Blog

  • عید کی نماز کے بعد چار رکعت کی فضیلت

    عید کی نماز کے بعد چار رکعت کی فضیلت

    عید
    کے بعد چار رکعت فضیلت والی روایت کی تحقیق
     عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
    عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : { مَنْ
    صَلَّى بَعْدَ الْعِيدِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ نَبْتٍ
    نَبَتَ ، وَبِكُلِّ وَرَقَةٍ حَسَنَةً }
    ترجمہ :
    جو شخص عید کی نماز کے بعد چار رکعت پڑھے ، اس کے لئے زمین پر اگے ہوئے تمام پیڑپودوں
    اور ان کے پتوں کی تعداد کے بقدر نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔

    یہ حدیث فقہ حنفی کی
    کتابوں میں بغیر سند کے مذکور ہے ، جیسے (مبسوط، بدائع ،حاشیۃ طحطاوی علی الدر)لیکن
    تلاش بسیار کے بعد بھی اس کی کوئی اصل کتب حدیث میں نہیں ملی اور نہ کوئی سند ، اس
    لئے اس روایت میں مذکورہ فضیلت ثابت نہیں ہے ۔
    ہاں عید کے بعد گھر لوٹ
    کر دو رکعت پڑھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بروایت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ
    منقول ہے ( ابن ماجہ ۱۲۹۳، احمد ۱۱۳۵۵، ابن خزیمہ ۱۴۶ ، حاکم ۱۱۰۳) ۔ اور چار رکعت
    پڑھنا بعض صحابہ جیسےحضرت علی(ابن ابی شیبہ۵۷۵۳) ابن مسعود (ابن ابی شیبہ۵۷۵۲)اور
    بریدۃ بن حصیب(ابن ابی شیبہ۵۷۵۷) اور تابعین جیسے سعید بن جبیر ،علقمہ ،ابراہیم
    نخعی ، مجاہد ، ابن ابی لیلی وغیرہ سے مروی ہے (ابن ابی شیبہ۵۷۴۹،۵۷۵۰)۔
    روافض کی کتابوں میں حضرت
    سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت سے ان چار رکعت کی ایک دوسری لمبی چوڑی فضیلت
    منقول ہے ، لیکن ان کی کتابوں کی مرویات معتبر نہیں ہے ۔ بلکہ موضوعات میں اس روایت
    کو شمار کیا ہے (لآلئ مصنوعہ 2/61 ، تنزیہ الشریعہ 2/94) ۔

    خلاصہ
    یہ ہے کہ دو یا چار رکعت پڑھنا ثابت ہے ، لیکن فضیلت کی روایات ثابت نہیں ہے ۔

    رقمہ محمد
    طلحہ بلال احمد منیار

  • حجر اسود کی دو نشانیاں

    حجر اسود کی دو نشانیاں



    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    حجر اسود کی دو نشانیاں
    سوال :حجر اسود کے بارے میں ایک روایت حضور صلی اللہ
    علیہ وسلم کی طرف منسوب کی جاتی ہے کہ : حجر اسود پانی میں ڈوبتا نہیں ، اور آگ اس
    کو گرم نہیں کرسکتی ہے ۔ کیا یہ روایت معتبر ہے ؟
    جواب :
    یہ روایت
    تاریخ کی کتابوں میں عبد اللہ بن علیم (یا عکیم) محدث کی طرف منسوب کی جاتی ہے کہ
    انہوں نے اپنی سند سے مرفوعا بیان کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
    فرمایاکہ :(حجر اسود اللہ تعالی کا دایاں ہاتھ ہے ، جس کے ذریعہ اللہ تعالی زمین
    پر اپنے بندوں سے مصافحہ فرماتے ہیں،اللہ تعالی نے جنت کے ایک سفید موتی سے  اس کوپیدا کیا،مگر لوگوں کے گناہوں نے اس کو
    سیاہ کردیا، روز قیامت وہ اس حال میں محشر میں لایاجائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں
    گی، اور زبان ہوگی جس سے وہ
    اس کو بوسہ دینے والے کے حق میں ایمان یا نفاق کی گواہی دے گا،اور یہ کہ وہ ایسا پتھر ہے کہ پانی کے اوپری سطح پرہی رہتاہے ، اور
    آگ اس کو گرماتی نہیں ہے)۔
    واقعہ کی
    تفصیل :
    مذکورہ واقعہ
    اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ : ابو طاہر
    سلیمان بن حسن  قرمطی جب خلیفہ مقتدر باللہ عباسی کے زمانہ
    خلافت میں سن ۳۱۷ ھ میں حجر اسود کو خانہ کعبہ سے نکال کر احساء لے گیا تھا ، تو
    اس کے واپس لوٹانے کے سلسلہ میں اس وقت کے مسلم حکمران کوششیں کر رہے تھے ، منجملہ
    ان مساعی کے ایک  کوشش کاواقعہ خلیفہ مقتدر
    باللہ عباسی کی طرف نسبت کرکے اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ:
    خلیفہ مقتدر
    باللہ نے بغداد سے ایک وفد اس سلسلہ میں ابو طاہرجنابی قرمطی کی طرف بھیجا اور حجر
    اسود کے لوٹانے کے معاوضہ میں تیس ہزار (۰۰۰
    ؍۳۰)  دینار دینے کی پیش کش کی ۔
    جب ابو طاہر
    نے یہ سودہ قبول کیا ، تو اس نے حجر اسود کو منگوایا ، لیکن اس نے موجودہ سفراء سے
    کہا کہ : تم کو کیسے معلوم ہوگا کہ یہی ہے وہ اصلی (حجر اسود)ہے؟ مان لو اگر میں
    ریگستان  سےکوئی اور پتھر منگواکر تمہارے
    حوالے کردوں تو تم کیسے فرق کر پاؤ گے؟
    تو اس وقت
    وہاں پر عبد اللہ بن علیم محدث موجود تھے ، جو غالبا بغداد سے آئے ہوئےسفراء کے
    وفد میں تھے،انہوں نے کہاکہ : حجر اسود کی اصلیت جاننے کی دو نشانیاں ہیں :ایک یہ
    کہ وہ پانی میں ڈوبتا نہیں ، اوردوسری یہ کہ آگ اس پر اثر نہیں کرتی ۔
    چنانچہ ابو
    طاہر قرمطی نے پانی کے ایک برتن میں حجر اسود کو ڈالنے کا حکم دیا تو وہ پانی کی
    سطح پر تیرتا رہا ، پھر آگ میں ڈالا گیا تو اس میں بھی وہ گرم نہیں ہوا ۔ یہ دیکھ
    کر ابو طاہر متاثر ہوا ،
    اور ابن علیم سے ان دو نشانیوں کا استناد طلب کیا ، تو عبد اللہ بن علیم
    نےبسند متصل مذکورہ بالا روایت پیش کی ، اس پر وہ متعجب ہوا ، پھر
    حجر اسود کو بوسہ دیا ، اور اس کو واپس کرنے پر آمادہ ہوگیا۔
    ملخص من : مرآة الزمان في تواريخ الأعيان (16/554) ، تاريخ الإسلام تحقيق بشار (7/221) ، حاشية الجمل على
    شرح منهج الطلاب (2/451) ، تحفة الراكع والساجد بأحكام المساجد (ص88) .
    روایت کا حکم :
    قال سبط ابن الجوزي في “مرآة
    الزمان” : والحديث الذي رواه ابن عُليم لا يصح.
    ابن علیم نے جو روایت بیان کی وہ صحیح نہیں ہے ۔
    وقال الجَرَّاعي في “تحفة الراكع
    والساجد” : إنه حديث غريب . ونقل عن ابن دحية قوله : عبد الله بن عكيم هذا لا
    يعرف، والحجر الأسود جَلْمَدٌ لا تَخُلَّل فيه. والذي يطفو على الماء يكون فيه بعض
    التخلُّل كالخفاف وشبهه. قال وللحجر الأسود علامات غير ذلك.
    عبد اللہ بن عکیم (یا علیم)کی ذکر کردہ روایت
    غریب ہے ، اور ابن دحیہ سے نقل کیا کہ : ابن عکیم غیر معروف شخصیت ہے ، اور حجر
    اسود نہایت سخت اور متماسک الاجزا پتھر ہے جس میں مسامات نہیں ، جبکہ جو پتھر پانی
    کی سطح پر تیرتا ہے اس میں مسامات ہوتے ہیں جن میں پانی سرایت کرتا ہے ، نیز حجر
    اسود کی دیگرعلامات بھی ہیں ۔
    در اصل اس روایت کے بعض حصے احادیث کی کتابوں میں منقول ہیں ، مثلا :
    الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ يَمِينُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ .صحيح ابن خزيمة  2737، المستدرك للحاكم (1/ 457).
    – خَلَقَهُ
    اللَّهُ مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ مِنْ الْجَنَّةِ .
    صحيح ابن خزيمة 2734.
    – وَإِنَّمَا
    اسْوَدَّ مِنْ ذُنُوبِ النَّاسِ .
    سنن النسائي (5/ 226) ، والترمذي (877) ، صحيح ابن خزيمة 2733، 2734،
    المعجم الكبير 12285.  
     
    – يُحْشَرُ
    يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَتَكَلَّمُ
    بِهِ .
    سنن الترمذي 961، سنن ابن ماجه 2944، مسند أحمد 2215، صحيح ابن خزيمة 2735، صحيح ابن حبان  3711 .
    – يَشْهَدُ
    لِكُلِّ مَنْ اسْتَلَمَهُ وَقَبَّلَهُ بِالْإِيمَانِ
    أو
    النفاق
    . سنن الترمذي 961، سنن ابن ماجه 2944، مسند أحمد 2215، صحيح ابن خزيمة 2735، صحيح ابن حبان  3711 .
    – وَأَنَّهُ
    حَجَرٌ يَطْفُو عَلَى الْمَاءِ ، وَلَا يَسْخُنُ بِالنَّارِ إذَا أُوقِدَتْ
    عَلَيْهِ .
    لم
    يرد في شيء من كتب الحديث .
    معلوم
    ہواکہ یہ آخری جملہ جو حجر اسود کی دو نشانیوں  پر مشتمل ہے وہ ثابت نہیں ہے ، کسی بھی کتاب میں
    یا روایت میں وارد نہیں ہے ، تو احتمال ہےکہ عبد اللہ بن عکیم نے اس کو از قبیل
    تجربہ ذکر کیا ہو ،اگر ایساہے تو اس کا تجربہ کی رو سے ثابت ہونا ممکن ہے ، لیکن
    اس کو اگرحدیث مذکور کا جزو قرار دیا ہو تو وہ من گھڑت ہے ،معتبر نہیں ہے۔
    دوسری
    بات کہ خود عبداللہ بن علیم یا عکیم مجہول شخص ہے ، غیر معروف ہے ، اور کتابوں میں
    صرف اسی واقعہ میں ان کا تذکرہ ہے ، اگر حدیث میں ان کا کوئی مقام ہوتا تو ان کے
    حالات کتابوں میں دستیاب ہوتے۔
    تیسری
    بات کہ تاریخی کتابوں جہاں یہ روایت عبد اللہ بن عکیم کے حوالے سے مذکور ہے وہاں
    کوئی سند مذکور نہیں ہے ، تاکہ اس کی تحقیق کی جائے ۔جب سند نہیں تو اس کی نسبت
    حدیث کی طرف کرنا درست نہیں ہے۔

    تنبیہ :
    حجر اسود کے مذکورہ بالا واقعہ میں چند اور تاریخی باتیں غلط ہیں ، جن پر
    محدثین ومؤرخین نے تنبیہ فرمائی ہے ، وہ باتیں یہ ہیں :
    ۱۔
    حجر اسود کےخانہ کعبہ سے نکالنے کا واقعہ ابو سعید قرمطی کے دور میں واقع ہوا ۔ (غلط ہے)اس لئے کہ یہ واقعہ سن ۳۱۷ ھ کا ہے ، جبکہ ابو
    سعید کا انتقال (۳۰۱ ھ)میں ہوچکا تھے ۔درست یہ ہے کہ یہ واقعہ ابو طاہر بن ابی
    سعید قرمطی کے دور کا ہے ۔
    قال الذهبي في سير أعلام النبلاء (11/516) : وَقَدْ وَهِمَ السِّمْنَانِيُّ،
    فَقَالَ فِي “تَارِيْخِهِ”: إِنَّ الَّذِي نَزَعَ الْحَجَر أَبُو
    سَعِيْدٍ الجَنَّابيُّ القِرْمِطِيُّ، وَإِنَّمَا هُوَ ابْنه أَبُو طَاهِرٍ.
    ۲۔ مقتدر باللہ عباسی نے حجر اسود کو تیس ہزار دینار کے عوض ابوطاہر قرمطی سے
    خریدا۔(
    غلط ہے)
    قال الذهبي في تاريخ الإسلام (7/221) : ونقل القليوبيّ -وهو ضعيف-
    أنّ القَرْمَطيّ باعَ الحجر الأسود من المقتدر بثلاثين ألف دينار، ولم يصح هذا ولا
    وقع.
    ۳۔مطیع باللہ عباسی نے حجر اسود کو تیس ہزار دینار کے عوض ابوطاہر قرمطی سے
    خریدا۔(
    غلط ہے)اس لئے کہ ابو طاہر قرمطی کی وفات سن(۳۳۲
    ھ)میں مطیع کی خلافت سنبھالنے سے پہلے ہوچکی تھی ۔
    قال الفاسي في شفاء
    الغرام بأخبار البلد الحرام
    (1/ 257) : وكلام
    القاضي عز الدين بن جماعة في “منسكه” صريح في أن المطيع العباسي اشتراه
    بهذا القدر من أبي طاهر القرمطي، وفيه نظر، لأن أبا طاهر مات قبل خلافة المطيع في
    سنة اثنتين وثلاثين وثلاث مئة ،على ما ذكره ابن الأثير وغيره.
    ۴۔ حجر اسود کومقتدر
    عباسی کے دور میں خانہ کعبہ کی طرف لوٹایا گیا۔(
    غلط ہے)اس لئے کہ لوٹانے کا واقعہ سن۳۳۵ ھ یا  ۳۳۹ ھ میں پیش آیا ، اس وقت خلیفۂ وقت ابو
    العباس مطیع باللہ عباسی تھے ، ان کا دور خلافت از(۳۳۴ ھ) تا (۳۶۴ ھ)ہے۔
    قال أبوبكر باذيب في التعليق على نشر
    ألوية التعريف” لابن علان (ص: 54) : وتحقيق الأمر: أن الحجر الأسود أخذ سنة
    317 هـ ومكث 22 عامًا، أي أنه أعيد سنة 339 هـ وكان الخليفة آنذاك هو المطيع لله
    أبو العباس الفضل بن جعفر (المقتدر بالله) وكان حكمه من سنة 334 هـ إلى 364 هـ .
    ھذا ما
    تیسر جمعہ وترتیبہ وانا العاجز : محمد طلحہ بلال احمد منیار

  • سات چیزیں حضور کے سرہانے رہتی تھیں

    سات چیزیں حضور کے سرہانے رہتی تھیں



    سات چیزیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے
    رہتی تھیں
    سوال : کیا یہ روایت صحیح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
    کے سرہانے سات چیزیں اکثر ہوتی تھیں :کنگھی ، مسواک ، سرمہ ،آئینہ 
    الخ
    الجواب :
    یہ روایت حضرت
    عائشہ ، حضرت ام سعد ،حضرت ابو سعید خدری، حضرت انس بن مالک رضی اللہ ع
    نہم سے منقول ہے ۔ نیز ایک مرسل روایت حضرت خالد بن معدان
    رحمہ اللہ سے بھی نقل کی جاتی ہے ۔
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت :
    تین اسانیدسے
    وارد ہے :
    (۱)  پہلی سند :عروہ بن زبیر عن
    عائشہ      
    (۲) دوسری سند :ہشام بن عروہ عن ابیہ عن عائشہ
    (۳) ابراہیم بن ابی عبلہ عن ام الدرداء الصغری عن عائشہ

    پہلی سند کا متن :
    كان لا يفارق
    مسجدَ رسول الله – صلى الله عليه وسلم – مسجدَ بيته سواكه ومُشطه، وكان ينظر في
    المرآة أحيانا، ويُسرِّح لحيته أحيانا ويأمر به
    .
     سند کی تخریج :
    أخرجه الطبراني في “الأوسط”
    (6363) وابن عدي في “الكامل” (3/1102) والبيهقي في
    “الشعب” (6071) .
    سند کا حال :سند میں
    سلیمان بن ارقم مجروح راوی ہے ۔
    قال
    البيهقي: سليمان بن أرقم ضعيف
    .
    وقال
    الهيثمي في “المجمع” 5/171: وفيه سليمان بن أرقم وهو ضعيف.
    وقال
    العراقي في ” تخريج أحاديث الإحياء” 1/306: إسناده ضعيف.
    وقال
    أبو حاتم وغير واحد: هو متروك الحديث، وقال ابن حبان: يروي عن الثقات الموضوعات.
    حدیث کا حکم :ضعیف جدا۔

    دوسری سند کا متن : تین طرح سے وارد ہے :
    خمس لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يدعهن في سفر ولا حضر: المرآة، والمُكحلة،
    والمشط، والمِدرَى، والسواك

    .(اسماعیل
    بن امیہ،ایوب بن واقد
    )
    “سبع لم
    يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يتركهن في سفر ولا حضر: القارورة، والمشط،
    والمرآة، والمُكحلة، والسواك، والمِقَصَّان، والم
    ِدرَى”.(حسین بن علوان،یعقوب بن ولید)
    كان إذا سافر
    سافر بسِتّ: بالمرآة، والقارورة، والمشط، والمِقراض، والسواك، والمكحلة
    . (عبدالکریم
    جزری یا خراز)

     دوسری سند کی تخریج :
    اس سند سے پانچ راویوں نے مذکورہ حدیث روایت کی ہے ، وہ ہیں:
    (1)
    إسماعيل بن يعلى أبو أمية
    الثقفي البصري
    . [أخرجها ابن حبان في “المجروحين” (3/148)
    والطبراني في “الأوسط” (5238) وابن عدي في الكامل (1/310)] .
    ولفظها
    :
    خمس لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم
    يدعهن في سفر ولا حضر: المرآة، والمكحلة، والمشط، والمِدرَى، والسواك
    ” .
    قال
    الهيثمي في “المجمع” 5/171: وفيه إسماعيل بن يعلى أبو أمية وهو متروك.
    (2) أيوب بن واقد الكوفي.[ أخرجها
    العقيلي في الضعفاء (1/116) وابن عدي (1/348) والبيهقي في “الشعب”
    (6072) وابن الجوزي في “العلل” (1146)].
     ولفظ
    الرواية : “خمس لم يكن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يدعهن في سفر ولا
    حضر …” الحديث
    قال
    ابن الجوزي: هذا حديث لا يصح، فيه أيوب بن واقد قال فيه ابن معين: ليس بثقة، وقال
    ابن حبان: لا يجوز الاحتجاج بروايته، وفيه سليمان الشاذكوني قال ابن معين: كان
    كذابا ويضع الحديث.
    (3)
    حسين بن علوان الكوفي.[ أخرجها الخطيب في “التاريخ”
    (8/62) ومن طريقه ابن ال
    جوزي في “العلل” (1145) ] .
    ولفظ
    الرواية : “سبع لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يتركهن في سفر ولا حضر:
    القارورة، والمشط، والمرآة، والمكحلة، والسواك، والمقصان، والمدرى”.
    حسين
    بن علوان قال أحمد وابن معين: هو كذاب، وقال ابن عدي وابن حبان: كان يضع الحديث.
    (4)
    عبد الكريم بن مسلم الجزري.[ أخرجها الخرائطي في “مكارم
    الأخلاق” (890)]
    ولفظها
    :عن عائشة أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا سافر سافر بسِتّ: بالمرآة،
    والقارورة، والمشط، والمقراض، والسواك، والمكحلة.
    وعبد
    الكريم قال الذهبي في “الميزان”: لا يعرف من هو وتركه الأزدي. وقال
    الحافظ في اللسان : هو عبد الكريم الخراز ، قال فيه الأزدي : واهي الحديث جدا.
    (5)
    يعقوب بن الوليد الأزدي.[ أخرجها ابن عدي (7/2605) ومن طريقه ابن
    الجوزي في “العلل” (1147)] .
    ولفظ
    الرواية : ” سبع لم يَفُتْنَ رسولَ الله – صلى الله عليه وسلم – في سفر ولا حضر:
    القارورة، والمشط، والمكحلة، والمقراضان، والسواك، والمرآة.
    قال
    ابن الجوزي في “العلل” (1147) : هذا حديث لا يصح، فيه يعقوب بن الوليد
    قال أحمد: كان من الكذابين الكبار يضع الحديث، وقال ابن معين: لم يكن بشيء كذاب،
    وقال أبو حاتم والنسائي: متروك الحديث، وقال ابن حبان: يضع الحديث على
    الثقات” .
    دوسری سند کا حال :
    اس کے تمام طرق واسانید نہایت ضعیف ہیں ، ناقابل اعتبار ہیں ، کیونکہ اسانید
    میں متروک الروایت یا متہم بالکذب رواۃ ہیں ، لہذا یہ روایت معتبر نہیں ۔

    تیسری سند کا متن :
    عن أمِّ الدرداءِ قالتْ: سألتُ عائشةَ:
    ما كنتِ إذا سافرتِ مع رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أو حَججتِ مَعه
    تُزوِّدينَه؟ قالتْ: كنتُ أزوِّدُه قارورةَ دُهنٍ، ومشطاً، ومرآةً، ومقصاً،
    ومكحلةً، وسواكاً
    .
    تخریج :
    الطبراني في “مسند
    الشاميين” (25) و”المعجم الأوسط” (
    2957) : حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق، حدثنا محمد بن حفص
    الأوصابي، حدثنا محمد بن حمير، عن إبراهيم بن أبي عبلة، عن أم الدرداء … به .
    كما في “الإيماء إلى زوائد الأمالي والأجزاء” (7/ 131) .
    تیسری سند کا حال :
    قال الطبراني في الأوسط : لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بن أبي
    عبلة إِلَّا مُحَمَّد بن حمير، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ عنه.
    قال
    الهيثمي في “المجمع” (5/171) : 
    رواه الطبراني في “الأوسط” وفيه محمد بن حفص ال
    أوصابي وهو
    ضعيف.
    وقال
    ابن أبي حاتم : أدركته وأردت قصده والسماع منه فقال لي بعض أهل حمص: ليس بصدوق،
    ولم يدرك محمد بن حمير، فتركته وكتبت عن سعيد بن عمرو البرذعي.وقال ابن منده:
    ضعيف.
    ولكن قوى الحافظ سند الطبراني هذا حيث
    قال في الفتح (10/367) :
    وَقَدْ
    وَرَدَ فِي حَدِيثٍ لِعَائِشَةَ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمِدْرَى غَيْرُ
    الْمُشْطِ
    أَخْرَجَهُ الْخَطِيبُ فِي
    “الْكِفَايَةِ” عَنْهَا قَالَتْ :خَمْسٌ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى
    اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ الْمِرْآةُ
    وَالْمُكْحُلَةُ وَالْمُشْطُ وَالْمِدْرَى وَالسِّوَاكُ .
    وَفِي
    إِسْنَادِهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيف . وَأخرجه ابن عَدِيٍّ
    مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ أَيْضًا .
    وَأَخْرَجَهُ
    الطَّبَرَانِيُّ فِي “مُسْنَدِ الشَّامِيِّينَ” مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ
    عَائِشَةَ أَقْوَى مِنْ هَذَا

    لَكِنْ فِيهِ قَارُورَةُ دُهْنٍ بَدَلَ الْمِدْرَى .

    حضرت ام سعد رضی اللہ عنہا کی روایت
    ایک ہی سند سے وارد ہے ، جس کا دار ومدار عنبسہ بن عبد الرحمن اموی پر ہے ،جو
    متہم بالوضع ہے۔
    قال
    أبو حاتم: كان يضع الحديث، وقال ابن حبان: هو صاحب أشياء موضوعة لا يحل الإحتجاج
    به.
    وَقَالَ النسائي : عنبسة بْن عَبد الرَّحْمَنِ متروك
    الحديث.
    نیز سند میں محمد بن زاذان بھی ہے جوبخاری کے نزدیک منکر الحدیث ، اور
    ابوحاتم کے یہاں متروک الحدیث ہے ۔
    تخریج : الخرائطي في “المكارم” (887) عن
    أبي بدر عباد بن الوليد الغُبَري
    ، ثنا أبو الربيع الزهراني ، ثنا سعيد بن
    زكريا المدائني ، ثنا عنبسة بن عبد الرحمن ، عن محمد بن زاذان قال: سمعت أم سعد
    الأنصارية – رضي الله عنها – تقول:
    كان رسول الله صلى
    الله عليه وسلم إذا سافر لم يفارق المرآةَ والمكحلةَ، يكونان معه
    .
    حضرت ابوسعیدرضی اللہ عنہ کی روایت
    أخرج ابن منده في أماليه
    قال :
    277 – أخبرنا
    أحمد بن محمد بن شعيب النيسابوري، أنا سهل بن عمار العتكي، أنا محمد بن عبد الله
    بن رزين، أنا خارجة بن مصعب، عن يزيد بن عمير المديني، عن عياض بن عبد الله بن سعد
    بن أبي سرح، عن أبي سعيد الخدري قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم «لا يفارق
    مصلاه سواكه ومشطه وكان يكثر تسريح لحيته».
    سند کا حال :
    اس میں خارجہ بن مصعب متروک ہے ، بلکہ متہم بھی ہے ۔
    قال
    ابن معين: ليس بثقة.
    وفي رواية : كذاب. وقال البخاري: تركه ابن المبارك ووكيع.وقال
    الدارقطني وغيره: ضعيف. وقال ابن عدي: هو ممن يكتب حديثه ، وعندي أنه يغلط ولا
    يتعمد.
    حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت
    أخرجه أبو الشيخ الأصبهاني في “أخلاق
    النبي”
     (ص: 685) ومن طريقه
    البغوي في  
    الأنوار في شمائل النبي المختارقال أبو الشيخ :
    529 –
    حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، نَا ابْنُ مُصَفَّى، نَا بَقِيَّةُ، عَنْ عَمْرِو
    بْنِ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
    اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، وُضِعَ لَهُ
    سِوَاكُهُ، وَطَهُورُهُ، وَمُشْطُهُ، فَإِذَا أَهَبَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
    مِنَ اللَّيْلِ، اسْتَاكَ، وَتَوَضَّأَ ، وَامْتَشَطَ.
    وفيه بقية بن
    الوليد يدلس ويرسل عن الضعفاء .
    مرسل خالد بن معدان رحمہ اللہ
    أخرجه
    ابن سعد
    في “الطبقات الكبرى” (1/483 و484) عن الفضل بن دكين،أنا مِنْدَل
    ،عن ثور، عن خالد بن معدان قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسافر بالمشط
    والمرآة والدهن والسواك والكحل.
    وإسناده
    ضعيف لضعف مندل بن علي العَنَزي
    ، وكونه مرسلا.

    الخلاصة
    :
    پہلی بات :روایات
    میں جن  سات آلات کا ذکر ہے وہ ہیں : مسواک
    ، کنگھا ، آئینہ ، سرمہ دانی ، لکڑی کی سیخ  سر کھجانے کے لئے، قینچی ، تیل کی شیشی ۔
    دوسری بات :شمائل کی
    احادیث میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کےمذکورہ امور کے اہتمام کرنےکے سلسلہ میں جو
    روایات وارد ہیں ،وہ تین طرح کی ہیں:
    ۱۔ پابندی سے اہتمام کرنے کے امور دو ہیں:
    مسواک کرنا :
    عَنْ
    حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ
    عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فاه
    بالسواك .متفق عليه
    عَنْ أَنَسٍ،
    قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ
    مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، وُضِعَ لَهُ سِوَاكُهُ، وَطَهُورُهُ، وَمُشْطُهُ،
    فَإِذَا أَهَبَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ اللَّيْلِ، اسْتَاكَ، وَتَوَضَّأَ ،
    وَامْتَشَطَ.[
    أبو الشيخ الأصبهاني في “أخلاق
    النبي”
     ص: 685]
    سرمہ لگانا :
    عن
    ابن عبّاس أن النّبيّ صلى الله عليه وسلم قال: «اكتحلوا بالأثمد فإنّه يجلو البصر،
    وينبت الشعر» . وزعم أنّ النّبيّ له مكحلة يكتحل منها كلّ ليلة ثلاثة في هذه
    وثلاثة في هذه» . [الشمائل المحمدية للترمذي ص: 50]
    عن
    ابن عباس قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكتحل قبل أن ينام بالاثمد ثلاثا
    في كلّ عين، وقال يزيد بن هارون في حديثه: إن النبي صلى الله عليه وسلم كانت له
    مكحلة يكتحل منها عند النوم ثلاثا في كلّ عين». [الشمائل المحمدية للترمذي ص: 51]
    ۲۔ پابندی کرنا، یا پھر
    گاہے گاہے( یا ایک دن کا ناغہ کرکے) کرنا،دونوں طرح سے کرنے کے اموردو ہیں:
    سر
    یا داڑھی میں کنگھا کرنا:
    عن
    يزيد بن أبان
    هو الرقاشي- عن أنس بن مالك قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر دهن
    رأسه ، وتسريح لحيته، ويكثر القناع ، حتى كأنّ ثوبه ثوب زيّات» [الشمائل المحمدية
    للترمذي ص: 40]
    عن
    عبد الله بن مغفّل قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التّرجّل إلا غبّا» [الشمائل
    المحمدية للترمذي ص: 41]
    عن عائشة رضي الله عنها : “كان
    لا يفارق مسجدَ رسول الله – صلى الله عليه وسلم – مسجدَ بيته سواكه ومُشطه، وكان
    ينظر في المرآة أحيانا، ويُسرِّح لحيته أحيانا ويأمر به”
    .[ الطبراني في “الأوسط” 6363]
    عَنْ أَنَسٍ،
    قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ
    مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، وُضِعَ لَهُ سِوَاكُهُ، وَطَهُورُهُ، وَمُشْطُهُ،
    فَإِذَا أَهَبَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ اللَّيْلِ، اسْتَاكَ، وَتَوَضَّأَ ،
    وَامْتَشَطَ.[
    أبو الشيخ الأصبهاني في “أخلاق النبي”  ص: 685]
    سر
    میں تیل لگانا :
    عن جابر بن
    سمرة، وقد سئل عن شيب رسول الله فقال: «كان إذا دَهَن رأسه لم يُر منه شيب، وإذا
    لم يدَّهن رئي منه شيء».[مسلم]
    عن
    يزيد بن أبان
    هو الرقاشي- عن أنس بن مالك قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر دهن
    رأسه ، وتسريح لحيته، ويكثر القناع ، حتى كأنّ ثوبه ثوب زيّات» [الشمائل المحمدية
    للترمذي ص: 40]
    ۳۔ گاہےگاہے کرنے کے امورتین ہیں:
    آئینہ میں دیکھنا:
    عن عائشة رضي الله عنها : “كان
    لا يفارق مسجدَ رسول الله – صلى الله عليه وسلم – مسجدَ بيته سواكه ومُشطه، وكان
    ينظر في المرآة أحيانا، ويُسرِّح لحيته أحيانا ويأمر به”
    .[ الطبراني في “الأوسط” 6363]
    لکڑی یا لوہےکی سیخ سے سر کھجانا :
    عَنْ
    سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي دَارِ النَّبِيِّ
    صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    يَحُكُّ رَأْسَهُ بِالْمِدْرَى فَقَالَ: «لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُ،
    لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ قِبَلِ
    الأَبْصَارِ».[البخاري5924، مسلم 2156]
     قینچی استعمال کرنا:
    عن ابن عباس
    رضي الله عنه قال : وَكَانَ لَهُ مِقْراضٌ يُسمى الْجَامِع .[المعجم الكبير
    للطبراني 11208]
    تیسری بات:البتہ مذکورہ
    آلات کےسفرا حضراہمراہ رہنے کی جتنی روایات ہیں سب ضعیف ہیں ، یا نہایت ضعیف
    ناقابل اعتبار ہیں ،ان کی اسانید میں سخت جروح سے مجروح رواۃ ہیں جیساکہ تفصیلا
    عرض کیا گیا۔
    اسی لئے امام عقیلی نے فرمایا 🙁لَا يُحفظ هَذَا الْمَتْن بِإِسْنَاد جيِّد).یعنی ان امور کا ہمیشہ ساتھ ہونا معتبر اسانید
    سے منقول نہیں ، چنانچہ استعمال کرنے کی روایات اور ہمیشہ ہمراہ ہونے کی روایات
    میں فرق مراتب رکھنا چاہئے ، جیساکہ دوسری بات میں عرض کیا گیا۔
    ھذا ما تیسر جمعہ وترتیبہ فی جواب السائل
    وانا العبد الضعیف : محمد طلحہ بلال احمد منیار

  • بچوں کو بھوکا رکھنا

    بچوں کو بھوکا رکھنا

    باسمہ سبحانہ
    عزیز
    مولوی ارشد دہلوی صاحب نے یہ ایک اچھاسوال کیا ہے کہ :

    حدیثِ غار میں جن ۳ شخصوں نے اپنی نیکی کے وسیلہ سے دعا کی
    ، پھر غار کا پتھر ہٹا ، تو اسمیں اىک شخص کی نیکی
    کا ذکر ہے کہ : وہ اپنے والدین کو اہل و عیال پر مقدم کرتا تھا
    ، اسی کے ضمن میں یہ بھی ہے
    کہ :
    اس کے
    بچے پوری رات بھوک سے بلک کر روتے رہے
    ، لیکن اس نے والدین سے پہلے بچوں کو دودھ
    پلانا گوارا نہیں کیا…
    الخ

    واقعہ تو درست ہے
    ، لیکن
    بظاہر اس پر اشکال ہوتا ہے کہ : بچوں کو اتنی دیر تک بھوکا رکھا ج
    ائے ؟!

    عاجز نے ایک مولانا سے بھی اسکے متعلق پوچھا
    ، تو انہوں نے کہا کہ:
    ۱۔ ممکن ہے
    یہ پچھلی امت میں جائز ہو
    ، البتہ اس امت میں اسطرح بچوں کو
    بھوکا رکھنا مناسب نہیں….
    …اس
    جواب سے بھی تشفی نہیں ہوئی…توجہ فرمائیں ،
    اھ

    نیز مکرم مولوی فرید صاحب مجادری زید مجدہم نے اس کا جواب(ترغیب گروپ) پریہ  دیا ہے کہ :
    ۲۔ بچوں کو بھوکا رکھنا یہ صحیح نہیں… اس لئے ممکن ہے اور
    عقل میں آنے والی بات ہے کہ : بچوں کی بھوک دودھ کےعلاوہ کسی اور کھانے پینے کی
    چیز سے دور کی گئی ہو …. بچوں کی ضد اور رونا دھونا صرف دودھ ہی کے لئے ہو
    ، اور اسی
    لئے وہ روتے روتے سوگئے ہو
    ں … جیسا کہ عام طور پر بچوں کی
    عادت ہے …واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم
    ۔
    یقول العاجز :
    مجیب اول وثانی دونوں کا جواب درست ہے ، اہل علم وشراح حدیث
    کے اقوال میں دونوں طرح کی توجیہات وارد ہیں، تفصیل سے پہلے چند باتیں عرض کرتاہوں
    :
    ۱۔اصحاب
    غار کا واقعہ معروف ومشہور ہے ، صحىحىن میں وارد ہے۔دیکھئے : بخاری ،حدیث نمبر :2215،2152،
    2208، 3278، 5629۔مسلم حدیث نمبر :2743۔
    ۲۔بچوں
    کا رونا بھوک کی شدت کی وجہ سے تھا ، بخاری وغیرہ کی روایت میں اس بات کی تصریح ہے
    ، اس لئے حافظ ابن حجر نے (فتح6/ 509) میں لکھا ہے :
    قَوْلُهُ (يَتَضَاغَوْنَ) بِالْمُعْجَمَتَيْنِ ،
    وَالضُّغَاءُ بِالْمَدِّ الصِّيَاحُ بِبُكَاءٍ. وَقَوْلُهُ (مِنَ الْجُوعِ) أَيْ
    بِسَبَبِ الْجُوعِ ، وَفِيهِ رَدٌّ عَلَى مَنْ قَالَ : لَعَلَّ الصِّيَاحَ كَانَ
    بِسَبَبٍ غَيْرِ الْجُوعِ.
    اسی طرح ( الكوثر الجاری الى رياض احاديث البخاری 4/ 464)
    میں ہے :
    وقال بعض الشارحين: يجوز أن يكون صياح الصبي لم يكن من
    الجوع؛ بل من شيء آخر، وهذا الذي قاله خلافُ مراد الرَّجل، وخلافُ ما دل عليه
    السياق.
    ۳۔اس
    طرح کا معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی پیش آیا ہے ، اس کے دو
    واقعہ ہیں ، جن کی تفصیل آگے آرہی ہے ۔

    مجیب اول کی توجیہ(شرع من قبلنا)(وعدم الاستحسان)
    کی تائید :
    1-  جواب الكرماني شارح البخاري  في” الكواكب الدراري ” (10/66) :
    فإن
    قلتَ: الفروع مقدَّمة على الأصول فلِمَ تركهم جائعين؟ قلت: لعل في دينهم نفقةَ
    الأصل
    مقدَّمة
    2-  جواب الحافظ في”فتح الباري”
    (6/510) :
    وَقَدِ اسْتُشْكِلَ تَرْكُهُ أَوْلَادَهُ الصِّغَارَ
    يَبْكُونَ مِنَ الْجُوعِ طُولَ لَيْلَتِهِمَا مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَى تَسْكِينِ
    جُوعِهِمْ
    ؟ فَقِيلَ : كَانَ فِي شَرْعِهِمْ تَقْدِيمُ نَفَقَةِ
    الْأَصْلِ عَلَى غَيْرِهِمْ
    3-
    جواب الشيخ
    انور شاه الكشميري في “فيض الباري ” (3/485) :
    قوله:
    (والصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عند رِجْلَيَّ) … إلخ. وهذا عملٌ غيرُ صالح في
    الظاهر، كيف وأنه ظُلْمٌ على الصبيان الصغار المَعْصُومِين، فلم يَسْقِهِمْ لبنًا،
    وهو ساغبون. نعم! نيتُه كانت صالحةً، فأُجِرَ عليها، ولا بُعْدَ أنه لو كان من أهل
    العلم لأُخِذَ عليه، وعُوقِبَ به، فإن صلاحَ النية مع فساد العمل إنما يُعتَدُّ من
    جاهلٍ، وقد نبَّهناك غير مرةٍ على أن هذا أيضًا بابٌ في الشرع غَفَلَ عنه الناسُ،
    أي القَبُولِيَّةُ بحُسْنِ النيةمع الخطأ في العمل. وأسمِّيه “صالحًا سفيهًا”
    (نيك بخت بيوقوف)، فإن السفاهةَ قد تَدْعُو إلى مثل هذا الغلوِّ والمبالغة التي لم
    تُكْتَبْ عليه.
    قلت
    :وفي عبارة الشيخ حِدَّةٌ زائدة عن الحَدّ – فيما أرى – وذلك لأن الرجلَ سِيقَ
    عملُه هذا مَساق المَدح ، وفُرِج عنه بسببه كما في كلام شيخنا الخضيرالآتي.

    مجیب ثانی کی توجیہ(بكاؤهم لغیرالجوع) کی مؤیدات :
    1-  جواب الكرماني في “الكواكب الدراري”
    (10/66) :
    فإن
    قلتَ : الفروع مقدَّمة على الأصول فلِمَ تركهم جائعين؟ قلت …، أو كانوا يطلبون
    الزائد على سَدِّ الرَّمَق ، أو الصياحُ لم يكن من الجوع .
    2-  جواب الحافظ في “فتح الباري” (6/510)
    :
    وَقَدِ
    اسْتُشْكِلَ تَرْكُهُ أَوْلَادَهُ الصِّغَارَ يَبْكُونَ مِنَ الْجُوعِ طُولَ
    لَيْلَتِهِمَا مَعَ قُدْرَتِهِ عَلَى تَسْكِينِ جُوعِهِمْ ؟… وَقِيلَ : يَحْتَمِلُ
    أَنَّ بُكَاءَهُمْ لَيْسَ عَنِ الْجُوعِ وَقَدْ تَقَدَّمَ مَا يَرُدُّهُ . وَقِيلَ
    : لَعَلَّهُمْ كَانُوا يَطْلُبُونَ زِيَادَةً عَلَى سَدِّ الرَّمَقِ ، وَهَذَا
    أَوْلَى .
    3-  قال الشيخ حسن أبوالأشبال في “شرح صحيح مسلم”(53/
    13) :
    (والصبية يتضاغون عند قدمي) يتضاغون أي:
    يبكون ويصيحون عند قدميه. ربما يكون هذا من شدة الجوع، وربما يكون من غير جوع،
    وأنتم تعلمون أن الصبية إنما يبكون أحياناً بغير سبب، وأحياناً يبكون بسبب، وربما
    يكون هذا الوالد قد سقاهم ما يكفيهم من جهة سد الرمق ولكن أراد الأولاد أن يشربوا
    مزيداً عن الحاجة ومزيداً عن سد الرمق.

    جواب ثالث ( تقديم مَن هو الأحق بالبر والصلة ) :
    قال في “الكوثر الجاري إلى رياض أحاديث البخاري” (4/
    464) :
    فإن
    قلتَ: الأولاد والزوجة مقدم على الأبوين، وأيضًا هما كانا نائمَين ليس لهما ضَير
    ولا ضرورة؛ بخلاف الأطفال فإنهم كانوا يصيحون من ألم الجوع.
    قلتُ:
    غرضُ الرَّجل أنَّه فعل ذلك لوجه الله؛ لكونه أُوِصيَ بالوالدين إحسانًا؛ سواء كان
    مُصيبًا في ذلك أو مُخطئًا.
    وقال
    بعض الشارحين: يجوز أن يكون صِياح الصبي لم يكن من الجوع؛ بل من شيء آخر، وهذا
    الذي قاله خلاف مُراد الرَّجل، وخلاف ما دَلَّ عليه السياق.
    وفي
    “مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح” (7/ 3094) :
     وَالْمَعْنَى:سَقَيْتُهُمَا أَوَّلًا، ثُمَّ
    سَقَيْتُهُمْ ثَانِيًا تَقْدِيمًا لِإِحْسَانِ الْوَالِدَيْنِ عَلَى
    الْمَوْلُودِينَ لِتَعَارُضِ صِغَرِهِمْ بِكِبَرِهِمَا، فَإِنَّ الرَّجُلَ
    الْكَبِيرَ يَبْق
    َى كَالطِّفْلِ
    الصَّغِيرِ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ بِذَلِكَ أَبْلَاهُ اللَّهُ بِمَا هُنَالِكَ .
    وقال الشيخ عبد الكريم الخضير في “شرح منسك ابن تيمية”
    (6/2) :
    في
    حديث الثلاثة الذين انطبق عليهم الغار، واحد منهم يأتي باللبن ويجد أباه نائمًا
    فينتظر حتى يصبح والصبية يتضاغون جوعاً، يعني لايَسقِيهم قبلَ والده، مع أنه كان بالإمكان
    أن يُفرِغ في إناءٍ لوالده ويَسقي الصِّبية ولا يتضرَّرُ أحد، وعملُه سِيق مَسَاق
    المدح، وأُفرج عنهم بسبب ذلك، فلا شك أن تقديم الوالدين على غيرهما هو الأصل، وإن
    كان في بعض أبواب الفقه تقديمُ الزوجة علَى الوالدين في بعض النفقات؛ لكن يبقى أنه
    إذا قدَّم والديه فقد قَدَّم دينَه على هواه، فيُحمَد من هذه الحيثية .

    حضور
    صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے دو واقعات :

    ۱۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی
    روایت ہے کہ :
    ایک
    صاحب(خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
    خدمت میں بھوکے حاضر ہوئے، آپ نے انہیں ازواج مطہرات کے یہاں بھیجا (تاکہ ان کو
    کھانا کھلا دیں)ازواج مطہرات نے کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا اور کچھ نہیں
    ہے۔
    اس
    پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی کون مہمانی کرے گا؟ ایک انصاری صحابی
    بولے میں کروں گا۔ چنانچہ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ: رسول
    اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کر، بیوی نے کہا کہ گھر میں بچوں
    کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں ہے، انہوں نے کہا جو کچھ بھی ہے اسے نکال
    دو اور چراغ جلا لو اور بچے اگر کھانا مانگتے ہیں تو انہیں سلا دو۔
     بیوی نے کھانا نکال دیا اور چراغ جلا دیا اور
    اپنے بچوں کو(بھوکا)
    سلا دیا، پھر وہ دکھا تو یہ رہی تھیں
    جیسے چراغ درست کر رہی ہوں لیکن انہوں نے اسے بجھا دیا، اس کے بعد دونوں میاں بیوی
    مہمان پر ظاہر کرنے لگے کہ گویا وہ بھی ان کے ساتھ کھا رہے ہیں، لیکن ان دونوں نے (اپنے
    بچوں سمیت رات)
    فاقہ سے گزار دی۔
    صبح
    کے وقت جب وہ صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ
    وسلم نے فرمایا تم دونوں میاں بیوی کے نیک عمل پر رات کو اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا (یہ
    فرمایا کہ اسے)
    پسند کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ
    آیت نازل فرمائی
    ﴿ويؤثرون على أنفسهم
    ولو كان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فأولئك هم المفلحون

    ”اور وہ (انصار)
    ترجیح دیتے ہیں اپنے نفسوں کے اوپر (دوسرے
    غریب صحابہ کو)
    اگرچہ وہ خود بھی فاقہ ہی میں ہوں،
    اور جو اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا گیا سو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

    اس واقعہ کی توجیہ :
    قال النووي في “المجموع شرح المهذب” (6/ 235) :
    (فَإِنْ
    قِيلَ) يَرِدُ عَلَى الْمُصَنِّفِ وَمُوَافِقِيهِ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ
    اللَّهُ عَنْهُ ” أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ بَاتَ بِهِ ضَيْفٌ فَلَمْ
    يَكُنْ عِنْدَهُ إلَّا قُوتُهُ وَقُوتُ صِبْيَانِهِ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ:
    نَوِّمِي الصِّبْيَانَ وَأَطْفِئْ السِّرَاجَ وَقَدِّمِي لِلضَّيْفِ مَا عِنْدَكِ
    ” فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ (وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ
    كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ) هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِهَذَا
    اللَّفْظِ وَهُوَ فِي صَحِيحَيْ الْبُخَارِيِّ وَمُسْلِمٍ أَبْسَطُ مِنْ هَذَا .
    (فَالْجَوَابُ)
    مِنْ وَجْهَيْنِ :
    أَحَدُهُمَا
    : أَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ بَابِ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ إنَّمَا هُوَ ضِيَافَةٌ ، وَالضِّيَافَةُ
    لَا يُشْتَرَطُ فِيهَا
    الْفَضْلُ عَنْ عِيَالِهِ وَنَفْسِهِ
    لِتَأَكُّدِهَا وَكَثْرَةِ الْحَثِّ عَلَيْهَا ، حَتَّى إن جماعة من العلماء
    أوجبوها .
    الثاني
    : أَنَّهُ مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّ الصِّبْيَانَ لَمْ يَكُونُوا مُحْتَاجِينَ
    حِينَئِذٍ ، بَلْ كَانُوا قَدْ أَكَلُوا حَاجَتَهُمْ ، وَأَمَّا الرَّجُلُ
    وَامْرَأَتُهُ فَـتَـبَـرَّعَا بِحَقِّهِمَا وَكَانَا صَابِرَيْنِ فَرِحَيْنِ
    بِذَلِكَ ، وَلِهَذَا جَاءَ فِي الْآيَةِ وَالْحَدِيثِ الثَّنَاءُ عَلَيْهِمَا .
    فَإِنْ
    قِيلَ : قَوْلُهُ “نَوِّمِي صِبْيَانَكِ” وَغَيْرُ هَذَا اللَّفْظِ
    مِمَّا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الصِّبْيَانَ كَانُوا جِيَاعًا؟
    فَالْجَوَابُ
    : أَنَّ الصِّبْيَانَ لَا يَتْرُكُونَ الْأَكْلَ عِنْدَ حُضُورِ الطَّعَامِ وَلَوْ
    كَانُوا شِبَاعًا ، فَخَافَ إنْ بَقُوا مُسْتَيْقِظِينَ أَنْ يَطْلُبُوا الْأَكْلَ
    عِنْدَ حُضُورِ الطَّعَامِ عَلَى الْعَادَةِ ، فَيُنَكِّدُوا عَلَيْهِمَا وَعَلَى
    الضَّيْفِ لِقِلَّةِ الطَّعَامِ ، وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ .
    وقال
    النووي في “شرح مسلم” (14/ 12) :
    فَقَالَ
    لِامْرَأَتِهِ : هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ : لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي .
    قَالَ : فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ . هَذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّ الصِّبْيَانَ لَمْ
    يَكُونُوا مُحْتَاجِينَ إِلَى الْأَكْلِ ، وَإِنَّمَا تَطْلُبُهُ أَنْفُسُهُمْ
    عَلَى عَادَةِ الصِّبْيَانِ مِنْ غَيْرِ جُوعٍ يَضُرُّهُمْ ، فَإِنَّهُمْ لَوْ
    كَانُوا عَلَى حَاجَةٍ بِحَيْثُ يَضُرُّهُمْ تَرْكُ الْأَكْلِ لَكَانَ
    إِطْعَامُهُمْ وَاجِبًا وَيَجِبُ تَقْدِيمُهُ عَلَى الضِّيَافَةِ .
    وفي
    “دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين” (4/ 553) :
    قال
    بعد أن نقل كلام النووي السابق : قلت: وحينئذ فيراد بقولها: «قوت صبياني» أي ما
    يعتادون الاقتيات به على عادتهم من الوَلَع بالطعام من غير حاجة حافَّة إليه ، فيكون
    فيه مجاز .

    ۱۔ صحیحین بخاری ومسلم میں حضرت ربیع بنت معوذ رضی  اللہ عنہا سے مروی ہے کہ :
    یومِ عاشورا
    کی صبح کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار کی بستیوں میں یہ اعلان کروایا
    “جس نے روزہ کی حالت میں صبح کی وہ اپنا روزہ پورا کر لے اور جس نے افطاری کی
    حالت میں صبح کی اسے چاہیئے کہ دن کے بقیہ حصہ کا گویا روزہ رکھ لے”
    ۔
    حضرت
    ربیع رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ” اس کے بعد سے ہم لوگ یوم عاشورا کا روزہ
    رکھا کرتے تھے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی رکھواتے تھے۔ ہم مسجد میں جاتے تو بچوں
    کو کھیلنے کے لئے روئی کا کھلونا بنا دیتے تھے۔ جب کوئی بچہ کھانے کی ضد کرتا اور
    روتا تو اسے کھلونا دے کر بہلا لیتے حتٰی کہ افطار کا وقت ہوجاتا”۔

    روایت کی توجیہ :
    قال القسطلاني فيإرشاد الساري لشرح صحيح البخاري
    (3/ 395) :
    (قالت): أي الربيع (فكنانصومه) أي عاشوراء (بعدُ ونصوّم
    صبياننا الصغار ونذهب بهم إلى المسجد) وهذا تمرين للصبيان على الطاعات وتعويدهم
    العبادات، وفي حديث رَزِينة بفتح الراء وكسر الزاي عند ابن خزيمة بإسناد لا بأس به
    : (أن النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كان يأمر برضعائه في عاشوراء
    ورضعاء فاطمة فيتفل في أفواههم ، ويأمر أمهاتهم أن لا يرضعن إلى الليل)
    ۔
    قال
    :
    وهو يردّ على القرطبي حيث قال في حديث الربيع:
    هذا أمر فعله النساء بأولادهن ولم يثبت علمه عليه الصلاة والسلام بذلك ، وبعيدٌ أن
    يأمر بتعذيب صغير بعبادة شاقة اهـ.

    خلاصہ :
    اصحاب غار کے واقعہ میں بچوں کو بھوکا رکھ کر والدین کو ان
    پر ترجیح دینے کی تاویل میں علماء نے چند وجوہات بیان فرمائیں ہیں :
    ۱۔  یہ سابقہ شرائع
    میں جائز ہوگا ۔
    ۲۔ بھوک کی وجہ سے نہیں بلکہ زائد کھانے کی ضد کی بناء پررو
    رہے تھے ۔
    ۳۔ والدین کا حق سب پر مقدم ہے ۔

    اور دوسرے واقعات سے مزید یہ توجیہات بھی سامنے آئیں :
    ۴۔ مہمان کا اکرام مقدم ہے ۔
    ۵۔ بچوں کو روزہ کی عادت ڈالنا مقصود تھا ۔
    جمعہ ورتبہ العبد
    الاضعف محمد طلحہ بلال احمد منیار ، عفی عنہ
  • تحقيق صحة نسبة كتاب الكبائر المطبوع للذهبي

    تحقيق صحة نسبة كتاب الكبائر المطبوع للذهبي



    بسم الله الرحمن الرحيم
    النسخة
    الصحيحة من كتاب (الكبائر وتبيين المحارم) للذهبي
    من الكتب التي نُسِبت زُورا إلى بعض
    الأئمة : كتاب الكبائر [النسخة المطولة القديمة] إلى الإمام الناقد الكبير :
    الإمام الحافظ الذهبي (ت 748هـ). لأن النسخة المطولة مليئةٌ بكثير من الأحاديث
    والروايات والقصص الضعيفة والباطلة ، ولا تصح نسبة تلك الأمور إلى الإمام الذهبي بحال
    .
    وقد وقع من بعض العلماء بسبب هذه
    النسخة المطولة من كتاب (الكبائر) المدسوسة على الذهبي أنهم نسبوا الذهبيَّ إلى
    التساهُل في إيراد الضعيف والموضوع في مصنفاته – كما وَقع لشيخنا العلامة عبد
    الفتاح أبو غدة رحمه الله تعالى في تعليقته على “الأجوبة الفاضلة للكنوي ص
    124” ووقع مثله للدكتور بشار عواد في ترجمة الذهبي – والذهبي بريء من هذه
    النسخة ، فلا تصح نسبة التساهل إليه ، ولا عزوُ هذه الطامات إلى كتابه المذكور.
    والنسخة الصحيحة من كتاب (الكبائر)
    للذهبي هي النسخة المختصرة الخالية من الدس والتزوير والإضافات ، وهي التي اعتمد
    عليها المحققون للكتاب في طبعاتهم المحققة أمثال المشايخ : محيي الدين مستو ، ومشهور
    حسن سلمان ، وعبده علي كوشك وغيرهم .
    وقد اعتمدوا من ضمن المخطوطات على
    نسخة صحيحة منقولة عن نسخة قرئت على المصنف الذهبي وعليها خطه ، وهي خالية من هذه
    البلايا والطامات .
    تصريحات أهل العلم
    بالنسخة الصحيحة من كتاب الكبائر :
    سئل الشيخ حاتم الشريف
    : هل صحيح أن من شرب خمراً وسكر لا تقبل الصلاة منه لمدة أربعين يوماً، وأنه إن
    مات خلال الأربعين يوماً يكون كعابد وثن، وردت تلك الأحاديث في كتاب (الكبائر)
    للذهبي في موقع الوراق؟.
    فأجاب :
    وأما عزو السائل للحديث إلى كتاب
    (الكبائر) للذهبي، فهذه فرصة للتنبيه على أمر مهم بخصوص هذا الكتاب، فإن كتاب
    (الكبائر) طبع عدة طبعات، ومنه نسخة طبعت بتحقيق الشيخ محمد عبد الرزاق حمزة –
    رحمه الله -، وبتحقيق عبد الرحمن فاخوري، وطُبع بتحقيق غيرهما ، وهي طبعات لا
    تُمثل كتاب الذهبي (الكبائر) ففي نسبة تلك الطبعات للإمام الذهبي شكٌ كبير، وبيَّن
    ذلك واستدل له الأستاذ محي الدين مستو في الطبعة التي بتحقيقه لكتاب (الكبائر)
    للذهبي، وطبعته هذه هي التي تمثل كتاب الذهبي فعلاً.
    وقد نظرت في كتاب (الكبائر) للذهبي
    بتحقيق محيي الدين مستو، فلم أجد فيها الحديث المسؤول عنه!، وليس هذا بأول حديث
    ضعيف أو باطلٍ يوجد في الطبعة المنسوبة خطأ للذهبي، ففيها – غيره- كثير!!. والله
    أعلم.[أرشيف ملتقى أهل الحديث – (1) (2/25]
    وقال الشيخ محمد خلف سلامة
    :
    كتاب الكبائر الكبير المطبوع قديماً
    ولا يزال يُعاد طبعه، لا تصح نسبته إلى الإمام الذهبي إذ فيه كثير من الزيادات على
    أصله، وكثير من تلك الزيادات لا تصح من الناحية العلمية، وإنما (الكبائر) للذهبي
    على النصف من حجم الكتاب المشهور بين الناس، وقد طُبع أيضاً.
    تكلم على هذه المسألة وحقَّقها غيرُ
    واحد من المحققين والباحثين. [أرشيف ملتقى أهل الحديث – (5) 69/323]
    وقال أحد الباحثين :
    سمعت شريطا علي موقع  islamwayللشيخ
    محمد بن أحمد الشديدي اسمه (حقيقة كتاب الكبائر للذهبي) رجح فيه الشيخ نسخة
    الكبائر للذهبي التي ذكر فيها الآيات والأحاديث بدون شرح ، وقال : بأن النسخة
    المشروحة ليست صحيحةَ النسبة للذهبي لمافيها من الأشياء الموضوعة المخالفة لمنهج
    الذهبي ، وذكر كلاما رائعا فليراجع ، وأيضا أثنى علي نسخة الكبائر التي حققها (محي
    الدين مستو) وأنه سيعتمد عليها في شرحه للكتاب وأيضا أثنى علي النسخة التي حققها
    الشيخ (مشهور حسن سليمان)::: فجزاكم الله خيرا. [أرشيف ملتقى أهل الحديث – (5) : (76/366]
    وقال الشيخ أبو أحمد
    البتلميتي:
    نسخة الكبائر للذهبي التي في الموسوعة
    الشاملة ليست بالنسخة الصحيحة ، ففيها تلك الطامات كحديث:
    إن
    من حافظ على الصلوات المكتوبة أكرمه الله تعالى بخمس كرامات يرفع عنه ضيق العيش
    وعذاب القبر ويعطيه كتابه بيمينه ويمر على الصراط كالبرق الخاطف ويدخل الجنة بغير
    حساب . ومن تهاون بها عاقبه الله بخمس عشرة عقوبة خمس في الدنيا وثلاث عند الموت
    وثلاث في القبر وثلاث عند خروجه من القبر فأما اللاتي في الدنيا فالأولى ينزع
    البركة من عمره إلخ.
    قال ابن حجر في لسان
    الميزان
    : محمد بن
    علي بن العباس البغدادي العطار: ركب على أبي بكر بن زياد النيسابوري حديثاً باطلاً
    في تارك الصلاة. روى عنه محمد بن علي الموازيني شيخ لأبي النرسي انتهى. زعم
    المذكور أن ابن زياد أخذه عن الربيع عن الشافعي عن مالك عن سمى عن أبي صالح عن أبي
    هريرة رضي الله عنه رفعه: ” من تهاون بصلاته عاقبه الله بخمس عشرة خصلة
    “. الحديث وهو ظاهرُ البطلان من أحاديث الطرقية.[المصدر السابق]
    وقال الأستاذ عبد الستار
    الشيخ في ترجمة الذهبي ضمن سلسلة من أعلام المسلمين (50) ص 521:
    كتاب الكبائر : ذكره معظم الذين
    ترجموا للذهبي ، وهو كتاب جليل .
    وقد طبع الكتاب بتحقيق وتعليق الشيخ
    محمد عبد الرزاق حمزة – رحمه الله – وذكر فيه أن للذهبي في هذا الموضوع كتابين :
    الكبائر الكبرى ، والكبائر الصغرى .
    وهذا ليس بصحيح . وصُوّر الكتاب وطبع
    مرات عديدة في أماكن كثيرة عن تلك الطبعة بعد حذف اسم المحقق المذكور !
    وطبع الكتاب في حلب باعتناء عبد
    الرحمن فاخوري ، وبذل في خدمته جهدا جيدا ، لكنه لم يعتمد أصلا موثقا ، بل بنى على
    الطبعات السابقة .
    وأخيرا تمكن أخونا الأستاذ محيي الدين
    مستو من الوقوف على الأصل الموثَّق لكتاب الكبائر ، والذي تصح نسبته – هو دون غيره
    مما سبق – للإمام الحافظ الناقد الذهبي ، فحققه على ثلاث نسخ خطية .
    وبين الكبائر المخطوط الموثَّق ، وبين
    المطبوع المنتشِر : فروقٌ واختلافاتٌ أوجِزُها فيما يلي :
    1- في المخطوط عدد الكبائر (76) كبيرة
    . وأما في المطبوع فعددها (70) فقط .
    2- خلو المخطوط من الأحاديث الموضوعة
    .
    وإيرادُ الأحاديث الضعيفة بصيغة
    التمريض مع بيان علة الضعف بعبارة موجزة .
     بخلاف المطبوع الذي احتوى على أزيد من أربعين
    حديثا باطلا ، ذُكِرت مصدَّرةً بصيغة الجزم !
    وهذا ينافر أسلوب الذهبي وعلمه ومنهجه
    في التصنيف . بل هو قد حكم بوضع هذه الأحاديث في بعض كتبه مثل “تلخيص
    المستدرك” و “ميزان الاعتدال” .
    3- المخطوط ختم بفصل ذكر فيه : ما
    يحتمل أن يكون من الكبائر ، وهذا الفصل ليس في المطبوع .
    4- ظهور شخصية الذهبي في المخطوط في
    كل صفحة بل في كل فقرة ، من خلال النقد والتمحيص ، والبعد عن الحشو ، والاكتفاء
    بالنافع المفيد . بخلاف المطبوع الذي تتبدى فيه روحُ واعظ متصوفٍ يجمع الآثار
    والأقوال والحكايات كحاطب ليل .
    والكبائر المطبوع فيه أشياء كثيرة
    منكرة ، وحكايات باطلة ، ما عوَّدَنا الذهبي أن يوردها دونما نقد : كتلك التي تزعم
    أن أرواح المؤمنين تجمع في بئر زمزم ، وأرواح الكفار تجمع في بئر برهوت باليمن ،
    إضافة لتلك الأحاديث الباطلة التي لم تجرِ للذهبي عادةٌ بإيرادها إلا لهتكها وبيان
    بطلانها .
    لذا زاد حجم المطبوع كثيرا فبلغ (260)
    صفحة ، مع أنه ينقص (6) كبائر مع الفصل الأخير ، في حين أن الكتاب الموثق يقع في
    أقل من (150) صفحة من المقدمة إلى نهاية الكتاب مع هوامش التحقيق !
    والتفسير المَنطِقي – كما يرى الأستاذ
    محيي الدين مستو ، ونحن نميل إلى رأيه – أن الكبائر المخطوط وقعت نسخة منه في يد
    أحد الوعاظ المولَعِين بالجمع والحكايات والغرائب ، فأخذ ما أورده الذهبي من آيات
    وأحاديث ، وحذف تعليقاتِ الذهبي ونقداته ، وأضاف الواعظ من عنده ما في جعبته من
    أحاديث ضعاف وحكايات ومنامات وغرائب وأشعار ، وترك ذكر اسمه ربما تزهُّداً ، ووقع
    الكتاب في يد من جاء بعده ، فأثبت اسم الذهبي عليه ، لاشتهار أن الكبائر من تصنيفه
    .
    وقد راج هذا الأمر على المحققين ومَن
    تابعهم ، وقَبِلَه الدكتور بشار عواد الذي رأى أن الذهبي مشى على طريقة مَن كتب في
    “الترغيب والترهيب” فتساهل في إيراد الأحاديث غير الصحيحة إلى جانب
    الصحيحة ، باعتبار أن ذلك لا يحلِّل حراما ولا يحرِّم حلالا .
    وهذا خطأ منه [أي من بشار] ، وغريب أن
    يصدُرَ عنه ، وهو المتمرِّس بالذهبي وأسلوبه ، وممن سبر غَورَ شخصيته ومنهجه . اهـ
    الخلاصة :
    1- لا يصح القول بأن للذهبي كتابين في
    الكبائر : صغير وكبير ، بل ليس له إلا المختصر الصغير .
    2- الزيادات الواردة في الكتاب الكبير
    ليست من الذهبي ، وإنما أدخلها إلى أصل الكتاب بعض الوعاظ المتساهلين الجاهلين بعلم
    الحديث .
    3- الطبعات غير المعتمدة من كتاب
    الكبائر المنسوب إلى الإمام الذهبي هي : طبعة الشيخ عبد الرزاق حمزة وعبد الرحمن
    فاخوري والمسروقة منهما .
    4- الطبعات الموثقة هي طبعات : محيي
    الدين مستو ، عبده على كوشك ، مشهور حسن سلمان وطبعته أجود ، بشير محمد عيون وغيرهم
    .
    5- من نسب الذهبي إلى التساهل في
    إيراد الأحديث الضعيفة بدون نقد ، والأحاديث الموضوعة الباطلة ، اغترارا بالنسخ
    غير الموثقة ، فقد جانب الصواب .
    اللهم  أرنا الحق  حقا    وارزقنا    اتباعه
    ، والباطل   باطلا   وارزقنا   اجتنابه .
    جمعه
    ورتبه : محمد طلحة بلال أحمد منيار عفى الله عنه

  • مقارنة بين رزين العبدري وابن الأثير

    مقارنة بين رزين العبدري وابن الأثير



    مُقارَنة بين عمل الإمام رَزين العَبدري رحمه الله
    تعالى
    في كتابه

    تَجرِيد الصّحاح

    وبين عمل الإمام ابن الأثير رحمه الله تعالى في
    كتابه

    جامع الأصول

    من خلال أحاديث بدء الوحي في
    الكتابين

    إعداد وترتيب
    محمد طلحة بلال أحمد منيار


    قال الإمام رَزِين العَبدَرِيُّ رحمه الله تَعَالى
    في كتابه « تَجرِيد الصِّحَاح » :

    كتابٌ كَيْفَ
    كَانَ بَدْءُ الوَحْيِ  إِلَى النبيِّ
    صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    وَقَوْلُ اللَّهِ
    عزَّ وجَلَّ :
    ﴿ إِنَّا
    أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ
    بَعْدِهِ ﴾
    [النساء: 163]
    1 – قَالَ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى المِنْبَرِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « إِنَّمَا
    الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ
    كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالى وَرَسُولِهِ ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى
    اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا ، أَوْ
    إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ » .
    2 – وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ
    عَنْهَا، أَنَّ الحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ
    اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:
    يَا
    رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الوَحْيُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ
    عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الجَرَسِ ،
    وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ، فَيُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ ،
    وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ المَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا
    يَقُولُ ». قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ
    يَنْزِلُ عَلَيْهِ الوَحْيُ فِي اليَوْمِ الشَّدِيدِ البَرْدِ ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ
    وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا .
    3 – (ط)
    : وعَن عُبَادَة بن الصَّامت رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم
    إذا أُنزِلَ عليه كُرِبَ لذلكَ ، وتَرَبَّدَ وَجهُه ، وَنكَّسَ رأسَه ، ونكَّسَ
    أصحابُه رُؤوسَهُم ، فإذا أُبِلَّ عنهُ رَفَع رأسَه .
    البَل :
    الشفاء ، ومنه حديث العباس : ماء زمزم حِل وبِلّ .
    4 – (ط م) : وَعَن أبي هُريرةَ رضي الله عنه قال : كان إذا جاءَ الوحيُ لا يَخْفى
    علينا ، وإذا جاءَ ليسَ أحدٌ يَرفَعُ طَرْفَهُ إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم
    حتى يَنقَضِي .
    5 – (ت) : عَن عُمر رضي الله عنه قال : «كان رسولُ الله – صلى الله عليه
    وسلم- إذا نزل عليه الوحيُ : يُسْمَعُ عندَ وَجهِه كَدَوِيِّ النَّحلِ ، فأُنْزِل
    عليه يوماً ، ثم سُرِّي عنه ، فَرَفَعَ يَدَيهِ وَدَعَا … الحديث .
    أدخله
    الترمذي في تفسير (قد أفلح) . قال الترمذي : قرأ عَشْرَ آياتٍ من أول سورةِ ( قَد
    أَفلَحَ ) وقالَ : « من قَرأ هذه الآياتِ العشرَ دَخَل الجنةَ » . ثم استقبلَ ورَفَع
    يديه وقال : « اللهم زِدْنا ولا تَنقُصْنَا ، وأكْرِمنَا ولا تُهِنَّا ،
    وأَعْطِنَا ولا تَحْرِمنا، وآثِرنا ولا تُؤثْرْ عَلَينا ، اللّهم أَرضِنَا وارضَ
    عنَّا » .
    6 – (خ)
    : عَن صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّ يَعْلَى رضي الله عنه كَانَ يَقُولُ : لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ
    اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الوَحْيُ ،
    فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ
    جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ
    أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ ؟ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى
    اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً فَجَاءَهُ الوَحْيُ ، فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى
    يَعْلَى ، فَجَاءَ يَعْلَى وعَلَى رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    ثَوْبٌ قَدْ أَظَلَّ بِه ، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ ، فَإِذَا هُوَ مُحْمَرُّ الوَجْهِ
    ، وهُو يَغِطُّ ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : « أَيْنَ الَّذِي سَألَ عَنِ
    العُمْرَةِ ؟ » فأُتِيَ برَجُلٍ فَقَالَ : « اغسِلِ الطِّيبَ الَّذِي بِكَ ثَلاَثَ
    مَرَّاتٍ ، وَانزِع عَنكَ الجُبَّةَ ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ
    فِي حَجَّتِكَ » .
    7 – وَعَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ
    اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ : أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ
    صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي
    النَّوْمِ ، وَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ،
    ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الخَلاَءُ ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ
    فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ – وَهُوَ التَّعَبُّدُ – اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ العَدَدِ – قَبْلَ
    أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدَ لِذَلِكَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى
    خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا ، حَتَّى فَجَئَه الحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ
    حِرَاءٍ
    ، فَجَاءَهُ المَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ : « مَا أَنَا بِقَارِئٍ »، قَالَ :
    « فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي
    فَقَالَ : اقْرَأْ ، قُلْتُ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي
    الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ :
    اقْرَأْ ، فَقُلْتُ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ
    ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ :
    ﴿ اقْرَأْ
    بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ . خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ . اقْرَأْ
    وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ
    [العلق: 1-3]
    فَرَجَعَ
    بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ ،
    فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : «
    دَثِّرُوني زَمِّلُونِي » فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ، فَقَالَ
    لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا الخَبَرَ : « لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي » قَالَتْ :
    كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا ، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ،
    وَتَحْمِلُ الكَلَّ ، وَتُكْسِبُ المَعْدُومَ ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ ، وَتُعِينُ
    عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ.
    فَانْطَلَقَتْ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ
    ابْنَ عَمِّها ، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ
    العِبْرَانِيَّ ، فَيَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالعِبْرَانِيَّةِ مَا شَاءَ
    اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ ، فَقَالَتْ لَهُ
    خَدِيجَةُ : يَا ابْنَ عَمِّ ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ ، فَقَالَ لَهُ : يَا
    ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَى ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ بن نوفلٍ : هَذَا النَّامُوسُ
    الَّذِي نَزَّلَ اللَّهُ تعالى عَلَى مُوسَى
    ، يَا
    لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا ، لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ ،
    فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَوَ مُخْرِجِيَّ
    هُمْ » ، قَالَ : نَعَمْ ، لَمْ يَأْتِ أحَدٌ قَطُّ
    بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ ، وإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ
    نَصْرًا مُؤَزَّرًا . ثُمَّ لَمْ يَلبَث وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ ، وَفَتَرَ
    الوَحْيُ .
                8 – وَحَدَّث جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رضي
    الله عنه عَنْ فَتْرَةِ الوَحْيِ فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ :
    قال رسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ
    : « بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا
    مِنَ السَّمَاءِ ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي ، فَإِذَا المَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي
    بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، فَرُعِبْتُ
    مِنْهُ ، فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ : زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي » فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى :
    ﴿ يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ . قُمْ فَأَنْذِرْ . وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ
    . وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ . وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ﴾
    [المدثر: 1-5] . فَحَمِيَ الوَحْيُ
    وَتَتَابَعَ .
                9 – عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي
    الله عنهما فِي قَوْلِهِ تَعَالَى:
    ﴿
    لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ
    وَقُرْآنَهُ
    [القيامة: 16]
    قَالَ: جَمْعُهُ لَكَ فِي صَدْرِكَ
    ﴿ فَإِذَا
    قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ
    [القيامة:
    18]
    قَالَ: فَاسْتَمِعْ وَأَنْصِتْ ﴿
    ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ
    [القيامة:
    19]
    أَنْ تَقْرَأَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ
    عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ لَه ،
    فَإِذَا انْطَلَقَ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا
    قَرَأَ .
                10
    وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
    اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي
    رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ
    رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ القُرْآنَ ، وَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ المُرْسَلَةِ » .
                11 – وعَن ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ
    بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ : أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ
    قُرَيْشٍ ، وَكَانُوا تُجَّارًا بِالشَّأْمِ فِي المُدَّةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ
    اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَادَّ فِيهَا أَبَا سُفْيَانَ
    وَكُفَّارَ قُرَيْشٍ ، وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ ، فَدَعَاهُ فِي مَجْلِسِهِ ، قال : فَأُدْخِلْنَا
    عَلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ شَيخٌ جَالِسٌ فِي مَجْلِسِ مُلْكِهِ وَعَلَيْهِ التَّاجُ
    ، وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ ، ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ ، فَقَالَ:
    أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ
    أَبُو سُفْيَانَ : قُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : أَدْنُوهُ مِنِّي ، وَقَرِّبُوا
    أَصْحَابَهُ عِنْدَ ظَهْرِهِ ، وَقَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ
    هَذَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ ، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ . قالَ أبو سُفيان : فَوَاللَّهِ
    لَوْلاَ الحَيَاءُ مِنْ أَنْ يَأْثِرُوا عَلَيَّ كَذِبًا لَكَذَبْتُ .
    ثُمَّ
    كَانَ أَوَّلَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَنْ قَالَ : كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ
    : هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ ، قَالَ : فَهَلْ قَالَ هَذَا القَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ
    قَطُّ مِثله؟ قُلْتُ : لاَ. قَالَ : فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟
    قُلْتُ: لاَ ، قَالَ: فَأَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟
    قُلْتُ : بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ . قَالَ : أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قُلْتُ :
    بَلْ يَزِيدُونَ . قَالَ : فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ
    بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ قُلْتُ : لاَ. قَالَ : فَهَلْ كُنْتُمْ
    تَتَّهِمُونَهُ بِالكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لاَ. قَالَ :
    فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لاَ، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لاَ نَدْرِي مَا هُوَ
    فَاعِلٌ فِيهَا ، ونَحْنُ نَخَافُ أَنْ يَغْدِرَ
    . قَالَ : وَلَمْ تُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا إلّا أَخَافُ أَنْ تُؤْثَرَ عَنِّي ، غَيْرُ هَذِهِ
    الكَلِمَةِ ، قَالَ : فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : فَكَيْفَ
    كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قُلْتُ : الحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالٌ ،
    يَنَالُ مِنَّا وَنَنَالُ مِنْهُ . قَالَ : مَاذَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَقُولُ :
    اعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَاتْرُكُوا مَا
    يَقُولُ آبَاؤُكُمْ ، وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلاَةِ وَالصِّدْقِ وَالعَفَافِ
    وَالصِّلَةِ.
    فَقَالَ
    لِلتَّرْجُمَانِ : قُلْ لَهُ : سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ فَذَكَرْتَ أَنَّهُ
    فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا.
    وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ هَذَا القَوْلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مثلَه ، فَذَكَرْتَ أَنْ
    لاَ ، فَقُلْتُ : لَوْ كَانَ أَحَدٌ قَالَ هَذَا القَوْلَ مثلَهُ ، لَقُلْتُ : رَجُلٌ
    يَأْتَسِي بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ
    مَلِكٍ ، فَذَكَرْتَ أَنْ لاَ ، فَلَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ ، قُلْتُ :
    رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ أَبِيهِ ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ
    بِالكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ، فَذَكَرْتَ أَنْ لاَ ، فَقَدْ أَعْرِفُ
    أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ .
    وَسَأَلْتُكَ أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ ، فَذَكَرْتَ
    أَنَّ ضُعَفَاءَهُمُ اتَّبَعُوهُ ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ. وَسَأَلْتُكَ
    أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ ، فَذَكَرْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ ، وَكَذَلِكَ
    أَمْرُ الإِيمَانِ حَتَّى يَتِمَّ. وَسَأَلْتُكَ أَيَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً
    لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ ، فَذَكَرْتَ أَنْ لاَ ، وَكَذَلِكَ
    الإِيمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ القُلُوبَ . وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ ،
    فَذَكَرْتَ أَنْ لاَ ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لاَ تَغْدِرُ . وسألتكَ كيف الحَرْبُ
    بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ ، فقلت : الحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالٌ ، يُدَالُ
    عَلَيْنا وَنُدَالُ منه ، فقلتُ :كَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ثُم تَكُونُ لَهَمُ
    العَاقِبَةُ .
    وَسَأَلْتُكَ
    بِمَا يَأْمُرُكُمْ ، فَذَكَرْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ
    وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ عِبَادَةِ الأَوْثَانِ ،
    وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلاَةِ وَالصِّدْقِ وَالعَفَافِ والصِّلةِ ، وَهذه صِفَة
    نَبي ، فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَسَيَمْلِكُ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَينِ،
    وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ ، ولَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ ،
    فَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَتَكلَّفتُ لِقَاءَهُ ، وَلَوْ
    كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيهِ.
    ثُمَّ
    دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بَعَثَ
    بِهِ مَع دِحْيَةَ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى ، فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ ،
    فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ ” بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ
    مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ : سَلاَمٌ
    عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الهُدَى ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ
    الإِسْلاَمِ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ ،
    فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ اليَرِيسِيِّينَ ” وَ
    ﴿
    يَا أَهْلَ الكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ
    أَنْ لاَ نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا

    إلى قوله :
    ﴿ فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا
    مُسْلِمُونَ
    .
    قَالَ
    أَبُو سُفْيَانَ : فَلَمَّا قَالَ مَا قَالَ وَفَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الكِتَابِ ،
    كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ وَارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا ، فَقُلْتُ
    لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا : لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ ،
    إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الأَصْفَرِ. فَمَا زِلْتُ ذَليلا مُستَيقِنًا بأن
    أمرَهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ تعالى عَلَى قَلبي الإِسْلاَمَ وَأنا
    كارهٌ .
    وَكَانَ
    ابْنُ النَّاظُورِ صَاحِبُ إِيلِيَاءَ وَهِرَقْلَ ، سُقُفُّ عَلَى نَصَارَى
    الشَّأْمِ يُحَدِّثُ أَنَّ هِرَقْلَ حِينَ قَدِمَ إِيلِيَاءَ ، أَصْبَحَ يَوْمًا
    خَبِيثَ النَّفْسِ ، فَقَالَ بَعْضُ بَطَارِقَتِهِ : قَدِ اسْتَنْكَرْنَا
    هَيْئَتَكَ ، قَالَ ابْنُ النَّاظُورِ : وَكَانَ هِرَقْلُ حَزَّاءً يَنْظُرُ فِي
    النُّجُومِ ، فَقَالَ لَهُمْ حِينَ سَأَلُوهُ : إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ حِينَ
    نَظَرْتُ فِي النُّجُومِ مَلِكَ الخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ ، فَمَنْ يَخْتَتِنُ مِنْ
    هَذِهِ الأُمَّةِ؟ قَالُوا : لَيْسَ يَخْتَتِنُ إِلَّا اليَهُودُ ، فَلاَ
    يُهِمَّنَّكَ شَأْنُهُمْ ، وَاكْتُبْ إِلَى مَدَايِنِ مُلْكِكَ ، فَليَقْتُلُوا
    مَنْ فِيهِمْ مِنَ اليَهُودِ . فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى أَمْرِهِمْ ، أُتِيَ
    هِرَقْلُ بِرَجُلٍ أَرْسَلَ بِهِ مَلِكُ غَسَّانَ يُخْبِرُ عَنْ خَبَرِ النبي صَلَّى
    اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا اسْتَخْبَرَهُ هِرَقْلُ قَالَ : اذْهَبُوا
    فَانْظُرُوا أَمُخْتَتِنٌ هُوَ أَمْ لاَ، فَنَظَرُوا إِلَيْهِ ، فَحَدَّثُوهُ
    أَنَّهُ مُخْتَتِنٌ ، وَسَأَلَهُ عَنِ العَرَبِ ، فَقَالَ : هُمْ مُخْتَتِنُونَ ،
    فَقَالَ هِرَقْلُ : هَذَا مَلِكُ هَذِهِ الأُمَّةِ قَدْ ظَهَرَ.
    ثُمَّ
    كَتَبَ هِرَقْلُ إِلَى صَاحِبٍ لَهُ بِرُومِيَةَ ، وَكَانَ نَظِيرَهُ فِي العِلْمِ
    ، وَسَارَ هِرَقْلُ إِلَى حِمْصَ ، فَلَمْ يَرِمْ حِمْصَ حَتَّى أَتَاهُ كِتَابٌ
    مِنْ صَاحِبِهِ يُوَافِقُ رَأْيَ هِرَقْلَ عَلَى خُرُوجِ رسول الله صَلَّى اللهُ
    عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّهُ نَبِيٌّ ، فَأَذِنَ هِرَقْلُ لِعُظَمَاءِ الرُّومِ
    فِي دَسْكَرَةٍ لَهُ بِحِمْصَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِأَبْوَابِهَا فَغُلِّقَتْ ، ثُمَّ
    اطَّلَعَ فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الرُّومِ ، هَلْ لَكُمْ فِي الفَلاَحِ
    وَالرُّشْدِ ، وَأَنْ يَثْبُتَ لكم مُلْكُكُمْ فَتُبَايِعُوا هَذَا النَّبِيَّ؟
    فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الوَحْشِ إِلَى الأَبْوَابِ ، فَوَجَدُوهَا قَدْ
    غُلِّقَتْ ، فَلَمَّا رَأَى هِرَقْلُ تفرُّقَهم ، وَأَيِسَ مِنَ الإِيمَانِ ،
    قَالَ: رُدُّوهُمْ عَلَيَّ ، وَقَالَ: إِنِّي إنما قُلْتُ مَقَالَتِي آنِفًا
    أَخْتَبِرُ بِهَا شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ ، فَقَدْ رَأَيْتُ ، فَسَجَدُوا
    لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ ، فَكَانَ ذَلِكَ آخِرَ شَأْنِ هِرَقْلَ .
    (م) : قال أبو
    سفيان : وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللهُ تعالى عَنْهُ
    جُنُودَ فَارِسَ مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلِيَاءَ شُكْرًا لِمَا أَبْلَاهُ
    اللهُ تعالى .
    %     %     %
    @ التعليق والتوضيح @ :
    1 – ابتدأ رزين « تجريد
    الصحاح » بكتاب بدء الوحي اتباعا للإمام البخاري في « صحيحه » كما بين هو منهجه
    بقوله في المقدمة : «
    واستقصاءُ جميع تَراجِم البخاري ،
    لتضمُّنها من الحِكم والفقه ما قد ضَمَّنها
    » ، وقال : « وجعلتُ الاصلَ الذي يبنَى عليه في
    التراجم للكتب والأبوابِ : كتابَ البخاري
    » .
    أما ابن الأثير فبنى
    كتابه على سرد الكتب والأبواب على ترتيب حروف التهجي ، لذلك ابتدأ كتابه ( جامع
    الأصول ) بالكتب المبدوءة أسماؤها بحرف الهمزة ، وهي عشرة كتب : كتاب الإيمان
    والإسلام ، كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، كتاب الأمانة، كتاب الأمر بالمعروف
    والنهي عن المنكر، كتاب الاعتكاف، كتاب إحياء الموات، كتاب الإيلاء، كتاب الأَسماء
    والكُنى، كتاب الآنية، كتاب الأَمل والأَجل.
    2 – حديث « الأعمال
    بالنيات » هو أول حديث في « تجريد الصحاح » لرزين كما في البخاري . أما ابن الأثير
    فأورده في حرف النون في الكتب التي تبدأ أسماؤها بالنون ، و منها : كتاب النية
    والإخلاص ، وهو أول حديث في الكتاب المذكور .
    3 – أورد رزين هنا لفظَ
    الحديث الأول تاما ، كما هو في المواضع الأخرى من صحيح البخاري ، ولم يُشِر إلى
    اختصار البخاري للفظه في باب بدء الوحي ، لأنه ذكر أن من منهجه في سياق المتون هو
    اختيار اللفظ الأتم ، قال
    رزين : « وأوردت المتنَ من ذلك
    بلفظ أحدهم ، وبأتَمِّه إذا اختلفوا في اللفظ واتفقوا في المعنى » .
    أما ابن الأثير فصرَّح
    بالاختصار ، حيث أورده تاما أولا ، ثم ذكر الرواية المختصرة مصرِّحا بأنها هكذا في
    أول كتاب البخاري .
    4 – كرر رزين إيراد هذا الحديث في الأبواب التالية من « تجريد الصحاح »
    تبعا للبخاري ، ولكنه لا يسوقه كاملا ، وإنما يقتصر على الجزء الأول منه وهو «
    الأعمال بالنية » . بينما ابن الأثير لم يذكره إلا في كتاب النية والإخلاص .
    5 – ذكر ابن الأثير أن
    البخاري يرويه في بعض المواضع بلفظ : « الأعمال بالنية » بالإفراد ، ولم ينبه عليه
    رزين .
    6 – عَلّم ابن الأثير على
    هذا الحديث برموز الأئمة الذين رَوَوه في كتبهم ، وهم  (خ م د ت س) . أما رزين فمنهجه عدم الرمز على
    الحديث إذا كان مما اتفق على إخراجه الشيخان ، حيث قال رزين : «
    وعَلَّمتُ
    على ما في ” موطأ مالك ” بـ (ط) ومسلم
    بـ (م) والبخاري بـ (خ)
    في أول الحديث
     ». ثم قال : « وغير
    المُعَلَّم إما أن يكون مما اتُّفِقَ عليه لفظا أو معنىً

    وهو الأكثر- أو مما ينفرد به البخاري
    » .
    7 – اتفقا على الاقتصار على
    ذكر صحابي الحديث ، وحذف بقية الإسناد اختصارا ، إلا عند الحاجة . قال رزين : «
    ولم
    أذكر من الإسناد إلا الصاحبَ فقط ، وفي النادر مَن روى عنه لزيادة بيانٍ أو
    معنى
    يتصل به لا يقع الفهمُ إلا بذكره » . وبنحوه قول ابن
    الأثير : « فلم أثبت إلا اسمَ الصحابي الذي روى الحديث عن النبي -صلى الله عليه
    وسلم- إن كان خبراً ، أو اسمَ من يرويه عن الصحابي إن كان أثراً ، اللهم إلا أن يَعرِض
    في الحديث ذكرُ اسم أحد رواته فيما تمسّ الحاجة إليه ، فأذكره لتوقف فهم المعنى
    المذكور في الحديث عليه » .
    %     %     %
    ثم أورد رزين أحاديث الباب ( بدء الوحي ) فذكر عشرة أحاديث على النحو
    التالي :
    أ     حديث الحَارث بن هِشام : «
    كَيْفَ يَأْتِيكَ الوَحْيُ؟ » .
    ب حديث عُبادة بن الصامت : « إذا
    أُنزِلَ عليه كُرِبَ لذلكَ » .
    ج –  حديث أبي هُريرةَ : «
    كان إذا جاءَ الوحيُ لا يَخْفى علينا » .
    د – 
    حديث عُمر : « إذا نزل عليه الوحيُ : يُسْمَعُ عندَ وَجهِه كَدَوِيِّ النَّحلِ
    » .
    هـ –  حديث يَعْلَى
    بْنِ أُمَيَّةَ : « لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ حِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الوَحْيُ » .
    و –  حديث عَائِشَةَ : «
    أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ
    الوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ » .
    ز – 
    حديث جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ فَتْرَةِ الوَحْيِ .
    ح – 
    حديث
    ابْنِ عَبَّاسٍ فِي تفسير قَوْلِهِ تَعَالَى : ﴿
    لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ
    وَقُرْآنَهُ
    ﴾ .
    ط –  حديث ابْنِ
    عَبَّاسٍ أيضا : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    أَجْوَدَ النَّاسِ » .
    ي –  حديث ابْنِ
    عَبَّاسٍ أيضا في قصة أبي سفيان مع هِرقْل .
    @ التعليق والتوضيح @ :    
    1
     زاد رزين
    هنا أربعة أحاديث ، وهي ( ب ، ج ، د ، هـ ) ولم يخرج البخاريُّ منها إلا الحديث
    الرابع : حديثَ يعلى بن أمية ، ولكن البخاري أخرجه في كتاب الحج والمغازي وغيرهما
    .
    أما الأحاديث الثلاثة
    الأولى فقد علّم عليها رزين برموز مخرجيها على النحو التالي :
    (ط) حديث عُبادة بن الصامت : « إذا
    أُنزِلَ عليه كُرِبَ لذلكَ » .
    (ط م)  حديث أبي هُريرةَ : « كان إذا جاءَ الوحيُ لا يَخْفى علينا » .
    (ت)  حديث عُمر : « إذا نزل
    عليه الوحيُ : يُسْمَعُ عندَ وَجهِه كَدَوِيِّ النَّحلِ » .
    ط : للموطأ ، م : لمسلم ، ت : للترمذي . ولم أجد التصريح برمز الترمذي في مقدمة رزين ، لكن
    الأظهر أن ( ت ) هو للترمذي لوجود الأحاديث المعلَمة به في الترمذي .
    حديث عُبادة بن الصامت
    : «
    إذا أُنزِلَ عليه كُرِبَ لذلكَ » المرموز له بـ (ط) هو مما أخرجه مسلم في كتاب الحدود ، لكن عليه في «
    تجريد الصحاح » رمز الموطأ ، وليس في نسخ الموطأ التي بين أيدينا ، فقد يكون واردا
    في بعض روايات الموطأ . لكنه برمز مسلم في « جامع الأصول » .
    و حديث أبي
    هُريرةَ : « كان إذا جاءَ الوحيُ لا يَخْفى علينا » رمز له رزين بـ (ط م ) ، ولا يوجد اليوم في
    الكتابين ، وقد أورده ابن الأثير في « جامع الأصول » من غير رمز .
    أما حديث عمر فوارد في
    الترمذي في كتاب التفسير .
    2
     بقية
    أحاديث الباب أوردها البخاري في بدء الوحي ، ولكن ترتيبها في كتاب البخاري هكذا :
    ( أ ، و ، ز ، ح ، ط ، ي ) حيث إن رزينا أخَّر حديثَ عائشة في قصة بدء
    الوحي ، وهو مقدَّم في كتاب البخاري . والبقية على الترتيب .
    أما ابن الأثير فأوردها في كتاب
    الوحي ، الباب الثالث : باب ( بدء الوحي وكيفية نزوله) على النحو الآتي :
    1  حديث عَائِشَةَ : « أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ
    صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي
    النَّوْمِ » .
    2 – حديث جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ فَتْرَةِ الوَحْيِ .
    3 – حديث الحَارث بن هِشام : « كَيْفَ
    يَأْتِيكَ الوَحْيُ؟ » .
    4 –  حديث عُمر : « إذا نزل
    عليه الوحيُ : يُسْمَعُ عندَ وَجهِه كَدَوِيِّ النَّحلِ » .
    5 حديث عُبادة بن الصامت : « إذا
    أُنزِلَ عليه كُرِبَ لذلكَ » .
    6 –  حديث أبي هُريرةَ : «
    كان إذا جاءَ الوحيُ لا يَخْفى علينا » .
    7 –  حديث يَعْلَى
    بْنِ أُمَيَّةَ : « لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ حِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الوَحْيُ » .
    8 –  حديث ابْنِ
    عَبَّاسٍ فِي تفسير قَوْلِهِ تَعَالَى :
    ﴿
    لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ
    وَقُرْآنَهُ
    ﴾ .
    9 –  حديث ابْنِ
    عَبَّاسٍ أيضا : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    أَجْوَدَ النَّاسِ » .
    ثم أورد ابن الأثير نحو 13 حديثا
    متعلقة بنزول الوحي وكيفية نزوله وأول مانزل وآخر ما نزل …الخ
    هذه الأحاديث التي أوردها ابن
    الأثير منها ما هو في الصحيحين ، ومنها ما هو في كتب السنن .
    3-  نلاحظ أن رزينا لا يذكر
    فروق الروايات ، ولا يسرد الحديثَ على الوجه ، وإنما يختصره ، وربما يفعل ذلك لأنه
    سيورد بعض الروايات فيما يلي تبعا للبخاري ، بينما نجد أن ابن الأثير يستقصي في
    تتبع ألفاظ الروايات ويدقق في ذكر الفوارق ويرمز على كل رواية برموز مخرجيها ، لأن
    منهجَه جمع الروايات في مكان واحد . لنأخذ مثالا للتوضيح :

    حديث يعلى بن أمية :
    في « تجريد
    الصحاح » لرزين :
    (خ)
    : عَن صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّ يَعْلَى رضي الله عنه كَانَ يَقُولُ : لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ
    اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الوَحْيُ ،
    فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ
    جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ
    أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ ؟ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى
    اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً فَجَاءَهُ الوَحْيُ ، فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى
    يَعْلَى ، فَجَاءَ يَعْلَى وعَلَى رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    ثَوْبٌ قَدْ أَظَلَّ بِه ، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ ، فَإِذَا هُوَ مُحْمَرُّ
    الوَجْهِ ، وهُو يَغِطُّ ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : « أَيْنَ الَّذِي
    سَألَ عَنِ العُمْرَةِ ؟ » فأُتِيَ برَجُلٍ فَقَالَ : « اغسِلِ الطِّيبَ الَّذِي
    بِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، وَانزِع عَنكَ الجُبَّةَ ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ
    كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ » . انتهى
    وفي « جامع الأصول» 11/284
    :
    (خ م س) يعلى بن أمية رضي الله عنه كان يقول
    لعمر: «ليتني أرى رسول الله  صلى الله عليه
    وسلم حين ينزل عليه الوحي، فلما كان النبي صلى الله عليه وسلم بالجِعرَّانة
    وعليه
    ثوب قد أُظِلَّ به عليه ، ومعه ناس من أصحابه فيهم
    عمر
    ،
    إذ جاءه رجل مُتضمِّخ بطِيب ،
    فقال : يا رسول الله، كيف ترى في رجل أحرم في جُبَّة بعد ما تَضَمَّخ بطِيب؟ فنظر
    النبي صلى الله عليه وسلم ساعة ، ثم سكت ، فجاءه الوحيُ ، فأشار عمر إلى
    يَعْلَى : أن تعال، فجاء يعلى فأدخل رأسه، فإذا هو مُحَمرُّ الوجه ، يَغِطّ لذلك
    ساعة ، ثم سُرّي عنه ، قال: أين الذي سألني عن العمرة آنفاً؟ فالتُمِسَ الرجل،
    فجيء به إلى النبي – صلى الله عليه وسلم-، فقال: أمّا الطِّيب الذي بك فاغسله ثلاث
    مرات ، وأما الجُبَّة : فانزعها ، ثم اصنع في عمرتك كما تصنع في حجك» .
    وفي رواية
    قال: «كنتُ مع النبي صلى الله عليه وسلم ، فأتاه رجل عليه أثر صُفرة … بنحوه»
    أخرجه البخاري ومسلم .
    وفي رواية
    النسائي: قال صفوان بن يعلى : قال أبي: «ليتني أرى رسول الله – صلى الله عليه
    وسلم- يُنزَل عليه، فبينما نحن بالجِعْرَانة – والنبيُّ صلى الله عليه وسلم في
    قُبَّةٍ – فأتاه الوحي، فأشار إليَّ عمر: أن تعال، فأدخلتُ رأسي القبّة، فأتاه رجل
    قد أحرم في جُبَّةٍ بعمرة متضمِّخٌ بطيب، فقال: يا رسول الله، ما تقول في رجل أحرم
    في جُبَّةٍ؟ إذ أنزل عليه الوحي، فجعل النبيُّ – صلى الله عليه وسلم- يغِطَّ لذلك
    فسُرِّي عنه، فقال: أين الرجل الذي سألني آنفاً؟ فأتى الرجلُ ، فقال: أما
    الجُبَّةُ فاخلعها ، وأما الطِّيب: فاغسله ، ثم أحدِثْ إحراماً » .
    قال النسائي:
    قوله: «ثم أحدِثْ إحراماً» ما أعلم أحداً قاله غير نوح بن حبيب ، ولا أحسبه محفوظاً
    ، والله أعلم .
    لاحظ أن المعلّم عليه باللون
    الأزرق في الرواية الأولى لم يورده رزين ، وبقية الفروق التي عُلِّم عليها باللون
    الأخضر كلُّها من إضافات ابن الأثير في « جامع الأصول » . ثم إن رزيناً اقتصر على
    رمز البخاري ، مع أنه متفق عليه عند الشيخين ، لا أدري لمَ ؟
    هذه أهم النقاط في المقارنة بين
    الكتابين ، والمقام يحتمل الإطالة ، ولكن أردتُ الاختصار .

    أعده ورتبه : محمد طلحة بلال أحمد منيار
  • عورتوں کا مردوں پر غالب ہونا

    عورتوں کا مردوں پر غالب ہونا

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    هل هذا الحديث صحيح عن رسول الله
    صلى الله عليه وسلم ؟ لا أدري بالضبط صيغة الحديث … ما أعرفه أنه هكذا :
    الحديث” لا خير في النساء ولا صبر عنهن ، يغلبن كريما و يغلبهن لئيم ، فأحب
    أن أكون كريما مغلوبا ، ولا أحب أن أكون غالبا لئيما

    .
    شكرا، جزاك الله . عمار لمبادا

    الجواب :
    @ الحديث بهذه الألفاظ المذكورة في السؤال لم أعثر
    عليه إلا في تفسير
    روح
    المعاني
    (3/ 15)
    سورة النساء حيث قال الآلوسي :
    ﴿وَخُلِقَ الْإِنْسانُ ضَعِيفاً أي في أمر النساء لا يصبر عنهن، قاله طاوس.
    وفي الخبر : «لا
    خير في النساء ولا صبر عنهن ، يغلبن كريما ويغلبهن لئيم ، فأحب أن أكون كريما
    مغلوبا ، ولا أحب أن أكون لئيما غالبا»
    .انتهى
    وهو كما ترى ليس فيه ذكر للسند
    ولا عزو لشيء من كتب الرواية ولا نسبةٌ صريحة إلى الرسول صلى الله عليه وسلم ، لأن
    قوله : “وفي الخبر” يعم المرفوعَ وغيره .
    @ نعم ورد في حديث نَسَبَه الواقدي إلى الرسول
    صلى الله عليه وسلم قوله :
    إنهن يغلبن الكرام، ويغلبهن
    اللئام
    ” .
    وهو ما أورده الخطيب البغدادي في
    “تاريخ بغداد” 14/432 في ترجمة الخيزُران زوجة الخليفة المهدي العباسي .
    وسند
    الخطيب هكذا
    : أخبرني
    الأزهري والحسن بن أبي طالب قالا : حدثنا
     عبيد
    الله بن أحمد
     بن علي المقرئ ، حدثنا علي
    بن محمد بن الجهم
     الكاتب قال : حدثني [أبو
    الحسن] علي [بن الحسين] الطويل
    قال:  حدثني
     سليمان
    بن محمد
     ، عن الواقدي …
    والواقدي من طبقة أتباع التابعين
    ، فالسند منقطع بينه وبين الرسول صلى الله عليه وسلم ، كما أن الواقدي متهم أيضا
    بالكذب والوضع . وعلي بن الحسين الطويل وشيخه سليمان بن محمد لا أعرفهما .
    @ كما وردت هذه
    الألفاظ من قول معاوية رضي الله عنه ، وهو ما أخرجه ابن عساكر في
    تاريخ
    دمشق
    (19/
    448) في ترجمة زيد بن عبد الله بن أبي مليكة عن أبيه في قصة طويلة ، وفي آخرها قول
    معاوية : يغلبن 
    الكرام ويغلبهن اللئام ، يغلبن الكرام ويغلبهن اللئام
    .
    وسند ابن عساكر : أخبرنا أبو بكر محمد
    بن محمد بن كرتيلا ، أنبأ أبو بكر محمد بن علي الخياط ، أنا أحمد بن عبد الله السوسَنجِردي
    ، أنا أبو جعفر أحمد بن أبي طالب علي بن محمد الكاتب،  أخبرني أبي ، أنبأ محمد بن مروان بن عمر السَّعيدي
    ، حدثني بكر بن [غياث بن] هلال القيسي ، نا محمد بن عبد الملك القرشي ، نا أبو عاصم
    العبَّاداني ، حدثني علي بن زيد ، حدثني أبي قال : دخلت على معاوية وهو في مجلس له
    فجاءت جارية رائعة … الخ
    علي بن زيد بن عبد الله ضعفه ابْن عُيَيْنَة ، وَقَالَ حَمَّاد بن زيد : كَانَ يقلب
    الْأَحَادِيث ، وَذكر شُعْبَة أَنه اخْتَلَط . وَقَالَ أَحْمد وَيحيى : لَيْسَ
    بِشَيْء . وَقَالَ يحيى مرّة : ضَعِيف فِي كل شَيْء . وَقَالَ الرَّازِيّ : لَا
    يحْتَج بِهِ . وَقَالَ أَبُو زرْعَة : لَيْسَ بِقَوي يهم ويخطئ فَكثر ذَلِك
    فَاسْتحقَّ التّرْك .
    ولكن الرواية موقوفة
    على معاوية رضي الله عنه من قوله ، فتقبل مع الضعف .
    @ وورد بمعنى الحديث أيضا من حديث علي بن أبي
    طالب رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال
    : (خيركم خيركم لأهله ، وأنا خيركم لأهلي ، ما أكرم النساء إلا كريم ، ولا أهانهن إلا لئيم)
     رواه ابن
    عساكر في “تاريخ دمشق” (13/313) وعنه ابن أخيه في “الأربعين في
    مناقب أمهات المؤمنين” (109) من طريق أبي عبد الغني الحسن بن علي بن عيسى
    الأزدي ، حدثنا عبد الرزاق بن همام ، أخبرنا إبراهيم بن محمد الأسلمي ، عن داود بن
    الحصين ، عن عكرمة بن خالد ، عن علي بن أبي طالب به.
     
    وهذا السند واهٍ بمرة ، والحديث بهذا
    السند موضوع . لكن الجزء الأول من الحديث

    خيركم خيركم لأهله ، وأنا خيركم لأهلي
    ثبت
    بطرق أخرى صحيحة .

    لاحظ حال الرواة :
    أبو عبد الغني الحسن بن علي بن
    عيسى الأزدي : اتهمه الدارقطني وابن حبان بالوضع .
    إبراهيم بن محمد الأسلمي : كذَّبه
    يحيى القطان وابن معين وابن المديني .
    داود بن الحصين : قال ابن المديني
    وأبو داود : ” ما رواه عن عكرمة بن خالد فمنكر ” .

     الخلاصة : الألفاظ الواردة في السؤال لم تثبت عن
    النبي صلى الله عليه وسلم بسند معتبر ، فلا يصح نسبتها إليه .
    وهنا يرد سؤال : ما هو الوارد في
    هذا المعنى في الروايات المعتبرة ، مما تصح نسبته إلى الرسول صلى الله عليه وسلم ويجوز
    بيانه للناس ؟

    والجواب بالأردية :
    صحیح
    روایات میں عورتوں کےمردوں پر غالب آنے کی بات مختلف اسالیب کلام سے بیان کی گئی ہے،
    دیکھنا در اصل یہ ہے کہ ان روایات میں غالب ہونے سے کیا مراد لیا گیا ، وہ روایات
    مع مفہوم غلبہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں :

    ۱۔ پلٹ کر جواب دینا ،بحث وتکرار کرنا:
    قال عمر رضي الله عنه : وَكُنَّا
    مَعْشَرَ قُرَيْشٍ
     نَغْلِبُ النِّسَاءَ،
    فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الْأَنْصَارِ إِذَا هُمْ قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ
    نِسَاؤُهُمْ … فَصِحْتُ عَلَى امْرَأَتِي،
    فَرَاجَعَتْنِي، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي… الحديث في
    صحيح البخاري
    كتاب المظالم (2468) .

    ۲۔ بات نہ ماننا ،خصوصا منع کرنے کی بات:
    948 – عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:
    كَانَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ
    سَلَمَةَ، فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ الله أَوْ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ
    بِيَدِهِ هكذا، فَرَجَعَ، فَمَرَّتْ زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ
    هَكَذَا، فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    – قَالَ: “هُنَّ أَغْلَبُ” .
    سنن
    ابن ماجه
    (2/100)
    .
    أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ،
    قَالَتْ : سَمِعْتُ
     عَائِشَةَرَضِيَ الله عَنْهَا تَقُولُ :
    لَمَّا جَاءَ قَتْلُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ
    رَوَاحَةَ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعْرَفُ فِيهِ
    الْحُزْنُ، وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ :
    يَا رَسُولَ الله ، إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ، وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ، فَأَمَرَهُ
    بِأَنْ يَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَى فَقَالَ : قَدْ
    نَهَيْتُهُنَّ، وَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ، فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ
    أَنْ يَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَى فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ
     غَلَبْنَنِي،أَوْ
    غَلَبْنَنَا… الحديث ، صحيح البخاري ، كتاب الجنائز (
    629)
    .

    ۳۔ شوہر پر حاوی ہونا ، اور اس کا ان  کے ناز نخرے برداشت کرنا، اور ان کی بات رد نہ
    کرنا:
    جاء في حديث أم زرع في السنن
    الكبرى
    للنسائي
    8/247 من حديث أبي عقبة خالد بن عقبة بن خالد السكوني الكوفي عن أبيه عن هشام بن
    عروة عن أبيه ، وكذا من حديث عمر بن عبد الله بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله
    عنها  8/249 :
       
    قالت الثامنة: (زوجي المسُّ مس
    أرنب، والريحُ ريح زَرْنَب ، وأنا أغلبه والناسَ يغلبُ ) .
    قال الحافظ ابن حجر : وأما قولها:
    ” وأنا أغلبه والناس يغلب ” فوصفته مع جميل عشرته لها وصبره عليها
    بالشجاعة، وهو كما قال معاوية: ” يغلبن الكرام ويغلبهن اللئام “، قال
    عياض: هذا من التشبيه بغير أداة، وفيه حسن المناسبة والموازنة والتسجيع.
    وقال صلى الله عليه وسلم : “وَمَا
    رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلبَ
     لِذِي
    لُبٍّ
    مِنْكُنَّ “. مسلم (132) وأبو داود (4679) . وفي رواية
    عند البخاريّ (304) : “ما رأيت من ناقصات عقل ودين أذهبَ لِلُبّ الرجل الحازم
    من إحداكنّ ” .

    ۴۔مغلوب الحال شوہر کی نافرمانی کرنا ،ناشزہ ہونا:
    في قصة الأعشى لما هربت منه
    امرأته معاذة ناشزا عليه ، فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم يشكوها ، وأنشده
    أبياتا فيها قوله : وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ
     غَلَبْ.
     
    فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ
    ذَلِكَ : ” وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ
     غَلَبْ “. (مسند
    أحمد 6885
     (. وأصل الكلام : لمن غلبنه .

    خلاصہ یہ ہے کہ :معتبر
    روایات میں غالب یامغلوب مرد کے بارے میں کوئی وصف :کریمانہ اخلاق یا کمینہ پن کی
    قبیل سے وارد نہیں ہے ، ان روایات میں تو عورتوں کے غالب ہونے کو ایک مجرد حقیقت
    کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔اور جن روایات میں اس طرح کی کوئی بات جو سوال میں
    مذکور ہےوارد ہوئی ہےان کی اسانید غیر معتبر ہیں ، اس لئے وہ حضور سے ثابت نہیں
    ہیں ۔
    جی
    ہاں روایات میں عورتوں کی تعلیم وتربیت ،حسن سلوک وحسن معاشرت،ان کے حقوق ادا کرنے،ان
    کی زیادتیوں کو برداشت کرنے کی تعلیم دی ہے ،چنانچہ جو باتیں ثابت ہیں ان پر اکتفا
    کرتے ہوئے غیر معتبر باتوں کی صاحب شریعت کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان کرنے میں
    احتیاط کرنا چاہئے ۔واللہ اعلم
    جمعہ ولخصہ العاجز محمد طلحہ بلال احمد منیار
    ۱۴/ جولائی ۲۰۱۹ ء

  • کھجور کھانے کا مسنون طریقہ

    کھجور کھانے کا مسنون طریقہ



    بسْم اللّٰہ الرَّحمٰن الرَّحیْم
    کھجور کھانے کا مسنون طریقہ
    ایک کلپ موصول ہوئی جس
    میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کھجور کھانے کا مسنون طریقہ یہ بتایا گیا کہ :
    ۱۔ سب سے
    پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کو کھولتے تھے
    ۲۔ پھر بیج
    کو نکالتے تھے اور اس کو چوستے تھے
    ۳۔ پھر بیج
    کو دو انگلی پر رکھ لیتے تھے ، بعض روایتوں میں انگوٹھے کا بھی ذکر ہے
    ۴۔ پھر بیج
    کو دستر خوان پر پھینک دیتے تھے
    ۵۔ پھر
    باقی کھجور کو کھالیتے تھے

    مذکورہ طریقہ کا تجزیہ تو
    بعد میں عرض کروں گا ، اس سے قبل احادیث کی روشنی میں کھجور تناول کرنے کے سلسلہ
    میں جو باتیں وارد ہوئی ہیں ، وہ پیش کرتا ہوں ، ملاحظہ فرمائیں  :

    ۱۔ کھجور
    مرغوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم
    کھجور آپ صلی اللہ علیہ
    وسلم کی مرغوبات میں سےتھی ، اور آپ کو تازہ وترکھجور(رطب)خشک کھجور(تمر،چھوہارہ)
    کے مقابلہ میں زیادہ مرغوب تھی ، تازہ کھجورآنے 
    کا موسم قریب آتا تو آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے :‘‘اے عائشہ جب
    تازہ کھجوریں آئیں تو مجھے دے کر خوش کرنا’’ (بزار۶۹۵۳)۔اگر تر کھجوریں مل جاتیں تو ان سے افطار فرماتے، اگر نہ ملتیں
    تو خشک کھجوروں سے افطار کر لیتے، اگر وہ بھی نہ ملتیں تو پانی کے چند گھونٹ ہی سے
    افطار کر لیا کرتے
    ( ابوداود ۲۳۵۶)۔ کھجور ملنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
    اسے شوق سےاور کثیر مقدار میں  تناول
    فرماتے(مسلم
    ۲۰۴۴، احمد۱۲۲۶۷)۔
    افطار اورسحری دونوں میں
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجورکھانے کی ترغیب دی ہے۔فرمایا:‘‘ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہیے
    کہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہوتی ہے ،اگر کھجور نہ ملے تو اسے چاہیے
    کہ پانی سے افطار کرے کیونکہ وہ پاک ہے ’’۔(ابوداود۲۳۵۵، ترمذی ۶۵۸) اور فرمایا:‘‘مومن
    کے لیے بہترین سحری کھجور ہے’
    (ابوداود۲۳۴۵)۔
    اورفرماتے تھے :‘‘جس گھر
    میں کھجور نہ ہواس گھر کے رہنے والے بھوکے ہیں’’(مسلم۲۰۴۶)۔اورآپ صلی اللہ علیہ
    وسلم پر کئی مہینے گذرجاتے تھے آپ کے پاس کھجور اور پانی کے علاوہ کوئی چیز گذارہ
    کے لئے نہیں ہوتی تھی (بخاری۲۵۶۷)۔نیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض کھجوروں کے
    فوائد بھی ارشاد فرمائے ، اور عموما کھجور کھانے کی ترغیب دی ہے۔

    ۲۔ کھجور منتخب کرنے کے لئے برتن میں ہاتھ گھمانا
    تھال یا طباق میں اگر مختلف قسم کے میوے ،کھجوریں ہوں تو ہر جانب سے کھا سکتے
    ہیں ، لیکن اگر ایک ہی نوع کی ہوں تو مناسب یہی ہے کہ ہر انسان اپنے آگے سے کھائے
    ، ہاں اگر اکیلا ہو تو کوئی حرج نہیں ۔(مرقاۃ)
    خطیب بغدادی نے (تاریخ بغداد) میں ایک ضعیف روایت ذکر کی ہے کہ : آپ صلی اللہ
    علیہ وسلم کے سامنے اگر ایک ہی قسم کا کھانا لایا جاتا، تو آپ اپنے آگے سے کھاتے
    تھے ، لیکن اگر کھجور پیش کی جاتی تو آپ کا ہاتھ مبارک پورے طباق میں گھومتا اور
    آپ کی طبیعت کا جدھر میلان ہوتا وہاں سے کھاتے ۔
    یہ روایت بھی مختلف قسم کی کھجوروں کی صورت پر محمول ہے،ورنہ اصل ادب وہی ہے
    کہ ہر شخص اپنے سامنے کی جانب سے کھائے۔
      
    ۳۔ دو، دو کھجوریں ملا کر کھانے کی ممانعت
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم
    نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص دو کھجوروں کو جمع کرے، یعنی ایک ساتھ دو دو
    کھجوریں کھائے، الاّ یہ کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔ (بخاری۲۴۵۵، مسلم۲۰۴۵)۔
    تشریح
    سیوطی کہتے ہیں کہ: اس ممانعت کا تعلق اس وقت سے تھا،جب کہ مسلمان فقر و افلاس
    اور تنگی معاش میں مبتلا تھے، لیکن جب انہیں خدا نے معاش میں وسعت و فراخی اور
    خوشحالی عطا فرمائی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ
    ممانعت منسوخ ہو گئی کہ:‘‘میں تمہیں کھجوروں کو جمع کرنے سے (یعنی ایک سے زائد
    کھجوروں کو ایک ساتھ کھانے سے) منع کرتا تھا، مگر اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں
    رزق کی وسعت و فراخی عطا فرمائی ہے تو جمع کرو’’ یعنی اگر تم اب ایک سے زائد
    کھجوریں ایک ساتھ کھاؤ تو یہ حرام یا مکروہ نہیں ہو گا۔
     لیکن اس سلسلے میں زیادہ صحیح بات یہ
    ہے کہ اگر چند لوگ کسی بھی کھانے کی چیز اپنی غذائی ضرورت میں صرف کرنے کا مشترکہ
    طور پر یکساں حق رکھتے ہوں اور ان کی طرف سے اس چیز کو خرچ سے مقرر مقدار سے زیادہ
    کھانے پر پابندی نہ ہو، تو اس صورت میں بھی مروت و ادب کا تقاضا بہرحال یہی ہو گا
    کہ ایسا نہ کیا جائے (یعنی دوسرے ساتھیوں سے زیادہ کھانے مقررہ مقدار سے تجاوز
    کرنے کی کوشش نہ کی جائے کہ یہ کھانے کے آداب کے بھی منافی ہے اور مروت کے بھی
    خلاف ہے) ہاں اگر تمام ساتھی ایسا کرنے کی صریح اجازت دے دیں یا کوئی ایسی چیز ہو
    جو ان کی طرف سے اجازت پر دلالت کرے تو کوئی مضائقہ نہیں، لہٰذا سابقہ ممانعت کا
    تعلق دونوں صورتوں (یعنی حالت فقر و افلاس اور شرکت) سے ہو گا ،اور اباحت و
    استثناء کا تعلق شرکت کے علاوہ دوسری صورت سے ہو گا۔
    تحفۃ الالمعی(۵/۱۵۹) میں لکھا ہے : اگر اجتماعی طور پر کھانا یاکوئی دوسری چیز
    کھائی جارہی ہو تو ادب یہ ہے کہ دوسروں کو ترجیح دی جائے،خود کم کھائے اور دوسروں
    کو زیادہ کھانے کا موقع دے،اور اگر ایسانہ کرے تو کم ازکم انصاف سے کام لے ۔
    ہاں اگر کسی کو جلدی ہو یا  بھوک زیادہ
    ہو تو ساتھیوں کی اجازت لے کر دوکھجوریں ساتھ کھانا جائز ہے ، ادب کے خلاف نہیں
    ہے، کیونکہ ممانعت کی وجہ ساتھیوں کی کبیدگی ہے ، اور اجازت کی صورت میں اس کا
    احتمال نہیں ۔
    قال في  مرقاة
    المفاتيح” (7/2704) :
    وَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ لِنَفْسِهِ
    وَقَدْ ضَيَّفَهُمْ بِهِ فَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ الْقِرَانُ، ثُمَّ إِنْ كَانَ
    فِي الطَّعَامِ قِلَّةٌ فَلَا يَحْسُنُ الْقِرَانُ، بَلْ يُسَاوِيهِمْ ، وَإِنْ
    كَانَ كَثِيرًا بِحَيْثُ يَفْضُلُ عَنْهُمْ فَلَا بَأْسَ بِهِ، لَكِنَّ الْأَدَبَ
    مُطْلَقًا التَّأْدِيبُ فِي الْأَكْلِ وَتَرْكُ الشَّرَهِ .

    ۴۔ کھجور
    کھولنے کی اور چیرنے کی ممانعت،الا یہ کہ اس میں کیڑے پڑگئے ہوں
    بیہقی نے (شعب الایمان۲۴۹۲)میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے
    کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور چیرنے سے منع فرمایا ۔
    مگر(ابوداؤد۳۸۳۲)میں  حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: کہ
    (ایک دن ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پرانی کھجور لائی گئی (جس میں
    کیڑے پڑ گئے تھے )چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چیرتے اور اس میں سے کیڑا
    نکال ( کر پھینک ) دیتے ۔”
    شرح مشکوہ میں لکھا ہے:طبرانی
    (کبیر۱۳۸۰۳)نے بسند حسن حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بطریق مرفوع یہ نقل
    کیا ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو چیرنے سے منع فرمایا ہے !
    اس صورت میں چونکہ آنحضرت
    صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل اور قول میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے اس لئے کہا جائے گا
    کہ :حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو ممانعت منقول ہے اس کا تعلق نئی
    کھجوروں سے ہے اور اس کا مقصد وہم و وسوسہ سے بچانا ہے ۔ یا یہ کہ حضرت انس رضی
    اللہ تعالیٰ عنہ سے جو فعل منقول ہے وہ بیان جواز پر محمول ہے ،اور مذکورہ بالا
    ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے ۔

    ۵۔کھجور کی گٹھلی(بیج) منھ سے نکالنے کا طریقہ
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور
    کو پوری منھ میں رکھ کر تناول فرماتے تھے ، خصوصا تر کھجور ،اور اس کی گٹھلی
    نکالنے کے سلسلہ میں تین طریقے احادیث میں وارد ہیں:

    پہلا طریقہ:منھ
    سے نکال کر بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی دونوں کو ملاکر، دونوں کی پشت پر
    رکھنا۔
    یہ مشہور طریقہ مختلف روایات
    میں مذکور ہے۔
    (مسلم۲۰۴۲،ابوداود۳۷۲۹،ترمذی۳۵۷۶،احمد۱۷۶۷۵،۱۷۶۸۳،ابن
    حبان۵۲۹۸)۔
    منھ سے نکالنے کی صراحت
    (مسنداحمد۱۷۶۸۳) میں ہے۔
    قال في المفاتيح في
    شرح المصابيح
    (3/224) : “فجعل يلقي”؛ أي:
    فطَفِق يُسْقِط نوى التمر بظهر إصبعيه؛ أي: يَضَعُها مِن فِيهِ على ظَهر إصبعيه
    السبَّابة والوسطى ثم يُلقيها.اهـ
    وفي
    “شرح سنن أبي داود” لابن رسلان (15/265) :
    (فجعل
    يلقي النوى على ظهر أصبعيه السبابة والوسطى) فيه بيان الأدب في أكل التمر والرطب
    ونحوهما، أن لا يَجمَع النوى في كفه، بل يضعه مِن فِيهِ على ظهر أصبعيه السبابة
    والوسطى، أو على ظهر كفه، ثم يلقيه خارج الوعاء الذي فيه التمر ولا يجمعُه معه،
    وهذِه الصفة هي التي ذكرها الغزالي.اهـ
    وفي
    نوادر الأصول في أحاديث الرسول (2/142) : وَعَن أنس رَضِي الله عَنهُ أَن رَسُول الله
    صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أُتِـيَ بطبق من رُطَب فَأكل مِنْهُ شَيْئا ، ثمَّ يُلقِي
    النَّوَى من فَمه بِشمَالِهِ ، فمرَّت بِهِ داجنةٌ فناولها إِيَّاه فَأكلت .
    وفي نوادر الأصول
    في أحاديث الرسول
    (2/142) أيضا :
    لَو
    أَخذ النواة بباطن أَصَابِعه ثمَّ عَاد إِلَى بَقِيَّة التَّمْر لَكَانَ لَا يَخْلُو
    أَن تكون أَصَابِعُه مُبتَلَّةً من ريق الْفَم عِنْد أَخذ النواة ، فكره أَن يعود
    إِلَى بَقِيَّة التَّمْر وَفِي يَده بِلَّة النواة مُرَاعَاةً للأكيل وَحُرْمَةً
    للصاحب ، ليتأدَّب بِهِ مَن بعده ، فَإِنَّهُ قد يَعَافُ الرجلُ صَاحبه فِي فِعلِه
    من ذَلِك ويكرهُه ، فَكَانَ يَأْخُذ النواةَ بظاهر إصبعيه وَيسْتَعْمل باطنَهما
    فِي تنَاوُله .
    دونوں انگلیوں کی پشت پر گٹھلی نکال کر رکھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم
    اسے پھینک دیتے تھے ۔(مسند احمد ۱۷۶۷۵،۱۷۶۸۴،
    ابن
    حبان۵۲۹۸،شعب الایمان۸/۵۶
    )

    دوسرا طریقہ:مذکورہ
    دونوں انگلیوں کے درمیان میں رکھنا ۔
    صحیح مسلم(۲۰۴۲) کی روایت
    میں ہے :
    [ ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ
    فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، وَيَجْمَعُ
    السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى]
    اس کی تشریح میں ابن رسلان
    شرح سنن ابو داود (15/265)میں فرماتے
    ہیں :
    ورواية
    “صحيح مسلم” بلفظ : ثم أتي بتمر فكان يأكله ويلقي النوى بين أصبعيه ،
    ويجمع السبابة والوسطى ، ولعله فَعَل بين الأصبعين في بعض الأيام، والأكثرُ على ظهر
    هما.

    تیسرا طریقہ:بائیں
    ہاتھ میں گٹھلیاں جمع کرنا۔
    ابن رسلان  کی شرح سنن ابو داود (15/265)میں ہے :
    ورواية
    أحمد : أنه ربما استعان بيديه جميعًا. فأكل يومًا الرطب في يمينه وكان يحفظ النوى
    في يساره، فمرت شاة، فأشار إليها بالنوى، فجعلت تأكل من كفه اليسرى ويأكل هو
    بيمينه حتى فرغ.

    مسند احمد میں تویہ روایت نہیںملی ،
    لیکن ابن سعد نے (طبقات)میں اور ابو یعلی موصلی نے
    (إتحاف الخيرة المهرة 4/306)میں یہ واقعہ نقل کیا ہے :
    عَنْ
    أنس قال: “قد
    َّمنا إلى رسول الله تمرًا فجَثَا على ركبتيه، فأخذ قَبضة
    فَقَالَ: اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى فُلَانَةٍ. وَأَخَذَ قَبْضَةً فَقَالَ: اذْهَبْ
    بِهَذَا إِلَى فُلَانَةٍ. حَتَّى قَسَّمَ بَيْنَ نِسَائِهِ قَبْضَةً قَبْضَةً،
    ثُمَّ أَخَذَ قَبْضَةً مِنْهُ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بِشِمَالِهِ،
    فَمَرَّتْ بِهِ داجِنَةٌ فناولها إياه فأكلته “.

    ۶۔ کھجور کی گٹھلی کو کھجور کےساتھ طباق 
    میں ڈالنے کی ممانعت
    أخرج البيهقي في “شعب الإيمان” (8/60) :
    5498 –
    أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ
    الْفَقِيهُ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ دِينَارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ
    زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمُّويَهْ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حُمَيْدٍ،
    عَنْ أَنَسٍ قَالَ: ” كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُلْقِيَ النَّوَى مَعَ التَّمْرِ
    عَلَى الطَّبَقِ ” .
    وفي “التنوير شرح الجامع
    الصغير” (11/9) :
    9542- “نهى أن تُلقَى النواةُ
    على الطَّبَق الذي يؤكل منه الرطبُ أو التمرُ”. الشيرازي عن علي (ض) .
    (نهى أن تلقى النواة) أي أن يُلقِي
    الآكلُ نواة التمرة التي يأكلها (على الطبق الذي يؤكل منه الرطب أو التمر) لأنه
    يَقذِرُه من يأكل معه أو بعده إن أكل وحده، ولأنه خلافُ آداب الآكلين ، ومثله
    العنب ونحوُه من الخوخ
    .
    (الشيرازي عن علي) رمز المصنف لضعفه.
    وفي “الآداب الشرعية والمنح
    المرعية” (3/225) :
    فَصْلٌ فِي آدَابِ أَكْلِ التَّمْرِ :
    وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَضَعَ النَّوَى مَعَ التَّمْرِ
    عَلَى الطَّبَقِ . ذَكَرَهُ الْبَيْهَقِيّ . وَقَالَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي
    آدَابِ الْأَكْلِ: وَلَا يَجْمَعُ بَيْنَ النَّوَى وَالتَّمْرِ فِي طَبَقٍ ، وَلَا
    يَجْمَعُهُ فِي كَفِّهِ ، بَلْ يَضَعُهُ مِنْ فِيهِ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ ثُمَّ
    يُلْقِيهِ، وَكَذَا كُلُّ مَا لَهُ عَجَمٌ وَثُفْلٌ.
    قَالَ
    أَبُو بَكْرِ بْنُ حَمَّادٍ رَأَيْتُ أَحْمَدَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيَأْخُذُ
    النَّوَى عَلَى ظَهْرِ إصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَرَأَيْتُهُ
    يَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ النَّوَى مَعَ التَّمْرِ فِي شَيْءٍ وَاحِدٍ، ذَكَرَهُ
    الْخَلَّالُ فِي جَامِعِهِ وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ.
    وفي ” إكمال المعلم بفوائد مسلم” للقاضي عياض (6/524) :
    وقوله:
    ” ثم أتى بتمر فكان يأكله ويلقى النوى يين إصبعيه، ويجمع بين السبابة والوسطى
    “: دليل على قِلَّة ما كان يأكله – عليه السلام – لأن ما يَجتمع بين السبابة
    والوسطى إنما يكون من تمر قليل. وفيه أنه لم يُلقِه في التمر لنهيه عن ذلك لما فيه
    من إفسادٍ للطعام، وخَلطِهِ بغيره مما يُطرح فيه، وهذه سُنة .
    لكن جاء في “المستدرك ”
    للحاكم (4/134) :
    7136 – حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ
    مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا
    الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَزْرَقُ، ثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ شُعَيْبِ
    بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : «أَنَّ النَّبِيَّ
    صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ وَيُلْقِي النَّوَى
    عَلَى الْقِنْعِ» وَالْقِنْعُ: الطَّبَقُ .
    قال الحاكم : «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ
    عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» .
    قال في “التيسير بشرح الجامع
    الصغير” (2/268) :
    (كَانَ يَأْكُل الرطب ويلقي النَّوَى
    على الطَّبَق) أَي الطَّبَقِ الْمَوْضُوع تَحت إناء الرطب ، لَا الَّذِي فِيهِ
    الرطبُ فإنه يُعَاف (ك عَن أنس) بإسناد صَحِيح .

    ۷۔ کھانے کو کھجور پر ختم کرنا
    جاء في “الفوائد
    الغيلانيات” لأبي بكر الشافعي (2/714) :
    983 – حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ،
    مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ عِيسَى الْأَزْدِيُّ سَنَةَ سِتٍّ وَسَبْعِينَ
    وَمِائَتَيْنِ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ
    سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ،
    عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: ” كَانَ  رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُفْطِرَ عَلَى الرُّطَبِ مَا دَامَ الرُّطَبُ، وَعَلَى
    التَّمْرِ إِذَا لَمْ يَكُنْ رُطَبٌ، وَيَخْتِمَ بِهِنَّ، وَيَجْعَلَهُنَّ
    وِتْرًا: ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا ” .
    قال الألباني في “الضعيفة” (1749): ضعيف جداً.
    وفي
    فيض القدير” للمناوي (5/230) :
    7094 – (كان يعجبه أن يفطر على الرطب
    ما دام الرطب) موجودا (وعلى التمر إذا لم يكن رطب) أي إذا لم يتيسَّر ذلك الوقت
    (ويختم بهنَّ) أي يأكلهن عقب الطعام .
    وفي
    السراج المنير شرح الجامع الصغير” (4/105) :
    (كان يعجبه أن يفطر على الرطب مادام
    الرطب) موجوداً (وعلى التمر إذا لم يكن رطب) أي إذا لم يتيسر ذلك الوقت (ويختم
    بهن) قال المناوي :أي يأكل التمرات عقب الطعام (ويجعلهن وتراً ثلاثاً أو خمساً أو
    سبعاً) فيُسَنُّ فعل ذلك (ابن عساكر عن جابر) .
     ۸۔پکی کھجورکو خوشہ سے توڑ کر کھانا
    روى الإمام أحمد عن أم المنذر سلمى
    بنت قيس الأنصارية رضي الله تعالى عنها قالت: دخل عليَّ رسول الله صلى الله عليه
    وسلم ومعه علي رضي الله تعالى عنه ، وعليٌّ ناقِهٌ من مرضٍ، ولنا دَوَالٍ معلّقة،
    فقام رسول الله صلى الله عليه وسلّم يأكل منها… الحديث .
    قال
    ابن الأثير في “النهاية في غريب الحديث والأثر” (2/141) :
    (هـ)
    وَفِي حَدِيثِ أُمِّ الْمُنْذِرِ «قَالَتْ: دَخَل عَلَيْنَا رسولُ اللَّه صَلَّى
    اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عليٌّ وَهُوَ ناقِهٌ، وَلَنَا دَوَالٍ
    مُعَلَّقَةٌ» الدَّوَالِي جمعُ دَالِيَةٍ، وَهِيَ العِذْقُ مِنَ البُسْر يُعَلَّقُ،
    فَإِذَا أرْطَبَ أُكِلَ.

    ۹۔ تر کھجور کو خشک کے
    ساتھ اور نئی کو پرانی کے ساتھ کھانے کی ترغیب
    أخرج ابن ماجه (4/ 438) : بَابُ
    أَكْلِ الْبَلَحِ بِالتَّمْرِ :
    3330حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ،
    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ
    بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ –
    صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: “كُلُوا الْبَلَحَ بِالتَّمْرِ، كُلُوا
    الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَغْضَبُ وَيَقُولُ: بَقِيَ ابْنُ
    آدَمَ حَتَّى أَكَلَ الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ”.
    قال الأرناؤط :  إسناده ضعيف جدًا، آفتُه يحيى بن محمَّد بن
    قيس.وأخرجه النسائي في “الكبرى” (6690) من طريق يحيى بن محمَّد بن قيس،
    بهذا الإسناد
    ، وأورده ابن الجوزي في “الموضوعات” 3/ 36،
    والعقيلي في “الضعفاء” 4/ 427 وأعله بيحيى بن محمَّد وقال: لا يتابع على
    حديثه، ولا يُعرف هذا الحديثُ إلا به.
    ۱۰۔ تر کھجور یاچھوہارے کو دوسرے میوں یا دوسری قسم کے کھانوں
    کے ساتھ کھانا
    اس سلسلہ میں متعدد
    روایات ہیں ، مختصراً ان کے حوالے دیئے جاتے ہیں :

    تر وتازہ کھجور(رطب) کھیرے(ککڑی) کے ساتھ:
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ
    بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى
    اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالقِثَّاءِ»
    البخاري( 5440) مسلم (2043) أبوداود
    5835 ، الترمذي 1844، ابن ماجه 3325 .
    وفي فتح
    الباري
    (9/ 573) : قَوْلُهُ:
    يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ
    وَقَعَ فِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ كَيْفِيَّةُ أَكْلِهِ لَهُمَا ، فَأَخْرَجَ
    فِي
    الْأَوْسَطِ
    مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : رَأَيْتُ فِي يَمِينِ
    النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِثَّاءً وَفِي شِمَالِهِ رُطَبًا
    وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ ذَا مَرَّةً وَمِنْ ذَا مَرَّةً . قال الحافظ : وَفِي
    سَنَدِهِ ضَعْفٌ .
    وقَالَ النَّوَوِيُّ : فِي حَدِيثِ
    الْبَابِ جَوَازُ أَكْلِ الشَّيْئَيْنِ مِنَ الْفَاكِهَةِ وَغَيْرِهَا مَعًا ، وَجَوَازُ
    أَكْلِ طَعَامَيْنِ مَعًا ، وَيُؤْخَذُ مِنْهُ جَوَازُ التَّوَسُّعِ فِي
    الْمَطَاعِمِ ، وَلَا خِلَافَ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ فِي جَوَازِ ذَلِكَ ، وَمَا
    نُقِلَ عَنِ السَّلَفِ مِنْ خِلَافِ هَذَا مَحْمُولٌ عَلَى الْكَرَاهَةِ مَنْعًا
    لِاعْتِيَادِ التَّوَسُّعِ وَالتَّرَفُّهِ وَالْإِكْثَارِ لِغَيْرِ مَصْلَحَةٍ
    دِينِيَّةٍ .
    وَقَالَ الْقُرْطُبِيُّ : يُؤْخَذُ
    مِنْهُ جَوَازُ مُرَاعَاةِ صِفَاتِ الْأَطْعِمَةِ وَطَبَائِعِهَا
    وَاسْتِعْمَالِهَا عَلَى الْوَجْهِ اللَّائِقِ بِهَا عَلَى قَاعِدَةِ الطِّبِّ ، لِأَنَّ
    فِي الرُّطَبِ حَرَارَةً وَفِي الْقِثَّاءِ بُرُودَةً ، فَإِذَا أُكِلَا مَعًا
    اعْتَدَلَا، وَهَذَا أَصْلٌ كَبِيرٌ فِي الْمُرَكَّبَاتِ مِنَ الْأَدْوِيَةِ .
     تروتازہ  کھجور(رطب)تربوز کے ساتھ:
    روى أبو داود (3836)، والترمذي (1949)، والنسائي في “الكبرى” (6687)،
    عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه
    وسلّم يأكل البِطِّيخَ بالرُّطَب، ويقول: «يكسِرُ حرَّ هذا بردُ هذا» .
    وروى أبو يعلى(3867) والإمام أحمد(12449)والترمذي في “الشمائل”
    (200) بسندٍ رجالُه ثقات ، عن أنس رضي الله تعالى عنه قال: رأيتُ رسولَ الله صلى
    الله عليه وسلّم يجمَعُ بين البطيخ والرطب
    .

    تر وتازہ کھجور(رطب)خربوزےکے ساتھ:
    أخرج
    أحمد (
    12449)
    ومن طريقه ابن حبّان (1356) – والترمذي في “الشمائل” (رقم: 190)
    والنسائي في “الكبرى” (6726) والبيهقي (5/112) من طريق جرير بن حازم عن
    حميد عن أنس قال: رأيتُ رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يجمع بين الخِرْبِزِ
    والرُّطَب.
    وأخرج
    أبو الشيخ (ص 216) والبيهقي (5/112) من طريق زَمْعة ، عن محمد بن أبي سليمان ، عن
    بعض أهل جابر
    ، عن جابر أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – كان يأكل الخِرْبِز بالرطب ،
    ويقول: “هما الأطيبان”.
    قال في “فتح الباري”
    (9/573) : الْخِرْبِزِ بِكَسْرِ الْخَاءِ الْمُعْجَمَةِ وَسُكُونِ الرَّاءِ
    وَكَسْرِ الْمُوَحَّدَةِ بَعْدَهَا زَايٌ : نَوْعٌ مِنَ الْبِطِّيخِ الْأَصْفَرِ .

    چھوہارے دودھ کے ساتھ
     أخرج أحمد (15893) من رواية إسماعيل بن أبي خالد
    عن أبيه قال : دَخَلْتُ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَتَمَجَّعُ لَبَنًا بِتَمْرٍ،
    فَقَالَ: ” ادْنُ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    سَمَّاهُمَا الْأَطْيَبَيْنِ “.
    في تخريج
    المسند : إسناده ضعيف، أبو خالد والد إسماعيل مختلف في اسمه ، تفرَّد بالرواية عنه
    ابنه إسماعيل، ولم يؤثَر توثيقه عن غير ابن حبان، وبقية رجاله ثقات رجال الشيخين.
    قال السندي:
    قوله: يتمجَّع: المَجْعُ: أكل التمر باللَّبَن، بأن يحسو حسوة من اللبن، ويأكل على
    أَثرها تمرة.

    چھوہارے مکھن کے ساتھ
    في سنن أبي داود(3837) : حَدَّثَنَا
    مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدَ، قَالَ: سَمِعْتُ
    ابْنَ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنَيْ بُسْرٍ
    السُّلَمِيَّيْنِ قَالَا: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ “فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ
    وَالتَّمْرَ” .ونحوه عند ابن ماجه (3334) وإسناده قوي.

    چھوہارےجو کی روٹی کے ساتھ
    قال البيهقي في “شعب
    الإيمان” (8/ 57) :
    وَرُوِّينَا عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ
    اللهِ بْنِ سَلَّامٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ، فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً
    وَقَالَ: ” هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ “.

    خلاصہ :
    کھجور کھانے
    کا مسنون طریقہ :
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم
    کھجور کو کھولے بغیردائیں ہاتھ سے منھ میں رکھتے تھے ، اور اس کی گٹھلی منھ سے
    نکال کر شہادت اور بیچ کی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر ، اسے پھینک دیتے تھے ۔
    کلپ میں مذکورہ طریقہ کا تجزیہ :
    واعظ صاحب
    نے کہا:
    ۱۔ سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھجور
    کو کھولتے تھے(
    اوپر مضمون میں نمبر۴ ملاحظہ
    ہو
    )
    ۲۔ پھر بیج
    کو نکالتے تھے اور اس کو چوستے تھے ۔(
    روایتوں
    میں وارد نہیں
    )
    نیزاگر
    چھوہارے کا بیج مراد ہے تو اس کا چوسنا فضول ہے ۔اور اگر تازہ کھجور کا بیج مراد
    ہےکہ ممکن ہے کہ اس پر کھجور کا کچھ حصہ لگا ہوا ہو، تو اس کےکھجور سے نکالنے میں
    دونوں ہاتھ ملوث ہوں گے، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نفاستِ طبع کے خلاف ہے۔
    ۳۔ پھر بیج
    کو دو انگلی پر رکھ لیتے تھے ، بعض روایتوں میں انگوٹھے کا بھی ذکر ہے۔(
    انگوٹھا وارد نہیں،اوپر نمبر۵ ملاحظہ فرمائیں)
    اور جب بیج
    کومنھ میں سے ہاتھ سے نکالا ہے تو اس کو دوبارہ انگلیوں کی پشت پر رکھنے کی کیا
    ضرورت ہے ؟!
    ۴۔ پھر بیج
    کو دستر خوان پر پھینک دیتے تھے(
    ممکن ہے،نمبر
    ۶ ملاحظہ فرمائیں
    ۵۔ پھر
    باقی کھجور کو کھالیتے تھے(
    الحمد للہ

    جمعہ ورتبہ العاجز : محمد طلحہ بلال
    احمد منیار
    ۲۴ رمضان المبارک ۱۴۴۱ ھ / ۱۸ مئی
    ۲۰۲۰ ء
  • برتن کا اس کے صاف کرنےوالے کو دعا دینا

    برتن کا اس کے صاف کرنےوالے کو دعا دینا



    سوال :  جو برتن کو صاف کرے تو برتن اس کو دعا دیتا
    ہے
    ،اور
    جو صاف نہ کر
    ے
    برتن اس کے لئے بد دعا کرتا ہے
    ۔کیا اس طرح کی کوئی حدیث
    ہے
    ؟ اگر
    ہو تو بحوالہ ارسال کریں
    ۔

    جواب
    :
    برتن کا اس کے
    صاف کرنے والے کو دعا دینے کے متعلق دوطرح کی روایات وارد ہیں :

    ۱۔
    برتن کا استغفار کرنا
    عن نُبَيشة الخير رضي
    الله عنه مرفوعا :
    “مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا،
    اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ”۔
    تخریجہ : جامع
    الترمذی (1907) ، سنن ابن ماجہ
    (3271،3272)، مسند احمد (20724) ۔
    حالہ : ضعیف ہے
    ، سند میں ایک راوی مجہول ہے ۔

    ۲۔
    برتن کا استغفار ، اور جہنم سے خلاصی کی دعا دینا
    عن انس رضي الله عنه
    مرفوعا :
    ” إِذَا لَعِقَ الرَّجُلُ الْقَصْعَةَ اسْتَغْفَرَتْ
    لَهُ الْقَصْعَةُ فَتَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعْتِقْهُ مِنَ النَّارِ كَمَا
    أَعْتَقَنِي مِنْ يَدِ الشَّيْطَانِ ” ، وزاد الحکیم الترمذی من حدیث انس :
    “وَصَلَّت عَلَیہ” ۔
    وفي النجم الوهاج في
    شرح المنهاج للدميري (9/ 580) : وروى البزار أنها تقول: (اللهم أجره من النار كما
    أجارني من لَعْقِ الشيطان).
    تخریجہ :
    الترغيب في فضائل الأعمال وثواب ذلك لابن شاهين (ص: 157) ، نوادر الاصول (462) ۔
    حالہ : ضعیف جدا
    ، سند میں سمعان بن مہدی مجہول ہے ، اور اس سے ایک موضوع نسخہ روایت کیا جاتا ہے ،
    اس لئے اس حدیث کو کتب موضوعات میں ذکر کیا جاتا ہے ، جیسے : تنزیہ الشریعہ(2/267، رقم 137) ۔

    خلاصہ
    : روایات میں برتن صاف کرنے والے کے حق میں دعا کا تو تذکرہ ہے ، البتہ صاف نہ
    کرنے والے کے حق میں بد دعا کرنا نہیں ملا ۔ مگر استغفار کرنے کی روایات میں جو ضعف ہے وہ
    فضائل کے باب میں چل سکتا ہے ۔

    كتبه العاجز : محمد طلحة بلال أحمد منيار

  • حدیث : من لبی تلبیۃ واحدۃ کی تخریج وتحقیق

    حدیث : من لبی تلبیۃ واحدۃ کی تخریج وتحقیق

    حدیث کے مختصر مضامین (۱)
    حدیث : من لبی تلبیۃ واحدۃ حج حجۃ واحدۃ ومن لبی مرتین حج حجتین ومن زاد
    فبحساب ذلك
    اس حدیث کی ایک سند  موضوع
    من گھڑت ہے ۔ اسی لئے متعدد کتب موضوعات میں اس روایت کو جگہ دی گئی ہے ، جیسے :
    تذکرة
    الموضوعات 73 ، تنزيه الشريعة/173 ، ذيل اللآلئ 443 ، الفوائد المجموعة 307
    .
    سند کےگھڑنے والا  کا نام ہے ( محمد
    بن محمد بن الأشعث بن الهیثم ، أبو الحسن کوفي

    ) جس نے 1000 ایک ہزار
    سے زائدروایات
    آل بیت پر مختلف ابواب فقہ میں گھڑی ہے ، اور ان تمام روایات کو ایک ہی سند سے ذکر
    کیاہے ۔
    وہ سند یہ ہے : موسی بن إسماعیل بن جعفر ، عن أبيه إسماعیل بن جعفر ، عن جده جعفر
    بن محمد الصادق ، عن أبيه محمد الباقر ، عن أبيه علي زین العابدین ، عن أبيه
    الحسین بن علي ، عن الإمام علي بن أبي طالب رضی الله عنه وعنهم
    ۔

    اس سند کو اختصارا اس طرح
    بیان کیا جاتا ہے : ابن الاشعث عن موسی بن اسماعیل عن آبائہ  

    ابن الاشعث کی گھڑی ہوئی  1000 ایک ہزار
    مرویات کو ( الجعفریات ) یا ( العلویات ) یا ( الاشعثیات ) کہا جاتا ہے ، اور
    روافض کے یہاں ان کو مستقل ایک کتاب میں جمع کیا گیا ہے ۔ حافظ ابن حجر نے
    “لسان المیزان” میں تحریر فرماتے ہیں کہ : ابن الاشعث نے اس کتاب کو (
    السنن ) کے نام سے موسوم کیا ہے ، اور پوری کتاب  کی مرویات ایک ہی سند سے بیان کی ہے ۔ ابن عراق
    نے “تنزیہ الشریعہ” میں مذکورہ روایت کا حوالہ اس طرح دیا ہے : (
    ابن
    الأشعث في سننه التي وضعها علی آل البیت ، من حدیث علي

    ).

    وقال السيوطي في الدر
    المنثور في التفسير بالمأثور
    (6/ 33) : وَأخرج
    الديلمي بسندٍ واهٍ عَن عَليّ رَفعه : لما نَادَى إِبْرَاهِيم بِالْحَجِّ لبّى
    الْخلق ، فَمن لبّى تَلْبِيَة وَاحِدَة حج وَاحِدَة ، وَمن لبّى مرَّتَيْنِ حج
    حجَّتَيْنِ ، وَمن زَاد فبحساب ذَلِك .
    اسی طرح ابن عدی نے
    “الکامل” میں اور دارقطنی نے محمد بن الاشعث پر ان روایات کے گھڑنے کی
    تہمت لگائی
    ہے
    ۔
    قال السيوطي في الزيادات
    على الموضوعات
    (1/ 442) : قال
    السَّهمي: سألتُ الدارقطني عنه فقال: إنه مِن آيات الله، وضع ذلك الكتاب -يعني العَلَويات-
    انتهى
    .

    خود روافض کی کتب اسماء رجال
    میں ابن الاشعث کے بارے میں عدم اعتماد ظاہر کیا گیا ہے ، اور اس کے شیخ (موسی بن
    اسماعیل ) کو مجہول قرار دیا گیا ہے ، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے کہ (موسی
    بن اسماعیل ) کی شخصیت بھی ابن الاشعث کی ایجاد کردہ ہے ۔

    البتہ زیر بحث روایت کا مفہوم ایک دوسری سند سے منقول ہے جو قابل اعتبار ہے ، چنانچہ فاکہی نے ( تاریخ مکہ ) میں حضرت ابوہریرہ رضی
    اللہ عنہ سے مرفوعا ایک روایت پیش کی ہے ، وہ یہ ہے 
     :

    973 – أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، عَرَضْتُهُ عَلَيْهِ
    قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ،
    عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ
    اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
    ” لَمَّا فَرَغَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ
    السَّلَامُ مِنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ أَمَرَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُنَادِيَ
    فِي الْحَجِّ، فَقَامَ عَلَى الْمَ
    قَام، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَبَّكُمْ قَدْ بَنَى لَكُمْ
    بَيْتًا فَحُجُّوهُ، وَأَجِيبُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَأَجَابُوهُ فِي
    أَصْلَابِ الرِّجَالِ وَأَرْحَامِ النِّسَاءِ: أَجَبْنَاكَ أَجَبْنَاكَ، لَبَّيْكَ
    اللهُمَّ لَبَّيْكَ، قَالَ: ” فَكُلُّ مَنْ حَجَّ الْيَوْمَ فَهُوَ مِمَّنْ
    أَجَابَ إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَدْرِ مَا لَبَّى “
    ۔  أخبار مكة للفاكهي (1/ 445)
    اس روایت کی سند میں مذکور ناقلین معتبر ہیں
    ، اور روایت کے اخیر میں ( علی قدر ما لبی ) اوپر والی روایت کے مفہوم میں ہے ۔
    خلاصہ یہ ہے کہ
    : اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان
    کرنا چاہئے ، جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت کرنے میں احتیاط کرنی چاہئے
    ، کیونکہ اس کی سند من گھڑت ہے۔

    حررہ العاجز :محمد طلحہ بلال احمد منیار