من باع نخلا بعد التعبير کی تصحیح

 

لغات
الحديث ( 2 )

(افاضات
امیری علی الترمذی) میں ایک جگہ یہ حدیث مذکور ہے :

عن
النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : ”
من باع نخلا بعد التعبیر
…”
کذا فیہ ؟!

اقول
: اس میں دو غلطیاں ہیں ، ایک تو یہ لفظ علی الصواب ( التأبیر ) ہے ھمزہ سے ، تأبیر
کے معنی ہیں :درختوں کو قلم لگانا ، گابھا دینا ، تلقیح کرنا ، یعنی نر کھجور کے
درخت کی ٹہنی یا شگوفہ کو ، مادہ درخت میں ملانا ۔
اس کو“تعبیر” عین سےلکھنا غلط ہے ۔

دوسری
بات یہ ہے کہ صحیح وثابت روایات میں حدیث کے الفاظ : ”
من
باع نخلا بعد أن تؤبَّـر
” بعدیت کا صرف ذکر
ہے ، تابیر سے قبل کے الفاظ ایک ضعیف وشاذ روایت میں وارد ہیں جو ثابت نہیں ہے ،
اسی لئے حنفیہ اس سے استدلال نہیں کرتے ، اور ان کے نزدیک قبل و بعد دونوں کا حکم
ایک ہے ، اور “تابیر” سے پھل کے ظہور کا معنی  مراد لیتے ہیں ۔ جبکہ شوافع وغیرہ (
بعد
أن تؤبر
) کو قید احترازی قرار دیتے ہیں ، اور اس
کے مفہوم مخالف سے استدلال کرتے ہوئے قبل وبعد کے حکم میں فرق کرتے ہیں ، لہذا اگر
روایت ثابت ہوتی تو اختلاف کا مطلب ہی نہیں تھا ۔ واللہ اعلم

 

کتبہ العاجز محمد طلحہ بلال احمد منیار

4/9/2018

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *