برتن کا اس کے صاف کرنےوالے کو دعا دینا



سوال :  جو برتن کو صاف کرے تو برتن اس کو دعا دیتا
ہے
،اور
جو صاف نہ کر
ے
برتن اس کے لئے بد دعا کرتا ہے
۔کیا اس طرح کی کوئی حدیث
ہے
؟ اگر
ہو تو بحوالہ ارسال کریں
۔

جواب
:
برتن کا اس کے
صاف کرنے والے کو دعا دینے کے متعلق دوطرح کی روایات وارد ہیں :

۱۔
برتن کا استغفار کرنا
عن نُبَيشة الخير رضي
الله عنه مرفوعا :
“مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا،
اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ”۔
تخریجہ : جامع
الترمذی (1907) ، سنن ابن ماجہ
(3271،3272)، مسند احمد (20724) ۔
حالہ : ضعیف ہے
، سند میں ایک راوی مجہول ہے ۔

۲۔
برتن کا استغفار ، اور جہنم سے خلاصی کی دعا دینا
عن انس رضي الله عنه
مرفوعا :
” إِذَا لَعِقَ الرَّجُلُ الْقَصْعَةَ اسْتَغْفَرَتْ
لَهُ الْقَصْعَةُ فَتَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعْتِقْهُ مِنَ النَّارِ كَمَا
أَعْتَقَنِي مِنْ يَدِ الشَّيْطَانِ ” ، وزاد الحکیم الترمذی من حدیث انس :
“وَصَلَّت عَلَیہ” ۔
وفي النجم الوهاج في
شرح المنهاج للدميري (9/ 580) : وروى البزار أنها تقول: (اللهم أجره من النار كما
أجارني من لَعْقِ الشيطان).
تخریجہ :
الترغيب في فضائل الأعمال وثواب ذلك لابن شاهين (ص: 157) ، نوادر الاصول (462) ۔
حالہ : ضعیف جدا
، سند میں سمعان بن مہدی مجہول ہے ، اور اس سے ایک موضوع نسخہ روایت کیا جاتا ہے ،
اس لئے اس حدیث کو کتب موضوعات میں ذکر کیا جاتا ہے ، جیسے : تنزیہ الشریعہ(2/267، رقم 137) ۔

خلاصہ
: روایات میں برتن صاف کرنے والے کے حق میں دعا کا تو تذکرہ ہے ، البتہ صاف نہ
کرنے والے کے حق میں بد دعا کرنا نہیں ملا ۔ مگر استغفار کرنے کی روایات میں جو ضعف ہے وہ
فضائل کے باب میں چل سکتا ہے ۔

كتبه العاجز : محمد طلحة بلال أحمد منيار

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *