Blog

  • کیا مشورہ وحی کا بدلہ ہے ؟

    کیا مشورہ وحی کا بدلہ ہے ؟

    کیا مشورہ وحی  کا بدلہ ہے ؟
    سوال
    :
    بعض عوام
    الناس مشورہ
    کے آداب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: مشورہ وحی کا بدلہ ہے ۔کیا یہ بات صحیح ہے ؟
    الجواب: يُستأنَس له
    بقول الصديق رضي الله عنه حينما شاور الصحابة في بعث جيش أسامة
    :
    (قد علمتم أن مِن عَهد نبيكم إليكم : المَشُورةَ
    فيما لم يَمضِ فيه من نبيكم سُنةٌ ، ولم يَنزِل به عليكم كتابٌ
    ، وقد
    أشرتم وسأشير عليكم . فانظروا أرشدَ ذلك فائتمروا به ، فإن الله لن يجمعَكم على
    ضلالة) . (كنز العمال 30269) وغيره . فجعل الصدّيقُ المشورةَ بديلةً عن الوحيين
    الكتاب والسُّنة
    .
    قال الزمخشري رحمه الله في تفسير قوله
    تعالى : ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ يعني أمر الحرب ونحوه مما لم يَنزِل عليك فيه وحيٌ لتستظهر برأيهم ، ولِمَا
    فيه من تطييب نفوسهم ، والرفع من أقدارهم
    .
    وفي كتاب ( السياسة الشرعية ) لابن
    القيم
    :الفصل السابع : المشاورة
    لا غنى لولي الأمر عن المشاورة ، فإن
    الله تعالى أمر بها نبيَّه صلى الله عليه وسلم فقال تعالى : ﴿فاعف عنهم واستغفر
    لهم وشاورهم في الأمر فإذا عزمت فتوكل على الله إن الله يحب المتوكلين ﴾
    .
    وقد روي عن أبي هريرة رضي الله عنه
    قال : (لم يكن أحدٌ أكثرَ مشورةً لأصحابه من رسول الله صلى الله عليه وسلم) .
    وقد قيل : إن الله أمر بها نبيه
    لتأليف قلوب أصحابه ، وليقتدي به من بعده ، وليستخرج منهم
    الرأيَ فيما لم ينزل فيه وحي
    ، من أمر الحروب ، والأمور الجزئية وغير
    ذلك ، فغيره صلى الله عليه وسلم أولى بالمشورة . انتهى
     .
    أقول أنا العاجز: ينبغي أن يُحمَل هذا
    على مَشُورَة الحاكم المسلم أهلَ الحَلِّ والعَقد والرأي والعلم والفَهم فيما
    يخُصُّ أمورَ المسلمين . ولا يَصِحُّ أن نعتبر كلَّ مشورة صغيرةِِ وكبيرةِِ ومن
    عوامّ الناس بمَثابة الوحي ، بل هُو غُلوّ وتعدّ للحدود الشرعية ، ويفتح بابَ
    الاختلاف والتنازع والفُرقة
    .
    وانظر ترجمة كلام الصديق في كتاب ( حياة
    الصحابة ) المترجم ج 1 ص 549
    ۔

    سطره العاجز : محمد طلحة بلال أحمد منيار
    5/10/2017

  • حضور کی چادر

    حضور کی چادر

    مُلاءةُ
    الرَّسول
    (حضور کی چادر)
    سوال : حضرت فاطمہ رضی
    اللہ عنہا کی غربت اور فقر کے متعلق ایک مشہور روایت ہے کہ : حضور ایک صحابی کے
    ساتھ ان کے گھر آئے تو پردہ کے لئے ان کے پاس کپڑا نہیں تھا ،  تو حضور نے اپنی چادر اندر بھیجی … الخ  
    اس روایت کی تحقیق اور
    عربی عبارت ارسال فرمادیں .
    الجواب :
    یہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے ، واقعہ طویل ہے ۔ اس میں سے
    مطلوبہ عبارت یہ ہے :

    قَالَ
    مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ
     ، عَن عِمْرَانَ بْنِ
    حُصَيْنٍ قال :خَرَجْتُ يَوْمًا فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ
    ، فَقَالَ لِي: ” يَا عِمْرَانُ إنَّ فَاطِمَةَ مَرِيضَةٌ فَهَلْ لَكَ أَنْ
    تَعُودَهَا ” قَالَ: قُلْتُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي وَأَيُّ شَرَفٍ أَشْرَفُ
    مِنْ هَذَا قَالَ: ” انْطَلِقْ ” فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ
    السَّلَامُ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى الْبَابَ فَقَالَ: ”
    السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أأَدْخُلُ؟ ” فَقَالَتْ: وَعَلَيْكُمُ ادْخُلْ،
    فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَنَا وَمَنْ
    مَعِي؟ ” قَالَتَ: وَمَنْ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَعِي
    عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ
    الْخُزَاعِيُّ»
    قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَلَيَّ إلَّا هَذِهِ الْعَبَاءَةُ
    قَالَ: وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَاءَةٌ خَلِقَةٌ
    فَرَمَى بِهَا إلَيْهَا فَقَالَ لَهَا: ”
    شُدِّيهَا عَلَى رَأْسِكِ ” فَفَعَلَتْ , ثُمَّ قَالَتِ: ادْخُلْ فَدَخَلَ
    رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ
    … الحديث

    انظر : شرح مشكل الآثار 1/141، الشريعة
    للآجري 5/2117 ، إحياء علوم الدين 4/197، فضائل فاطمة لابن شاهين 1/26 .
    سند ضعیف ہے ، مبارک بن
    فضالہ مدلس ہے ۔ اور حسن بصری کی روایت میں ارسال  
    وانقطاع
    ہے ۔
    سطرہ العبد العاجز : محمد طلحہ بلال احمد
    منیار
    11/1/2018

  • معافی مانگنے والے کو معاف نہ کرنا

    معافی مانگنے والے کو معاف نہ کرنا

    معافی مانگنے والے کو معاف نہ کرنا
    سوال :
    کیا کوئی ایسی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ :
    اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے معافی مانگے ، اور وہ کہے : میں معاف نہیں کرتا ،
    تو وہ کل قیامت میں حوض کوثر پر میرے پاس نہ آ ئے .
    الجواب بعون
    الملك الوهاب :
    جی ہاں اس طرح کا مضمون مندرجہ
    ذیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایت سے منقول ہے،لیکن ہر ایک سے صحیح سند سے ثابت نہیں  ہے:

    1- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا (ثابت نہیں)
    2- حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (موضوع)
    3- حضرت علی رضی اللہ عنہ (ضعیف جدا)
    4- حضرت جابر رضی اللہ عنہ  (لا يثبت)
    5- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (ضعيف)
    حضرت عائشہ اور حضرت انس کی روایت کے الفاظ یہ ہیں :
    (ومن اعتذر إلى أخيه المسلم من شيء بلغه عنه فلم يقبل عُذره لم
    يَرِدْ عَلَيَّ الحوضَ
    )
    .
    حضرت ابو ہریرہ کی
    روایت اس طرح ہے :
    (… ومن أتاه أخوه متنصّلا فليقبل ذلك منه ، مُحِقّا كان أو
    مُبطِلا ، فإن لم يفعل لم يَرِدْ عليَّ الحوضَ
    ) . وبنحوه حديث علي .
    اورحضرت جابر کی حدیث ہے
    :
    ( من تُنُصّل إليه فلم يقبل ، لم يرد عليّ الحوض ) .
    مذکورہ روایات کی تخریج
    اور اسنادی حیثیت :

    1- حديث عائشة رضي الله عنها :
    رواه الطبراني في “المعجم
    الأوسط” (6/241) وقال : ” لم يرو هذا الحديث عن عامر بن عبد الله بن
    الزبير إلا عبد الملك بن يحيى بن الزبير ، تفرد به خالد بن يزيد العمري ”
    انتهى .
    قال الهيثمي في “مجمع
    الزوائد” (8/81) : ” فيه خالد بن یزيد العمري وهو كذاب ” انتهى

    2- حدیث أنس بن مالك رضي الله عنه :
    أخرجه ابن عساكر في سباعياته -كما قال
    السيوطي في اللآلئ المصنوعة (2/190)- من طريق أبي هدبة الفارسي ، عن أنس بن مالك .
    وأبو هدبة الفارسي هو إبراهيم بن هدبة
    : وهو كذاب ، قال ابن حبان في المجروحين (1/114) : ” إبراهيم بن هدبة ، أبو
    هدبة ، شيخ يروي عن أنس بن مالك : دجال من الدجاجلة .
    وقال الشيخ الألباني في “ضعيف
    الترغيب” (2/119) : ” موضوع ” انتهى . وكذا في “السلسلة
    الضعيفة” (رقم/2043) .

    3- حدیث علي رضي الله عنه :
    أخرجه الشجري في أماليه ( 2/118) وفي
    إسناده عبد الصمد بن موسى . قال في الميزان (2/621): يروي مناكير عن جده .

    4- حديث جابر رضي الله عنه :
    رواه الطبراني في الأوسط ( 1029 )
    والحاكم ( 7259) وفي سنده علي بن قتيبة الرفاعي وهو منكر الحديث ، وله أباطيل عن
    مالك بن أنس ، هذا منها .

    5- حدیث أبي هريرة رضي الله عنه :
    رواه الحاكم في “المستدرك”
    (4/154) وقال : ” هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه ” ، وتعقبه الذهبي
    بقوله : ” بل سويد ضعيف ” انتهى .
    وسويد بن إبراهيم أبو حاتم صدوق سيء
    الحفظ .
    وقال الشيخ الألباني في “السلسلة
    الضعيفة” (رقم/2043) : ” ضعيف الإسناد ” انتهى .
    خلاصہ:
    حضرت ابوہریرہ  والی روایت کا ضعف محتمل ہے ۔ باقی روایات کا اعتبار نہیں ہے۔
    اور (لم یرد عليَّ
    الحوضَ
    ) کا صحیح مطلب ہے : وہ قیامت کے دن میرے
    حوض پر نہیں آئے گا،اور اس کو جام کوثر نصیب نہیں ہوگا ۔
    منقول  ومستفاد من الشاملہ وغیرھا
    جمعہ ورتبہ العاجز : محمد طلحہ بلال احمد
    منیار
    11/11/2018

  • اطلبوا العلم من المہد الی اللحد کی تحقیق

    اطلبوا العلم من المہد الی اللحد کی تحقیق

    طلب العلم من المهد
    الى اللحد
    استفسار: )اطلبو
    العلمَ من المَهْد الی اللَّحد
    (
    کیا یہ جملہ حدیث میں ہے؟ اور
    اس
    کی نسبت امام احمد بن حنبل کی طرف صحیح ہے ؟
    برائے
    مہربانی بتائیں۔
    الجواب
    بعون الملک الوھاب:
    يقول الشيخ عبد الفتاح أبو غدة في
    كتابه ( قيمة الزمن عند العلماء ص 29)  :
    هذا الكلام : ” طلبُ العلم من المَهد إلى اللَّحد” ويُحكى أيضا بصيغة
    ” اطلبوا العلم من المَهد إلى اللحد”: ليس بحديث نبوي، وإنما هو من كلام
    النّاس، فلا يجوز إضافتُه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم كما يتناقله
    بعضهم….وهذا الحديث الموضوع: ” اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد”مشتهرٌ
    على الألسنة كثير، ومن العجب أن الكتب المؤلفة في ” الأحاديث المنتشرة”
    لم تذكره.
    أما قول الإمام أحمد فكما ذكره ابن مُفلِح
    في “الآداب الشرعية
    : قَالَ صَالِحٌ : رَأَى رَجُلٌ مَعَ أَبِي مِحْبَرَةً فَقَالَ لَهُ :
    يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ! أَنْتَ قَدْ بَلَغْتَ هَذَا الْمَبْلَغَ وَأَنْتَ
    إمَامُ الْمُسْلِمِينَ! فَقَالَ : مَعِي الْمِحْبَرَةُ إلَى الْمَقْبَرَةِ
    .
    ولا يصحُّ عن الإمام أحمد أنه قال : (
    اطلبوالعلم من المهد إلى اللحد ) .

    خلاصہ یہ ہے کہ : (اطلبوالعلم
    من المهد إلى اللحد
    ) کو حضور صلی
    اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا ، یا حدیث کہہ کر بیان کرنا درست نہیں ہے ،
    کیونکہ یہ کسی بھی سند سے ثابت نہیں ہے ، ممکن ہے سلف صالحین میں سے کسی بزرگ کا
    قول ہو ۔ اس کے قریب قریب حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے کہ :قلم
    ودوات میرے ساتھ قبر تک رہیں گے ،یعنی طلب علم کا سلسلہ زندگی بھر رہے گا ،زیر بحث
    جملہ امام احمد سے بھی ثابت نہیں ہے۔
    رتبہ العاجز : محمد طلحہ بلال احمد منیار
    11/10/2017

  • صحابہ کرام کا حضور کی خدمت میں کھجور پیش کرنا

    صحابہ کرام کا حضور کی خدمت میں کھجور پیش کرنا

    صحابہ کرام  کا محنت کی کمائی سے حضور کی خدمت میں کھجور لاکر پیش کرنا
    مفتی عادل
    صاحب عثمانی نے یہ سوال کیا کہ :
    ایسی کوئی روایت ہے کہ
    صحابہ کرام دن بھر محنت مزدوری کرکے چند کھجور جمع کرتے. اور اس کو آپ ﷺ کی خدمت میں
    لا کر صدقہ کر دیتے.

    میں نے
    جواب دیا کہ :
    اس طرح کی بات حضرت سلمان فارسی رضی اللہ
    عنہ کے اسلام لانے کے طویل واقعہ میں موجود ہے ۔وہ مدینہ منورہ میں کسی باغ میں
    کام کرتے تھے ، جب انہوں نے حضور ﷺ کی آمد کی خبر سنی ، تو انہوں نے اپنی مالکہ سے
    ایک دن کی چھٹی مانگی ، اس نے منظور کرلی ، فرماتے ہیں :
    میں وہاں سے روانہ ہوا
    ،کچھ لکڑیاں کاٹیں اور انہیں بیچ کر کھانا تیار کیا ،اور اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی
    خدمت میں حاضر ہوا ،اور نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا ،نبی کریم ﷺ نے پوچھا یہ کیا
    ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ: یہ صدقہ ہے ،نبی کریم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ تم
    لوگ ہی کھالو ،نبی کریم ﷺ نے اسے تناول نہ فرمایا ۔
    پھر کچھ عرصہ گذرنے کے
    بعد ایک مرتبہ دوبارہ میں نے اپنی مالکہ سے ایک دن کی چھٹی مانگی جو اس نے مجھے دے
    دی ،میں نے حسب سابق لکڑیاں کاٹ کر بیچ کر کھانا تیار کیا، اور نبی کریم ﷺ کی خدمت
    میں حاضر ہوا ،نبی کریم ﷺ اپنے ساتھیوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے، میں نے وہ کھانا
    نبی کریم ﷺ کے سامنے لے جا کر رکھ دیا ،نبی کریم ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ میں نے
    عرض کیا : یہ ہدیہ ہے، نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے
    بھی فرمایا کہ :کھاؤ اللہ کے نام سے۔

    یہ مسند احمد (۲۳۷۱۲)کی
    روایت ہے ، اس میں ان کا پورا دن محنت مزدوری کرکے ، اس کی رقم سے حضور کی خدمت میں
    کھانا پیش کرنا مذکور ہے ، پہلی بار بنیت صدقہ ، اور دوسری بار من باب الہدیہ ۔

    مگرمسند احمد کی دوسری
    روایت (۲۲۹۹۷) نیز  مستدرک حاکم (۳/۶۹۲)
    مصنف عبد الرزاق (۸/۴۲۰) معجم کبیر (۶/۲۳۲) مسند الحارث (۲/۸۶۸) کی روایتوں میں :
    کھجور لاکر پیش کرنا بھی وارد ہے ، تو اس طرح سے دونوں باتیں مل گئیں : محنت مزدوری
    کی کمائی ، اور اس سے کھجور لاکر پیش کرنا ۔

    یہ بھی یاد رکھیں کہ : واعظین مقررین بعض مرتبہ
    کسی ایک صحابی کے واقعہ کو تمام صحابہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بالفاظ عموم بیان
    کرتے ہیں کہ : صحابہ کرام ایسا کرتے تھے، جبکہ وہ واقعہ کسی مخصوص صحابی کا ہوتا ہے ۔
    ہذا
    مااراہ ، والعلم عند اللہ
    رقمہ :محمد طلحہ بلال احمد منیار
    8/1/2018

  • میزبانی کے کھانے پر حساب نہ ہوگا

    میزبانی کے کھانے پر حساب نہ ہوگا


    میزبانی کے کھانے پر وارد ایک روایت
    کی تحقیق
    سوال : کیا روایات میں
    صراحتا یہ وارد ہے کہ جو کھانا مہمان کو کھلایا جائے اس کا حساب نہیں ہوگا؟
    الجواب :
    امام غزالی نے (احیاء)
    میں ایک حدیث ذکر کی ہے :
    “ثلاثة لا يحاسب عليها العبد :
    أكلة السحور ، وما أفطر عليه ، وما أكل مع الإخوان”
    امام عراقی اس کی تخریج
    میں فرماتے ہیں :
    أخرجه الأزدي في “الضعفاء” من حديث جابر
    “ثلاثة لا يسألون عن النعيم : الصائم والمتسحر والرجل يأكل مع ضيفه”
    أورده في ترجمة سليمان بن داود الجزري وقال فيه: منكر الحديث، ولأبي منصور الديلمي
    في “مسند الفردوس” نحوه من حديث أبي هريرة.

    دیلمی کی (فردوس) کی
    روایت جس کی طرف امام عراقی نے اشارہ کیا ہے ، اس کو امام سیوطی نے “ذيل
    الموضوعات” ۱/۴۱۷ میں ذکر کیا ہے، اور اس پر وضع کا حکم لگایا ہے:
    قال الديلمي : أخبرنا أبو طالب
    الحسيني ، أخبرنا عمر بن أحمد بن مسرور ، حدثنا عبد الرحمن بن أحمد بن حمويه ،
    أخبرنا أبو نعيم الإستراباذي ، حدثنا محمد بن يزيد العطار ، حدثنا أبو بلال ،
    حدثنا أبو يوسف الخراساني ، حدثنا مجاشع بن عمرو ، عن الأوزاعي ، عن يحيى بن أبي
    كثير ، عن أبي سلمة ، عن أبي هريرة مرفوعاً: (ثَلَاثَة لَا يُسْأَلُون عَن نعيم
    الْمطعم وَالْمشْرَب : المفطر والمتسحر وَصَاحب الضَّيْف . وَثَلَاث لَا يُلامون
    على سوء الْخلق : الْمَرِيض والصائم حَتَّى يفطر والامام الْعَادِل ) .قال السيوطي
    : مُجاشع يضع .

    اسی
    طرح امام شوکانی اور شیخ البانی نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے ۔

    قال الألباني في “الضعيفة”
    (4/447) :
    1980 – ” ثلاثة لا يسألون عن نعيم المطعم والمشرب: المفطر
    والمتسحر وصاحب الضيف. وثلاثة لا يلامون على سوء الخلق: المريض والصائم حتى يفطر
    والإمام العادل “.
    أخرجه الديلمي في ” مسنده ”
    (2 / 35 / 2) من طريق مجاشع بن عمرو عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة
    عن أبي هريرة مرفوعا.
    قلت: وهذا موضوع، آفته مجاشع هذا، قال
    ابن حبان في ” الضعفاء ” (3 /18) : ” كان ممن يضع الحديث على
    الثقات، ويروي الموضوعات عن أقوام ثقات، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح
    فيه “.
    وذكره الشوكاني في
    “الفوائد” ص 90 ، وابن عراق في “تنزيه الشريعة” 2/166 ،
    والفتني في “تذكرة الموضوعات” ص 70
    ۔
    خلاصہ یہ ہے کہ : مہمان کے ساتھ
    تناول کئے ہوئے کھانے کا قیامت کے دن حساب نہ ہوگا ، یہ بات کسی معتبر روایت سے
    ثابت نہیں ہے ، اس لئے حدیث کے حوالے سے بیان کرنا درست نہیں ہے۔
    رقمہ : محمد طلحہ
    بلال ا حمد منیار
    20/12/2017

  • شادی شدہ شخص کی دو رکعت کی فضیلت

    شادی شدہ شخص کی دو رکعت کی فضیلت

    بسم
    الله الرحمن الرحيم

    هذا الحديث ورد بألفاظ
    مختلفة :
    – رَكعتانِ مِن مُتزوجٍ خيرٌ مِن سبعينَ ركعةً مِن عَزَبٍ .[مشيخة
    الآبنوسي]
    – رَكْعَتَانِ مِنَ الْمُتَزَوِّجِ
    أَفْضَلُ مِنْ سَبْعِينَ رَكْعَةً مِنَ الْأَعْزَبِ . [ضعفاء العقيلي]

    ركعتان من متأهِّلٍ خير من سبعين ركعة من غير متأهل .[الكامل لابن عدي]
    – ركعتان من المُتأهِّلِ خيرٌ من اثنتين وثمانين ركعةً من العَزَبِ
    . [المختارة للضياء]
    وورد من حديث أنس وأبي
    هريرة وابن عمر رضي الله عنهم

    (1) حديث أنس : ورد من طريقين :
    1- مُجَاشِعُ
    بْنُ عَمْرٍو ، عن عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ،
    عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ …
    الحديث
    أخرجه العقيلي في الضعفاء (4/ 264) بلفظ:
    «رَكْعَتَانِ مِنَ الْمُتَزَوِّجِ أَفْضَلُ مِنْ سَبْعِينَ رَكْعَةً مِنَ الْأَعْزَبِ»
    .

    حكمه : موضوع
    في سنده مجاشع بن عمرو .
    قال العقيلي : مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو
    ، حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
    ثم نقل عن ابن
    معين أنه قال: “قد رأيته ، أحد الكذّابين”.

    والحديث
    ذكره العقيلي في “الضعفاء” (4/264) وابن الجوزي في
    الموضوعات”  (2/257)  ونقل عن ابْنِ حِبَّانَ قوله : يضع الحَدِيث على
    الثقات ، لَا يَحِلُّ ذِكْرُهُ إِلا بِالْقَدْحِ
    .
    2- سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ
    الرَّحْمَنِ ، عن مَسْعُودُ بْنُ عَمْرٍو الْبَكْرِيُّ ، عن حُمَيْدٌ الطَّوِيلِ ،
    عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُول الله
    صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ …الحديث
    أخرجه
    الضياء في المختارة
    (6/109) وتمام في فوائده (2/365) بلفظ : رَكْعَتَانِ مِنَ الْمُتَأَهِّلِ خَيْرٌ
    مِنْ اثْنَتَيْنِ وَثَمَانِينَ رَكْعَةً مِنَ الْعَزَبِ .
    قال الضياء :
    ذَكَرَهُ الْعُقَيْلِيُّ مِنْ رِوَايَةِ مُجَاشِعِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ
    الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ .
    وَهَذِهِ الطَّرِيقُ غَيْرُ تِلْكَ ، إِلا أَنَّ مَسْعُودَ بْنَ عَمْرٍو
    الْبَكْرِيَّ لَمْ يَذْكُرْهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي كِتَابه .

    حكمه : منكر جدا
    في سنده : مسعود بن عمرو البكري قال الذهبي فيه : “لا أعرفه، وخبره
    باطل” ثم ذكر الحديث. وأقرّه الحافظ في “اللسان” (6/ 27).
    وأنكر ابن حجر في “أطرافه” على
    الضياء تخريجَه في “المختارة”
    – كما في “اللآلىء المصنوعة 2/ 135”- وقال :
    “هذا حديثٌ منكرٌ ما لإخراجه معنى! “.
    (2) حديث أبي
    هريرة :
    أخرجه ابن
    عدي في
    الكامل في ضعفاء الرجال (8/ 497)
    قال :
    حَدَّثَنا
    المُسَيَّب بْنُ وَاضِحٍ، حَدَّثَنا يُوسُفَ بْنِ السَّفَرِ ، عَنِ الأَوْزاعِيّ،
    عَن يَحْيى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَن أَبِي سَلَمَةَ، عَن أَبِي هريرة قال : رَسُولِ
    اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ : شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ ، رَكْعَتَانِ
    مِنْ مُتَأَهِّلٍ خَيْرٌ مِنْ سَبْعِينَ رَكْعَةٍ من غير متأهل.

    حكمه
    : موضوع
    في سنده :
    يوسف بن السفر ، وهو متروك ، متهم بوضع الحديث .
    قال النسائي:
    ليس بثقة
    . وقال الدارقطني: متروك الحديث يكذب. وقال ابن عَدِي:
    روى بواطيل
    . وقال البيهقي: هو في عداد من يضع الحديث. وقال أبو زرعة،
    وَغيره: متروك. نقل هذه الأقوال الحافظ ابن حجر في “لسان الميزان” (8/
    556) .
    وقال ابن عدي في “الكامل” (7/ 2620) بعد تخريج
    بعض الأحاديث من طريق يوسف بن السفر : “هذه الأحاديث عن يحيى عن أبي سلمة مع
    غيرها بهذا الإِسناد يرويها كلّها يوسف بن السفر، وهي موضوعة كلّها”.
    (3) حديث ابن عمر :
    أخرجه الآبنوسي في مشيخته (229) قال :
    حدثنا أبي قال: حدثنا علي بن إبراهيم،
    أن الحارث أخبرهم قال: حدثني أبوالعلاء أحمد بن مسلم قال: حدثنا أحمد بن محمد –
    يعني ابن عمر بن يونس- قال: حدثنا داود بن عبدالله النمري، عن محمد بن عجلان، عن
    نافع، عن ابن عمر قالَ: قالَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: «رَكعتانِ مِن
    مُتزوجٍ خيرٌ مِن سبعينَ ركعةً مِن عَزَبٍ».

    حكمه : منكر جدا
    قال الألباني : وهذا سند ساقط، أحمد
    بن مسلم وداود بن عبد الله النمري لم أجد من ترجمهما. وأما أحمد بن محمد بن عمر بن
    يونس فهو كذاب، قال الذهبي: ” كذبه أبو حاتم وابن صاعد، وقال الدارقطني:
    ضعيف، وقال مرة: متروك “. سلسلة الأحاديث الضعيفة (2/98) .
    الخلاصة :
    أن الحديث موضوع لا تصح نسبته إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، وأسانيده في غاية
    الوهاء والضعف .
    تنبيه :
    قوله : “شراركم عزابكم” هذه الجملة ليست موضوعة ، بل وردت ببعض الأسانيد
    الضعيفة من حديث أبي ذر ، كما عند

    عبد الرزاق في ” المصنف ” (6/171) ، وأحمد (5/163)
     .
    لخصه : محمد طلحة بلال أحمد منيار
    1/6/2020

  • رزین کی کہانی خود اس کی زبانی

    رزین کی کہانی خود اس کی زبانی

    رزین
    کی کہانی خود اس کی زبانی
    [ قصة رزين بلفظه وقلمه لأول مرة مع الترجمة ]
    جمع وترتیب : محمد طلحہ بلال  احمد
    منیار
    / اردوترجمہ  : مولوی محمد یاسر
    عبداللہ
    سبب
    الاقتصار على جمع الصحيح فقط
    قال رزين في
    أثناء مقدمة ” تجريد الصحاح” :
    فلما
    لم نَجِد مَن أفصَحَ في جميع ما جَمَعه بالصِّحة ، إلا هذين الإمامَين المقدَّم
    ذكرهما [ يعني الشيخين البخاري مسلما ] مع مالكٍ في كتابه ” الموطأ ” وشَهِدتْ
    لهم بصحةِ ذلك مَعَ الأَلسُنِ الفِطَرُ ، حتى قد شاعَ وذاعَ وانتشرَ … فجمعتُها
    في كتابٍ واحدٍ ، على رُتبةٍ سأذكرُها …

    صرف صحیح
    احادیث پر اکتفا کا سبب
    :
    امام رزین
    “تجريد الصحاح” کے مقدمے میں رقم طراز ہیں
    :
    چونکہ
    احادیث جمع کرنے والوں میں یہ مذکورہ دو ائمہ (امام بخاری ومسلم) اور امام مالک
    اپنی “موطأ” میں صحت کی صراحت فرماتے ہیں، اور زبانوں کے ساتھ فطرت بھی
    ان (کے احکام) کی صحت کی گواہی دیتی ہے، اور ان کا کام شائع ذائع ہوکر عام ہوچکا
    ہے، اس لیے میں نے ان (تینوں کتابوں: صحیحین وموطأ کی احادیث) کو ایک کتاب میں
    یکجا کردیا ہے، آئندہ بیان کردہ 
    ترتیب  پر ۔
    ميزة الكتب الثلاثة عن
    غيرها من كتب الحديث
    قال رزين :
    وكلُّ
    مَن أفصح مِمَّن سِوى هؤلاء [ أي الثلاثة ] بالتصحيح في بعضٍ ، فقد عَلَّلَ في
    بعضٍ ، فوجب البِدارُ إلى الاشتغال بالمجموعِ المشهودِ على صحةِ جميعه …

    کتبِ ثلاثہ
    کا دیگر کتبِ حدیث سے امتیاز
    :
    موصوف
    لکھتے ہیں
    :
    ان (تین)
    ائمہ کے علاوہ جن حضرات نے بھی بعض (روایات) کی صحت کی صراحت  کی ہے تو دیگر روایات کی علتیں بھی بیان کی
    ہیں، اس بنا پر ایسے مجموعے کے اشتغال کی ضرورت تھی جس کی تمام روایات کو صحیح
    قرار دیا گیا ہو۔

    تتبُّع ما يلتحق بهذه الكتب
    في الصحة بشرط النقد والتمييز
    قال رزين :
    فإن
    اتَّسَعَ لباحثٍ مُحسنٍ زمانٌ تَتَبَّعَ ما لم يُخرِجوه من المتون اللاحقةِ
    بشرط  الصحيح ، ومَيَّزَ ذلك إن وَجَده ،
    وكانت له مُنَّةٌ في انتقادِه …
    نقد وتمییز
    کے بعد ان کتب کے علاوہ صحیح روایات کا تتبع
    :
    امام موصوف
    لکھتے ہیں
    :
    اگر زمانہ
    کسی اچھے محقق کو موقع دے تو وہ ایسے صحیح متون کا تتبع کرے جن کو ان ائمہ نے اپنی
    کتب میں درج نہیں کیا، اگر ایسی روایات ملیں تو انہیں ممتاز کرے، اور ان کو نقد کی
    کسوٹی پر پرکھے۔

    تأخُّر رتبة الترمذي وأبي
    داود في الصحة
    قال رزين :
    ومما
    يلتحقُ بهذه الكتب في الصحةِ من بعض الوجوه

    وإن كانت في الرتبة بعدَها
    كتابُ الترمذي و ” السنن ” لأبي داود .
    وقد ذكر الخَطَّابي في مدح  ” السنن
    ” ما أطنَبَ فيه أنه : أُلِينَ لأبي داود الحديثُ كما أُلِينَ لداود عليه
    السلام الحديدُ .

    صحت کی
    میدان میں امام ترمذی وامام ابوداود، ائمہ ثلاثہ سے متاخر ہیں
    :
    امام رزین
    رقم طراز ہیں
    :
    بعض پہلؤوں
    سے صحت کے اعتبار سے ان (تین) کتابوں کے قریب امام ترمذی کی کتاب اور امام ابوداود
    کی “سنن” ہے، اگرچہ (یہ دونوں کتابیں) مرتبے میں ان کے بعد ہیں۔ امام خطابی رحمہ
    اللہ نے “سنن ابوداود” کی تعریف میں قدرے مبالغہ کرتے ہوئے لکھا ہے: امام ابوداد
    کے لیے علم حدیث ایسے نرم کردیا گیا تھا، جیسے حضرت داود علیہ السلام کے لیے لوہا۔

    أنواع ما تتبَّعه رزين في
    الترمذي وأبي داود
    قال رزين :
    فلما
    صحَّ ما تقدم ذكره ، أعني التحاقَ الترمذي و ” السنن ” بالصحاح : تتبَّعتُهما
    وجمعتُ منهما :
    ۱۔۔ ما تفَرَّدا به عن الكتب الثلاثة
    المتقدمة .
    ۲۔۔ وربما
    ذكرتُ حديثا هو فيها [ أي الثلاثة ] لكن لم أذكره إلا لزيادةِ فائدةٍ في مَتنه أو
    سَنده
    ۳۔۔ أو
    لأنهما قد ذَكرا فيه فائدةً ، فلم يكن لي بُدٌّ مِن ذكر الحديث لأجل تلك الفائدة
    ۴۔۔ وقد
    ظاهرتُ من ” السنن ” والترمذي مِن أصحِّ ما فيهما ، وهو مما اتفقا عليه
    ، أو اتفق معهما أو مع أحدهما بعضُ نسخ ” الموطأ ” ، بأحاديثَ يسيرةً ما
    تنتهي أربعين ، مُؤازَرَةً بها على تبيين الحق ، وإزاحةً للشُّبهة المُضمَحِلَّة ،
    وحَسْمًا لمن يَرومُ التَّشَبُّثَ بتأويل أوهَنَ من غَزل العنكبوت ، احتيالا
    لإيقاد نارِ التعصُّبِ والحَمِيَّة ، وذلك كنحو ماورد في تحريم الخمر في البخاري
    ومسلم من : أن الخمرَ ما خامَرَ العقلَ ، وكُلُّ مُسكرِ حرامٌ . وقد بقي فيه بعض
    الإشكال ، ففي ” السنن ” والترمذي وبعض نسخ ” الموطأ ” : أن
    جابرا رَوَى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ما أسكر كثيرُه فقليلُه حرام ،
    وعن عائشة : أن ما أسكر منه الفَرَقُ فمِلؤ الكفّ منه حرام .
    وكذا
    في دلائل التوحيد قد ظاهرنا منهما أعني الكتابين [ الترمذي وأبي داود ] بأدلةٍ
    يُوازِنُ بعضُها بعضاً ، كي ينفع الله تعالى بها من عباده من يشاء .

    امام رزین
    کی جانب سے سنن ترمذی وسنن ابوداود کے تتبع کی اقسام
    :
    موصوف
    لکھتے ہیں
    :
    جب مذکورہ
    نکتہ درست ہے کہ “سنن ترمذی” اور “سنن ابوداود”، “صحاح” سے ملحق ہیں تو میں نے ان
    دونوں کتابوں کا تتبع کیا اور ان سے درج ذیل اقسام کی روایات جمع کردیں
    :
    ۱جن روایات میں یہ دونوں ائمہ، کتبِ ثلاثہ سے متفرد ہیں(یعنی
    کتب ثلاثہ میں وہ روایات نہیں، اور “سننین” میں درج ہیں)۔
    ۲بسااوقات متن یا سند میں کسی اضافی فائدے کی بنا پر (سننین
    کی) ایسی روایت بھی میں نے ذکر کی ہے جو ان (کتبِ ثلاثہ) میں مذکور ہے۔
    ۳یا ان ائمہ (سننین) نے ان میں کوئی فائدہ ذکر کیا ہے تو اس
    فائدے کی بنا پر حدیث کو ذکر کیے بنا کوئی چارہ نہ تھا۔
    ۴میں نے سنن ابوداود
    وسنن ترمذی کی اصح روایات میں سے  ( جن پر
    یہ دونوں ائمہ متفق ہوں یا ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے ساتھ “موطأ” کا
    کوئی نسخہ بھی متفق ہو، ایسی گنی چنی احادیث کی تعداد چالیس تک پہنچتی ہے ) ذکر  کی  ہیں
     ، تاکہ ان دیگر کتب کی مدد سے حق واضح ہو،
    بودے شبہات کا ازالہ ہو، اور تعصب وحمیت کی آگ بھڑکانے کی خاطر مکڑی کے تار سے
    کمزور تر تاویلات کا سہارا لینے والوں کا قلع قمع ہو۔
    مثلا: بخاری ومسلم میں حرمتِ خمر کے متعلق روایت وارد ہے: “إن
    الخمر ما خامر العقل، وكل مسكر حرام “. (یعنی “خمر” وہ ہے جو عقل کو چھپالے، اور
    ہر نشہ آور شے حرام ہے)۔ اس روایت پر کسی قدر اشکال باقی تھا، لیکن “سننین” اور
    “موطأ” کے بعض نسخوں میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت درج ہے کہ : “
    ما أسكر كثيره فقليله حرام“.(جس شے کا زیادہ حصہ نشہ آور ہو تو اس کا تھوڑا بھی حرام
    ہے)۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے: “
    إن
    ما أسكر منه الفَرَقُ فملؤ الكف منه حرام
    “. (جس شے کا ایک فَرَق -تین صاع پر مشتمل ایک قدیم عربی
    پیمانہ- نشہ آور ہو تو اس کی ایک ہتھیلی کی مقدار
    اسی طرح
    دلائلِ توحید کے متعلق “سننین” سے ایسی دلیلیں سامنے لائی ہیں جو ایک دوسری کا وزن
    بڑھاتی ہیں؛ تاکہ ان سے اللہ تعالی حسبِ منشا اپنے بندوں کو نفع پہنچائے۔
    مصدرُ بعض زيادات رزينٍ
    وتمييزُه لها بعلامة
    قال
    رزين : وبالجملة فهي يسيرة ومُعَلَّمة ،
    ۱۔۔ وهي
    في سماعٍ من غير طريقِ الكتُب على أئمةٍ كانوا من أعلام الدين ، وأدخَلَها بعضُهم
    ، وهو الشيخ أبو عبد الله المعروف بالنحوي في اختصاره ” جامع البيان في تفسير
    القرآن ” لمحمد بن جرير الطبري رضي الله عنه
     ۲۔۔ وهي
    أكثرها في اختلاف نسخ ” الموطأ ”
    ۳۔۔ وأكثرها
    أو جُلها مرويٌّ من طريق أهل البيت عن علي رضي الله عنه وابن عباس وغيرهما
    .

    امام رزین
    کے بعض اضافات اور علامات سے ان کا امتیاز
    :
    امام رزین لکھتے ہیں:
    بہر کیف ایسی روایات کی
    تعداد کم اور نشان زد ہے
    :
    ۱وہ روایات جن کا سماع (متداول) کتب (حدیث) کی اسانید کے
    علاوہ ایسے ائمہ سے ہو جو مقتدائے دین (کی حیثیت رکھتے) ہیں، بعض ائمہ نے ایسی
    روایات (اپنی کتب میں) درج کی ہیں، مثلا : شیخ ابوعبداللہ معروف بہ نحوی نے امام
    محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ کی تفسیر “جامع البيان في تفسير القرآن” کے
    اختصار میں۔
    ۲ان میں سے بیشتر “موطأ” کےبعض نسخوں میں مذکور
    ہیں۔
    ۳ان میں سے اکثر یا بڑی تعداد اہلِ بیت کی اسانید سے حضرت
    علی وابن عباس -رضی اللہ عنہم- وغیرہ سے مروی ہیں۔

    ليس في ” التجريد
    ” ما هو خارج عن هذه الكتب الثلاثة ولا إخلال بما فيها
    قال
    رزين :
    وليس
    في جميع الديوان [ يعني كتابه التجريد ] ما هو خارجٌ عن هذه الكتب بشيء ، ولم
    أقتصر على ذكر المسنَدَات دون المُرسَلات ، ولا على الأخبار دون الآثار ، إذ فِعالُ
    الصحابة والسلف هي تفسيرُ مُحكَمِ الحديث من مُتشابهه ، وتفصيلُ مُفَسَّره من مُفَصَّله
    ، كما قال ابنُ مَهدي وهو من كبار العلماء بالحديث : إذا أشكل عليك حديثانِ ، في
    لفظَيهما بعضُ التضادِّ ، فانظر إلى فعل الصحابة ، فأيهما وافق فعلَهم فذلك
    الناسِخُ المُحكَم .

    “تجرید”
    میں ان کتبِ ثلاثہ سے باہر یا ان کے مندرجات میں سے
    کوئی  روایت متروک نہیں ۔
    امام موصوف
    مزید لکھتے ہیں
    :
    پوری کتاب
    (تجرید) میں ان مذکورہ کتب سے خارج کوئی شے نہیں، اور میں نے مراسیل وآثار کو ترک
    کرکے محض مسند روایات واخبار (احادیثِ مرفوعہ) پر بھی اکتفا نہیں کیا؛ اس لیے کہ
    صحابہ  وسلف -رضی اللہ عنہم- کے افعال،
    متشابہ سے محکم حدیث کی تفسیر، اور مفصّل سے مفسّر کی تفصیل پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ
    امام (عبدالرحمن) ابن مہدی رحمہ اللہ -جو اکابر علمائے حدیث میں سے ہیں- کا کہنا
    ہے: “جب تمہیں دو حدیثیں اشکال میں ڈالیں، ان کے الفاظ میں تضاد ہو، تو ان میں جو
    حدیث صحابہ کے فعل کے موافق ہو وہی ناسخ اور محکم ہوگی”۔
    خُطّة كتاب ” تجريد
    الصحاح ” بتفصيل :
    کتاب “تجريد
    الصحاح” کا تفصیلی منہج
    :
    1-  تلخيص الكتب الثلاثة
    قال
    : فاستخرت اللهَ تعالى ، وسألته العون والتأييدَ على تجريد ما في هذه الكتب
    الثلاثة من متون الأخبار ونصوص الآُثار ، وتلخيص ذلك في كتاب واحد ، مع جمع مُتفرّقها
    ، والحرص على تَوفير تراجمها .

    ۱کتبِ ثلاثہ (صحیحین وموطأ) کی تلخیص:
    امام موصوف
    خود رقم طراز ہیں
    :
    میں نے
    اللہ تعالی سے استخارہ کیا اور اسی ذات سے ان تین کتب میں درج متونِ اخبار ونصوصِ
    آثار کی تجرید، ایک کتاب میں ان کی تلخیص، ان کی متفرق روایات کو جمع کرنے اور ان
    کے تراجمِ (ابواب وکتب) کو بھی مہیا کرنے کے حوالے سے تائید ونصرت کا سوال کیا۔

    2-
     اعتماد تراجم البخاري
    قال
    : واستقصاءُ جميع تَراجِم البخاري ، لتضمُّنها من الحِكم والفقه ما قد ضَمَّنها ،
    إذ لم يُترجِم منها كتابا ولا بَوَّب بابا ولا ضَمَّ حديثاً إلى حديثٍ إلا بحِكمةٍ
    على بَصيرةٍ .

    ۲صحیح بخاری کے تراجمِ ابواب پر اعتماد:
    موصوف لکھتے ہیں:
    صحیح بخاری
    کے تمام “تراجم” کا احاطہ کیا ہے؛ اس لیے کہ وہ ضمن میں بہت سی حکمتوں اور فقہ پر
    مشتمل ہیں؛ کیونکہ امام بخاری نے ہر کتاب یا باب کا ترجمہ قائم کرنے اور کسی حدیث
    کو دوسرے حدیث کے ساتھ جوڑنے میں بصیرت پر مبنی حکمت سے کام لیا ہے”۔

    3-  حذف الإسناد
    قال
    : ولم أذكر من الإسناد إلا الصاحبَ فقط ، وفي النادر مَن روى عنه لزيادة بيانٍ أو
    معنىً يتصل به لا يقع الفهمُ إلا بذكره .

    ۳اسانید کو حذف کرنا:
    مزید لکھتے
    ہیں
    :
    میں نے محض
    صحابی (کے نام) کے علاوہ باقی سند ذکر نہیں کی، کبھی کبھار مزید وضاحت یا حدیث سے
    جڑے فائدے کی خاطر صحابی سے روایت کرنے والے راوی کا نام بھی ذکر کردیا ہے، جبکہ
    اس کا ذکر کیے بغیر وہ نکتہ سمجھ میں نا قابلِ فہم ہو۔

    4-  تتبع الزيادات المَتنية
    قال
    : وتَتَبَّعتُ مع ذلك زيادةَ كل راوٍ في كل متنٍ ، ولم أُخِلَّ بكلمة فما فوقها
    تقتضي حكما أو تفيد علما ، إلا أن يكون حديثٌ آخَرُ قد تضَمَّن معناها  .

    ٤متن کے اضافات کا تتبع:
    موصوف
    فرماتے ہیں
    :
    میں نے ہر
    متن میں ہر راوی کے اضافے کا تتبع کیا ہے، اور درمیان میں کسی حکم یا علمی فائدہ
    پر مشتمل ایک یا زائد کلمات
    کو ترک بھی نہیں کیا، البتہ اگر
    کوئی اور حدیث، اس روایت کے معنی ومفہوم پر مشتمل ہو (تو اس کی جانب اشارہ کردیا
    ہے)۔

    5-
     ضم النظير إلى نظيره في موضع واحد
    قال
    : وجمعتُ كلَّ معنى مقصودٍ من ذلك ومن التراجم فيه في مكان واحد .

    ۵ایک نظیر کو دوسری نظیر کے ساتھ ایک مقام پر جمع
    کرنا
    :
    موصوف رقم طراز ہیں:
    میں نے روایت کے مقصودی
    معنی اور اس کے تراجم کو یکجا کردیا ہے۔

    6-  طريقة إيراد المتون من الكتب الثلاثة
    قال
    : وأوردت المتنَ من ذلك بلفظ أحدهم ، وبأتَمِّه إذا اختلفوا في اللفظ
    واتفقوا في المعنى ، وإن كانت عند غيره فيه زيادةٌ
    وإن قَلَّت نبَّهتُ عليها جُهدي.

    ٦کتبِ ثلاثہ کے متون لانے کا طریقہ کار:
    امام رزین
    فرماتے ہیں
    :
    میں نے متن
    ان ائمہ میں سے کسی ایک کے الفاظ میں لایا ہے، اگر الفاظ کا اختلاف اور معنی میں
    اتفاق ہو تو وہ متن لایا جو زیادہ تام ہو، اور اگر دیگر ائمہ کے ہاں اس متن میں
    کوئی اضافہ ہو -اگرچہ معمولی ہی ہو- تو اپنی کوشش صرف کرکے اس پر تنبیہ کی ہے۔
    7-
     سبب اعتماد تراجم البخاري دون الموطأ
    قال
    : وجعلتُ الاصلَ الذي يبنَى عليه في التراجم للكتب والأبوابِ : كتابَ البخاري ،
    وقد كان ” الموطأ ” أحقَّ بذلك لتقدمه ، لكن أحاديثه مستغرَقة في متون
    الكتابين ، فرددتُ ما كان في ” الموطأ ” و ” مسلم ” إلى تراجم
    البخاري ، وجعلتُ كلَّ شيء من ذلك في بابه وما يليق به .

    ٧– “موطأ” کے بجائے امام بخاری کے تراجم پر اعتماد کا سبب:
    موصوف
    لکھتے ہیں
    :
    کتب وابواب
    کے تراجم کے حوالے سے امام بخاری کی کتاب کو بنیاد بنایا ہے، حالانکہ تقدّم کی بنا
    پر “موطأ” اس کی زیادہ حق دار تھی۔ لیکن “موطأ” کی احادیث کا ان دونوں
    کتابوں (صحیحین) کے متون میں احاطہ ہوگیا ہے، اس لیے میں نے “موطأ” اور
    “صحيح مسلم” کے مندرجات کو بخاری کے تراجم کی جانب لوٹا دیا ہے، اور ان
    سے ہر ایک شے کو اس کے باب میں اور مناسب مقام میں ذکر کیا ہے۔

    8-
    رموز
    الكتب الثلاثة
    قال
    : وعَلَّمتُ على ما في ” موطأ مالك ” بـ (ط) ومسلم بـ (م) والبخاري بـ
    (خ) في أول الحديث .

    ۸کتبِ ثلاثہ کے رموز :
    امام جلیل القدر لکھتے
    ہیں
    :
    میں نے
    “موطأ مالك” کی روایت کی ابتدا میں (ط)، “صحیح مسلم” کی حدیث سے پہلے (م) اور
    “صحیح بخاری” کے شروع میں (خ) کی علامت لگائی ہے۔

    9-  المرموز له وغير المرموز
    قال
    :
    ثم
    المُعَلَّم في جميع الديوان على ضربين :
    ۱۔۔ إما
    لانفراد صاحب العلامة بالمتن والسند – وهو الأكثر

    أو بأحدهما
    ۲۔۔ وغير
    المُعَلَّم إما أن يكون مما اتُّفِقَ عليه لفظا أو معنىً

    وهو الأكثر- أو مما ينفرد به البخاري .

    ٩نشان زد وبے
    نشان روایات
    :
    موصوف
    لکھتے ہیں
    :
    پوری کتاب
    میں نشان زدہ روایات دو قسم کی ہیں
    :
    (۱) یا تو
    صاحبِ علامت،متن وسند دونوں-اکثر  ایسا ہی
    ہے- یا دونوں میں سے کسی ایک میں منفرد ہیں۔
    (۲) بے نشان
    روایت میں یا تو لفظی یا معنوی -بیشتر یہی ہوا ہے- طور پر (سب ائمہ کا) اتفاق ہے
    یا پھر اس میں امام بخاری منفرد ہیں۔
     10
    الزيادة من الترمذي وأبي داود للتقوية فقط
    قال
    : نعم ، وظاهَرتُ بعضَ الأدلةِ بأحاديثَ من ” السنن ” والترمذي إذ هُما
    من جُملة الصِّحاح كما تقدم ذكره ، كي تَنزاحَ الشبهةُ وينحَسِم الشَّغَبُ وتجتمع
    الفائدةُ ، ويقلَّ التعَبُ في تَجَشُّم مُؤنة الطلب .

    ۱۰سننِ ترمذی وسننِ ابوداود کا اضافہ محض تقویت کے
    لیے ہوتا ہے
    :
    امام عالی
    مقام لکھتے ہیں
    :
    جی ہاں،
    “سنن ابوداود” اور “سنن ترمذی” کی احادیث سے بھی بعض دلائل ذکر کیے ہیں؛ اس لیے کہ
    پہلے گزر چکا کہ یہ دونوں بھی منجملہ صحاح میں سے ہیں، (ان کے اضافات اس لیے لائے
    ہیں) تاکہ کوئی شبہ زائل ہوجائے، یا شور وشغب دب جائے اور فوائد یکجا ہوں، کھوج
    کرید اور تلاش کا بوجھ اٹھانے میں تکان کم ہو۔

    11 إستيعاب مطالعة الكتب الثلاثة
    قال
    : ولم أفعل ذلك إلا بعدَ مطالعة كل كتاب من كل ديوانٍ منها ، كي تجتمع الفوائد
    وتلتئم المقاصدُ ، ويسهُلَ للدرس والتكرار مع حذف الأسانيد وتجريد الأخبار ،
    ويَخِفَّ للحمل في الأسفار ، ولم أدَعْ جُهدي في جُملة الكتب المذكورة : فائدةً في
    متن خبرٍ أو أثرٍ إلا حصَّلتها واقتصصتُها بصحتها ، ولشهادة الفِطَرِ بعدالة
    مؤلفيها .

    ۱۱کتبِ ثلاثہ کا بالاستیعاب مطالعہ:
    امام موصوف رقم طراز
    ہیں
    :
    میں نے یہ
    کام ان تینوں میں سے ہر کتاب کے مطالعے کے بعد کیا ہے؛ تاکہ فوائد یکجا ہوں اور
    مقاصد حاصل ہوں، اسانید کے حذف اور اخبار کی تجرید کے ساتھ درس وتدریس اور تکرار
    آسان ہو، اسفار میں ساتھ لینے کا بوجھ ہلکا ہو، اور حسبِ وسعت میں نے مذکورہ کتب
    کی کسی خبر یا اثر کے متن کا ہر فائدہ حاصل کیا اور اس کو صحت کے ساتھ بیان کیا
    ہے، اس لیے کہ نیک فطرتیں ان کتب کے مؤلفین کی عدالت کی گواہی دیتی ہیں۔

    12 استيعاب زوائد أبي داود والترمذي
    قال
    : نعم . ثم أخذتُ ” السنن ” فتتبَّعتُه فجمعتُ منه ما لم يُذكَر في
    الكتب الثلاثة المذكورة قبل هذا . وكذلك الترمذي على الرتبة التي سوف أذكرها في
    أول الجزء الذي أجمعها فيه إن شاء الله تعالى ، فاجتمعتْ الخمسةُ الدواوين ، بحمد
    الله وعونه ولا حول ولا قوة إلا بالله ، وهو المستعان .

    ۱۲سننین” کی “زوائد” کا احاطہ:
    امام گرامی
    قدر لکھتے ہیں
    :
    جی ہاں،
    میں نے “سنن ابوداود” کا تتبع کیا، اس سے ایسی روایات جمع کیں جو اس سے پہلے
    مذکورہ کتبِ ثلاثہ میں درج نہیں، اسی طرح “سنن ترمذی” کا بھی اس ترتیب کے مطابق
    (تتبع کیا) جو اس جزء کی ابتدا میں ان شاء اللہ تعالی ذکر کروں گا، جس میں روایات
    جمع کروں گا۔ یوں بحمد اللہ، اللہ تعالی کی مدد ونصرت سے (حدیث کی) پانچ اہم
    کتابیں یکجا ہوگئیں، ولا حول ولا قوة إلا بالله، وهو المستعان ۔
     13
    زوائد 
    سنن النسائي وتفرُّداته
    قال
    : وما يَشِذُّ من النسائي خبرٌ إلا وقد حَصَل في الديوان لفظُه ومعناه إن شاء الله
    تعالى ، وقد تختلف الألفاظ وتتفق المعاني ، وما تَفَرَّد به فقد عَلَّمتُه وهو
    قليل ، وعلامته نون سين هكذا ( نس ) وهو سادس الصحاح إن شاء الله تعالى .

    ۱۳– “سنن نسائی” کی زوائد اور تفردات
    موصوف رقم
    فرماتے ہیں
    :
    امام نسائی جن روایات میں جدا ہیں، ان کے الفاظ ومعانی بھی ان شاء
    اللہ تعالی اس کتاب میں درج ہیں، کبھی الفاظ مختلف اور معنی متفق ہوگا، جن روایات
    میں امام نسائی منفرد ہیں انہیں نشان زد کردیا ہے، لیکن ایسی روایات کم ہیں، ایسی
    روایت کی علامت نون سین (نس) ہے، یوں یہ کتبِ صحاح میں ان شاء اللہ چھٹی کتاب
    ہوئی”۔

    14 ثلاثة مصادر لبعض زيادات ” الموطأ ”
    قال
    : واعلم أني أدخلت من 1- ” اختلاف نسخ الموطأ ” لابن شاهين 2-
    والدارقطني ، ومن 3- رواية مَعْنٍ لـ ” الموطأ ” أحاديث في المُعَلَّم
    بالـ ( ط ) تفرَّدت بها بعض النسخ دون بعض ، وكلها صحيحة ، وعلةُ ذلك مشهورة ، وقد
    توخَّيت في جميع ذلك الاجتهادَ ، ولا معصومَ إلا من عَصَم اللهُ تعالى .

    ۱۴ ۔ “موطأکے بعض اضافات کے تین مصادر:
    امام عالی شان لکھتے
    ہیں
    :
    یہ نکتہ جان لیجیے کہ
    میں نے اس کتاب میں
    :
    ۱۔ ابن
    شاہین کی “اختلاف نسخ الموطأ
     ۲۔دارقطنی کی “اختلاف نسخ الموطأ اور
     ۳۔ موطأ” کی روایتِ معن
    سے بھی (ط)
    کی علامت کے تحت احادیث لی ہیں، جن میں بعض نسخے دیگر سے منفرد ہیں، اور سبھی صحیح
    روایات ہیں، اس حوالے سے میں نے اپنی پوری کوشش صرف کی ہے، البتہ خطا سے وہی بچا
    ہوا ہے جسے اللہ تعالی بچائے”۔

    15
    تاريخ الفراغ من المُسَوَّدة
    قال
    : يقول رَزين بن معاوية بن عمار العَبدَري الأندلسي : وعُنِيتُ بجمع هذا الكتاب في
    بمكة
    حرسها الله
    تعالى
    في المسجد
    الحرام ، وكان الفراغ منه عام أحد وخمس مئة ، بعون الله تعالى .

    ۱۵مسودے سے فراغت کی تاریخ:
    امام
    باوقار رقم طراز ہیں
    :
    رزین بن
    معاویہ بن عمار عبدری اندلسی عرض گزار ہے: میں نے اس کتاب کو مکہ مکرمہ -اللہ
    تعالی اسے محفوظ رکھے- میں مسجدِ حرام میں جمع کیا ہے، اور اللہ تعالی کی تائید
    ونصرت کے ساتھ سنہ
    ٥٠١ ھ میں اس (کی تالیف) سے فراغت حاصل ہوئی۔
    16
    سبب اختلاف نسخ ”
    تجريد الصحاح ” وتاريخ النسخة المبيَّضة
    قال
    : واعلم أنه بادَرَ أناسٌ فاستعجلوا ، وكتبوا من كراريس المُسَوَّدة قبل الفراغ من
    تلخيصها ، ثم تهيأ في هذا الأصل بعدُ في التبييض تقديمٌ وتأخيرٌ ، وفي ترتيب الكتب
    أيضا ، فمن أبصرَ في النسخ خلافا فهذا سببه ، والكتاب المُرَتَّبُ هو هذا الذي وقع
    الفراغ منه في عام اثنين وخمس مئة ، وهو الذي فيه ذكر النسائي ، وقد استلحقت فيه
    أحاديث من سائر الأمهات كثيرة .

    ١٦– “تجريد الصحاح” کے نسخوں میں اختلاف کا سبب اور نسخہ مبیّضہ کی
    تاریخ
    :
    امام موصوف
    لکھتے ہیں
    :
    جان لیجیے
    کہ کتبِ مذکورہ کی تلخیص سے فارغ ہونے سے پیشتر ہی لوگوں نے جلد بازی سے کام لیا
    اور مسودے کی کاپیوں سے (زیرِ تالیف کتاب کا مواد) لکھ لیا، پھر تبییض کے دوران اس
    اصل نسخے میں تقدیم وتاخیر اور کتب کی ترتیب میں بھی (تبدیلی) ہوئی، اگر کسی کو
    نسخوں میں اختلاف دکھائی دے تو اس کا سب یہی ہے، مرتّب کتاب یہی ہے جس سے سنہ
    ۵۰۲ ھ میں فراغت ملی، اسی میں امام نسائی (کی کتاب) کا ذکر ہے، اور
    میں نے اس میں تمام امہات (کتبِ حدیث) سے بہت سی احادیث کا اضافہ کیا ہے۔

    17
    سادس الستة هو : السنن الكبرى للنسائي
    قال
    : والذي ذُكر هنا من النَّسائي هو من النسخة الكبرى ، لأن فيها زياداتٍ ، وأما
    الصغرى فداخلة فيما قبلها من الكتب ، وبالله التوفيق والحمد لله رب العالمين .
    ۱۷کتبِ ستہ میں چھٹی امام نسائی کی “السنن
    الكبرى” ہے
    :
    امام عالی مقام
    رقم فرماتے ہیں
    :
    یہاں امام نسائی کی جو روایات ذکر کی گئی ہیں، وہ “نسخہ کبری” سے
    ہیں؛ اس لیے کہ اس میں اضافات ہیں، (امام نسائی کی سننِ) صغری تو سابقہ کتب میں
    داخل ہے۔ وبالله التوفيق، والحمدلله رب العالمين “۔

    نقله إلى الأردية :
    العبد الضعيف محمد ياسر عبد الله
    وذلك في الليلة الرابعة من شهر ربيع
    الآخر
    سنة
    ١٤٤٠هـ

  • رمضان کے آخری جمعہ کی ایک دعا کی تحقیق


    رمضان کے آخری
    جمعہ کی
     ایک دعا کی
    تحقیق
    رمضان شریف کے آخری جمعہ
    کے متعلق عوام الناس میں پھیلی ہوئی چند غیر مستند باتوں میں سے ، ایک دعا بھی ہے
    جو حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری  رضی اللہ
    عنہ کی طرف منسوب کی جاتی ہے ، وہ یہ ہے :

    حضرت جابر بن عبد اللہ رضی
    اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں ماہ رمضان میں جمعتہ الوداع کے دن پیغمبر اسلا مﷺ کی
    خدمت میں حاضر ہوا ،تو  آپؐ نے مجھ سے
    فرمایا:  اے جابر ،یہ رمضان کا آخر ی جمعہ
    ہے، اسے وداع کرو۔ اور یہ کہو ( اے اللہ! اسے ہمارے روزوں کا آخری زمانہ نہ قرار
    دے، اگر اسے آخری قرار دیا تو ہمیں اپنی رحمت سے سر فرازکر اور محروم نہ کر)۔
    مذکورہ روایت اہل سنت کی
    حدیث کی معتبر کتابوں میں تو کہیں وارد نہیں ہے ، البتہ اہل تشیع کی بعض کتابوں
    میں مذکور  ہے ، وہیں سے منتقل ہوکر کتب
    مواعظ میں اس نے جگہ لی ، اور عموما رمضان کے آخری جمعہ کے بارے میں دیگر جو غیر
    مستند باتیں ہیں ، ان کامستند بھی روافض ہی کتابیں ہیں ۔

    یہ روایت شیعہ عالم ملقب
    ب
    )الشیخ
    الصدوق
    (ابو
    جعفر محمد بن علی بن بابویہ قمی نے اپنی کتاب (فضائل الاشہر الثلاثہ) میں اپنی سند
    سے نقل کی ہے ، سند یہ ہے :
    حدثنا أحمد بن الحسن القطان قال :
    حدثنا أحمد بن محمد بن السعيد الهمذاني مولى بني هاشم ، عن جابر بن يزيد ، عن أبي
    الزبير المكي ، عن جابر بن عبد الله الأنصاري قال : دخلتُ على رسول الله صلى الله
    عليه وآله وسلم في آخر جمعة من شهر رمضان ، فلما بصُر بي قال لي : يا جابر هذا آخر
    جمعةٍ من شهر رمضان ، فودّعه وقل
    : « اللهم لا
    تجعله آخِر العَهد من صيامنا إياه ، فإن جعلتَه فاجعلني مَرحُوما ولا تجعلني
    محروما » فإنه من قال ذلك ظَفِر بإحدى الحُسنَيَين إما ببلوغ شهر رمضان وإما بغُفران
    الله ورحمته … ( فضائل الأشهر الثلاثة في الحديث 16 من الباب الأول من أبواب
    أحكام شهر رمضان).

    سند کا درجہ:
    سند میں (جابر بن یزید
    جعفی) ہے ، جس کے بارے میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا
    🙁
    مَا لَقِيتُ أَكْذَبَ مِنْ جَابِرٍ الْجُعفِيِّ ، مَا أَتَيْتُهُ بِشَيْءٍ مِنْ
    رَأْيٍ إِلا جَاءَنِي فِيهِ بِأَثَرٍ ، وَزَعَمَ أَنَّ عِنْدَهُ ثَلاثِينَ أَلْفَ
    حَدِيثٍ لَمْ يُظْهِرْهَا).
    دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس
    پر سخت جرح کی ہے اور جھوٹی روایات بیان کرنے کی تہمت لگائی ہے، اور اکثروں نے اس
    کو متروک الروایت قرار دیا ہے ،اگرچہ بعض نقاد کی رائے معتدل ہے ، لیکن عموما وہ
    غیر معتبر ہے، اور تشیع میں غلو کرنے والوں میں اس کا شمار ہوتاہے۔(میزان
    الاعتدال  1 / 379) ۔
    مذکورہ روایت  کے غیر معتبر ہونے کے لئے یہ ایک سبب کافی تھا
    ، چہ جائیکہ اس کی سند میں دیگر کئی شیعہ راوی ہیں ، جن کی روایت اہل سنت کے نزدیک
    غیر قابل قبول ہے ۔

    دوسری سند :
    (جامع احادیث الشیعہ 9 /
    77) نامی کتاب میں یہ روایت ایک دوسری سند سے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف
    منسوب ہے ، عبارت یہ ہے :
    السيد علي بن طاووس في كتاب (المضمار)
    باسناده إلى أبي محمد
     هارون بن
    موسى
     التَّلعُكبري
    رضي الله عنه ، بإسناده إلى أبي عبد الله عليه السلام قال : من ودَّع
     شهر رمضان في
    آخر ليلة منه وقال : « اللهم لا تجعله آخر العهد من صيامي
     لشهر
    رمضان
      ، وأعوذ بك أن يطلُع فجر هذه الليلة إلا وقد غفرتَ لي» غفر الله
    له قبل أن يُصبح ورزقه الإنابةَ إليه
    .
    یہ روایت بھی غیر معتبر
    ہے ، ھارون بن موسی بھی رافضی ہے ، ابن النجار بغدادی اس کے بارے میں فرماتے ہیں :
    راويةٌ للمناكير رافضيّ (لسان الميزان 8 /312) .

    خلاصہ :
    اس دعا کی کوئی معتبر سند نہیں ہے ، اس لئے حضور صلی
    اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکے بیان کرنادرست نہیں ہے ، اور اس کے پڑھنے کی جو
    فضیلت وارد ہے اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے ، بعض لوگ کہتے ہیں کہ: اجی ثواب کی
    امید پر پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ ان سے کہا جائے گا کہ پڑھنے میں توحرج نہیں ہے ،
    لیکن اس طرح کی روایات پر عمل کرنے سے لوگوں میں غلط فہمیاں پھیلتی ہے ، کہ یہ
    ثابت ہے اور لازمی عمل ہے ، اس لئے اجتناب میں خیر ہے ، جو دعائیں ثابت ہیں ان کا
    پڑھنا حقیقتا باعث اجر وثواب ہے ، جبکہ موہوم امور پر امیدیں باندھنا عقلمندی نہیں
    ہے ۔واللہ اعلم

    کتبہ
    العاجزالصائم  محمد طلحہ بلال احمد منیار  ۳۱/۵/۲۰۱۹

  • عبید بن عتیبہ عیذی کے نام کی تصحیح

    عبید بن عتیبہ عیذی کے نام کی تصحیح


    عبید بن عتیبہ عیذی

    ایک
    سوال آیا ہے :
    حدثنا أبوكريب ثنا يونس ﻋﻦ عتبة ﺑﻦ عتيبة البصري اﻟﻌبدي
    عن أبي سهل عن وهب بن عبد الله بن كعب بن سور عن سلمان عن النبي صلى الله عليه
    وسلم قال : 
    ﺑﻌﺚ
    الله أربعة آلاف ﻧﺒﻲ
    . [تفسير
    الطبري 20/368] 
    اس سند پر کیا حکم لگے گا ؟
    اس میں عتبہ بن عتیبہ کا
    ترجمہ مجھے نہیں ملا، وھب بن عبد اللہ بن کعب بن سور کے ترجمہ میں عبید بن عیینہ
    ایک شخص مذکور ہے ، مگر وہ وھب کا شاگرد ہے ، جب کہ یہ ابوسہل کا
     ؟براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
    الجواب :
    اس   راوی کا نام علی الصحیح(عبید بن عتیبہ عیذی) ہے
    ، اس کے دلائل یہ ہیں :
    ابن ماکولا نے (الإكمال
    في رفع الارتياب 6/123
    ) پر باب (عیینہ اور
    عتیبہ) میں ذکر کیا ہے ، اور وہاں پر لکھا ہے :
    وعُبيد بن عُتَيبة
    العَیذي، عن وهب بن كعب بن عبد الله بن سُور الأزدي ،عن سلمان الفارسي
    .پھر
    (
    الاکمال 6/321) پر (عیذی) کے ماتحت بھی
    ذکر کیا ہے
    ۔یعنی راوی کے والد
    اور اس کی نسبت دونوں کو ابن ماکولا نے ضبط کیا ہے ۔
    امام مزی نے (تہذیب
    الکمال) میں وھب کے ترجمہ میں راوی کے والد کا نام (عیینہ )لکھا ہے،جو درست نہیں
    ہے۔
    امام دارقطنی نے بھی(المؤتلف
    والمختلف 3/1611
    ) میں راوی کا نام (عُبيد
    بن عُتَيْبَة العَيذي
    ) ذکر کیا ہے ، اور ساتھ ہی اس کی
    روایت بھی ذکر کی ہے ، ملاحظہ فرمائیں:

    حَدَّثَنا مُحمَّد بن عَليّ بن أبي
    رُؤْبَة، حَدَّثَنا أحمد بن عَبد الجَبَّار العُطَارِديّ، حَدَّثَنا يُونُس بن
    بُكَيْر، عن عبيد بن عُتَيْبَة العيذي، عن وَهْب بن كَعْب بن عَبد الله بن سور
    الأَزْدِيّ، عن سَلْمَان الفارسي: أنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:
    “ليس من نبي إلا وله وصي وسبطان …
    الحديث
    بطوله.

    ابو
    بکر خطیب نے(
    تلخيص المتشابه في الرسم 1/544)میں روایت کے مکمل الفاظ ذکر کئے ہیں ۔
    قَالَ  الخطيب: وَيُنْسَبُ إِلَى عَيْذِ اللَّهِ بْنِ
    سَعْدٍ مِنْ رُوَاةِ الْعِلْمِ: عُبَيْدُ بْنُ عُتَيْبَةَ الْعَيْذِيُّ،
    وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْعَيْذِيُّ .
    أنا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ
    مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ الصَّيْرَفِيُّ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ
    يَعْقُوبَ الأَصَمُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، نا
    يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُتَيْبَةَ الْعَيْذِيِّ، عَنْ وَهْبِ
    بْنِ كَعْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بنِ سُورٍ الأَزْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ
    الْفَارِسِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلا وَلَهُ وَصِيٌّ،
    وَسِبْطَانِ، فَمَنْ وَصِيُّكَ، وَمَنْ سِبْطَانُكَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ
    صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرْجِعُ شَيْئًا، فَانْصَرَفَ
    سَلْمَانُ يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ كُلَّمَا لَقِيَهُ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ،
    قَالُوا: مَالَكَ سَلْمَانَ الْخَيْرِ، فيَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى
    اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ مِنْ غَضَبٍ،
    فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ
    قَالَ: «أُدْنُ يَا سَلْمَانُ»، فَجَعَلَ يَدْنُو وَيَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ
    مِنْ غَضَبِهِ، وَغَضَبِ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ: «سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ لَمْ
    يَأْتِنِي فِيهِ أَمْرٌ، وَقَدْ أَتَانِي، اللَّهُ تَعَالَى بَعَثَ أَرْبَعَةَ
    آلافِ نَبِيٍّ، وَكَانَ لَهُمْ أَرْبَعَةُ آلافِ وَصِيٍّ، وَثَمَانِيَةُ آلافِ
    سِبْطٍ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَنَا خَيْرُ النَّبِيِّينَ، وَوَصِيِّي
    خَيْرُ الْوَصِيِّينَ، وَسِبْطِي خَيْرُ الأَسْبَاطِ».

    عبید بن عتیبہ سے روایت
    کرنے والوں میں : یونس بن بکیر متفرد ہیں،
    اندازہ یہ ہے کہ یہ راوی رافضی ہے ، کیونکہ اس سے ایک روایت ابن ابی الدنیا نے
    (مقتل علی ص ۸۰) پر نقل کی ہے۔

    اوردوسری  درج بالا روایت ہے جس کے
    الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہ روافض کی گھڑی ہوئی روایت ہے ، ان کے یہاں نبی کے ساتھ وصی
    اور سبطین کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے ،وصی کے تذکرہ سے وہ شیخین کی خلافت پر طعن کرتے
    ہیں ۔لہذا یہ روایت نا قابل اعتبار ہے ۔

    تیسری ایک
    اور روایت ابن عساکر نے (تاریخ دمشق۶۶/۲۱۶)پر حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی
    منقبت میں اسی سند سے ذکر کی ہے ، روایت کے الفاظ ہیں  :
    عن أبي ذر قال :إن رسول الله صلى الله عليه وسلم عَهِدَ
    إليَّ أني أحشَر أمةً على حِدَة
    ” . روافض تمام صحابہ کی تکفیر کے قائل ہیں ، سوائے
    تین کے : مقداد ، ابو ذر، اور سلمان فارسی ۔ لہذا یہ روایت ان کے عقائد کے مخالف
    نہیں ہے ۔

    دارقطنی اور خطیب کی ذکر کردہ روایت کے صحابی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ
    ہیں یا سلمی نامی صحابیہ ہیں؟ کیونکہ ابو نعیم کی (معرفۃ الصحابہ ۶/۳۳۵۵) پر ایک
    ترجمہ اس طرح ہے :
     سَلْمَى غَيْرُ مَنْسُوبَةٍ، قَالَتْ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى
    اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَعَثَ اللهُ أَرْبَعَةَ آلَافِ نَبِيٍّ» فِي
    حَدِيثٍ طَوِيلٍ. رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ
    بْنِ كَعْبٍ، ذَكَرَهَا الْمُتَأَخِّرُ وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ
    .
    اور
    حافظ نے (اصابہ 8/۱۸۸) پر مذکورہ روایت کے بارے میں لکھا ہے :
    في حديثٍ طويلٍ ذكره ابن منده . تو
    بظاہر یہ وہی طویل روایت ہے جسے خطیب بغدادی نے ذکر کیا ہے ۔

    رہ گئی طبری کی روایت میں سند میں(ابو سہل) نام کی زیادتی ، یہ مشکل ہے،روایت
    کی اسانید میں مذکور نہیں ہے،معلوم نہیں شاید کوئی قدیم غلطی ہےتفسیر طبری کے
    نسخوں میں، یا وہب کی کنیت ہے،اور عن زائد ہے۔ واللہ اعلم
    جمعہ ورتبہ العاجز : محمد طلحہ بلال احمد
    منیار
    ۶/۷/۲۰۲۰