Blog

  • حضور کے زمانہ میں دوپہر کے کھانے کا وقت

    حضور کے زمانہ میں دوپہر کے کھانے کا وقت

     

    مولوی
    زبیر صاحب گودھروی کا سوال ہے کہ : دوپہر کا کھانا ظہر کی نماز سے پہلے یا بعد میں
    کھانا چاہئے ؟ اس کے بارے میں احادیث میں کچھ وارد ہے ؟

    بعض
    مبلغین حضرات معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ مسنون کیا ہے ۔

    الجواب باسم ملہم الصواب :

    اس
    سلسلہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی کوئی صریح روایت تو معلوم نہیں
    ہے ، البتہ بعض روایات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جو معمول منقول
    ہے ، اس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ وہ حضرات دوپہر کا کھانا اور قیلولہ
    دونوں ظہر کی نماز سے پہلے کرتے
    تھے ۔

    مندرجہ
    ذیل روایات ملاحظہ فرمائیں :

    1-
    حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت ہے :

    قَالَ
    : مَا كُنَّا
     نَقِيلُ ، وَلَا نَتَغَدَّى فِي عَهْدِ
    رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ. [
    صحیح
    مسلم 859 جامع ترمذي525
    ]

    یہ
    روایت بخاری شریف میں بھی ہے ، جس کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
    اجمعین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ کے
    دن نماز کے بعد ہی کرتے تھے ۔

    اس
    کی وجہ یہ ہے کہ وہ حضرات جمعہ کی نماز کے لئے اہتمام کے ساتھ سویرے مسجد چلے جاتے
    تھے ، اور نماز سے فراغت کے بعد ہی لوٹتے تھے ۔

    روایت
    میں ( یوم الجمعہ ) کی قید سے واضح ہے کہ دوپہر کے کھانے اور قیلولہ کو صرف جمعہ
    کے دن مؤخر کرتے تھے ۔

    حافظ
    ابن حجر رحمہ اللہ( فتح الباری 1/495)  
    میں فرماتے ہیں : قوله
    : ( باب قول الله عز وجل: { فإذا قضيت الصلاة } الآية. أورد فيه حديثَ سهل بن سعد
    في قصة المرأة التي كانت تُطعِمهم بعد الجمعة، فقيل : أراد بذلك بيان أن الأمر في
    قوله : { فانتشروا } ، { وابتغوا } للإباحة لا للوجوب ، لأن انصرافهم إنما كان
    للغداء ثم للقائلة عوضاً عما فاتهم من ذلك في وقته
    المعتاد
    ، لاشتغالهم بالتأهب للجمعة ثم بحضورها.
     

    حضرت
    مفتی سعید صاحب پالنپوری ( تحفۃ الالمعی  2/)400 میں تحریر فرماتے ہیں کہ : صبح کا کھانا
    زوال سے پہلے گیارہ بجے کے قریب کھایا جاتا تھا پھر قیلولہ کیا جاتا تھا … چونکہ
    جمعہ کے دن مسجد جلدی جانا ہوتا ہے ، اس لئے صحابہ جمعہ کے دن یہ دونوں کام مؤخر
    کرتے تھے ۔

    2-
    حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا
    ان کے چھوٹے بیٹے کے انتقال کے واقعہ میں حضرت ابو
    طلحہ رضی اللہ عنہ کے روزانہ کے معمول کے متعلق فرماتی ہیں :

    فَكَانَ
    أَبُو طَلْحَةَ يَقُومُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ يَتَوَضَّأُ، وَيَأْتِي النَّبِيَّ
    صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي مَعَهُ، وَيَكُونُ مَعَهُ إِلَى
    قَرِيبٍ مِنْ
     نِصْفِ
    النَّهَارِ،
     فَيَجِيءُ
    فَيَقِيلُ وَيَأْكُلُ ، فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ تَهَيَّأَ وَذَهَبَ فَلَمْ
    يَجِئْ إِلَى صَلَاةِ الْعَتَمَةِ. [
    مسند احمد 12401]

    یعنی
    حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو
    وضو کر کے بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتے اور نبی ﷺ کے ہمراہ نماز ادا کرتے، نصف النہار
    کے قریب تک وہیں رہتے، پھر گھر آکر قیلولہ کرتے، کھانا کھاتے . اور ظہر کی نماز کے
    بعد تیار ہو کر چلے جاتے، پھر عشاء کے وقت ہی واپس آتے ۔

    اس
    روایت میں بھی ظہر سے پہلے کھانے اور قیلولہ کرنے کا تذکرہ ہے ۔

    3-
    حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ
    کے مشہور واقعہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ
    وسلم کا ظہر سے پہلے قیلولہ کرنے کی طرف اشارہ ہے ، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ
    عنہا فرماتی ہیں :

     خَرَجَ
    رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ،
    فَصَلَّى صَلَاةَ الْهَاجِرَةِ، ثُمَّ قَعَدَ فَفَزِعَ النَّاسُ، فَقَالَ : ”
    اجْلِسُوا أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنِّي لَمْ أَقُمْ مَقَامِي هَذَا لِفَزَعٍ،
    وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَتَانِي، فَأَخْبَرَنِي خَبَرًا مَنَعَنِي
    الْقَيْلُولَةَ مِنَ الْفَرَحِ، وَقُرَّةِ الْعَيْنِ … [
    مسند
    احمد 27101
    ]

    ایک
    مرتبہ نبی علیہ السلام باہر نکلے اور ظہر کی نماز پڑھائی جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی
    نماز پوری کر لی تو فرمایا کہ : بیٹھے رہو! منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ حیران
    ہوئے تو فرمایا : لوگو! اپنی نماز کی جگہ پر ہی بیٹھے رہو! میں نے تمہیں کسی بات کی
    ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا۔ میں نے تمہیں صرف اس لئے جمع کیا ہے
    کہ تمیم داری میرے پاس آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہو گئے ، اور مجھے ایک
    بات بتائی جس نے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک سے مجھے قیلولہ کرنے سے روک دیا ۔

    الخلاصہ : مذکورہ بالا روایات کے پیش
    نظر یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دوپہر کا
    کھانا زوال سے پہلے کھایا جاتا تھا ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی عبارت “فی
    وقتہ المعتاد”
    اس کی
    مؤید ہے ۔ واللہ اعلم

     

    جمعہ  ورتبہ العاجزمحمد طلحہ بلال احمد
    منیار

    8/9/2018

  • من باع نخلا بعد التعبير کی تصحیح

    من باع نخلا بعد التعبير کی تصحیح

     

    لغات
    الحديث ( 2 )

    (افاضات
    امیری علی الترمذی) میں ایک جگہ یہ حدیث مذکور ہے :

    عن
    النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : ”
    من باع نخلا بعد التعبیر
    …”
    کذا فیہ ؟!

    اقول
    : اس میں دو غلطیاں ہیں ، ایک تو یہ لفظ علی الصواب ( التأبیر ) ہے ھمزہ سے ، تأبیر
    کے معنی ہیں :درختوں کو قلم لگانا ، گابھا دینا ، تلقیح کرنا ، یعنی نر کھجور کے
    درخت کی ٹہنی یا شگوفہ کو ، مادہ درخت میں ملانا ۔
    اس کو“تعبیر” عین سےلکھنا غلط ہے ۔

    دوسری
    بات یہ ہے کہ صحیح وثابت روایات میں حدیث کے الفاظ : ”
    من
    باع نخلا بعد أن تؤبَّـر
    ” بعدیت کا صرف ذکر
    ہے ، تابیر سے قبل کے الفاظ ایک ضعیف وشاذ روایت میں وارد ہیں جو ثابت نہیں ہے ،
    اسی لئے حنفیہ اس سے استدلال نہیں کرتے ، اور ان کے نزدیک قبل و بعد دونوں کا حکم
    ایک ہے ، اور “تابیر” سے پھل کے ظہور کا معنی  مراد لیتے ہیں ۔ جبکہ شوافع وغیرہ (
    بعد
    أن تؤبر
    ) کو قید احترازی قرار دیتے ہیں ، اور اس
    کے مفہوم مخالف سے استدلال کرتے ہوئے قبل وبعد کے حکم میں فرق کرتے ہیں ، لہذا اگر
    روایت ثابت ہوتی تو اختلاف کا مطلب ہی نہیں تھا ۔ واللہ اعلم

     

    کتبہ العاجز محمد طلحہ بلال احمد منیار

    4/9/2018

  • لا تنبر باسمي کا صحیح مطلب

    لا تنبر باسمي کا صحیح مطلب

     

    لغات
    الحديث  (1)

    جامع
    ترمذی شریف کی ایک (شرح) کے مقدمہ میں لفظ ( نبی ) کی اصل پر بحث کرتے ہوئے ، یہ
    حدیث پیش کی گئی ہے کہ : ایک اعرابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے
    کہا ( یا نبیء اللہ ) [ ھمزہ کے ساتھ ] تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    لا تَنبِز باسمي فإنما أنا نبي
    الله
     اور اس کی تشریح یہ کی کہ : مجھ پر عیب مت لگاؤ
    ، میں اللہ کا نبی ہوں ۔

    اقول
    : یہ حدیث مستدرک حاکم(2906) میں ہے :

    جاء
    أعرابي إلى رسول الله ﷺ فقال : يا نبيء الله ، فقال : لست بنبيء الله ولكني نبيُّ
    الله . رواه الحاكم بسنده من طريق حُمران بن أعيَن عن أبي الأسود الدُّؤلي
     عن أبي ذر .

    قال
    الذهبي في
    تلخيص
    المستدرك
    : حديثٌ
    منكر وحُمران رافضي ليس بثقة . انتهى.

    ایک
    اور روایت میں ہے : ”
    إنا معشرَ قریشٍ لا نَنبِـر
    ” ذکرہ فی “تاج العروس” ۔ یعنی قریش کی زبان میں ھمزہ صاف صاف نہیں
    بولا جاتا ہے ، بلکہ ھمزہ کو حروف مدہ سے بدل دیا جاتا ہے ، یا حذف کردیا جاتا ہے
    تسہیلا وتخفیفا ۔

    یہ
    لفظ : ”
    لا تَنبِر ” بے نقطے والی راء سے ہے ، نبر ینبر
    [ باب ضرب ] سے ہے ، اس کے کئی معانی ہیں ، ان میں ایک معنی ہے : لفظ پر ھمزہ
    لگانا ، تو حدیث کا مفہوم ہے کہ 🙁 نبیء ) ھمزہ لگاکر مت کہو ، بلکہ بغیر ھمزہ کے
    ( نبی ) بولو ۔

    اوپر
    شارح ترمذی سے سہو ہوا ، انہوں نے اس کو ( لا تنبز ) زا سے لکھا ہے ، از قبیل (
    لا
    تنابزوا بالالقاب
    ) اور تشریح بھی اس کے مطابق کی ہے ۔

    مگر
    یہ درست نہیں ہے ، اور شاید
    شارح
    کو
    سہو اس وجہ  ہوا کہ عربی شروحات میں ”
    لا تنبر ” کا معنی : (
    لا تَـهمِز
    ) لکھا ہوگا، شارح ا
    س کو (ھمز ) سے بمعنی الغمز واللمز سمجھے ، حالانکہ یہاں ( لا تہمز ) سے مراد ہے : لا
    تقل نبیء بالہمز ۔ واللہ اعلم

     

    سطرہ محمد طلحہ بلال
    احمد منیار

    4/9/2018

  • علامة المؤمن والمنافق

    علامة المؤمن والمنافق

     

    سأل
    بعض الإخوة عن حديث : ” قصد المؤمن صلاته ، وقصد المنافق بطنه ” .

    فالجواب
    :

    قال
    الإمام الغزالي في ” الإحياء “(3/70) : وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
    اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عن علامة المؤمن والمنافق ؟ فقال : ” إن المؤمن همّته
    في الصلاة والصيام والعبادة ، والمنافق همّته في الطعام والشراب كالبهيمة
     ” .

    قال
    الإمام العراقي في ” تخريج أحاديث الإحياء ” : حديث سئل عن علامة المؤمن
    والمنافق فقال : إن المؤمن همه في الصلاة والصيام الحديث ، لم أجد له أصلا . انتهى

    ولكن
    ورد في كتاب ” المنتخب من شيوخ بغداد ” لأبي حيان ، حديث رقم ٢٣ :

     أَخْبَرَنَا الْعَلامَةُ مُفْتِي الشَّرَفِ ظَهِيرُ الدِّينِ
    أَبُو الْمُظَفَّرِ
     قِرَاءَةً
    عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ بِالْمَدْرَسَةِ الْمُغِيثِيَّةِ بِالْجَانِبِ الشَّرْقِيِّ
    مِنْ بَغْدَادَ ، نا الإِمَامُ الْكَبِيرُ الأُسْتَاذُ شَمْسُ الْمِلَّةِ وَالدِّينِ
    مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّتَّارِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَبُو الْوَحْدَةِ
     الْعِمَادِيُّ الْكَرْدَرِيُّ
    ، نا مَحْمُودُ بْنُ عَلِيٍّ الطَّرَازِيُّ
     ، نا الشَّيْخُ الْمَعْرُوفُ بِالأَشَجِّ ، قَالَ : نا عَلِيُّ بْنُ أَبِي
    طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
    وَسَلَّمَ :
      هِمَّةُ الْمُؤْمِنِ الصَّوْمُ
    وَالصَّلاةُ وَهِمَّةُ الْمُنَافِقِ الْبَطْنُ وَالْفَرْجُ “
     .

     لكن
    محمود الطرازي اتهمه ابن حجر بالكذب ، وشيخه الأشج المعمَّر قيس بن تميم دجال مجهول
    ، والسند منقطع .

    انظر
    ” الإصابة ” لابن حجر ١/١٢٧ ترجمة الأشج . و ” لسان الميزان ”
    ٦/ ٤٠٠ ترجمة قيس .

    والظاهر
    أن البلاء من قيس بن تميم الأشج هذا ، وأما الطرازي فإمام فقيه ورع ، مدحه السمعاني
    في ” الأنساب “(9/58) و ” معجم الشيوخ “(1703) ولم ينفرد الطرازي
    بالرواية عن الأشج ، فقد ذكر الحافظ ابن حجر في ” الإصابة ” و ” لسان
    الميزان ” في ترجمة قيسٍ رواةً آخرين عنه ، فارتفعت التهمة عن الطرازي .

    وقد
    روى الأشج نسخةً نحو أربعين حديثا ، كلها كذب ، كما قال ابن حجر .

     

    وكتبه العاجز محمد طلحة بلال أحمد منيار

    7/8/2018

  • اللهم ارزقني طيبا واستعملني صالحا کی تحقیق

    اللهم ارزقني طيبا واستعملني صالحا کی تحقیق

     

    ایک
    اوڈیو کلپ وائرل ہو رہی ہے ، جس میں ایک دعا کوحضرت جبریل علیہ
    السلام کی سکھائی ہوئی دعا
    بتاکراس کے پڑھنے کی ترغیب دی
    جا رہی ہے 
     ، اور پابندی سے اس کو پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے ، وہ
    دعا یہ ہے : اللهم ارزقني طيبا واستعملني صالحا  ۔

    تو
    جان لیں کہ یہ دعا صحیح سند سے ثابت نہیں ہے ، لہذا اس کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ
    وسلم کی طرف کرنا ، یا حضرت جبریل علیہ السلام کی بتائی ہوئی دعا کا عنوان دینا ،
    درست نہیں ہے ۔ 
    ہاں
    ویسے ہی  
     اس دعا کے پڑھنے
    میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

    مگر
    صحیح دعاؤں کے ہوتے ہوئے ہر عجیب وغریب غیر مستند دعاء کو بڑھا چڑھا کر پھیلانا بھی
    احتیاط کے خلاف ہے ۔

    اس
    دعا کی روایت صرف اور صرف امام حکیم ترمذی کی کتاب ( نوادر الاصول ۴/۱۳۵) میں ہے
    ۔ سند یہ ہے :
    حدثنا محمد بن الحسن اللیثي ، حدثنا ابو الاحوص ، عن
    غیاث بن خالد ، عن حنظلة مرفوعا : ” ما جاءني جبريل إلا أمرني بهاتين
    الدعوتين : اللهم ارزقني طيبا واستعملني صالحا ” .

    اس
    کی سند میں یہ تینوں
    راوی 🙁ابو
    الاحوص ، غیاث ، اور حنظلہ) مجہول غیر معروف شخصیات ہیں ، اس لئے یہ روایت معتبر
    نہیں ہے ۔

    اگر
    یہ واقعی حضرت جبریل علیہ السلام کی سکھائی ہوئی دعا ہوتی تو حدیث کی کتابوں میں
    مروی ہوتی ، نیز دعاؤں کی کتابوں میں تذکرہ ملتا ، مگر مرفوعا کہیں نہیں ہے ۔

    مناسب
    یہ ہے کہ اس کے بجائے یہ دعا پڑھنے کا اہتمام کریں : 
    (
    اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا
    طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
    )
    یہ بسند حسن منقول ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو فجر کی نماز سے سلام پھیرتے
    ہی پڑھتے تھے ، بعض روایات میں ہے کہ تین بار پڑھتے تھے ۔ (احمد، ابن ماجہ، بیہقی)

    دعا
    کا ترجمہ ہے : اے اللہ ! میں تجھ سے نفع دینے والا علم ، پاکیزہ رزق ، اور قبول
    ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔ 

    اللہ
    تعالی ہم سب کو فہم سلیم نصیب فرمائے ، اور احادیث وروایات کے باب میں احتیاط سے
    کام لینے والا بنائے ۔ آمین ۔

     

    وکتبہ  محمد طلحہ بن بلال احمد منیار ، کان اللہ لہ

    3/8/2018

  • نیک لوگوں کی بستی کا نام

    نیک لوگوں کی بستی کا نام

     

    مولوی
    ادریس صاحب نے ” دلیل الفالحین 
    ” کی اس عبارت کے بارے میں دریافت کیا :

    ثم
    إن العالم دلّ السائلَ على ما فيه نفعُه بقوله: (انطلق إلى أرض كذا وكذا) اسمها :
    بصرى، واسم القرية التي كان بها : كفرة رواه الطبراني. ليفارق دارَ الفساد
    وأصحابَه الذين كانوا يُعينونه عليه ما داموا كذلك.

    کہ
    دونوں بستیوں کے ناموں کا صحیح تلفظ کیا ہے ؟

    الجواب
    :
    یہ اس شخص کے واقعہ میں ہے جس نے سو آدمیوں کا قتل کیا تھا ، پھر توبہ کی غرض سے
    اپنی بستی چھوڑ کر ، دوسری نیک لوگوں کی بستی کی طرف
    ہجرت کی نیت سے روانہ ہوا تھا ،
    اور راستہ میں انتقال ہوگیا تھا ۔

    طبرانی
    نے “المعجم الکبیر” ۱۳/ حدیث ۷۶ پر حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی
    اللہ عنہ کا قول ان دونوں بستیوں کے ناموں کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے :

    قال عبد
    الله : إن القرية الصالحة اسمها نصرة ، واسم الأخرى كفرة .

    نیک
    لوگوں کی بستی کا نام ( نَصَرَہ ) تھا ، اوپر “دلیل الفالحین” کی عبارت
    میں(
    بصری)  نام غلط ہے ، صحیح نون سے ہے ، جیساکہ مقدمہ
    “فتح الباری” (
    ۱/۲۹۷)اور
    “عمدۃ القاری”(
    ۱۶/۵۶)
    میں ہے ۔

    امام صاغانی نے (نصرہ) کے بارے
    میں کہا : بالتحریک ، یعنی تینوں حروف متحرک بالفتح ہیں ۔ کما فی “تاج
    العروس”:

    وَنَصَرةُ، ة محرَّكةً:
    كَانَ فِيهَا، فِيمَا يُقَال، الصالحون، هَكَذَا نَقله الصَّاغانِيّ

    ۔

    رہ
    گیا برے لوگوں کی بستی کا نام ( کَفَرَہ ) تو شاید یہ بھی اسی وزن پر ہوگا ، گویا
    کہ جمع کافر ہے ۔ اس کے
    صحیح ضبط
    کا علم نہیں ہے
    ،صرف یہ اندازہ ہے ۔واللہ اعلم


    رقمه العاجزمحمد طلحة بلال احمد منيار

    28/7/2018

  • نماز میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان خنزب کا تلفظ

    نماز میں وسوسہ ڈالنے والے شیطان خنزب کا تلفظ

     

    مفتی
    عادل صاحب نے دریافت کیا کہ : حدیث میں ایک شیطان کا نام ( خنزب )
    ہےجو نماز میں وسوسہ ڈالتا
    ہے ، تو اس نام کا صحیح تلفظ کیا ہے ؟

    الجواب
    :
    قال الإمام النووي في “شرح صحیح مسلم”(14/190) :  ‏أما ” خنزب ” ‌‏فبخاء
    معجمة مكسورة ثم نون ساكنة ثم زاي مكسورة ومفتوحة ، ويقال أيضا بفتح الخاء والزاي ،
    حكاه القاضي (إكمال المعلم 7/110) ، ويقال أيضا بضم الخاء وفتح الزاي ، حكاه ابن الأثير
    في
    النهاية(2/83) ، وهو غريب . 

    وقال
    القاري في “المرقاة” (1/146) : بخاء معجمة مكسورة ثم نون ساكنة ثم زاي مكسورة
    ومفتوحة ، كذا في النسخ المصححة، وهو من الأوزان الرباعية كزِبرِج ودِرهَم .

    ويقال
    أيضاً بفتح الخاء والزاي ، حكاه القاضي عياض، ونظيره جَعفَر.

    ويقال
    أيضاً : بضم الخاء وفتح الزاي ، حكاه ابن الأثير في “النهاية” وهو غريب،
    وهو في اللغة : الجريء على الفُجور ، على ما يفهم من “القاموس” .

    وضبط العَيني
    في ” العَلَم الهيِّب شرح الكلم الطيب ” (ص 361) الزاي بالفتح ، وقال :
    إن المشهور في الخاء هو الفتح أو الكسر .

    خلاصہ
    یہ ہے کہ : اس میں چار لغات ہیں ، زاء پر فتحہ ہو تو خاء مثلث ہوگا ، یعنی تینوں
    حرکات سے پڑھ سکتے ہیں :

    1- خَنزَب

    2- خِنزَب

    3- خُنزَب

    اور
    اگر زاء کو مکسور پڑھیں تو خاء میں صرف زیر ( کسرہ ) ہوگا :

    4- خِنزِب

    مگر
    تیسرے نمبر والا غریب ہے ، یعنی بہت معروف و
    مستعمل نہیں ہے ۔ باقی تین وارد
    ہیں ۔والله اعلم

     

    جمعه ورتبه  محمد طلحة بلال احمد منیار  عفي عنه

    ۲۸/۷/۲۰۱۸

  • تحقيق حديث : الصخرة من الجنة

    تحقيق حديث : الصخرة من الجنة

     

    سأل الأخ
    محمد سهيل عن تحقيق حديث : (الصخرة من الجنة) .

    فالجواب :

    قال ابن
    القيم في “المنار المنيف” :(( و كلُّ حديث في الصخرة فهو كذب مفترى …
    )).

    ولكن
    اعْتــُرِض على هذه الكُلِّية التي ذكرها ابن القيم بما أخرجه الإمام أحمد (1982)،
    وابن ماجه (3456) و الطبراني في “الكبير” (4456 و 4457) وابن حجر في
    “الإمتاع” ص : 166 من طريق المُشمَعِلّ بن إياس ، حدثني عمرو بن سُليم ،
    سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى
    الله عليه وسلم يَقُولُ : ( الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ ) ، هذا
    لفظ ابن مهدي .

    واضطربت
    الرواية عن المُشمَعِل ، ففي بعضها : الشجرة بدلا من الصخرة . لكن قال ابن مهدي في
    رواية ابن ماجه :(حفظتُ الصخرة من فيه).

    قال
    ابن الأثير في “النهاية” ( 3/15 ): الصخرة من الجنة ، يريد : صخرةَ بيت
    المقدس .

    وقال
    ابن حجر : و المراد بالصخرة : صخرةُ بيت المقدس ، إسناده حسن ( الإمتاع ص :166 )
    .وقال البوصيري في “الزوائد” : الحديثُ إسنادُهُ صحيحٌ . والله أعلم

    الجواب منقول باختصار من ملتقى أهل الحديث

     

    نقله العاجز محمد طلحة بلال أحمد منيار

    25/7/2018

     

  • المرأة إذا صبرت على الزوج الأول

    المرأة إذا صبرت على الزوج الأول

     

    سأل
    المفتي عبد الباقي المكرم عن ترجمة هذا الحديث :

    قال
    ابن كثيرٍ في الجامع [369/8] : روى الواقدي، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عبد
    العزيز بن عمر، عن المغيرة بن حكيم مرفوعا: “أيما امرأة صبرت على أبي عُذرتها
    كانت زوجته في الجنة” .

    فالجواب :

    ذكر
    السيوطي في “البدور السافرة” هذين الأثرين :

    1-
    أخرج ابن وهب عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال : ( بلغني أن الرجل إذا ابتكر
    المرأة تزوجها في الآخرة ) .

    2-
    وأخرج ابن سعد في “طبقاته” عن عكرمة : أن أسماء بنت أبي بكر رضي الله
    عنها كانت تحت الزبير بن العوام رضي الله عنه وكان شديدا عليها ، فأتت أباها فشكت
    ذلك إليه ، فقال : ” يا بنية اصبري ، فإن المرأة إذا كان لها زوج صالح ، ثم
    مات عنها فلم تتزوج بعده ، جمع بينهما في الجنة ” .

    وعقد
    القرطبي في ” التذكرة” هذا الباب : باب إذا ابتكر الرجل امرأة في الدنيا
    كانت زوجته في الآخرة ، وساق فيه أثر أبي بكر المذكور ، ونقل عن ابن العربي في
    “أحكام القرآن” قوله : هذا حديث غريب .

     وأضاف
    القرطبي : قال حذيفة رضي الله عنه لامرأته : إن سرك أن تكوني زوجتي في الجنة إن
    جمعنا الله فيها لا تتزوجي من بعدي ، فإن المرأة لآخر أزواجها في الدنيا .

     وخطب معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه أم
    الدرداء رضي الله عنها فأبت وقالت : سمعت أبا الدرداء يحدث عن رسول الله صلى الله
    عليه وسلم أنه قال : المرأة لآخر أزواجها في الجنة . وقال لي : إن أردت أن تكون
    زوجتي في الجنة فلا تتزوجي من بعدي .

    ففيما
    أوردته ما يوضح مراد السائل عن ترجمة رواية الواقدي . فيكون معنى : “أبي عُذرتها”
    الزوج الأول الذي افتضَّ بكارتها ، فإذا اكتفت المرأة بزوجها الأول ، ولم تتزوج
    رجلا آخَر بعده ، وصبرت على ذلك ، فإنها تكون له في الجنة ، فإن تزوجت بعده كانت
    للآخِر منهم كما في رواية أم الدرداء . والله أعلم وعلمه أتم وأحكم

    وجاء
    في
    النهاية
    في غريب الحديث والأثر

    (3/ 196) :

    العَذْرَاء:
    الجَارِيةُ الَّتِي لَمْ يمسَّها رَجُلٌ، وَهِيَ البِكْر، وَالَّذِي يَفْتَضُّها
    أَبُو عُذْرِها وَأَبُو عُذْرَتِها. والعُذْرَة: مَا لِلبكْر مِنَ الالْتِحَام
    قَبْلَ الافْتِضاضِ.

    وفي
    معجم
    اللغة العربية المعاصرة

    (2/ 1475) :فلان أبو عُذْرتها: أَوَّل مَنْ افتضَّها . فلان أبو عُذْرة هذا
    الكلام: أي هو الذي اخترعه ولم يسبق إليه أحد.

     

    حرره العاجز محمد طلحة بلال أحمد منيار

    25/7/2018

  • اللہ تعالی کی رضا اور ناراضگی کی نشانیاں

    اللہ تعالی کی رضا اور ناراضگی کی نشانیاں

     

    سوال : حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے
    ایک دفعہ اللہ تعالی سے پوچھا کہ : یا اللہ جب تو 
     ناراض ہوتا ہے تو تیری کیا
    نشانی ہوتی ہے ؟ تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ :

    دیکھنا
    جب بارشیں بے وقت ہوں ، حکومت بے وقوفوں کےپاس ہو، اور پیسہ بخیلوں کے پاس ہو تو
    جان لینا کہ میں ناراض ہوں، پھر موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا کہ : جب یا
    اللہ تو 
     راضی ہوتا ہے تو اس کی کیا نشانی ہے ؟ اللہ تعالی نے فرمایا : موسیٰ جب بارشیں وقت
    پر ہوں ، حکومت نیک اور سمجھ دار لوگوں کے ہاتھ میں ہو ، اور پیسہ سخیوں(سخاوت
    کرنے والے) کے ہاتھ میں ہو تو سمجھ لینا کہ میں راضی ہوں۔

    اس
    روایت کی تحقیق مطلوب ہے ۔
    از
    :
    مفتی شعیب صاحب

    الجواب : یہ روایت مختصرا تو حدیث کی کتابوں میں
    ہے ، اس میں رضا اور ناراضگی کی ایک ہی علامت مذکور ہے ، چنانچہ ابن ابی الدنیا کی
    کتاب العقوبات ص ۳۷،
    حلیۃ الاولیاء
    ۶/۲۹۰
    وغیرہ میں ہے :

    وعن
    قتادة قال: قال موسى: يا رب! أنت في السماء ونحن في الأرض، فما علامة غضبك من
    رضاك؟ قال: إذا استعملت عليكم خياركم فهو علامة رضائي ، وإذا استعملت عليكم شراري
    فهو علامة سخطي عليكم.

    البتہ
    یہ پوری روایت کتب ادب عربی جیسے ابن عبد البر کی العقد الفرید(
    ۵/۲۸۸) اور مبرد کی کامل (۱/۲۴۱)میں محمد بن المنتشر تابعی کے
    واسطے سے بلا سند منقول ہے ، الفاظ یوں ہیں :

     اذا رضي الله عن قوم أنزل
    عليهم المطر في وقته، وجعل المال في سُمَحائهم، واستعمل عليهم خيارَهم؛ وإذا سخط
    على قوم أنزل عليهم المطر في غير وقته، وجعل المال في بُخلائهم، واستعمل عليهم
    شرارَهم.

     بعض
    مرفوع احادیث میں اس طرح کے کچھ امور مذکور ہیں ، لیکن عموما روایات میں ضعف ہوتا
    ہے ، سنن ترمذی کی ایک روایت یہ ہے :

     عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله
    عليه وسلم :
     إذا
    كان أمراؤكم خياركم، وأغنياؤكم سُمحاءكم، وأموركم شورى بينكم، فظهرُ الأرض خيرٌ لكم
    من بطنها. وإذا كان أمراؤكم شراركم، وأغنياؤكم بخلاءكم، وأموركم إلى نسائكم، فبطنُ
    الأرض خيرٌ لكم من ظهرها.

    قال الترمذي: هذا حديث غريب لا نعرفه إلا
    من حديث صالح المُري، وصالح المري في حديثه غرائب ينفرد بها لا يتابع عليها وهو رجل
    صالح
    ۔

    ابن
    ماجہ (۴۱۵۵) میں اس مفہوم کی روایت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔

    نیزحضرت علی رضی اللہ عنہ کی
    یہ روایت بھی ملتی ہے :


    إن الله عز وجل إذا غضب على أمة لم ينزل بها العذاب : غَلَت أسعارُها ، وقَصُرت
    أعمارها ، ولم تربح تجارتها ، وحُبس عنها أمطارها ، ولم تغزُر أنهارها ، وسُلِّط
    عليها شرارها ” .

    رواه
    الديلمي في ” مسنده ” وابن عساكر في التاریخ وابن النجار في ذیل تاریخ
    بغداد ، وهو ضعیف جدا ، کما قال الألباني
    ۔

    ایک
    اور حدیث یوں ہے :
    إذا غضب الله على قومٍ جعل صيفهم شتاءً وشتاءهم
    صيفا .
    لیکن
    یہ بے اصل ہے ، یا کسی حدیث کا مفہوم ہے ۔واللہ اعلم

    خلاصہ یہ ہے کہ :
    حضرت موسی علیہ السلام کا مکالمہ بظاہر از قبیل اسرائیلیات ہے ، احادیث وروایات
    میں اس کے مفہوم میں بعض ضعیف روایات ہیں ، وعظ ونصیحت کے طور پر اس طرح کی روایات
    بیان کرنے میں حرج نہیں ہے ، کیونکہ اس میں خلاف شریعت کوئی بات نہیں ہے ، اور اہل
    علم اس باب میں ضعیف اسانید کے سلسلہ میں تسامح وتساہل برتتے ہیں ۔ 


    حرره العاجز محمد طلحة بلال أحمد منيار

    7/7/2018