ قَبْضَةً فَقَالَ: اذْهَبْ
    بِهَذَا إِلَى فُلَانَةٍ. حَتَّى قَسَّمَ بَيْنَ نِسَائِهِ قَبْضَةً قَبْضَةً،
    ثُمَّ أَخَذَ قَبْضَةً مِنْهُ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بِشِمَالِهِ،
    فَمَرَّتْ بِهِ داجِنَةٌ فناولها إياه فأكلته “.

    ۶۔ کھجور کی گٹھلی کو کھجور کےساتھ طباق 
    میں ڈالنے کی ممانعت
    أخرج البيهقي في “شعب الإيمان” (8/60) :
    5498 –
    أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ
    الْفَقِيهُ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ دِينَارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ
    زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمُّويَهْ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حُمَيْدٍ،
    عَنْ أَنَسٍ قَالَ: ” كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُلْقِيَ النَّوَى مَعَ التَّمْرِ
    عَلَى الطَّبَقِ ” .
    وفي “التنوير شرح الجامع
    الصغير” (11/9) :
    9542- “نهى أن تُلقَى النواةُ
    على الطَّبَق الذي يؤكل منه الرطبُ أو التمرُ”. الشيرازي عن علي (ض) .
    (نهى أن تلقى النواة) أي أن يُلقِي
    الآكلُ نواة التمرة التي يأكلها (على الطبق الذي يؤكل منه الرطب أو التمر) لأنه
    يَقذِرُه من يأكل معه أو بعده إن أكل وحده، ولأنه خلافُ آداب الآكلين ، ومثله
    العنب ونحوُه من الخوخ
    .
    (الشيرازي عن علي) رمز المصنف لضعفه.
    وفي “الآداب الشرعية والمنح
    المرعية” (3/225) :
    فَصْلٌ فِي آدَابِ أَكْلِ التَّمْرِ :
    وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَضَعَ النَّوَى مَعَ التَّمْرِ
    عَلَى الطَّبَقِ . ذَكَرَهُ الْبَيْهَقِيّ . وَقَالَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي
    آدَابِ الْأَكْلِ: وَلَا يَجْمَعُ بَيْنَ النَّوَى وَالتَّمْرِ فِي طَبَقٍ ، وَلَا
    يَجْمَعُهُ فِي كَفِّهِ ، بَلْ يَضَعُهُ مِنْ فِيهِ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ ثُمَّ
    يُلْقِيهِ، وَكَذَا كُلُّ مَا لَهُ عَجَمٌ وَثُفْلٌ.
    قَالَ
    أَبُو بَكْرِ بْنُ حَمَّادٍ رَأَيْتُ أَحْمَدَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيَأْخُذُ
    النَّوَى عَلَى ظَهْرِ إصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَرَأَيْتُهُ
    يَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ النَّوَى مَعَ التَّمْرِ فِي شَيْءٍ وَاحِدٍ، ذَكَرَهُ
    الْخَلَّالُ فِي جَامِعِهِ وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ.
    وفي ” إكمال المعلم بفوائد مسلم” للقاضي عياض (6/524) :
    وقوله:
    ” ثم أتى بتمر فكان يأكله ويلقى النوى يين إصبعيه، ويجمع بين السبابة والوسطى
    “: دليل على قِلَّة ما كان يأكله – عليه السلام – لأن ما يَجتمع بين السبابة
    والوسطى إنما يكون من تمر قليل. وفيه أنه لم يُلقِه في التمر لنهيه عن ذلك لما فيه
    من إفسادٍ للطعام، وخَلطِهِ بغيره مما يُطرح فيه، وهذه سُنة .
    لكن جاء في “المستدرك ”
    للحاكم (4/134) :
    7136 – حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ
    مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا
    الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَزْرَقُ، ثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ شُعَيْبِ
    بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : «أَنَّ النَّبِيَّ
    صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ وَيُلْقِي النَّوَى
    عَلَى الْقِنْعِ» وَالْقِنْعُ: الطَّبَقُ .
    قال الحاكم : «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ
    عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» .
    قال في “التيسير بشرح الجامع
    الصغير” (2/268) :
    (كَانَ يَأْكُل الرطب ويلقي النَّوَى
    على الطَّبَق) أَي الطَّبَقِ الْمَوْضُوع تَحت إناء الرطب ، لَا الَّذِي فِيهِ
    الرطبُ فإنه يُعَاف (ك عَن أنس) بإسناد صَحِيح .

    ۷۔ کھانے کو کھجور پر ختم کرنا
    جاء في “الفوائد
    الغيلانيات” لأبي بكر الشافعي (2/714) :
    983 – حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ،
    مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ عِيسَى الْأَزْدِيُّ سَنَةَ سِتٍّ وَسَبْعِينَ
    وَمِائَتَيْنِ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ
    سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ،
    عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: ” كَانَ  رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُفْطِرَ عَلَى الرُّطَبِ مَا دَامَ الرُّطَبُ، وَعَلَى
    التَّمْرِ إِذَا لَمْ يَكُنْ رُطَبٌ، وَيَخْتِمَ بِهِنَّ، وَيَجْعَلَهُنَّ
    وِتْرًا: ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا ” .
    قال الألباني في “الضعيفة” (1749): ضعيف جداً.
    وفي
    فيض القدير” للمناوي (5/230) :
    7094 – (كان يعجبه أن يفطر على الرطب
    ما دام الرطب) موجودا (وعلى التمر إذا لم يكن رطب) أي إذا لم يتيسَّر ذلك الوقت
    (ويختم بهنَّ) أي يأكلهن عقب الطعام .
    وفي
    السراج المنير شرح الجامع الصغير” (4/105) :
    (كان يعجبه أن يفطر على الرطب مادام
    الرطب) موجوداً (وعلى التمر إذا لم يكن رطب) أي إذا لم يتيسر ذلك الوقت (ويختم
    بهن) قال المناوي :أي يأكل التمرات عقب الطعام (ويجعلهن وتراً ثلاثاً أو خمساً أو
    سبعاً) فيُسَنُّ فعل ذلك (ابن عساكر عن جابر) .
     ۸۔پکی کھجورکو خوشہ سے توڑ کر کھانا
    روى الإمام أحمد عن أم المنذر سلمى
    بنت قيس الأنصارية رضي الله تعالى عنها قالت: دخل عليَّ رسول الله صلى الله عليه
    وسلم ومعه علي رضي الله تعالى عنه ، وعليٌّ ناقِهٌ من مرضٍ، ولنا دَوَالٍ معلّقة،
    فقام رسول الله صلى الله عليه وسلّم يأكل منها… الحديث .
    قال
    ابن الأثير في “النهاية في غريب الحديث والأثر” (2/141) :
    (هـ)
    وَفِي حَدِيثِ أُمِّ الْمُنْذِرِ «قَالَتْ: دَخَل عَلَيْنَا رسولُ اللَّه صَلَّى
    اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عليٌّ وَهُوَ ناقِهٌ، وَلَنَا دَوَالٍ
    مُعَلَّقَةٌ» الدَّوَالِي جمعُ دَالِيَةٍ، وَهِيَ العِذْقُ مِنَ البُسْر يُعَلَّقُ،
    فَإِذَا أرْطَبَ أُكِلَ.

    ۹۔ تر کھجور کو خشک کے
    ساتھ اور نئی کو پرانی کے ساتھ کھانے کی ترغیب
    أخرج ابن ماجه (4/ 438) : بَابُ
    أَكْلِ الْبَلَحِ بِالتَّمْرِ :
    3330حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ،
    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ
    بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ –
    صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: “كُلُوا الْبَلَحَ بِالتَّمْرِ، كُلُوا
    الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَغْضَبُ وَيَقُولُ: بَقِيَ ابْنُ
    آدَمَ حَتَّى أَكَلَ الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ”.
    قال الأرناؤط :  إسناده ضعيف جدًا، آفتُه يحيى بن محمَّد بن
    قيس.وأخرجه النسائي في “الكبرى” (6690) من طريق يحيى بن محمَّد بن قيس،
    بهذا الإسناد
    ، وأورده ابن الجوزي في “الموضوعات” 3/ 36،
    والعقيلي في “الضعفاء” 4/ 427 وأعله بيحيى بن محمَّد وقال: لا يتابع على
    حديثه، ولا يُعرف هذا الحديثُ إلا به.
    ۱۰۔ تر کھجور یاچھوہارے کو دوسرے میوں یا دوسری قسم کے کھانوں
    کے ساتھ کھانا
    اس سلسلہ میں متعدد
    روایات ہیں ، مختصراً ان کے حوالے دیئے جاتے ہیں :

    تر وتازہ کھجور(رطب) کھیرے(ککڑی) کے ساتھ:
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ
    بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى
    اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالقِثَّاءِ»
    البخاري( 5440) مسلم (2043) أبوداود
    5835 ، الترمذي 1844، ابن ماجه 3325 .
    وفي فتح
    الباري
    (9/ 573) : قَوْلُهُ:
    يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ
    وَقَعَ فِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ كَيْفِيَّةُ أَكْلِهِ لَهُمَا ، فَأَخْرَجَ
    فِي
    الْأَوْسَطِ
    مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : رَأَيْتُ فِي يَمِينِ
    النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِثَّاءً وَفِي شِمَالِهِ رُطَبًا
    وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ ذَا مَرَّةً وَمِنْ ذَا مَرَّةً . قال الحافظ : وَفِي
    سَنَدِهِ ضَعْفٌ .
    وقَالَ النَّوَوِيُّ : فِي حَدِيثِ
    الْبَابِ جَوَازُ أَكْلِ الشَّيْئَيْنِ مِنَ الْفَاكِهَةِ وَغَيْرِهَا مَعًا ، وَجَوَازُ
    أَكْلِ طَعَامَيْنِ مَعًا ، وَيُؤْخَذُ مِنْهُ جَوَازُ التَّوَسُّعِ فِي
    الْمَطَاعِمِ ، وَلَا خِلَافَ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ فِي جَوَازِ ذَلِكَ ، وَمَا
    نُقِلَ عَنِ السَّلَفِ مِنْ خِلَافِ هَذَا مَحْمُولٌ عَلَى الْكَرَاهَةِ مَنْعًا
    لِاعْتِيَادِ التَّوَسُّعِ وَالتَّرَفُّهِ وَالْإِكْثَارِ لِغَيْرِ مَصْلَحَةٍ
    دِينِيَّةٍ .
    وَقَالَ الْقُرْطُبِيُّ : يُؤْخَذُ
    مِنْهُ جَوَازُ مُرَاعَاةِ صِفَاتِ الْأَطْعِمَةِ وَطَبَائِعِهَا
    وَاسْتِعْمَالِهَا عَلَى الْوَجْهِ اللَّائِقِ بِهَا عَلَى قَاعِدَةِ الطِّبِّ ، لِأَنَّ
    فِي الرُّطَبِ حَرَارَةً وَفِي الْقِثَّاءِ بُرُودَةً ، فَإِذَا أُكِلَا مَعًا
    اعْتَدَلَا، وَهَذَا أَصْلٌ كَبِيرٌ فِي الْمُرَكَّبَاتِ مِنَ الْأَدْوِيَةِ .
     تروتازہ  کھجور(رطب)تربوز کے ساتھ:
    روى أبو داود (3836)، والترمذي (1949)، والنسائي في “الكبرى” (6687)،
    عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه
    وسلّم يأكل البِطِّيخَ بالرُّطَب، ويقول: «يكسِرُ حرَّ هذا بردُ هذا» .
    وروى أبو يعلى(3867) والإمام أحمد(12449)والترمذي في “الشمائل”
    (200) بسندٍ رجالُه ثقات ، عن أنس رضي الله تعالى عنه قال: رأيتُ رسولَ الله صلى
    الله عليه وسلّم يجمَعُ بين البطيخ والرطب
    .

    تر وتازہ کھجور(رطب)خربوزےکے ساتھ:
    أخرج
    أحمد (
    12449)
    ومن طريقه ابن حبّان (1356) – والترمذي في “الشمائل” (رقم: 190)
    والنسائي في “الكبرى” (6726) والبيهقي (5/112) من طريق جرير بن حازم عن
    حميد عن أنس قال: رأيتُ رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يجمع بين الخِرْبِزِ
    والرُّطَب.
    وأخرج
    أبو الشيخ (ص 216) والبيهقي (5/112) من طريق زَمْعة ، عن محمد بن أبي سليمان ، عن
    بعض أهل جابر
    ، عن جابر أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – كان يأكل الخِرْبِز بالرطب ،
    ويقول: “هما الأطيبان”.
    قال في “فتح الباري”
    (9/573) : الْخِرْبِزِ بِكَسْرِ الْخَاءِ الْمُعْجَمَةِ وَسُكُونِ الرَّاءِ
    وَكَسْرِ الْمُوَحَّدَةِ بَعْدَهَا زَايٌ : نَوْعٌ مِنَ الْبِطِّيخِ الْأَصْفَرِ .

    چھوہارے دودھ کے ساتھ
     أخرج أحمد (15893) من رواية إسماعيل بن أبي خالد
    عن أبيه قال : دَخَلْتُ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَتَمَجَّعُ لَبَنًا بِتَمْرٍ،
    فَقَالَ: ” ادْنُ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    سَمَّاهُمَا الْأَطْيَبَيْنِ “.
    في تخريج
    المسند : إسناده ضعيف، أبو خالد والد إسماعيل مختلف في اسمه ، تفرَّد بالرواية عنه
    ابنه إسماعيل، ولم يؤثَر توثيقه عن غير ابن حبان، وبقية رجاله ثقات رجال الشيخين.
    قال السندي:
    قوله: يتمجَّع: المَجْعُ: أكل التمر باللَّبَن، بأن يحسو حسوة من اللبن، ويأكل على
    أَثرها تمرة.

    چھوہارے مکھن کے ساتھ
    في سنن أبي داود(3837) : حَدَّثَنَا
    مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدَ، قَالَ: سَمِعْتُ
    ابْنَ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنَيْ بُسْرٍ
    السُّلَمِيَّيْنِ قَالَا: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ “فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ
    وَالتَّمْرَ” .ونحوه عند ابن ماجه (3334) وإسناده قوي.

    چھوہارےجو کی روٹی کے ساتھ
    قال البيهقي في “شعب
    الإيمان” (8/ 57) :
    وَرُوِّينَا عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ
    اللهِ بْنِ سَلَّامٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ، فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً
    وَقَالَ: ” هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ “.

    خلاصہ :
    کھجور کھانے
    کا مسنون طریقہ :
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم
    کھجور کو کھولے بغیردائیں ہاتھ سے منھ میں رکھتے تھے ، اور اس کی گٹھلی منھ سے
    نکال کر شہادت اور بیچ کی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر ، اسے پھینک دیتے تھے ۔
    کلپ میں مذکورہ طریقہ کا تجزیہ :
    واعظ صاحب
    نے کہا:
    ۱۔ سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھجور
    کو کھولتے تھے(
    اوپر مضمون میں نمبر۴ ملاحظہ
    ہو
    )
    ۲۔ پھر بیج
    کو نکالتے تھے اور اس کو چوستے تھے ۔(
    روایتوں
    میں وارد نہیں
    )
    نیزاگر
    چھوہارے کا بیج مراد ہے تو اس کا چوسنا فضول ہے ۔اور اگر تازہ کھجور کا بیج مراد
    ہےکہ ممکن ہے کہ اس پر کھجور کا کچھ حصہ لگا ہوا ہو، تو اس کےکھجور سے نکالنے میں
    دونوں ہاتھ ملوث ہوں گے، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نفاستِ طبع کے خلاف ہے۔
    ۳۔ پھر بیج
    کو دو انگلی پر رکھ لیتے تھے ، بعض روایتوں میں انگوٹھے کا بھی ذکر ہے۔(
    انگوٹھا وارد نہیں،اوپر نمبر۵ ملاحظہ فرمائیں)
    اور جب بیج
    کومنھ میں سے ہاتھ سے نکالا ہے تو اس کو دوبارہ انگلیوں کی پشت پر رکھنے کی کیا
    ضرورت ہے ؟!
    ۴۔ پھر بیج
    کو دستر خوان پر پھینک دیتے تھے(
    ممکن ہے،نمبر
    ۶ ملاحظہ فرمائیں
    ۵۔ پھر
    باقی کھجور کو کھالیتے تھے(
    الحمد للہ

    جمعہ ورتبہ العاجز : محمد طلحہ بلال
    احمد منیار
    ۲۴ رمضان المبارک ۱۴۴۱ ھ / ۱۸ مئی
    ۲۰۲۰ ء
  • برتن کا اس کے صاف کرنےوالے کو دعا دینا

    برتن کا اس کے صاف کرنےوالے کو دعا دینا



    سوال :  جو برتن کو صاف کرے تو برتن اس کو دعا دیتا
    ہے
    ،اور
    جو صاف نہ کر
    ے
    برتن اس کے لئے بد دعا کرتا ہے
    ۔کیا اس طرح کی کوئی حدیث
    ہے
    ؟ اگر
    ہو تو بحوالہ ارسال کریں
    ۔

    جواب
    :
    برتن کا اس کے
    صاف کرنے والے کو دعا دینے کے متعلق دوطرح کی روایات وارد ہیں :

    ۱۔
    برتن کا استغفار کرنا
    عن نُبَيشة الخير رضي
    الله عنه مرفوعا :
    “مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا،
    اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ”۔
    تخریجہ : جامع
    الترمذی (1907) ، سنن ابن ماجہ
    (3271،3272)، مسند احمد (20724) ۔
    حالہ : ضعیف ہے
    ، سند میں ایک راوی مجہول ہے ۔

    ۲۔
    برتن کا استغفار ، اور جہنم سے خلاصی کی دعا دینا
    عن انس رضي الله عنه
    مرفوعا :
    ” إِذَا لَعِقَ الرَّجُلُ الْقَصْعَةَ اسْتَغْفَرَتْ
    لَهُ الْقَصْعَةُ فَتَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعْتِقْهُ مِنَ النَّارِ كَمَا
    أَعْتَقَنِي مِنْ يَدِ الشَّيْطَانِ ” ، وزاد الحکیم الترمذی من حدیث انس :
    “وَصَلَّت عَلَیہ” ۔
    وفي النجم الوهاج في
    شرح المنهاج للدميري (9/ 580) : وروى البزار أنها تقول: (اللهم أجره من النار كما
    أجارني من لَعْقِ الشيطان).
    تخریجہ :
    الترغيب في فضائل الأعمال وثواب ذلك لابن شاهين (ص: 157) ، نوادر الاصول (462) ۔
    حالہ : ضعیف جدا
    ، سند میں سمعان بن مہدی مجہول ہے ، اور اس سے ایک موضوع نسخہ روایت کیا جاتا ہے ،
    اس لئے اس حدیث کو کتب موضوعات میں ذکر کیا جاتا ہے ، جیسے : تنزیہ الشریعہ(2/267، رقم 137) ۔

    خلاصہ
    : روایات میں برتن صاف کرنے والے کے حق میں دعا کا تو تذکرہ ہے ، البتہ صاف نہ
    کرنے والے کے حق میں بد دعا کرنا نہیں ملا ۔ مگر استغفار کرنے کی روایات میں جو ضعف ہے وہ
    فضائل کے باب میں چل سکتا ہے ۔

    كتبه العاجز : محمد طلحة بلال أحمد منيار